×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
فرائض کی ادائیگی مگر سادگی اور محبت کے ساتھ
Dated: 12-May-2026
وطن کی محبت بعض رشتوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ کچھ لوگ جسمانی طور پر دیارِ غیر میں رہتے ہیں مگر ان کی روح ہمیشہ اپنی مٹی کی خوشبو سے جڑی رہتی ہے۔ میری سانسوں کی ڈوری بھی ہمیشہ مادرِ وطن پاکستان کے ساتھ بندھی رہی۔ جوانی کے ابتدائی دنوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان سے باہر جانا پڑا۔ تعلیم مکمل ہوئی، کاروبار بیرونِ ملک ہی استوار ہوا، زندگی کے کئی برس یورپ میں گزرے اور آج کل کینیڈا میں سکونت پذیر ہوں، مگر پاکستان سے تعلق کبھی کمزور نہ پڑا۔ دل کی دھڑکنوں میں ہمیشہ اپنے وطن کی محبت شامل رہی۔ زندگی کے سفر میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک نہایت باوقار، وفادار اور باصلاحیت رفیقِ حیات، بدرالنسا وڑائچ، کی صورت میں عظیم نعمت عطا کی۔ انہوں نے زندگی کی بہاروں میں بھی میرا ساتھ نبھایا اور آزمائشوں کی خزاؤں میں بھی حوصلے اور استقامت کے ساتھ میرے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ کبھی پاکستان میں قیام رہا، کبھی یورپ میں اور کبھی کینیڈا میں، مگر گھر، محبت اور خاندان کی حرارت ہمیشہ برقرار رہی۔ہمارے بچوں کی تعلیم کا ابتدائی حصہ پاکستان ہی میں مکمل ہوا۔ آج ماشاء اللہ وہ جوانی کی دہلیز عبور کر کے عملی زندگی میں قدم جما رہے ہیں۔ وقت کے اسی حسین تسلسل میں اب ان کی شادیوں کا مرحلہ بھی آن پہنچا۔ گزشتہ ہفتے میرے دو بیٹوں، محمد عبداللہ وڑائچ اور جلال احمد وڑائچ، کی شادی کی تقریبات گوجرانوالہ میں نہایت محبت، وقار اور سادگی کے ساتھ منعقد ہوئیں۔ کینیڈا سے ہم سب بیگم بدرالنسا وڑائچ، محمد عبداللہ وڑائچ، جلال احمد وڑائچ اور ماہ نور وڑائچ ،اس خوشی میں شرکت کے لیے پاکستان آئے، جبکہ تعلیم کے سلسلے میں امراء احمد وڑائچ اور بشریٰ وڑائچ سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں۔ میری زندگی کا ایک بڑا حصہ سوئٹزرلینڈ میں گزرا جہاں کاروباری مصروفیات کے ساتھ کئی اہم سیاسی و سماجی شخصیات سے تعلقات بھی قائم رہے۔ انہی ایام میں مجھے سابق صدر آصف علی زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی میزبانی کا شرف بھی حاصل رہا۔ ان کا مجھ پر اعتماد اس قدر تھا کہ سوئس مقدمات کے سلسلے میں انہوں نے مجھے پاور آف اٹارنی بھی تفویض کر رکھی تھی۔ فاروق ایچ نائک اپنی وکلا ٹیم کے ساتھ اکثر میرے ہاں قیام پذیر رہتے۔ یہ ایک طویل داستان ہے، جس کی تفصیل پھر کبھی سہی۔ میں نے ہمیشہ اپنے کالموں، تحریروں، مذاکروں اور ٹی وی ٹاک شوز میں اس بات پر زور دیا کہ شادی بیاہ جیسی خوشیوں میں سادگی، وقار اور تہذیب کو مقدم رکھا جائے اور فضول رسومات سے اجتناب کیا جائے۔ اس مرتبہ قدرت نے مجھے خود اپنے نظریات پر عمل کرنے کا موقع عطا کیا۔ چنانچہ کوشش یہی رہی کہ ایک باوقار مگر سادہ طرزِ زندگی کی عکاسی ہو؛ بچوں کی خوشیاں بھی پوری ہوں اور تقریب میں نفاست و شائستگی بھی برقرار رہے۔ اسی سوچ کے تحت غیر ضروری رسومات سے گریز کرتے ہوئے نکاح اور ولیمے کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ملک بھر سے عزیز احباب اور قریبی رفقا نے شرکت کی۔ اسلام آباد سے پشاور، کراچی سے کوئٹہ اور ملتان تک سینکڑوں شارٹ لسٹڈمہمان اس خوشی میں شریک ہوئے۔ محفل میں محبت تھی، اپنائیت تھی، روایت تھی اور ایک ایسا وقار تھا جو دکھاوے سے نہیں بلکہ خلوص سے جنم لیتا ہے۔میں نے اس تقریب میں صرف اْنہی عزیزوں، احباب اور دوستوں کو مدعو کیا جن سے قلبی تعلق برسوں پر محیط ہے۔ کچھ دوست ایسے بھی تھے جنہیں وقت، حالات اور محدود گنجائش کے باعث دعوت نہ دی جا سکی، مگر وہ میرے دل سے کبھی جدا نہیں ہو سکتے۔ دوستی میرے نزدیک کسی طبقاتی تقسیم یا سیاسی درجہ بندی کا نام نہیں۔ دوست، دوست ہوتے ہیں؛ ان میں نہ کوئی چھوٹا ہوتا ہے نہ بڑا، نہ کوئی اول درجے کا اور نہ دوم درجے کا۔ تعلق اگر خلوص پر قائم ہو تو وہ ہر رسمی نسبت سے بلند ہو جاتا ہے۔ میں نے خاص طور پر کوشش کی کہ یہ تقریب کسی سیاسی اجتماع کا رنگ اختیار نہ کرے۔ میری خواہش تھی کہ یہ خوشی صرف ایک خاندانی اور تہذیبی تقریب کے طور پر منعقد ہو، نہ کہ کسی سیاسی وابستگی یا جماعتی شناخت کی بنیاد پر مخصوص طبقات کی نمائندگی بن جائے۔ اگر میں صرف ایک ہی مکتبِ فکر یا سیاسی حلقے کے لوگوں کو مدعو کرتا تو یقیناً دوسرے دوست دل آزردہ ہوتے، اور میں زندگی بھر تعلقات کو سیاست پر قربان کرنے کا قائل نہیں رہا۔ زندگی کے مختلف ادوار میں میرا تعلق مختلف سیاسی، سماجی اور فکری شخصیات سے رہا۔ مجھے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے پولیٹیکل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دینے کا بھی موقع ملا۔ اگرچہ اپنی گوناگوں مصروفیات کے باعث میں یہ ذمہ داری زیادہ عرصے تک نبھا نہ سکا، مگر ان کے ساتھ تعلق ہمیشہ احترام، محبت اور گرمجوشی پر مبنی رہا۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے کینیڈا سے خصوصی دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ ہمیں رخصت کیا، جو میرے لیے باعثِ سعادت ہے۔ اسی طرح بعض ایسے احباب بھی اس تقریب میں شریک ہوئے جن کے ساتھ ذاتی تعلقات کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی ایک نمایاں شناخت وابستہ ہے۔ زرعی ترقیاتی بینک کے سابق صدر، پاکستان کرکٹ بورڈ کے متعدد بار چیئرمین اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے سربراہ جناب ذکا اشرف صاحب سمیت کئی معزز شخصیات نے اپنی شرکت سے میری عزت افزائی کی۔ ان احباب کی آمد میرے لیے محض رسمی شرکت نہیں بلکہ محبت، اعتماد اور دیرینہ تعلق کا اظہار تھی۔اکثر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہا جاتا ہے کہ وہ صرف اپنے مرحومین کو دفنانے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ میں ہمیشہ اس سوچ کی نفی کرتا ہوں۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں۔ ہم اپنے وطن صرف غم بانٹنے نہیں آتے، بلکہ خوشیاں منانے بھی آتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی شادیاں بھی اسی سرزمین پر کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہمارے جذبات، ہماری روایات اور ہماری شناخت اسی مٹی سے جڑی ہوئی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت میں خاموش مگر بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ بدترین عالمی کساد بازاری ہو، کورونا جیسا عالمی بحران ہو یا مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال — پاکستانی تارکینِ وطن نے اپنی ترسیلاتِ زر کے ذریعے وطنِ عزیز کی معیشت کو سنبھالا دیا۔ دنیا کی کئی معیشتیں ڈگمگا گئیں، مگر اوورسیز پاکستانیوں کی محبت اور وابستگی کم نہ ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط انداز میں سامنے آئی۔البتہ دل کے کسی گوشے میں ایک دکھ بھی موجود رہتا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جب اپنے وطن واپس آتے ہیں تو بعض اوقات قبضہ مافیا، جائیدادوں کے تنازعات اور انتظامی مسائل جیسے تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مجھے بھی ایسے تلخ تجربے سے واسطہ پڑا۔ اپنے ہی گھروں اور زمینوں کے تحفظ کے لیے پریشان ہونا یقیناً ایک اذیت ناک احساس ہے۔ مگر یہ شکوے اپنی جگہ، آج کا موقع شکایت کا نہیں بلکہ شکر کا ہے۔ یہ باتیں تو محض برسبیلِ تذکرہ نکل آئیں۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے بیٹوں محمد عبداللہ وڑائچ اور جلال احمد وڑائچ کی شادی نہایت خوش اسلوبی، محبت اور وقار کے ساتھ انجام پائی۔ میں دل کی گہرائیوں سے اپنے تمام دوستوں، عزیزوں اور مہمانوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالا اور ہماری خوشیوں میں شریک ہوئے۔میں نے حتی المقدور کوشش کی کہ تقریب میں ہماری تہذیبی روایات، مشرقی وقار اور خاندانی نفاست برقرار رہے۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور سے شادیوں میں بوفے کلچر عام ہوا جہاں مہمان کھڑے ہو کر کھانا کھاتے ہیں۔ میری خواہش تھی کہ مہمانوں کو احترام اور سکون کے ساتھ ان کی میزوں پر کھانا پیش کیا جائے تاکہ محفل میں گفتگو، تعلق اور اپنائیت کا ماحول قائم رہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ بچوں نے بھی اس روایت کو پسند کیا اور برسوں بعد پاکستان آ کر یہاں کی خاندانی اور ثقافتی فضا کو بھرپور انداز میں محسوس کیا۔آج کل شادی ہالوں میں اونچی آواز کی موسیقی اس قدر غالب آ جاتی ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ میں نے دانستہ طور پر اس فضول شور و ہنگامے سے اجتناب کیا۔ محمد عبداللہ اور جلال احمد وڑائچ کی شادی سادگی، وقار، تہذیب اور خاندانی محبت کی ایک ایسی خوبصورت مثال بنے جس میں شور کم تھا مگر خلوص بہت زیادہ تھا۔میرے نزدیک اصل خوشی تقریبات کے شور میں نہیں بلکہ خاندان کے اتحاد، دعاؤں کی روشنی اور محبت کے احساس میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ زندگی کے اس خوبصورت مرحلے پر دل اللہ تعالیٰ کے حضور شکر سے جھک جاتا ہے کہ اس نے عزت، محبت، بہترین رفقا، صالح اولاد اور ایک بھرپور خاندانی زندگی سے نوازا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کی نئی زندگیوں میں محبت، سکون، وفاداری اور خیر و برکت عطا فرمائے، اور ہمیں ہمیشہ اپنی روایات، اپنی تہذیب اور اپنی سادگی کے حسن سے وابستہ رکھے۔ انتہائی گزارش یہ ہے کہ اپنے ہزاروں چاہنے والے قارئین و ناظرین اور متعدد قریبی احباب کو میں وقت کی قلت اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے بروقت اطلاع نہ کر سکا جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں اور انشاء اللہ ہمیشہ کی طرح ازالہ کرتا رہوں گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus