×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
خامنہ ای :جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا
Dated: 07-Jul-2026
ایران کے سابق روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کو اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں 28 فروری 2026ء کو شہید کر دیا گیا تھا۔ اس حملے میں ان کی اہلیہ، ایک بیٹی اور ایک نواسا بھی جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ان کے ممکنہ جانشین مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہوئے۔ کئی ماہ تک زیرِعلاج رہنے کے بعد وہ بتدریج صحت یاب ہوئے۔شہادت کے چار ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے آغاز کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ ان تقریبات کا آغاز 3 جولائی سے ہوا، جبکہ 4 جولائی کو ان کا جسدِ خاکی تہران میں عوام کے آخری دیدار کے لیے رکھا گیا، جہاں لاکھوں افراد اشک بار آنکھوں کے ساتھ اپنے رہبر کو الوداع کہنے پہنچے۔تجہیز و تکفین کی مرکزی تقریبات تہران کے عظیم مذہبی و ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ سے شروع ہوئیں۔ ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں خامنہ ای کا تابوت مرکزی ہال میں لایا گیا، جہاں قرآن خوانی، مرثیہ خوانی اور دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ سات روزہ تقریبات 9 جولائی تک جاری رہیں گی اور اسی روز انہیں مشہد میں امام رضاؑ کے روضۂ اقدس کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ یہ تقریبات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں بلکہ عراق کے مقدس شہروں میں بھی تعزیتی اجتماعات، مجالس اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان سات روزہ رسومات کے انعقاد کے لیے پاسدارانِ انقلاب، سیکیورٹی اداروں، بلدیاتی انتظامیہ اور مختلف سرکاری محکموں کو کئی ہفتے پہلے ہی متحرک کر دیا گیا تھا۔3 جولائی، یعنی رسومات کے پہلے روز سے ہی دنیا بھر سے سرکاری اور غیر سرکاری وفود کی تہران آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا، جو توقع ہے کہ 9 جولائی، تدفین کے دن تک جاری رہے گا۔ پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے رسومات میں شرکت کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ایک علیحدہ وفد بھی اظہارِ تعزیت کے لیے تہران پہنچا۔ صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اڑہ ای سمیت ایران کی اعلیٰ قیادت نے عوام سے ان تقریبات میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔ اس اپیل کے بعد ملک بھر سے زائرین کا ایک غیر معمولی سیلاب تہران کا رخ کر رہا ہے۔تہران میں تقریبات کی نگرانی کرنے والے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسن زادہ کے مطابق حکام کو ایک کروڑ بیس لاکھ سے ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد کی شرکت کی توقع ہے، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد دو کروڑ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ ایرانی حکام نے 1989ء میں امام خمینی کی تدفین کے موقع پر پیش آنے والے افسوسناک واقعات کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے، جب غیر معمولی ہجوم کے باعث افراتفری مچ گئی تھی، متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے اور بالآخر جنازے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہجوم سے نکالنا پڑا تھا۔ اسی تجربے کی روشنی میں اس بار غیر معمولی حفاظتی اور انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتِ حال سے بچا جا سکے۔زائرین کی خدمت کے لیے ہزاروں خدمتی مراکز اور استقبالیہ کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جن کی رجسٹریشن اور انتظامات پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں۔ دس لاکھ سے زائد افراد کی عارضی رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے، جبکہ تہران کے مرکزی علاقوں میں ہجوم کی محفوظ اور مسلسل نقل و حرکت برقرار رکھنے کے لیے خصوصی شہری راہداریوں اور ٹریفک پلان پر بھی عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے، امریکہ کی حمایت کے ساتھ، علی خامنہ ای پر حملہ کیا گیا، جس میں ان کے خاندان کے بعض افراد شہید ہوئے اور فوج کے جرنیل بھی شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ ایران نے جواب میں جو کچھ اس سے ممکن تھا، کرنے کی کوشش کی، تاہم اس طرح کا بدلہ نہیں لیا جا سکا جس انداز سے اسرائیل کی جانب سے یہ کارروائیاں کی گئی تھیں۔علی خامنہ ای کے بعد، علی لاریجانی، جو قومی سلامتی کے مشیر تھے اور ان کے بعد سب سے طاقتور شخصیت سمجھے جاتے تھے، انہیں بھی شہید کر دیا گیا تھا۔ آج کی ایرانی قیادت، یعنی قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، کو بھی جان کا خطرہ تھا، لیکن ان پر حملہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہی مذاکرات کرنے والے تھے۔ پاکستان نے بھی امریکہ سے کہا تھا کہ ان پر حملہ نہ کیا جائے، ورنہ مذاکرات کے لیے کوئی مؤثر قیادت باقی نہیں رہے گی۔علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر بھی یہ خدشہ موجود تھا کہ امریکہ یا اسرائیل ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتے ہیں، خصوصاً مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بیرونی دنیا میں کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ لہٰذا ایرانی حکومت نے فیصلہ کیا کہ دشمن کی ٹریکنگ اور نگرانی سے بچنے کے لیے مجتبیٰ خامنہ ای منظرِعام پر نہیں آئیں گے، اسی لیے وہ اپنے والد کی آخری رسومات میں بھی شرکت نہیں کریں گے۔ علی خامنہ ای کی اہلیہ کے بھائی، حسن خجستہ باقرزادہ، نے ایک ٹی وی پروگرام میں رہبر کی دوسری بیٹی کے لیے دعا کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گویا صحرا میں تنہا اور اکیلی پڑی ہوئی ہیں۔ تاہم انہوں نے ان کی چوٹوں یا جسمانی حالت کے بارے میں مزید کوئی تفصیل بیان نہیں کی، جس کے باعث خاندان کے بعض افراد کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔علی خامنہ ای کے چار بیٹوں کے علاوہ دو بیٹیاں بھی تھیں۔ ان کی بیٹی، بشریٰ خامنہ، پہلے ہی حملے کے روز جاں بحق ہو گئی تھیں۔ اس لیے مبصرین کا خیال ہے کہ حسن خجستہ باقرزادہ کا اشارہ غالباً ہدیٰ خامنہ ای کی جانب تھا، جن کے شوہر، مصباح الہدیٰ باقری، بھی اسی روز جاں بحق ہوئے تھے۔اہم بات یہ ہے کہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین اور تدفین کے بعد ان کی وصیت کے منظرِ عام پر آنے کے بھی امکانات ہیں۔ ابھی تک ان کی وصیت سامنے نہیں آئی۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ عالمی شخصیات کی آخری رسومات میں دنیا بھر کی بڑی شخصیات ایک ہی دن، ایک ہی موقع پر اور ایک ہی جگہ پر جمع ہو جاتی ہیں، لیکن ایران نے اس مرتبہ مختلف انتظام کیا ہے۔ دنیا کے وہ سربراہان جو ان رسومات میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ایک ہی دن مقرر کرنے کے بجائے مختلف دنوں میں دعوت دی گئی ہے۔ علی خامنہ ای ایک دلیر اور جرأت مند شخصیت تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ دشمن حملہ کر سکتا ہے۔ علی لاریجانی نے جا کر ان سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنا ٹھکانہ تبدیل کر لیں، لیکن انہوں نے دشمن کے خوف سے اپنا مقام تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا:’’کیا میری طرح ہر ایرانی بھی اسی طرح محفوظ ہے، جس طرح آپ مجھے محفوظ کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ پھر فرمایا:’’جس طرح عام ایرانی رہتے ہیں، میں بھی اسی طرح رہنا چاہتا ہوں۔‘‘ جس انداز سے ان کی تدفین کی جا رہی ہے، اور جس طرح دنیا بھر سے، خصوصاً ایران کے گلی کوچوں، بستی بستی اور شہر شہر سے لوگ ان کی جرأت کو سلام اور عقیدت پیش کرنے کے لیے آ رہے ہیں، اس پر یہ اشعار صادق آتے ہیں: جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں گر بازیِ عشق کی بازی ہے، جو چاہو لگا دو، ڈر کیسا گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں گو کہ ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی ہو چکی ہے یادداشت پر بھی سائن ہو گئے ہیں۔معاہدے کی طرف پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ٹرمپ کہ جو کچھ کہتے ہیں ضروری نہیں کہ اس پر عمل بھی کریں۔60 دن معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے دیے گئے ہیں۔ خدا کرے کہ کامیابی سے معاہدہ ہو جائے۔ پوری دنیا کا امن اسی معاہدے سے وابستہ ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ خدشات اپنی جگہ پر موجود ہیں کہ جس طرح اسرائیل کی طرف سے امریکہ کو اسرائیل پر حملے کے لیے پہلے انگیخت کیا گیا اب بھی اسرائیل نہیں چاہتا کہ ایران اور امریکہ کے مابین معاہدہ عملی اور حتمی شکل اختیار کرے۔یوں پہلے کی طرح جنگ کے خطرات موجود ہیں تاہم پہلے بھی جنگ کے شعلے کم کرنے میں پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکہ اور ایران کی قیادتوں کے ساتھ دوستی کی جڑیں گہری ہو چکی ہیں یہی ایک شخصیت ہیں جو صدر ٹرمپ کو معاہدے کو آخری شکل دینے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus