×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پیپلزپارٹی میں طاقتور خواتین کا کردار
Dated: 22-May-2026
پاکستان کے اندر تقریباً تمام سیاسی جماعتوں میں خواتین کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، تاہم مختلف ادوار میں ان کے کام اور نمائندگی کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور بعد میں تحریک انصاف میں بھی خواتین کی ایک نئی قیادت متعارف کروائی گئی۔میں وہی بات کرتا ہوں جسے میں نے قریب سے دیکھا اور اپنے مشاہدے اور تجزیے کی بنیاد پر سمجھا۔ پیپلزپارٹی کے اندرونی معاملات کو میں شاید اس لیے نسبتاً بہتر جانتا ہوں کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کا مجھ پر اعتماد رہا۔ اسی وجہ سے پارٹی کے اندر ہونے والی بہت سی سرگرمیاں میری نظروں کے سامنے رہیں۔ اس دور میں کئی ایسے کردار بھی تھے جن کا ذکر مناسب نہیں، کیونکہ ہر انسان کی نجی اور خاندانی زندگی ہوتی ہے، جس کا احترام ضروری ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ زندگی کے کئی رنگ بدل جاتے ہیں اور کل کی نوجوان شخصیات آج خاندانوں کی بزرگ ہستیاں بن چکی ہیں۔جب میں پیپلزپارٹی کی مرکزی کمیٹی کا رکن تھا تو مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے کم عمری میں مجھے پارٹی کے پورے پاکستان اور دنیا بھر سے 26منتخب اراکین میں شامل کیا اور آج کے دور میں وزیراعظم اور بڑے بڑے منسٹر جو آج پیپلزپارٹی میں بڑا نام سمجھے جاتے ہیں اس وقت اس کمیٹی کے اراکین میں شامل نہیں تھے۔ اس فیصلے پر پارٹی کے اندر مختلف آرا سامنے آئیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ مجھے پارٹی کے طریقۂ کار اور تنظیمی ڈھانچے کا مکمل تجربہ نہیں، لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے تمام تحفظات کے باوجود مجھ پر اعتماد برقرار رکھا اور اپنی ذمہ داریاں سونپیں۔جنہیں میں نے کما حقہ ذمہ داری کے ساتھ نبھایا اور محترمہ سے داد وصول کرتا رہا۔ اس زمانے میں ناہید خان صاحبہ پارٹی کی نہایت بااثر شخصیت سمجھی جاتی تھیں۔ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکریٹری تھیں اور 1996 میں لندن سے واپسی کے بعد مسلسل محترمہ کے ساتھ فعال رہیں۔ انہیں پارٹی میں متعارف کروانے میں صفدر ہمدانی صاحب اور بیرسٹر سلطان محمود کا اہم کردار تھا، جن سے میرے بھی قریبی تعلقات تھے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ناہید خان صاحبہ نے مشکل حالات میں بھی پارٹی نظم و ضبط کو مضبوطی سے سنبھالے رکھا۔ جب محترمہ جلاوطنی کے باعث پاکستان نہیں آسکتی تھیں تو پارٹی کے اہم اجلاس اور معاملات بڑی ذمہ داری سے چلائے جاتے تھے۔ایک مرتبہ بلاول ہاؤس کراچی میں ایک میٹنگ کے دوران ایک سابق وفاقی وزیرخزانہ بغیر اجازت کمرے میں داخل ہوگئے۔ اور اس کمرے میں راقم اور محترمہ ناہید خان صاحبہ ایک میٹنگ کے سلسلے میں مصروف تھے۔ اس پر انہیں سخت ناراضی اور ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑا، اور بعد میں انہوں نے آئندہ احتیاط کا یقین دلایا۔ اس واقعے سے پارٹی کے اندر نظم و ضبط اور پروٹوکول کی سختی کا اندازہ ہوتا تھا۔وہ صاحب سابق وزیر خزانہ تھے اور ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالک اور ان کا وڈیروں میں شمار ہوتا تھا۔ اسی طرح ایک اور موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں پیپلزپارٹی واشنگٹن کے صدر منظور صاحب کے گھر پر ایک اہم پارٹی اجلاس میں فرزانہ راجہ صاحبہ جو کہ بن بلائی مہمان تھیں اور سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک پارٹی رہنما کی شریک حیات تھیں۔اور اسی وجہ سے خواتین کی خصوصی نشستوں پر پنجاب سے ایم پی اے منتخب ہوئی تھیں۔اور انہیں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا قرب حاصل کرنا کا بہت اشتیاق تھا۔اور اس اجلاس کے دوران انہوں نے مجھ سے ریکویسٹ کی کہ محترمہ کے ساتھ ایک تصویر اتروانے کا موقع دوں۔میں نے اپنی سیٹ خالی کی اور فرزانہ راجہ کو بیٹھنے کا موقع دیا۔ جس پر شہید محترمہ نے انہیں فوری طور پر وہ سیٹ خالی کرنے کا کہا اور مجھے ڈانٹ پلائی اور کہا کہ آپ کو یہاں بیٹھنا ہے اور نوٹس تیار کرنے ہیں۔لیکن محترمہ کی شہادت کے بعدیہی فرزانہ راجہ کے شوہر زرداری صاحب کے بے حد قریب آ گئے اور 2007ء والے الیکشن میں ایم این اے کی خصوصی نشست پر منتخب ہو کر ایم این اے بن گئیں۔اور پھر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرمین مقرر ہوئیں۔بعدازاں اس سکیم میں ہونے والے اربوں روپے کے گپلوں نے یہ ثابت کیا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا سیاسی ویژن بہت زیادہ تھا جنہوں نے فرزانہ راجہ کو لمحہ بھر میں پہچان لیا تھا۔ مجھے آصف علی زرداری کے ساتھ اڈیالہ جیل میں جہاں زرداری صاحب اور شہید محترمہ کا شریک جرم بنا کر پابندسلاسل رکھا گیاتھا۔ وہاں سیاسی گفتگو، حالاتِ حاضرہ اور مستقبل کی سیاست پر لمبی نشستیں ہوا کرتی تھیں۔ اس دوران ان کی سیاسی فہم، لوگوں کو سمجھنے کا انداز اور حالات سے نمٹنے کی حکمت عملی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جیل کے ماحول نے سیاست کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنے کا موقع دیا، جہاں ذاتی تعلقات اور اعتماد زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میرے لیے بڑی بہن جیسی حیثیت رکھتی تھیں، مگر ان کی شخصیت میں بھٹو خاندان کی روایتی مضبوطی اور فیصلہ سازی بھی نمایاں تھی۔ ان میں لوگوں کو پہچاننے اور ان کی صلاحیتوں کو سمجھنے کی خاص بصیرت موجود تھی۔ ناہید خان صاحبہ کے بارے میں اگر وفاداری اور وابستگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کا ان پر اعتماد بے وجہ نہیں تھا۔ وہ نہ صرف محترمہ بلکہ پارٹی اور خاندان کے ساتھ بھی مخلص سمجھی جاتی تھیں۔ البتہ بعد کے ادوار میں بعض سیاسی غلط فہمیاں بھی پیدا ہوئیں، جو سیاست کا حصہ ہوتی ہیں۔سیاست میں قربت اور اعتماد کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ ہر انسان کے تعلقات میں ترجیحات مختلف ہوتی ہیں، اور یہی فطری امر سیاسی جماعتوں میں بھی نظر آتا ہے۔ جیسا کہ پنجابی میں کہا جاتا ہے: ’’ماں دی سوکن، دھی دی سہیلی۔‘‘ آصف علی زرداری کی سیاست کے بارے میں میرا مشاہدہ یہ ہے کہ وہ وقت کے ساتھ زیادہ عملی اور مفاہمتی انداز اختیار کرتے گئے۔ ان کے اندر شروع سے ہی لوگوں سے رابطہ رکھنے اور حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت موجود تھی۔ میرے مشاہدے میں وہ مختلف مواقع پر نہایت سادہ اور ملنسار انداز میں لوگوں سے ملتے تھے اور سیاسی معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ بعد میں ان کی سیاست میں مزید تجربہ اور حکمت عملی شامل ہوتی گئی۔میں نے یہ بھی دیکھا کہ پارٹی کے اندر مختلف ادوار میں قیادت اور بااثر شخصیات کے درمیان تعلقات اور فیصلوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ کچھ لوگ بہت قریب رہے اور کچھ فاصلے پر چلے گئے۔ سیاست میں یہ سب کچھ غیر معمولی نہیں ہوتا۔پیپلزپارٹی کے اندر بعض اوقات اختلافات اور اندرونی کشمکش بھی دیکھنے کو ملی، (یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی سے دو دفعہ منتخب ہونے والی عظمی بخاری اور ان کے شوہرنامدار سمیع اللہ خان بھی پارٹی کو استعمال کرتے رہے اور بعد پارٹی کو غیرآباد کہہ گئے)جیسا کہ ہر بڑی سیاسی جماعت میں ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ کئی چہرے آگے آئے اور کئی پیچھے چلے گئے۔ خواتین رہنماؤں سمیت مختلف افراد نے اپنے اپنے انداز میں کردار ادا کیا۔میری رائے میں سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت ان کا تنظیمی ڈھانچہ اور اجتماعی فیصلے ہوتے ہیں۔ جب یہ توازن برقرار رہے تو جماعتیں بہتر انداز میں آگے بڑھتی ہیں، اور جب اس میں بگاڑ آتا ہے تو اس کے اثرات انتخابی نتائج اور عوامی حمایت پر بھی پڑتے ہیں۔آج کے دور میں بھی پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں یہ کوشش کر رہی ہیں کہ اپنی تنظیم کو دوبارہ فعال اور مؤثر بنایا جائے تاکہ عوامی سطح پر اپنی جگہ مضبوط کر سکیں۔آصف علی زرداری جس طرح شروع میں سیاست میں نرم کو ہوا کرتے تھے۔تحمل سے بات سنتے۔تدبر سے معاملات کا حل نکالنے کی کوشش کرتے۔اب ان کے رویے میں تھوڑی سی تلخی محسوس ہوتی ہے۔ان کے رویے پہلے والے ہو جائیں تو پارٹی آج پھر پورے ملک میں اپنا نام پیدا کر کے وہی مقام حاصل کر سکتی ہے جو 2008 ء کے انتخابات میں کیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں کئی سیاسدانوں کی جو آج بھی پیپلزپارٹی کے اندر یا جو پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں دوسری پارٹیوں کے اندر اور اعلی عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کی جتنی درگت بنتی محترمہ ناہید خان کے ہاتھوں، شہید محترمہ کے ہاتھوں میں نے دیکھی ہے ، آصف علی زرداری تو ڈپلومیٹ تھے۔اب کچھ بدلے بدلے ہیں۔ وہ بندوں سے اتنا میٹھا ملتے تھے۔ یقین کریں جب ہم کوٹ لکھپت اور دوسری جگہوں پر دوستوں کو لے کر جاتے تھے تو وہ اس طرح ہمبل اور باغیچے میں واک کرتے تھے اور اپنی بات سمجھاتے تھے۔ آج بھی اگر زرداری صاحب اگر چاہیں تو پاکستان کی ملکی سیاست میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اگر وہ اپنے پرانے رویے کو اپنائیں۔خود میرے ساتھ اڈیلہ جیل جب میں اور زرداری صاحب اکٹھے اور ہمارے ساتھ سیل میں راجہ پرویز اشرف اور تاجی کھوکھر تھے۔لیکن میں چونکہ زرداری صاحب کے ساتھ تھا۔ میں نے سیاست میں جو الف بے پریکٹیکل ویسے تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میری قریبی ترین استاد تھیں ، یا ٹیچر تھیں ، اتالیق تھیں لیکن آصف علی زرداری کی سیاست اور ڈپلومیسی کو میں نے قریب سے دیکھا ہم ساتھ میں رہے ، ساتھ میں لنچ، ساتھ میں کھیلنا اور اکٹھے وقت گزارنا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus