×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یہ سب ٹھیک مگر عوام کی باری کب آئے گی؟
Dated: 18-Aug-2026
پاکستان میں آج مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت قائم ہے۔ موجودہ سیاسی بندوبست کو کسی حد تک اْس حکومتی تسلسل کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے جو 9 اپریل 2022ء کو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد شروع ہوا تھا۔ اْس وقت بھی مسلم لیگ (ن) سمیت پی ڈی ایم کی جماعتوں نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے، ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے حکومت سنبھالنا ناگزیر ہو گیا تھا۔حکومت نے ابتدا میں کچھ عرصہ صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی اور پھر معیشت کو مستحکم کرنے کے نام پر مشکل اور کڑے فیصلوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان فیصلوں کا بنیادی جواز یہی پیش کیا گیا کہ پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے، زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں ہیں، بیرونی ادائیگیوں کا مسئلہ درپیش ہے اور ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکا ہے۔ چنانچہ عوام کو بتایا گیا کہ وقتی تکلیف برداشت کیے بغیر معیشت کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ممکن نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، اشیائے خورونوش اور روزمرہ ضرورت کی تقریباً ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی چلی گئی۔ اس کے باوجود حکومت کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا کہ یہ قربانیاں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ عوام نے بھی، کم از کم ایک حد تک، یہ سوچ کر ان مشکلات کو برداشت کیا کہ اگر ملک واقعی کسی بڑے معاشی بحران سے نکل رہا ہے تو آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوں گے۔پھر حکومت کی طرف سے اعلان ہوا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل آیا ہے، معاشی بحران پر قابو پا لیا گیا ہے اور معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر بحران ٹل گیا تھا تو اس کے بعد عام آدمی کی زندگی میں بہتری کیوں نہ آ سکی؟ 2024ء کے انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا، نگران حکومت کے ذریعے سابقہ معاشی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا اور پھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اقتدار میں آ گئیں۔ اگرچہ پیپلزپارٹی کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت کا باقاعدہ حصہ نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون کرنے والی جماعت ہے، لیکن عملی طور پر ریاستی نظام کے اہم عہدوں پر اس کی موجودگی اس کی بھرپور شراکت داری اور کلیدی عہدوں پر براجمانی ثابت کرتی ہے ۔ صدرِ مملکت، صوبائی گورنری کے اہم عہدے، قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکرشپ اور سینیٹ کی چیئرمین شپ جیسے اہم مناصب پیپلزپارٹی کے پاس ہیں۔دوسری طرف پی ڈی ایم کے سابقہ سیاسی اتحاد کی بھی یہی صورت نہیں رہی۔ مولانا فضل الرحمن حکومتی اتحاد سے الگ ہو گئے، محمود خان اچکزئی نے تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی صف بندی اختیار کر لی، اختر مینگل کی جماعت بھی الگ راستے پر چلی گئی، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ بدستور حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔ یوں پی ڈی ایم کے وسیع تر سیاسی اتحاد کے مقابلے میں موجودہ حکومتی اتحاد نسبتاً محدود جماعتوں پر مشتمل ہے، مگر معاشی پالیسی کے بنیادی خدوخال میں کوئی بڑی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔موجودہ حکومت بھی معیشت کے حوالے سے بڑے دعوے کر رہی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ معیشت مستحکم ہو چکی ہے، کبھی یہ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں پہنچ چکا ہے اور کبھی پاکستان کو مستقبل کا ایشین ٹائیگر قرار دینے کی امید دلائی جاتی ہے۔ اگر معیشت واقعی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکی ہے تو پھر مہنگائی مسلسل عام آدمی کی قوتِ خرید کو کیوں کھا رہی ہے؟ اگر معاشی استحکام آ چکا ہے تو بے روزگاری کا مسئلہ کیوں برقرار ہے؟ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافے کی خبریں کیوں سامنے آتی ہیں؟ بجلی کے بل ایک مستقل عذاب کیوں بن چکے ہیں؟ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عام شہری کے لیے مسلسل عذاب کا باعث کیوں ہیں؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب حکومت کو اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر دینا ہوگا۔پاکستان کی معاشی صورتحال کا ایک اہم پہلو قرضوں کا مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ بھی ہے۔ ایک طرف قوم کو بتایا جاتا ہے کہ ملک معاشی بحران سے نکل چکا ہے اور معیشت مضبوط ہو رہی ہے، دوسری طرف بیرونی و اندرونی قرضوں، مالی معاونت اور مختلف ممالک سے ممکنہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کا تذکرہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ سعودی عرب سے تیل کی ادائیگیوں میں سہولت یا موخر ادائیگی کے انتظامات، مختلف دوست ممالک سے مالی تعاون، متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس، امریکہ سے ممکنہ طویل المدت مالی سہولت اور خلیجی ممالک سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی توقعات:یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ اگر یہ رقوم واقعی سرمایہ کاری کی شکل میں پاکستان کی معیشت میں آتی ہیں اور پیداواری شعبوں کو مضبوط بناتی ہیں تو یقیناً یہ مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک بنیادی سوال موجود ہے: کیا ہم مستقل طور پر بیرونی مالی سہولتوں اور قرضوں پر انحصار کرتے رہیں گے یا کبھی ایسا معاشی ماڈل بھی تشکیل دیں گے جس میں پاکستان اپنی آمدنی، برآمدات اور پیداواری صلاحیت کے بل پر کھڑا ہو؟معاشی خود مختاری کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ملک ڈیفالٹ سے بچ جائے۔ اصل کامیابی تب ہو گی جب ملک کو ہر چند ماہ بعد کسی نئے قرض، ڈپازٹ، رول اوور یا مالی پیکیج کی ضرورت نہ پڑے۔پٹرولیم لیوی کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار اس بحث کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں مقررہ ہدف سے تقریباً 100 ارب روپے زیادہ وصول کیے اور مجموعی وصولی ایک ہزار 567 ارب 45 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔یہاں سوال محض یہ نہیں کہ حکومت نے کتنا ریونیو جمع کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس اضافی آمدنی کا فائدہ عوام کو کہاں ملا؟ اگر پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی سے حکومت کی آمدنی توقع سے زیادہ ہو رہی ہے تو کیا اس کا کچھ حصہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے؟ اگر ایک طرف حکومت معاشی استحکام کی خوشخبری دے رہی ہے اور دوسری طرف دوسری طرف پٹرول، بجلی اور دیگر ضروریات زندگی پر عوام سے مسلسل زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہے تو پھر معاشی استحکام کا ثمر آخر کس کو مل رہا ہے؟عوام سے یہ کہنا کہ ملک کو بچانے کے لیے قربانی دیں، ایک مشکل مگر قابلِ فہم مؤقف ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ مؤقف اسی وقت قابلِ قبول رہتا ہے جب قربانی کے بعد بہتری بھی نظر آئے۔قرض بڑھ رہا ہے، تو ترقی کا فائدہ کہاں ہے؟یہی اصل سوال ہے۔اگر پاکستان نے قرضے لیے، اگر دوست ممالک نے مالی مدد کی، اگر عالمی اداروں کے پروگرام جاری رہے، اگر سرمایہ کاری کے بڑے بڑے منصوبے زیرِ بحث آئے، اگر حکومت نے سخت معاشی فیصلے کیے، اگر ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل گیا اور اگر معیشت واقعی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو گئی ہے، تو پھر اس کا عملی فائدہ عام پاکستانی تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ معاشی استحکام کا مطلب صرف یہ نہیں کہ حکومت کے پاس اگلے چند ماہ کی ادائیگیوں کے لیے رقم موجود ہو۔ معاشی استحکام کا اصل امتحان یہ ہے کہ ایک مزدور، ایک سرکاری ملازم، ایک چھوٹا تاجر، ایک کسان، ایک نوجوان اور ایک متوسط گھرانہ اپنی زندگی میں بہتری محسوس کرے۔اگر تنخواہ بڑھنے سے پہلے بجلی کا بل بڑھ جائے، آمدنی میں اضافے سے پہلے پٹرول مہنگا ہو جائے، روزگار کے مواقع پیدا ہونے سے پہلے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ جائیں اور ٹیکسوں کا دائرہ وسیع ہونے کے باوجود ریاستی سہولتیں بہتر نہ ہوں تو عام آدمی کے لیے ’’معاشی استحکام‘‘ ایک ایسی اصطلاح بن جاتی ہے جس کا تعلق اس کی عملی زندگی سے نہیں رہتا۔ یقیناً پاکستان کا ڈیفالٹ سے بچنا ایک اہم کامیابی ہے۔ کوئی بھی محبِ وطن پاکستانی یہ نہیں چاہے گا کہ ملک اپنی بیرونی ادائیگیوں میں ناکام ہو۔ لیکن ڈیفالٹ سے بچ جانا منزل نہیں، صرف ایک مرحلہ ہے۔ پاکستان کے بیرونی قرضوں میں کمی کے بعد پھر سے اضافہ شروع ہوگیا۔ 3 ماہ کے دوران ملک کے بیرونی قرضوں میں 1242 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ دستاویزات کے مطابق تین ماہ میں حکومت کے قرضوں میں مجموعی طور پر 3112 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ ہوا جس میں سے 1242 ارب روپے کے بیرونی قرض بھی شامل ہیں جبکہ حکومت کے ملکی قرضوں میں 1870 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔اصل منزل ایک ایسی معیشت ہے جو قرضوں کے سہارے نہیں بلکہ پیداوار، برآمدات، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، روزگار اور انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے آگے بڑھے۔حکومت اگر یہ کہتی ہے کہ معیشت ٹیک آف کی پوزیشن میں ہے تو اسے عوام کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس ٹیک آف کا فائدہ کب اور کیسے عام آدمی تک پہنچے گا۔ صرف اسٹاک مارکیٹ کے اعداد و شمار، زرمبادلہ کے ذخائر، یا روپے کا حجم ڈالر کے مقابلے میں مستحکم رہنا ،مالیاتی اہداف یا عالمی اداروں کے ساتھ معاہدے معاشی خوشحالی کا مکمل پیمانہ نہیں ہو سکتے۔ایک مضبوط معیشت وہ ہے جس میں ریاست اپنے قرضے ادا کرنے کے قابل ہو، صنعت ترقی کرے، برآمدات بڑھیں، نوجوانوں کو روزگار ملے، متوسط طبقہ سکڑنے کے بجائے وسیع ہو، غربت کم ہو اور عام شہری کو بجلی، پٹرول، خوراک اور تعلیم کے اخراجات کے بعد زندگی گزارنے کے لیے کچھ بچ بھی جائے۔(قارئین شاید یہی وجہ ہے کہ چند دن پہلے یومِ آزادی کے روزجب نمایاں کارکردگی والے افراد کو سرکاری اعزازات سے نوازا گیا تو وزیرداخلہ، وزیر خارجہ ، نائب وزیراعظم اور خصوصی طور پر وزیرخزانہ کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیاہے ) پاکستان کو اب صرف یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ وہ ڈیفالٹ سے بچ گیا ہے۔ اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ قرض اور بحران کے چکر سے بھی نکل سکتا ہے۔عوام نے مشکل فیصلوں کے نام پر بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ اب ان کا حق ہے کہ حکومت ان قربانیوں کا حساب بھی دے اور ان کے ثمرات بھی دکھائے۔ اگر معیشت واقعی مضبوط ہو چکی ہے تو اس مضبوطی کی سب سے پہلی علامت سرکاری دعوے نہیں بلکہ عام پاکستانی کے گھر کا بجٹ، اس کی قوتِ خرید، اس کا روزگار اور اس کا معیارِ زندگی ہونا چاہیے۔ورنہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا:اگر معیشت مضبوط ہو چکی ہے، ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل چکا ہے اور پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں آ گیا ہے، تو پھر عوام کو ریلیف دینے کی باری کب آئے گی؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus