×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور، کھانے کے اور
Dated: 20-Jan-2026
یہ محاورہ کہ ’’ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور، کھانے کے اور‘‘ امریکی خارجہ پالیسی پر آج پہلے سے کہیں زیادہ صادق آتا ہے۔ امریکہ کی حالیہ حکمتِ عملی، خاص طور پر ایران کے معاملے میں، ایک بار پھر اسی پرانی چال کی عکاس ہے جس میں بات امن کی ہوتی ہے اور وار اچانک کیا جاتا ہے۔ جب ایران کی ایٹمی تنصیبات کے حوالے سے کشیدگی عروج پر تھی تو امریکہ نے یہ کہہ کر دنیا کو مطمئن کیا کہ وہ چودہ دن کا وقت دے رہا ہے تاکہ معاملات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ اسرائیل کو بھی یہی پیغام دیا گیا کہ فی الحال کسی قسم کی فوجی کارروائی نہیں ہوگی۔ ایران بھی کسی حد تک مطمئن ہوا، عالمی برادری نے بھی سکھ کا سانس لیا، اور قطر جیسے ممالک نے ثالثی کی کوششیں تیز کر دیں۔ مگر صرف چھ دن بعد، اسی ’’امن‘‘ کی آڑ میں امریکہ نے اچانک 52 جنگی طیارے ایران بھیج کر اس کی تنصیبات کو نشانہ بنا ڈالا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب واضح ہو گیا کہ یہ سب ایک منصوبہ بند دھوکہ تھا۔یہ دھوکہ کسی سے پوشیدہ نہیں تھا۔ ایران جانتا تھا، دنیا جانتی تھی، بین الاقوامی سفارتی حلقے بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے۔ مگر کچھ دھوکے ایسے ہوتے ہیں جنہیں مجبوری میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایران کے پاس بھی آپشنز محدود تھے۔ اس کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی تیاریوں کو نظرانداز نہیں کیا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر پہلی لہر آئی تو کہاں سے آئے گی اور کس نوعیت کی ہوگی۔ یہی صورتحال ہمیں اْس وقت بھی نظر آئی جب بھارت نے پاکستان پر حملے کی کوشش کی تھی اور پاکستان نے نہ صرف بھرپور دفاع کیا بلکہ آٹھ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں کئی جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ یہ نہ بھارت کے وہم و گمان میں تھا اور نہ ہی اس کے اتحادیوں کے۔ اس کامیابی کے پیچھے پاکستان کی پیشگی معلومات، دفاعی تیاری اور وقتی طور پر چین کی جانب سے فراہم کی گئی تکنیکی معاونت شامل تھی—یہ ہتھیار مستقل منتقلی نہیں بلکہ محض ایک دفاعی ضرورت کے تحت محدود مدت کے لیے فراہم کیے گئے تھے۔ پاکستان جانتا تھا کہ حملہ کب اور کہاں ہوگا۔ ایران بھی اسی انداز میں امریکی اور اسرائیلی منصوبوں سے باخبر تھا۔ اگر ایران چین اور روس کے تعاون سے مکمل جوابی حکمتِ عملی اپناتا تو امریکہ کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا۔ مگر اصل خطرہ تب ہے جب امریکہ ایک بار پھر غفلت کے لمحے میں اچانک حملہ کرے، کیونکہ اگر ایران کو ایک مرتبہ بھرپور نقصان پہنچا دیا گیا تو پھر اسرائیل اور امریکہ سمجھیں گے کہ ان کا اصل ہدف حاصل ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پورے کھیل کا مرکزی نشانہ ایران ہی ہے، کیونکہ ایران نے کھل کر عالمی طاقتوں کو للکارا ہے۔ یہی للکار اب اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی ضد بن چکی ہے—اگر وہ ایران کو زیر نہ کر سکے تو دنیا کے دیگر ممالک بھی ان کی طاقت پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں امریکی بحری جہازوں اور جنگی طیاروں کی بحرِ احمر اور مشرقِ وسطیٰ میں نقل و حرکت انتہائی معنی خیز ہے۔ جب یہ فوجی اثاثے اپنی پوزیشن مکمل کر لیں گے تو زمینی یا براہِ راست کارروائی کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا دباؤ ڈالنے کے لیے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ یہ محض تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک کھلی سیاسی دھمکی اور عالمی محاذ آرائی کی علامت ہے۔ چین نے واضح ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی پالیسیاں دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں اور تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ روس نے بھی ایران کے شراکت داروں کو دباؤ میں لانے کی امریکی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود امریکہ کے اندر بھی ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس اور کئی سینئر مشیروں نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے سے قبل سفارت کاری کو موقع دینا ضروری ہے۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ اپنے سخت بیانات پر قائم ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت دی ہے اور سفارت خانے نے زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کے ذریعے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ قطر کے العدید ایئر بیس پر امریکی سرگرمیوں میں اضافہ، کے سی-135 ایئر ری فیولنگ ٹینکرز اور بی-52 اسٹریٹجک بمبارز کی پروازیں، سب کچھ کسی ممکنہ کارروائی کی تیاری کا عندیہ دیتا ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف مختلف آپشنز،ایٹمی تنصیبات پر حملے، سائبر کارروائیاں اور داخلی سکیورٹی نظام کو نشانہ بنانے پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج بھی کسی غیر متوقع صورتحال کے لیے الرٹ ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی راستہ اختیار کیا تو ایران مکمل طور پر تیار ہے، تاہم برابری اور بغیر دھمکیوں کے مذاکرات کے دروازے اب بھی بند نہیں کیے گئے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے پیچھے بیرونی ہاتھ کارفرما تھا، جس کے شواہد کے طور پر امریکی ساختہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی سامنے آئی۔ اس کے برعکس، تہران سمیت مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں بڑے مظاہروں نے یہ ثابت کیا کہ داخلی سطح پر صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر نہیں۔ عالمی سطح پر اس پوری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے نہ عالمی اتفاقِ رائے موجود ہے اور نہ ہی امریکہ کے اتحادی اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی بے عملی اور عالمی قیادتوں کی خاموشی صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ برسوں میں بہتر ہوتے تعلقات بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں سفارت کاری کے ذریعے استحکام ممکن ہے۔ ایسے میں او آئی سی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جذبات سے ہٹ کر ایک سنجیدہ، مشترکہ اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرے۔ اگر امریکہ نے جارحانہ راستہ چنا تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔امریکہ نہ صرف مشرق میں صورتحال کو بگاڑ رہا ہے بلکہ اپنے پڑوس میں گرین لینڈ پر بھی اس کی طرف سے حملے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں حملہ کر کے وہ وہاں بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے۔اس خطے میں بھی اسے شدید مخالفت کا سامنا ہے لیکن ٹرمپ یہاں بھی پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں ہے۔گویا اس کی طرف سے پوری دنیا کے ساتھ محاذآرائی کا اہتمام کیا جارہا ہے۔کوئی ٹرمپ کو بتائے اور سمجھائے کہ یہ وقت طاقت کے مظاہرے کا نہیں بلکہ عقل، تدبر اور اجتماعی دانش کا ہے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ دھوکے سے حاصل کی گئی فتوحات ہمیشہ عارضی ثابت ہوتی ہیں۔دیکھیں یہ بات ٹرمپ کی سمجھ میں آتی ہے یا نہیں۔ قارئین!امریکن صدر ٹرمپ کا ایران پر حملے کو اپنا نصب العین بنا لینا ،دراصل اس معاملے کے دوسرے رخ کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا میں ڈالر کے مقابلے میں ایک مشترکہ کرنسی لانے کی تیاری کی جا رہی ہے اوراس نئی کرنسی کا نام اور ڈیزائن بھی سامنے آ چکا ہے۔ اور اس کے بانیان میں رشیا ، چین، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ ابتدائی طور پر شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایران اور سعودی عرب سمیت دیگر کئی ممالک اس کی رکنیت کے لیے بے قرار ہیں لیکن امریکن ڈالر کی سو سالہ تاریخ اور عالمی مارکیٹ پر گرفت اور اجارہ داری اس بات کا غماز ہے کہ ڈالر گرے گا تو سہی مگرخزاں کے زرد پتّے کی طرح جھڑے گا نہیں بلکہ اسے شجر سے گرانے کے لیے درج ذیل ان ممالک کو کافی محنت کرنا ہو گی۔ ہمارے جن قارئین کو معیشت سے تھوڑی سی بھی واقفیت ہے وہ یقینا جانتے ہوں گے کہ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں چونکہ عالمی لین دین آن لائن اور جدید ڈیجیٹل خطوط پر استوار ہے اور ترقی یافتہ ملکوں میں تو اس وقت ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔کافی عرصے سے عالمی مارکیٹ میں کریڈٹ کارڈز اور پلاسٹک کارڈزکی صورت میں ڈیجیٹل کرنسی متعارف تھی لیکن انٹرنیٹ کا استعمال صارفین تک پہنچنے کے بعد اب ’’کوڈ‘‘(Code) کارڈ کے ذریعے ٹریڈنگ اور لین دین شروع ہو چکا ہے۔قارئین! یہ بھی آپ جانتے ہوں گے کہ کرپٹو اور اس سے ملتی جلتی دیگر ڈیجیٹل کرنسی اور لین دین کے طریقہ کار زیادہ تقویت پکڑ رہے ہیں۔اور یہ سب ڈالر کی اجارہ داری کے خلاف ایک خاموش مذاحمت ہے۔اب امریکہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی عالمی معیشت پر اس گرفت کو کمزور کیا جا سکے۔اس لیے وہ تیل اور دیگر معدنیات کے ذخائر رکھنے والے ممالک کو اپنے زیرِ اثر اور زیرِ تابع لانا چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایران پر حملہ گرین لینڈ اور کینیڈا پر قبضے کی خواہش اور وینزویلا کے صدر معدورے کوزبردستی اغواکرکے امریکہ لے جانا ،اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔آج دنیا میں امریکہ سپرپاور صرف اس وجہ ہے کہ اس کی کرنسی دنیا بھر میں اس کی حاکمیت کا ڈھونڈورا پیٹتی ہے۔جب امریکہ کو اس سلسلے میں کوئی خوف نہ تھا تو تب دنیا میں تقریباً امن کا دور تھا مگر جب سے متبادل قوتیں (روس،چین، بھارت،برازیل اور ایران وغیرہ)میدان میں آئیں ہیں تو امریکی اقتدار کو جھٹکے لگنے شروع ہوئے ہیں۔تو امریکہ اپنی اس چوہدراہٹ کو بچانے کے لیے عالمی امن کو نقصان پہنچانے کی یقینا کوشش کرے گا۔ میں نے قارئین نوائے وقت کے سامنے دونوں نقطہ نظر پیش کر دیئے ہیں یقینا آپ اپنی فیڈبیک کے ذریعے اپنی رائے سے نوازیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus