×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایران میں انقلاب کا ٹمٹماتا چراغ؟
Dated: 14-Jan-2026
ایران ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں پھیلنے والے احتجاج، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور سخت ریاستی ردعمل نے یہ سوال جنم دے دیا ہے کہ آیا ایران واقعی کسی بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے یا یہ محض ایک وقتی بحران ہے جس پر ریاست بالآخر قابو پا لے گی۔ایرانی حکومت کے مطابق حالیہ پْرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 15 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ تہران کے قریب سے 100 ایسے افراد بھی حراست میں لیے گئے ہیں جو مبینہ طور پر مسلح تھے۔ حکومتی مؤقف یہ ہے کہ پْرامن احتجاج پر کوئی پابندی نہیں، تاہم تشدد، تخریب کاری اور ریاستی و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ اسی تناظر میں ملک بھر میں مسلسل تیسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہے، جسے حکومت امن و امان کی صورتحال سے جوڑ رہی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور فوجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملکی دفاع ان کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق دشمن قوتیں، بالخصوص امریکا اور اسرائیل، ایران میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر فوج ہر قسم کی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور قومی مفادات کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔دوسری جانب امریکا کی جانب سے آنے والے بیانات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مزید مظاہرین مارے گئے تو امریکا سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران آج ماضی کے مقابلے میں آزادی کی جانب زیادہ دیکھ رہا ہے اور امریکا اس سفر میں مدد کے لیے تیار ہے۔ ایران نے ان بیانات کو کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا ہے۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی مداخلت سے پورا خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے اور اس کے نتائج خود امریکی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ہوں گے۔ ایران کا الزام ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں جاری احتجاج کو ہوا دے رہے ہیں، اگرچہ اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ حال ہی میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق افسرجان کریاکو نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے اندر ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو جاسوسی کے لیے بھرتی کیا۔ جان کریاکو کے مطابق اسرائیلی ایجنٹوں نے افغان پناہ گزینوں کو معمولی مالی لالچ کے ذریعے یہ ٹاسک دیا کہ وہ ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری افسران کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور اس کی اطلاع فراہم کریں۔کریاکو کا کہنا تھا کہ اس کام کے عوض فی اطلاع تقریباً ایک سو ڈالر ادا کیے جاتے تھے، اور اسی طرح ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو بتدریج جاسوسی کے نیٹ ورک میں شامل کر لیا گیا۔ ان کے مطابق یہ سرگرمیاں ایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ جنگ کے دوران مزید تیز ہوئیں۔ بعد ازاں ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل ہی نہیں بلکہ امریکا کے لیے جاسوسی کرنے والے نیٹ ورکس بھی ایران کے اندر سرگرم تھے۔ ایرانی سیکیورٹی اداروں کے مطابق حالیہ عرصے میں امریکا کے لیے کام کرنے والے جاسوسوں کے ایک گروہ کو بے نقاب کیا گیا ہے، جن میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ایرانی ریاستی نظام میں حساس عہدوں پر فائز تھے۔ یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب ایران بھر میں حکومت مخالف مظاہرے جاری تھے، اور حکومت نے ان احتجاجی سرگرمیوں میں غیر ملکی عناصر اور جاسوسوں کی شمولیت کا الزام بھی عائد کیا۔ایران کا مؤقف ہے کہ مظاہروں کی آڑ میں بیرونی طاقتیں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور اسی لیے غیر ملکیوں، مشکوک افراد اور مبینہ جاسوسوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ محض داخلی احتجاج نہیں بلکہ ایک منظم خفیہ مداخلت کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاسوسی کا یہ کھیل یک طرفہ نہیں۔ امریکی حکام نے چند برس قبل اپنی ہی فضائیہ کی سابق انٹیلی جنس افسر مونیکا ویٹ کو ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے الزام لگایا کہ 39 سالہ مونیکا ویٹ نے پاسدارانِ انقلاب کی مدد سے امریکی ملٹری پر سائبر حملوں میں کردار ادا کیا۔ مونیکا ویٹ نے امریکی فضائیہ میں تقریباً دس برس تک بطور کاؤنٹر انٹیلی جنس افسر خدمات انجام دیں۔ وہ 2008 میں فوج سے علیحدگی کے بعد نجی شعبے میں کام کرتی رہیں اور بعد ازاں معروف دفاعی کنٹریکٹر بوزو ایلن ہملٹن کے لیے بھی انٹیلی جنس ماہر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ مونیکا ویٹ نے نظریاتی بنیادوں پر اپنے ملک کے خلاف رخ بدلا اور امریکی حساس آپریشنز، خفیہ نیٹ ورکس اور انٹیلی جنس افسران کی تفصیلات ایران کو فراہم کیں۔مونیکا ویٹ نے اگست 2013 میں ایران سے رابطہ قائم کیا، جس کے بعد ایرانی ہیکرز نے امریکی کاؤنٹر انٹیلی جنس افسران کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے براہِ راست ان معلومات کا نتیجہ تھے جو مونیکا ویٹ نے فراہم کیں۔ اس وقت امریکی محکمہ انصاف میں سلامتی امور کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرز نے اس واقعے کو ’’انتہائی افسوس ناک دن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لمحہ اس وقت اور بھی تکلیف دہ ہو جاتا ہے جب اپنی ہی ایک شہری ملک سے غداری کرے۔ ان کے مطابق ایران نے خاص طور پر ایسے سابق امریکی انٹیلی جنس افسران کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی جو سیکیورٹی کلیئرنس رکھتے تھے، اور مونیکا ویٹ کو اسی مقصد کے لیے ایک خصوصی آپریشن میں استعمال کیا گیا۔یہ تمام واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی صرف بیانات، پابندیوں یا فوجی دھمکیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری، خاموش اور مسلسل خفیہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ افغان پناہ گزینوں سے لے کر اعلیٰ تربیت یافتہ انٹیلی جنس افسران تک، ہر سطح پر جاسوسی اور جوابی جاسوسی کا یہ کھیل جاری ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اسی دوران ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی ایک بار پھر متحرک نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، احتجاج کو وسعت دیں اور ہمہ گیر ہڑتالوں کے ذریعے حکومت پر دباؤ بڑھائیں۔ رضا پہلوی کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج اب ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور سڑکیں کسی جابر حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں سے وابستہ افراد، اساتذہ، نرسوں، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات اور پنشنرز سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر احتجاج کا حصہ بنیں۔ رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں اور 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے امریکا میں مقیم ہیں۔ وہ خود کو تخت کا دعوے دار نہیں بلکہ قومی مصالحت اور جمہوری انتقالِ اقتدار کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا مستقبل بادشاہت ہو یا جمہوری نظام، اس کا فیصلہ عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے کرنا چاہیے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اب تک کوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا مؤثر اندرونی قیادت فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث ان کی اپیلیں زیادہ تر علامتی حیثیت رکھتی ہیں۔اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو گزشتہ برسوں میں سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں حکومتوں کا خاتمہ یا بڑی سیاسی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس سے قبل لیبیا میں بھی عوامی بغاوت نے پورے ریاستی نظام کو بدل کر رکھ دیا، اگرچہ اس کے نتائج آج تک تباہ کن صورت میں موجود ہیں۔ تاہم ایران کا معاملہ ان ممالک سے خاصا مختلف ہے۔ یہاں ریاستی ادارے مضبوط ہیں، نظریاتی بنیادیں گہری ہیں اور عوام کی ایک بڑی تعداد آج بھی انقلابی نظام کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ موجودہ احتجاج نہ تو لاکھوں افراد پر مشتمل ہیں، نہ ہی منظم قومی تحریک کی شکل اختیار کر سکے ہیں۔ یہ زیادہ تر چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں، جس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ریاستی مشینری انہیں قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔کچھ حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اقتدار چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر بشار الاسد کی طرح روس جانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، تاہم یہ باتیں زیادہ تر افواہوں اور اندازوں پر مبنی ہیں، جن کی زمینی حقائق سے تائید نہیں ہوتی۔ سوال یہی ہے کہ کیا ایران میں انقلاب ممکن ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ممکن تو ہر چیز ہے، مگر موجودہ حالات میں ایران میں فوری ریجیم چینج انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ احتجاج اگرچہ موجود ہیں، مگر وہ نہ ہمہ گیر ہیں، نہ منظم اور نہ ہی اس سطح کے کہ ریاستی ڈھانچے کو سنجیدہ خطرہ لاحق ہو۔ کچھ حلقوں کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایران میں انقلاب اخری سانسیں لے رہا ہے اور انقلاب کا چراغ ٹمٹما رہا ہے۔غالب امکان یہی ہے کہ ایرانی حکومت اس بحران پر قابو پا لے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus