×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہماری سوچ اور ذہنوں پر حملہ آور سوشل میڈیا
Dated: 23-Jun-2026
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو علم، تحقیق، اختراع اور مسلسل محنت کو اپنی اجتماعی ترجیحات میں شامل رکھتی ہیں۔ انسانی تہذیب کی ترقی کا سفر دراصل علم کے فروغ، نئی ایجادات اور جدید ذرائع ابلاغ کی بدولت آگے بڑھا ہے۔ مگر بدقسمتی سے مسلم دنیا، بالخصوص برصغیر کے مسلمان، اس دوڑ میں رفتہ رفتہ پیچھے رہ گئے۔ اس زوال کے اسباب کو سمجھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پرنٹنگ پریس کی مخالفت اور علمی نقصان۔یورپ میں پندرہویں صدی میں پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے علم کے فروغ میں انقلاب برپا کر دیا۔ کتابیں جو پہلے ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، اب ہزاروں کی تعداد میں شائع ہونے لگیں۔ اس کے نتیجے میں تعلیم عام ہوئی، تحقیق کا دائرہ وسیع ہوا اور سائنسی انقلاب کی بنیاد پڑی۔اس کے برعکس مسلم دنیا میں بعض حلقوں نے ابتدا میں پرنٹنگ پریس کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا۔ سلطنت عثمانیہ میں بھی مختلف ادوار میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندیاں اور محدودیتیں موجود رہیں۔ اگرچہ یہ پابندیاں مکمل اور دائمی نہیں تھیں، تاہم ان کی وجہ سے علمی مواد کی اشاعت کی رفتار یورپ کے مقابلے میں بہت سست رہی۔ نتیجتاً وہ علمی انقلاب جو یورپ میں رونما ہو رہا تھا، مسلم دنیا اس سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکی۔ سائنسی انقلاب اور مسلم دنیا کی دوری۔سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں یورپ میں سائنس، طب، انجینئرنگ اور صنعت کے میدانوں میں غیرمعمولی ترقی ہوئی۔ اس دوران مسلم معاشروں میں سیاسی کمزوری، اندرونی اختلافات اور تعلیمی جمود نے ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔حقیقت یہ ہے کہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب بغداد، قرطبہ، دمشق اور سمرقند دنیا کے بڑے علمی مراکز شمار ہوتے تھے۔ الجبرا، طب، فلکیات، کیمیا اور فلسفے میں مسلمانوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ مگر بعد کے ادوار میں تحقیق اور تنقیدی سوچ کی روایت کمزور پڑتی گئی، جبکہ مغربی اقوام نے مسلسل آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھا۔ نوآبادیاتی دور اور تعلیمی پسماندگی۔اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بیشتر مسلم ممالک یورپی طاقتوں کے زیرِ اثر آ گئے۔ نوآبادیاتی نظام نے مقامی معیشتوں اور تعلیمی ڈھانچوں کو کمزور کیا۔ اس دوران یورپ میں صنعتی انقلاب آیا، جدید یونیورسٹیاں قائم ہوئیں اور تحقیق کو ریاستی سرپرستی حاصل ہوئی، جبکہ مسلم دنیا بنیادی تعلیمی مسائل سے نبرد آزما رہی۔یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک اور مسلم معاشروں کے درمیان علمی اور معاشی فاصلہ بڑھتا چلا گیا۔ محنت اور جدوجہد سے آسان راستوں تک۔کبھی برصغیر کے نوجوانوں کے خواب ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان اور محقق بننے سے وابستہ ہوتے تھے۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلے کے لیے شدید مقابلہ ہوا کرتا تھا اور کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ اپنی صلاحیت اور محنت کی بدولت ممتاز مقام حاصل کرتے تھے۔مگر آج صورتحال بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فوری شہرت اور جلد آمدنی کے راستوں کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں، بلکہ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسے علم، تحقیق اور مہارت حاصل کرنے کے بجائے صرف تفریح یا فوری مالی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے۔ سوشل میڈیا کا بے مقصد استعمال۔ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن ان کے غیرمحتاط استعمال نے نوجوان نسل کی توجہ اور یکسوئی کو متاثر کیا ہے۔ مختصر ویڈیوز اور فوری تفریح کے کلچر نے طویل مطالعے، گہری تحقیق اور مستقل مزاجی جیسی خصوصیات کو کمزور کیا ہے۔آج بہت سے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی صرف وائرل ہونے یا چند ماہ میں مشہور ہونے سے حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ حقیقی ترقی علم، مہارت اور مسلسل محنت کا تقاضا کرتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ترقی یافتہ قوم صرف تفریحی صنعت کے سہارے ترقی نہیں کرتی، بلکہ اس کی بنیاد سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور تحقیق پر قائم ہوتی ہے۔ تعلیمی شعبوں میں کم ہوتی دلچسپی۔سوشل میڈیا کے خرافات کو اپناتے ہوئے ہم اس حد تک ملوث ہو چکے ہیں کہ اب ہمارے گھروں اور فیملیوں میں بچوں کو ڈاکٹر، سائنسدان، انجینئر یا کسی بھی ہنر مند شعبے کی طرف لے جانے کا رواج تقریباً ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اب ہر شخص ٹک ٹاک کی کمائی کو ہی اصل مقصد سمجھتا ہے۔ تھوڑی سی انگریزی بولنی آتی ہو تو سمجھا جاتا ہے کہ باقی کوئی خاص مسئلہ نہیں۔ ہر شخص ٹک ٹاک کے چکر میں تعلیم چھوڑ رہا ہے اور پہلے جیسا جذبہ باقی نہیں رہا۔ لاہور کے کالجوں میں پچھلے سال ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 18 فیصد سے زائد ایم بی بی ایس کی سیٹیں خالی رہ گئیں اور پر نہیں ہو سکیں۔ کبھی ان داخلوں کے لیے اتنا سخت مقابلہ ہوا کرتا تھا کہ 500 سیٹوں پر 5000 امیدوار ہوتے تھے۔ پاکستان میں میڈیکل کا میرٹ سب سے بلند ہوا کرتا تھا۔ جسے داخلہ مل جاتا، وہ اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتا اور ڈاکٹر بننے کے لیے دن رات ایک کر دیتا تھا۔اب صورتحال یہ ہے کہ اتنے کم لوگ اس شعبے کی طرف آ رہے ہیں کہ میرٹ کو کافی حد تک کم کر دیا گیا ہے۔ کبھی 80 فیصد نمبر لینے والے بچے بڑی مشکل سے میرٹ پر آتے تھے، اب 60 فیصد والے بھی داخلے کے حقدار قرار پا رہے ہیں، اس کے باوجود بھی سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں۔ اسی طرح انجینئرنگ یونیورسٹیوں کی 15 سے 25 فیصد سیٹیں بھی پاکستان بھر میں خالی رہ گئی ہیں۔ دوسرے صوبوں سے آنے والے طلبہ کی شرکت بھی اس نظام کا حصہ ہے، لیکن آج کل طلبہ کا مقصد زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح سرکاری نوکری مل جائے تاکہ ساری عمر ایک مستقل تنخواہ اور مراعات حاصل رہیں۔ باقی کام وہ ساتھ ساتھ کرتے رہیں، لیکن بنیادی ہدف 18 گریڈ کی سرکاری ملازمت حاصل کرنا ہوتا ہے جس سے معقول آمدن اور فوائد حاصل ہوں۔اس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا کا بے دریغ اور غیر محتاط استعمال سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہماری قوم موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال نہیں سکی اور یہ رجحان ہمیں کئی سال پیچھے لے گیا ہے۔ کبھی مغرب اور ہمارے درمیان ترقی اور خوشحالی کا فرق تقریباً 200 سال کا سمجھا جاتا تھا، لیکن آج یہ فرق بڑھ کر 500 سال تک پہنچ گیا ہے۔اس کے لیے ہمیں بحیثیت معاشرہ کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ صرف حکومتی سطح پر ممکن نہیں، کیونکہ حکمرانوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر مسلم ملک اور معاشرے میں یہی رجحان پایا جاتا ہے۔یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں طویل المدتی علمی اہداف کے بجائے فوری نتائج کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں سائنس دانوں، انجینئروں، محققین اور ماہرین کی کمی مزید سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ سرکاری ملازمت کا رجحان۔نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا بنیادی ہدف صرف ایک محفوظ سرکاری ملازمت حاصل کرنا بن گیا ہے۔ اگرچہ روزگار کا تحفظ ایک جائز خواہش ہے، لیکن کسی قوم کی ترقی صرف ملازمتوں سے نہیں بلکہ اختراع، صنعت، کاروبار، تحقیق اور نئی ایجادات سے وابستہ ہوتی ہے۔دنیا کی بڑی معیشتیں ان لوگوں نے تعمیر کیں جو مسائل کے حل تلاش کرتے تھے، نئی مصنوعات بناتے تھے اور نئی صنعتوں کی بنیاد رکھتے تھے۔ جب معاشرے میں تخلیقی صلاحیتوں اور تحقیق کی حوصلہ افزائی کم ہو جائے تو ترقی کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ۔موجودہ حالات مایوسی کا تقاضا نہیں کرتے بلکہ اصلاح کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک اور مسلم دنیا کے درمیان ایک بڑا فاصلہ موجود ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنی ترجیحات تبدیل کرکے دوبارہ عروج حاصل کر سکتی ہیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ:تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے۔تحقیق اور سائنسی اداروں میں سرمایہ کاری کی جائے۔مطالعے اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جائے۔سوشل میڈیا کو علم اور مہارت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔نوجوانوں میں محنت، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی پیدا کی جائے۔والدین اور اساتذہ نئی نسل کو صرف ملازمت نہیں بلکہ تخلیق، تحقیق اور جدت کی طرف راغب کریں۔ مسلم دنیا کا زوال کسی ایک واقعے یا ایک طبقے کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ یہ کئی صدیوں پر محیط سیاسی، معاشی، تعلیمی اور فکری عوامل کا نتیجہ ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب قومیں علم، تحقیق اور محنت سے دور ہو جاتی ہیں تو وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔آج بھی اگر ہم اپنی ترجیحات درست کر لیں، نوجوان نسل کو سائنسی اور فنی تعلیم کی طرف راغب کریں، اور سوشل میڈیا کو مقصدیت کے ساتھ استعمال کریں تو مستقبل بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ترقی کا سفر طویل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی تعمیر کا عزم کرتی ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus