×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تعلیم کی کمی، سماجی شعور کا فقدان اور بڑھتے ہوئے جرائم
Dated: 30-Jun-2026
پاکستان کو درپیش سنگین سماجی مسائل میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح ایک اہم چیلنج ہے۔ قتل، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، جنسی تشدد، گھریلو تشدد، زمینوں کے تنازعات اور دیگر سنگین جرائم آئے روز معاشرے کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مسائل پورے ملک میں موجود ہیں، تاہم بعض علاقوں میں ان کی شدت نسبتاً زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ اس صورتحال کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو تعلیم کی کمی، سماجی شعور کا فقدان، قانون سے عدم آگاہی، غربت، برادری ازم اور کمزور سماجی ڈھانچہ نمایاں عوامل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ جہاں تعلیم اور شعور کم ہو وہاں فرسودہ روایات، توہمات اور غیر قانونی رسم و رواج زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں قانون اور ریاستی اداروں پر اعتماد کم جبکہ برادری، طاقت اور روایتی فیصلوں پر انحصار زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بعض دیہی علاقوں میں آج بھی ونی، کاروکاری، غیر قانونی پنچایتیں، غیرت کے نام پر قتل، خواتین کو وراثت سے محروم کرنا اور دیگر غیر انسانی روایات مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔ بعض مقامات پر تنازعات کے تصفیے کے لیے کم سن بچیوں کو ونی کے طور پر دینے جیسے واقعات سامنے آتے ہیں، جبکہ کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات بھی وقتاً فوقتاً رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔کئی علاقوں اور قبیلوں میں بے گناہی ثابت کرنے کے لیے انسانوں کو کوئلوں پر چلائے جانے کی روایت بھی موجود ہے۔یہ تمام رویے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جہاں ریاستی قانون کمزور اور سماجی شعور محدود ہو، وہاں ظلم اور ناانصافی کو جواز فراہم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ پنجاب کے بعض وسطی اضلاع، خصوصاً جھنگ، سرگودھا، چنیوٹ، منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد، طویل عرصے سے زمینوں کے تنازعات، خاندانی دشمنیوں اور برادری ازم کے مسائل سے متاثر رہے ہیں۔ ان علاقوں میں قتل و غارت کے متعدد واقعات اور سنگین جرائم وقتاً فوقتاً عوامی توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں۔ اگرچہ جرائم کے درست تقابلی اعداد و شمار کا تعین متعلقہ سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے، تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ ان علاقوں میں سماجی تنازعات اور تشدد کے واقعات ایک قابلِ توجہ مسئلہ ہیں۔ ان علاقوں کی سیاست پر بھی برادری ازم کا گہرا اثر دکھائی دیتا ہے۔ اکثر مقامات پر ووٹ کارکردگی، پالیسی یا نظریات کے بجائے خاندانی اور برادری وابستگیوں کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً تعلیم، صحت، سماجی اصلاحات اور انسانی ترقی جیسے بنیادی مسائل سیاسی ترجیحات میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ جاگیردارانہ اور وڈیرہ شاہی طرزِ فکر بھی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ زمینوں کے تنازعات، طاقت کے عدم توازن اور مقامی اثر و رسوخ کے باعث کمزور طبقے کے لیے انصاف کا حصول مشکل ہو جاتا ہے، جس سے قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے افسوسناک واقعات نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سرگودھا میں سات سالہ بچی کے ساتھ پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ بھی اسی تلخ حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ صرف جدید نگرانی کے نظام، کیمروں یا سخت قوانین کے ذریعے جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ایسے واقعات سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر معاشرے میں اخلاقی زوال اور انسانی بے حسی کیوں بڑھ رہی ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ اگر صرف سخت سزائیں جرائم کے خاتمے کے لیے کافی ہوتیں تو جدید نگرانی کے نظام، سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں جرائم میں نمایاں کمی آ جانی چاہیے تھی۔سی سی ڈی کے قیام اور کارکردگی پر دو رائے ہو سکتی ہیں تاہم جس طرح اس کی طرف سے جرائم کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کی گئی ہیں ایسی کاروائیوں کے ذریعے جرائم کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے تو اب تک جرائم ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔ قصور میں معصوم بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا مجرم کو سزا دی گئی تو سمجھا گیا کیا ایسے واقعات نہیں ہوا کریں گے۔جنرل ضیاء الحق ایک آمر تھے۔اوکے ساتھ ظلم کی کوئی داستان وابستہ ہیں تا ہم ان کے دور میں ایک بچے کو زیادتی کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا وہ اس کے قاتلوں کو عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد جنرل ضیاء الحق کے حکم پر سر عام پھانسی دی گئی تھی۔کچھ عرصہ کے لیے ایسے واقعات رونما نہیں ہوئے مگر پھر شروع ہو گئے۔ عملی طور پر دیکھا جائے تو قتل، زیادتی اور دیگر سنگین جرائم نہ صرف جاری ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ان میں اضافہ بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلے کی جڑ صرف قانون نافذ کرنے یا سزا دینے میں نہیں بلکہ سماجی تربیت، اخلاقی تعلیم، ذہنی صحت، خاندانی نظام اور اجتماعی شعور میں بھی پوشیدہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں جرائم کی کم شرح صرف سخت قوانین کا نتیجہ نہیں بلکہ معیاری تعلیم، اخلاقی تربیت، فوری انصاف، سماجی تحفظ اور قانون کی یکساں عملداری کا ثمر ہے۔ وہاں افراد اپنی شناخت قبیلے، برادری یا خاندان کے بجائے ایک ذمہ دار شہری کے طور پر کرتے ہیں۔ اگر پاکستان جرائم میں حقیقی کمی چاہتا ہے تو اسے محض سزاؤں اور پولیسنگ سے آگے بڑھ کر ایک جامع سماجی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ تعلیم، اخلاقی تربیت، قانونی آگاہی، فنی مہارتوں کے فروغ، نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں، خواتین کی تعلیم اور نفسیاتی معاونت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ دیہی علاقوں میں اسکولوں، کالجوں، ٹیکنیکل اداروں، لائبریریوں، کھیلوں کے میدانوں اور کمیونٹی سینٹرز کے قیام کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہ انسان کو برداشت، قانون کی پاسداری، اختلافِ رائے کا احترام، خواتین کے حقوق اور معاشرتی ذمہ داری کا شعور دیتی ہے۔ جہاں علم کی روشنی پھیلتی ہے وہاں جہالت، انتہاپسندی، توہم پرستی، غیر قانونی رسم و رواج اور جرائم کے لیے جگہ تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔ لہٰذا جرائم کے خلاف جنگ صرف پولیس، عدالتوں یا جیلوں میں نہیں جیتی جا سکتی۔ اس جنگ کا اصل میدان اسکول، گھر، معاشرہ اور ذہن ہیں۔ جب ریاست تعلیم، شعور، انصاف اور قانون کی حکمرانی کو اپنی اولین ترجیح بنا لے گی تو ایک محفوظ، مہذب اور پرامن پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں علم کی روشنی پہنچتی ہے وہاں جہالت، ظلم اور جرائم کے اندھیرے دیر تک قائم نہیں رہ سکتے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus