×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ٹرمپ بالآخر چِت ہونے میں کامیاب!
Dated: 02-Jun-2026
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملے کے ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ چار دن میں صورتحال معمول پر آ جائے گی اور ایران پر عملاً قبضہ کر لیا جائے گا۔ دراصل یہ حملہ ایران میں رجیم چینج کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ علی خامنہ ای کو اس منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا تھا، اس لیے انہیں راستے سے ہٹانے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔اور پھر انہیں حملہ کر کے شہید کر دیا گیا امریکہ نے باغیوں تک مہلک ہتھیار پہنچانے کی کوشش بھی کی، جس کا اعتراف خود صدر ٹرمپ نے کیا۔ انہوں نے مایوسی کے عالم میں کہا کہ ان کی توقع کے مطابق رجیم چینج ہو جانی چاہیے تھی، مگر کرد ،باغیوں تک اسلحہ نہ پہنچا سکے۔ چار دن تو کیا، چالیس دن گزرنے کے باوجود بھی رجیم چینج نہ ہو سکی، تو ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات بھی ہیں۔ ایران امریکہ کو اس تنازع میں انتخابات تک الجھائے رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ٹرمپ کسی نہ کسی طرح اس سے جان چھڑانے کے خواہاں ہیں۔دوسری جانب اسرائیل جنگ بندی نہیں چاہتا، کیونکہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی، نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے مقدمات دوبارہ پوری شدت سے شروع ہو جائیں گے۔ عدالت نے انہیں صرف اسرائیل کی جنگی صورتحال کے باعث سماعتوں میں خصوصی رعایت دے رکھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بھی ٹھپ دیا ہے۔انہیں یہ پیغام دے دیا ہے کہ خاموش رہیں اور انہیں اپنا کام کرنے دیں، گویا انہیں جنگ سے نکلنے کا راستہ فراہم کریں۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول ٹیکس کے مکمل طور پر کھول دیا جانا چاہیے تاکہ جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر سمندر میں بارودی سرنگیں موجود ہیں تو انہیں ختم کیا جائے گا، اور امریکہ اپنے جدید مائن سویپرز کے ذریعے کئی سرنگیں پہلے ہی تباہ کر چکا ہے، جبکہ باقی سرنگیں ایران ہٹائے گا یا تباہ کرے گا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے باعث رکے ہوئے جہاز اب گزر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی جوہری تنصیبات کا ملبہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو کر پہاڑوں کی گہرائی میں دفن ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افزودہ یورینیم کی تباہی گیارہ ماہ قبل امریکی بی-ٹو بمبار حملوں کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ ان کے بقول بارودی سرنگیں بھی ختم کی جائیں گی اور جوہری مواد کی نگرانی یا منتقلی کا عمل ایران اور آئی اے ای اے کے تعاون سے انجام پائے گا۔ ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ یہ تمام باتیں ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ طور پر کی جا رہی ہیں۔ گویا دنیا کی واحد سپر پاور کہلانے والے ملک کا سربراہ کسی بھی صورت اس جنگ سے نکلنے کی کوشش میں ہے، لیکن ایران اب اس "کمبل" کی مانند بن چکا ہے جسے چھوڑنا آسان نہیں رہا۔ٹرمپ اس کمبل کو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن کمبل ان کو نہیں چھوڑ رہا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تاحال کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن اس وقت ایران کی تمام تر توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کر رہا، جبکہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام سے متعلق فیصلہ ایران اور عمان مل کر کریں گے۔بقائی کے مطابق ٹرمپ نے دو روز قبل عمان کو بھی اسی انداز میں دھمکی دی تھی جس طرح ایران کو دی جاتی رہی ہے۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں، جب آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے ممکنہ مشترکہ کنٹرول کا ذکر آیا، تو ٹرمپ نے عمان کو خبردار کیا کہ اگر اس نے ایران کے ساتھ مل کر ایسا کوئی قدم اٹھایا تو اسے "تباہ کر دیا جائے گا"۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے رکن ملک عمان کو تباہ کرنے کی دھمکی دینا غنڈہ گردی کی ایک خطرناک علامت ہے۔ اندازہ کیجیے، ایک طرف ٹرمپ کے بیانات ہیں اور دوسری طرف ایران کے جوابات۔ مغربی میڈیا کا ایک بڑا حصہ مسلسل یہ تاثر دے رہا ہے کہ معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے، جبکہ ایران اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ کبھی افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے کی بات کی جاتی ہے، کبھی اسے چین کے پاس رکھنے کے دعوے سامنے آتے ہیں۔ یہ سب امریکی اخبارات کے دعوے ہیں، جو کبھی ٹرمپ اور کبھی جے ڈی وینس سے منسوب کیے جاتے ہیں، جبکہ ایران ان تجاویز کو قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔مجموعی طور پر صورتحال یہ دکھائی دیتی ہے کہ ٹرمپ اب دفاعی پوزیشن اختیار کر چکے ہیں۔وہ اب دوڑ لگانا چاہتے ہیں بلکہ دوڑ لگا چکے ہیں۔ اس ساری صورتحال نے مجھے اپنے گاؤں کے ایک پہلوان کا واقعہ یاد دلا دیا۔ ہمارے گاؤں کے ایک پہلوان صاحب تھے۔ ہم بھی انہیں "استاد جی، استاد جی" کہتے تھے۔ وہ بڑے خوش تھے کہ پورا گاؤں مجھے استاد جی، استاد جی کہتا ہے۔ایک دن وہ ایک قصہ سنانے لگے کہ مترا والی میں 7 جون کو چنن شاہ کا ایک بڑا میلہ ہوتا ہے۔ اس میلے میں وہ بھی گئے ہوئے تھے۔ کبڈی کا میچ ہوا۔ کبڈی کے بعد اعلان ہوا کہ اب کشتی کا مقابلہ ہوگا۔ہمارے جو استاد تھے، انہوں نے میدان میں جا کر للکارا:’’ہے کوئی جو مجھ سے مقابلہ کرے؟‘‘چونکہ وہ پہلوانی میں کافی مشہور تھے، اس لیے سب ان کی طرف دیکھنے لگے۔ اچانک سیالکوٹ سے ایک نوجوان، باؤ جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پہنے، میدان میں آ گیا۔ اس نے کہا: ’’میں آپ کا چیلنج قبول کرتا ہوں۔‘‘اس نے جب ٹی شرٹ اتاری تو وہ باڈی بلڈنگ قسم کا ایک زبردست پہلوان نکلا۔ استاد جی کہتے ہیں کہ اسے دیکھ کر میرے تو اوسان ہی خطا ہو گئے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گئے اور داؤ پیچ کا سلسلہ شروع ہوا۔ جلد ہی اس باڈی بلڈر نے ہمارے استاد جی کو اپنے تھلے رکھ لیا۔ اب استاد جی کہتے ہیں کہ میں چاہ رہا تھا کہ وہ میری کنڈ لگوا دے۔ کنڈ لگنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دونوں کندھے زمین کے ساتھ لگ جائیں۔ جس کے کندھے لگ جائیں، وہ چِت سمجھا جاتا ہے۔لیکن وہ کنڈ لگنے بھی نہیں دے رہا تھا۔ وہ مجھے مسل رہا تھا، کبھی میرے کان مروڑتا، کبھی میرے اوپر بیٹھ جاتا، کبھی ایک سائیڈ پر اور کبھی دوسری سائیڈ پر۔پھر وہ کہتے ہیں کہ آخر میرا’’دا‘‘ چل گیا۔ہم سب بڑے حیران ہوئے۔ ہم دوستوں نے سوچا کہ استاد جی نے اسے نیچے لگا لیا ہوگا۔ انہوں نے دوبارہ کہا: ’’پھر میرا دا چل گیا۔‘‘ہم نے پوچھا: ’’استاد جی، پھر کیا ہوا؟ کیا آپ نے اسے گرا کر اس کی کنڈ لگا دی؟‘‘اس پر استاد جی نے کہا: ’’میرا دا چل گیا۔ میں نے جلدی سے اپنے کندھے زمین پر لگا لیے۔‘‘ یعنی میں چِت ہو گیا، میں ہار گیا۔ یوں میں ہارنے میں کامیاب ہو گیا۔اسی طرح ٹرمپ صاحب کے کان بڑی دیر سے ایران مروڑ رہا تھا، لیکن ٹرمپ صاحب اس معاملے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ آخرکار آج ٹرمپ صاحب کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے سب کے سامنے برملا اعلان کر دیا ہے کہ لڑنا وڑنا چھوڑیں اور اچھے بچوں کی طرح رہیں۔البتہ نیتن یاہو کو بھی انہوں نے سمجھا دیا ہے کہ تیرے یہودیاںنال، پیار اپنی جگہ، لیکن ایران ہمارے زیادہ کان مروڑ رہا ہے، اس لیے آپ خاموش رہیں۔ اپنا کام آپ خود کریں، مجھے یہاں ہی رہنے دیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus