×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بائیکیا یا آن لائن سیاسی اتحاد کی ضرورت کیوں؟
Dated: 25-Aug-2026
پاکستان کی سیاست میں اتحاد کوئی نئی چیز نہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ میں انتخابی اتحاد بھی بنتے رہے، حکومت مخالف تحریکیں بھی چلتی رہی ہیں اور وقتاً فوقتاً مختلف جماعتوں نے مشترکہ پلیٹ فارم بھی تشکیل دیے ہیں۔ اتحاد اس وقت معنی خیز ہوتا ہے جب اس کے پیچھے کوئی واضح سیاسی مقصد، مشترکہ پروگرام، عوامی ضرورت اور قابلِ عمل حکمتِ عملی موجود ہو۔ بصورتِ دیگر اتحاد محض سیاسی سرگرمی، پریس کانفرنسوں اور عہدوں کی تقسیم تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔آج جب مولانا فضل الرحمن مختلف جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو بنیادی سوال یہی ہے کہ اس اتحاد کی ضرورت آخر کیا ہے؟ کیا یہ واقعی وقت کی آواز ہے یا ماضی کے سیاسی اتحادوں کی یاد کا ایک نیا اعادہ؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک اس وقت محض سیاسی کشمکش سے نہیں بلکہ معاشی دباؤ، روزگار کے بحران، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل، علاقائی کشیدگی اور ادارہ جاتی بے یقینی سمیت کئی سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ اتحاد کس مقصد کے لیے؟مولانا فضل الرحمن پاکستان کی سیاست میں ایک تجربہ کار اور بااثر مذہبی سیاسی رہنما ہیں۔ ان کی جماعت نے مختلف ادوار میں حکومتوں کے ساتھ بھی کام کیا اور اپوزیشن میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ متحدہ مجلس عمل ہو یا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، مولانا اتحاد سازی کے عمل میں مرکزی حیثیت رکھتے رہے ہیں۔لیکن موجودہ صورتحال میں سوال یہ ہے کہ نیا اتحاد کس مقصد کے لیے بنایا جا رہا ہے؟پاکستانی سیاست میں یہ تاثر بھی زیرِ بحث رہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اقتدار کے سیاسی فارمولے میں اپنی جماعت کے لیے مؤثر حصہ چاہتے ہیں۔ ماضی میں وزارتوں، پارلیمانی عہدوں، محکمہ حج و اوقاف اور کشمیر کمیٹی سمیت مختلف ذمہ داریوں کے حوالے سے ان کا سیاسی کردار نمایاں رہا ہے۔لیکن موجودہ دور میں اگر سیاست کا مقصد صرف چند عہدے، وزارتیں یا انتظامی مراعات حاصل کرنا ہو تو ایسا اتحاد عوام کو متاثر نہیں کر سکے گا۔ آج کا پاکستان ماضی کے پاکستان سے مختلف ہے۔ عوام کے سامنے بجلی، مہنگائی، روزگار، صحت، تعلیم، امن و امان اور معاشی استحکام جیسے سوالات ہیں۔اس لیے مولانا کو بھی اگر کوئی اتحاد بنانا ہے تو اسے محض اقتدار کے حصے کے لیے نہیں بلکہ ایک واضح قومی ایجنڈے کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ ماضی میں آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے آر ڈی) اور بعد میں جمہوریت کی بحالی کے لیے بننے والے اتحادوں کی اپنی مخصوص سیاسی ضرورت تھی۔ اسی طرح متحدہ مجلس عمل نے بھی ایک واضح انتخابی اور نظریاتی پس منظر میں اپنی جگہ بنائی تھی۔ پی ڈی ایم ایک وسیع حکومت مخالف اتحاد تھا جس کا ایک واضح ہدف موجود تھا۔لیکن موجودہ مجوزہ اتحاد کے بارے میں ابھی تک ایسا جامع اور واضح پروگرام سامنے نہیں آیا جس سے یہ محسوس ہو کہ یہ محض جماعتوں کا اکٹھ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ قومی سیاسی متبادل ہے۔بائیکا اتحاد یا حقیقی سیاسی اتحاد؟سیاسی حلقوں میں چھوٹی جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں کبھی کبھار طنزیہ اصطلاحات استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ ماضی میں بعض جماعتوں کو "ٹانگے والی پارٹیاں" تک کہا گیا، لیکن آج کا مسئلہ طنز سے زیادہ سنجیدہ ہے۔اگر جماعتوں کے پاس محدود پارلیمانی قوت ہے، محدود عوامی ووٹ ہے اور محدود سٹریٹ پاور ہے تو صرف ان جماعتوں کو جمع کر دینے سے کوئی بڑی سیاسی طاقت وجود میں نہیں آتی۔اس لیے اگر کوئی اتحاد بنانا ہی ہے تو اسے محض بائیکا اتحاد یاآن لائن ڈلیوری یا فوڈ پانڈااتحاد نہیں بلکہ ایک ایسا اتحاد ہونا چاہیے جس کے پاس عوام کے سامنے رکھنے کے لیے واضح پروگرام ہو: معیشت کیسے بہتر ہوگی؟روزگار کے مواقع کیسے پیدا ہوں گے؟بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے؟صوبوں اور وفاق کے درمیان اختیارات کا توازن کیسے بہتر ہوگا؟انتخابی نظام میں کیا اصلاحات ہوں گی؟سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان آئینی حدود کیسے برقرار رکھی جائیں گی؟عدلیہ کی آزادی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو کیسے یقینی بنایا جائے گا؟دہشت گردی اور داخلی سلامتی کے مسائل سے کیسے نمٹا جائے گا؟اگر ان سوالات کے جواب نہیں ہیں تو محض اتحاد کا اعلان سیاسی منظرنامے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتا۔ "سسٹم ناکام" کی سیاست ۔گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی سیاست میں "سسٹم" کے ناکام ہونے، سیاسی تبدیلی اور ممکنہ بڑی پیش رفت کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ کبھی کسی مخصوص مہینے میں بڑی تبدیلی کی بات ہوئی، کبھی نظام کے ناکام ہونے کا نعرہ بلند ہوا، اور کبھی عدالتوں کے فیصلوں کے بعد سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہوتا دکھائی دیا۔ایسی صورتحال میں عوام کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ انہیں پیش گوئیوں کے بجائے حقیقت درکار ہے۔اگر عدالت کوئی ریلیف دیتی ہے تو اسے عدالت کی آزادی اور آئینی عمل کی کامیابی سمجھا جانا چاہیے۔ اگر پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے تو اس کا جائزہ بھی آئینی اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پاکستان کو "سسٹم ناکام" کے نعروں سے زیادہ سسٹم کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ریاستی اداروں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار۔پاکستان اس وقت جس جغرافیائی اور سکیورٹی ماحول سے گزر رہا ہے، اس میں ملکی دفاع اور قومی سلامتی کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، سرحدی سلامتی اور قومی دفاع کے معاملات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ان کے بارے میں سیاسی اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ ذمہ داری، ملک کی سلامتی اور قومی دفاع کے لیے ان کی خدمات کو مناسب احترام کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط، مستحکم اور ذمہ دار ریاستی نظم کی بھی ضرورت ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اور ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ملک کو آگے لے جانے کے لیے کام کریں۔ کسی ایک فرد یا ادارے کو ہر مسئلے کا ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں اور ہر مسئلے کا حل کسی ایک ادارے سے وابستہ کر دینا بھی قومی سیاست کے لیے نقصان دہ ہے۔ اصل بحران سیاست نہیں، معیشت بھی ہے۔پاکستان کو آج سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ سیاسی عدم استحکام معاشی بحالی کی رفتار کو متاثر نہ کرے۔دنیا کے کئی خطے معاشی دباؤ، روزگار کے بحران اور جغرافیائی کشیدگی سے متاثر ہیں۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کے روزگار، ویزوں، ہنرمند افرادی قوت کی طلب اور عالمی معیشت کی تبدیلیوں کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔لاکھوں پاکستانی خاندانوں کی معیشت بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلات پر منحصر ہے۔ اس لیے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے روزگار کا مسئلہ محض وزارتِ خارجہ یا وزارتِ سمندر پار پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں؛ یہ قومی معیشت کا مسئلہ ہے۔ایسے حالات میں اگر سیاسی جماعتیں اتحاد بنانا چاہتی ہیں تو انہیں یہ بتانا ہوگا کہ وہ روزگار، برآمدات، سرمایہ کاری، ترسیلاتِ زر، توانائی اور صنعتی پیداوار کے بارے میں کیا سوچ رکھتی ہیں۔( کیا جو قیادت پاکستان کو اپنی سیاسی لیڈرشپ فراہم کرنا چاہتی ہے ان کو بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ میں موجود دوست ممالک کی فہرست میں سے کتنے ممالک عالمی امن کے لیے خطرہ نہیں سمجھتے؟)صرف حکومت گرانا کوئی معاشی پروگرام نہیں۔ صومالیہ میں پاکستانیوں کا معاملہ اور ریاست کی ذمہ داری۔بیرونِ ملک پاکستانیوں کے تحفظ کا معاملہ بھی انتہائی حساس ہے۔ اگر کسی ملک میں پاکستانی شہری طویل عرصے سے پھنسے ہوئے ہوں یا یرغمال بنائے گئے ہوں تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کی واپسی اور حفاظت کے لیے تمام ممکنہ قانونی، سفارتی اور سکیورٹی ذرائع استعمال کرے۔ایسے معاملات میں تاوان، فوجی کارروائی یا کسی خفیہ آپریشن کے بارے میں قیاس آرائی کے بجائے ریاست کو دستیاب معلومات اور قانونی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔ ماضی میں دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے سفارتی مذاکرات سے لے کر خصوصی آپریشنز تک مختلف طریقے اختیار کیے ہیں۔پاکستان کو بھی اپنے شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں کمزوری نہیں دکھانی چاہیے، لیکن ہر قدم دانش مندی، پیشہ ورانہ تیاری اور قومی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا مثلث۔موجودہ سیاسی منظرنامے میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف تین بڑے سیاسی مراکز کی حیثیت رکھتی ہیں، اگرچہ ان کی طاقت اور جغرافیائی بنیادیں مختلف ہیں۔مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان بھی وقتاً فوقتاً اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ تحریک انصاف اور دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی فاصلے خاصے گہرے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف کسی ایسی تحریک کا حصہ بنے گی جس کا نتیجہ براہِ راست تحریک انصاف کی سیاسی واپسی کی صورت میں نکل سکتا ہو؟ اور کیا تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی یا دوسری اتحادی جماعتوں کو وہ سیاسی حصہ دے گی جس کی وہ توقع کر رہی ہیں؟یہ محض سیاسی مفروضے نہیں بلکہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جواب کے بغیر کسی نئے اتحاد کی پائیداری پر سوال اٹھتا رہے گا۔ کیا پیپلز پارٹی کے بغیر عدم اعتماد ممکن ہے؟اگر کسی اتحاد کا مقصد مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد ہے تو عددی سیاست کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔صرف حکومت مخالف جذبات کافی نہیں ہوتے۔ پارلیمانی نظام میں حکومت بنانے یا گرانے کے لیے مطلوبہ تعداد درکار ہوتی ہے۔ اس لیے کسی بھی نئی سیاسی تحریک کو پہلے یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس کے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ قوت کہاں سے آئے گی۔پیپلز پارٹی کی پوزیشن اس پورے معاملے میں فیصلہ کن ہو سکتی ہے، لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے تعلقات میں اختلافات کے باوجود یہ فرض کر لینا کہ پیپلز پارٹی لازماً کسی تحریک کا حصہ بن جائے گی، سیاسی سادگی ہوگی۔پاکستان کو ایک اور اقتدار کی جنگ نہیں، قومی اتفاقِ رائے چاہیے۔پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں حکومتیں بدلتے دیکھی ہیں، اتحاد بنتے اور ٹوٹتے دیکھے ہیں، سیاسی رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف اور پھر ایک ہی میز پر بیٹھتے دیکھا ہے۔اب وقت اس بات کا ہے کہ سیاسی جماعتیں اس سوال کا جواب دیں کہ وہ اقتدار میں آکر مختلف کیا کریں گی؟اگر ایک نئی حکومت بھی وہی معاشی مشکلات، وہی توانائی کا بحران، وہی انتظامی کمزوریاں، وہی سیاسی محاذ آرائی اور وہی ادارہ جاتی کشمکش لے کر آئے گی تو صرف چہروں کی تبدیلی سے پاکستان کی قسمت نہیں بدلے گی۔ اس لیے اگر مولانا فضل الرحمن واقعی ایک بڑا سیاسی اتحاد بنانا چاہتے ہیں تو انہیں ماضی کے اتحادوں سے ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا۔ انہیں صرف حکومت مخالف جماعتوں کو اکٹھا کرنے کے بجائے ایک ایسا قومی چارٹر پیش کرنا چاہیے جو معیشت، آئین، وفاق، صوبوں، عدلیہ، پارلیمنٹ، امن و امان، خارجہ پالیسی اور روزگار کے بارے میں واضح پالیسی رکھتا ہو۔ اے آر ڈی اور ایم آر ڈی جیسی تحریک کی ضرورت کب ہوتی ہے؟پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اے آر ڈی اور ایم آر ڈی جیسے اتحادوں کی اپنی مخصوص تاریخی اہمیت رہی ہے۔ ان اتحادوں کے سامنے واضح سیاسی اور آئینی مقاصد تھے۔آج اگر ایسا کوئی اتحاد تشکیل پاتا ہے تو اسے بھی اسی اصول پر پرکھا جانا چاہیے۔اتحاد کا مقصد صرف یہ نہ ہو کہ فلاں حکومت ختم ہو، فلاں رہنما رہا ہو یا فلاں جماعت اقتدار میں آ جائے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کا سیاسی نظام زیادہ مستحکم، معیشت زیادہ مضبوط، ادارے زیادہ مؤثر اور عوام زیادہ بااختیار ہوں۔ورنہ ایک اتحاد کے بعد دوسرا اتحاد اور ایک حکومت کے بعد دوسری حکومت آتی رہے گی، جبکہ عام آدمی وہیں کھڑا رہے گا۔آخر میں سوال پھر وہی ہے مولانا فضل الرحمن کے مجوزہ اتحاد کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہی ہے:بائیکا اتحاد کی ضرورت اس وقت کیوں ہے؟اگر مقصد صرف تحریک انصاف کو ساتھ ملا کر عمران خان کی سیاسی واپسی کا راستہ ہموار کرنا ہے تو تحریک انصاف کو اس اتحاد سے کیا ملے گا؟اگر مقصد حکومت کو ہٹانا ہے تو مطلوبہ پارلیمانی اکثریت کہاں سے آئے گی؟اگر مقصد آئینی اصلاحات ہیں تو ان کا ایجنڈا کیا ہے؟اگر مقصد صوبوں کے حقوق ہیں تو اس کا عملی پروگرام کیا ہے؟اگر مقصد معیشت کی بحالی ہے تو معاشی پالیسی کہاں ہے؟اور اگر مقصد صرف سیاسی قوت کا مظاہرہ ہے تو کیا موجودہ پاکستان ایسے مظاہرے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ مولانا فضل الرحمن ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایک اور اتحاد کے سربراہ بن کر سیاسی تاریخ میں ایک باب کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں یا ایسا قومی پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں جو واقعی پاکستان کے موجودہ بحران کا کوئی راستہ نکال سکے۔آج پاکستان کو ایسے اتحاد کی ضرورت ہے جو عہدوں کے لیے نہیں، اصلاحات کے لیے ہو؛ اقتدار کے لیے نہیں، استحکام کے لیے ہو؛ کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ قومی مسائل کے حق میں ہو۔اگر ایسا اتحاد بنتا ہے تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ لیکن اگر مقصد صرف پرانی سیاسی بساط پر نئی چال چلنا ہے تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر اس نئے اتحاد سے پاکستان کے عام آدمی کو کیا ملے گا؟پاکستان اس وقت سیاسی تجربات کا نہیں، قومی ترجیحات کے تعین، معاشی استحکام، سیاسی سنجیدگی اور ادارہ جاتی توازن کا تقاضا کر رہا ہے۔ یہی وقت کا اصل سوال ہے، اور اسی سوال کا جواب کسی بھی نئے سیاسی اتحاد کی حقیقی ضرورت یا غیر ضروری ہونے کا فیصلہ کرے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus