×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سُنّت ابراہیمی اور اُستاد جیدے کا’’لقہ کبوتر‘‘
Dated: 17-Nov-2010
جب اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کی سب سے پیاری چیز کی قربانی مانگی تو انہوں نے اپنے اس بیٹے جس سے وہ بہت پیار کرتے تھے اس کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا اور یہ فیصلہ کچھ آسان نہ تھا کہ اس قربانی سے پہلے بچے کی ماں سے منظوری لینا بھی ضروری تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ سے جب اس خواہش اور حکم ربی کا اظہار کیا تو وہ لمحہ کچھ آسان نہ تھا کوئی ماں اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھرتی نہ دیکھ سکتی ہے مگر حضرت ہاجرہ بھی کوئی معمولی عورت نہ تھیں، وہ پیغمبر خدا حضرت ابراہیم کی بیوی تھیں۔ اس لیے کمال خوشی سے رضائے الٰہی کے آگے سرخم تسلیم کر دیا۔ پھر حضرت ابراہیم نے اس مقام پر جہاں قربانی دینا تھی، حضرت اسماعیل کو لے کر پہنچ گئے۔ معصوم بچہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ پیغمبر بچپن سے ہی پیغمبرانہ خوبیاں اور نشانیاں رکھتے ہیں۔ جب آپ کو زمین پر لٹایا گیا تو آپ نے باپ کے حکم کو من و عن تسلیم کیا اور گلے پر چھری پھیرے جانے کا انتظار کرتے رہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اپنے اس جگر کے گوشے کو چھری پھیرنے سے پہلے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لوں کہ کہیں جذبات پدری سے میرے ہاتھ کانپ نہ جائیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے جب چھری پھیرنے کے بعد جب آنکھوں سے پٹی کھولی تو تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ ذبح پڑا تھا۔ بائبل مقدس میں لکھا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہابیل اور قابیل سے بھی قربانی مانگی گئی۔ ایک بھائی نے اللہ کی راہ میں اچھا اناج اور پھل رکھا جبکہ دوسرے بھائی نے سڑا ہوا پھل اور اناج پیش کیا۔ دراصل اللہ رب العزت اپنے پیاروں کو آزمائشوں اور آلائشوں میں ڈالتا رہتا ہے یہ اس کے اپنے انسان سے اپنے پیغمبروں سے محبت کا انداز ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرا انسان میری نعمتوں کے عوض میرے لیے ہر وقت قربانی کا جذبہ برقرار رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے اس عمل کو آنے والی امتوں کے لیے مشعل راہ بنا دیا گیا۔پیغمبر خدا اور تمام انبیاء کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے بھی اس سنت ابراہیمی کو لازمی قرار دیا اور اسلام کے پانچویں ستون حج کی ادائیگی کے بعد اس سنت کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا جوکہ ہر استطاعت رکھنے والے بنی نوع انسان کے لیے لازمی قرار پایا۔یہ دراصل بندے اور رب کے درمیان ایک کمٹمنٹ ہے جو ہزاروں سالوں سے جاری وساری ہے۔خود میرے گائوں متراں والی میں کچھ فیملیز ایسی بھی تھیں جو قربانی کا گوشت بانٹتے ہوئے نظر آتے تھے جو بظاہر قربانی کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ مگر عید الضحیٰ کے موقع پر اپنے رب کی خوشنودی صرف امیروں کا ہی نہیں بلکہ جذبہ اور استطاعت رکھنے والے ہر طبقہ کا حق اور فرض ہے۔ آج وطن عزیز کے حالات یہ ہیں کہ یہ اٹھارہ کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے مگر اس کی 60 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اور صرف دو فیصد لوگ ایسے ہیں جو اس ملک کے شرفاء کہلاتے ہیں اور وہ اس ملک میں لوٹ کھسوٹ مچا کر اپنے ملکی اور غیرملکی اکائونٹس کا حجم بڑھا رہے ہیں۔ جس ملک میں آج ایک شخص کی سرکاری اعلان کے مطابق 7000 ہزار روپے تنخواہ ہو وہ شاید زندگی بھر قربانی کے لیے اپنا بجٹ نہ بنا سکے گا۔جس ملک میں پیاز 160روپے کلو، چاول 90 روپے کلو، لہسن 250روپے کلو، ادرک180روپے کلو، چکن200روپے کلو،دودھ60 روپے لیٹر،دہی70روپے کلو،چھوٹاگوشت400روپے کلو، بڑا گوشت200روپے کلو، گھی150روپے کلو، چینی150 روپے کلو، آٹا 1500 روپے من اور پیٹرول 72 اور ڈیزل 85 روپے لیٹر ہو تو اس ملک میں قربانی کا تصوربھی محال نظر آتا ہے۔ عام دنوں میں 12کلوکا ایک بکرا 400روپے کلو کے حساب سے تقریباً5000 ہزار روپے کا آتا ہے۔ جبکہ 200روپے فی کلو کے حساب سے 3 من کا ایک گائے کا بچھڑا24000 ہزار روپے کا آتا ہے مگر عید کے دنوں میں بکرا تقریباً20000 ہزار روپے کا اور گائے کا بچھڑا تقریباً45000 ہزار روپے کا ہو جاتا ہے۔اور قربانی دینے والے عوام کویہ ’’مقدس گوشت ‘‘400 فیصد مہنگا پڑتا ہے۔جس سے آپ اس قوم کے اندر وطن اور مذہب سے محبت کی جھلک بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔میرے بچے جو ان دنوں ایک یورپی ملک میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں مجھ فون پر بتا رہے تھے کہ پچھلی عید پر مسلم کمیونٹی کے علاقے میں ایک ملٹی نیشنل مگر غیرمسلم سٹور انتظامیہ نے رمضان المبارک کے موقع پر اپنی قیمتوں میں 50فیصد ڈسکائونٹ لگا دیا تھا۔میں خود بھی 26سال سوئٹزرلینڈ اور یورپ رہا ہوں۔ ایسٹر،کرسمس اور نیوایئر کے موقع پر یورپین تاجر و سرمایہ دار کمیونٹی سیلوں اور ڈسکائونٹ کا انبار لگا دیتے ہیں تاکہ ہر امیر غریب ان تہواروں پر تحائف اور ذاتی استعمال کی چیزیں باآسانی خرید سکیں۔جبکہ ہمارے ملک کا یہی طبقہ ایسے تہواروں سے پہلے اپنے منافع کی چھریوں اور ’’بُغدوں‘‘کو مزید تیز کر لیتے ہیں۔ حضرت مالک بن دینار ؓ سے روایت ہے کہ بخارا کا ایک انتہائی غریب شخص حج کا تہیہ کر لیتا ہے جبکہ وہ ہاتھوں اور پائوں سے معذور تھا۔ وہ آٹھ سال کے سفر کے بعد مقام حج پر پہنچتا ہے اور اللہ کے گھر کی دیوار سے لگ کر بِلک بِلک کر روتا ہے یا خدا تعالیٰ تو قربانی کے لیے سب سے قیمتی متاع مانگتا ہے مجھ غریب کے پاس تو بس میری جان ہی ہے تو قبول فرما وہ یہ کہتے ہوئے اپنی جان آفرین اپنے خالق حقیقی کو پیش کر دیتا ہے۔ میرا رب اس کی گڑگڑاتی ہوئی دعا کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور اس کا حج اورقربانی اللہ کے حضور منظوری پاتی ہے۔یہی حالات اس وقت میرے ملک کے غریب عوام کے ہوئے ہیں وہ قربانی دینا تو درکنارقربانی کے گوشت کی ایک ’’بوٹی‘‘ کو بھی ترستے ہیں کیونکہ یہ امراء جب قربانی دیتے ہیں تو قربانی کے بکروں کو بڑے ٹکڑوں میں تبدیل کرکے ایک دوسرے کو بھیج دیتے ہیں۔ لاہور میں پیپلز پارٹی کے ایک راہنما قربانی سے پہلے سینکڑوں کی تعداد میں بکروں کی ’’رانیں‘‘ خرید کر عید کے روز اپنے سیاسی وسماجی اقربا اور رفقاء کو بھیجنے کی رسم نبھاتے ہیں۔ پنجابی کی ایک مثل ہے:’’اَ نّھا ونڈے شیرینیاں، پرت پرت اپنے گھر‘‘ میرے پاس آج ایک جیالا استاد ’’جیدا‘‘ آیا جو ہر سال کسی نہ کسی طرح قربانی دیتا رہا ہے اس سال وہ مجبور ہے مگر قربانی دینا چاہتا ہے۔ استاد جیدا نے کہا کہ اس دفعہ تو وہ مرغی بھی قربان کرنے کی سکت نہیں رکھتا، ہاں مگر میرے پاس ایک ’’لقہ کبوتر‘‘ ہے جو مجھے بڑا عزیز ہے۔ میں اسے عید کے روز قربان کر دوں گا۔ میں دم بخود رہ گیا مگر میں استاد جیدے کو ڈسکیرج بھی نہیں کرنا چاہتا تھا میں نے کہا استاد تم کبوتر کے گلے پر چھری نہ پھیرنا بلکہ عید کے روز اسے آزاد کرکے فضا میں چھوڑ دینا۔وہ رب کریم ہے تمہاری اس کاوش کو جلا بخشے گا اور اس لقے کبوتر کی آزادی کی قربانی ہمارے ملک کی فضا کو امن سے معمور کر دے گی۔میرے وطن عزیز کو بم دھماکوں اور بارود کی فضا سے پاک کر دے گی۔ میرا رب بڑا رحیم ہے یہ عید اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کے لیے امن کا پیام دے جائے گی تمہارے ’’لقہ کبوتر ‘‘کے صدقے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus