×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وردی کے اندر بھی ایک انسان ہے
Dated: 01-Sep-2026
گرمی میں چار میل کی دوڑ، دو جنازے اور ایک سوال: کیا تربیت کے نام پر زندگی داؤ پر لگانا ضروری ہے؟پاکستان میں پولیس کی وردی صرف کپڑا نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔ اس وردی کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے، ایک باپ، ایک بیٹا، ایک شوہر، ایک بھائی اور ایک ایسا شخص جس کے گھر میں کوئی اس کی واپسی کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔لیکن جب یہی انسان تربیت کے نام پر ایسی جسمانی مشقت سے گزرتا ہے جو اس کی عمر، موسم، جسمانی استعداد اور طبی حالت کو نظر انداز کر دے تو سوال صرف تربیت کا نہیں رہتا، انسانی زندگی کی حرمت کا بن جاتا ہے۔ لاہور کے ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر میں مبینہ طور پر گرمی اور حبس کے دوران تربیتی مشق کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت نے اسی سوال کو پھر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ایلیٹ کورس کے دوران سید تصور شاہ اور اے ایس آئی ارشد کی طبیعت اچانک خراب ہوئی اور دونوں گر پڑے۔ سید تصور شاہ کا تعلق ضلع جہلم سے بتایا گیا ہے، جبکہ اے ایس آئی ارشد سرگودھا ریجن سے تعلق رکھنے والے اسسٹنٹ سب انسپکٹر تھے۔ طبیعت خراب ہونے کے بعد اے ایس آئی ارشد کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ وینٹی لیٹر پر زیر علاج رہے، مگر زندگی کی جنگ ہار گئے۔یہ محض دو نام نہیں۔یہ دو گھروں کے چراغ تھے۔دو خاندانوں کے سہارے تھے۔اور دو ایسے پولیس اہلکار تھے جو اپنی ملازمت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے تربیت حاصل کرنے گئے تھے، موت کا سامنا کرنے نہیں۔گرمی صرف موسم کا نام نہیں۔چند روز قبل برطانیہ میں میرے ایک پاکستانی ساتھی سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک سیکیورٹی گارڈ ہے۔ جسمانی طور پر مضبوط، صحت مند اور اپنے کام میں انتہائی مستعد شخص ہے۔ وہ پاکستان گیا ہوا تھا اور کچھ دن پہلے واپس آیا تھا۔باتوں باتوں میں میں نے پاکستان کے سفر کا پوچھا تو اس نے ایک جملہ کہا:"پاکستان میں گرمی نے بہت خوار کیا، دو دن میری حالت خراب رہی۔" یہ وہ شخص ہے جو جسمانی محنت کا عادی ہے، برطانیہ کے نسبتاً معتدل موسم میں کام کرتا ہے اور بظاہر صحت مند اور مضبوط جسم رکھتا ہے۔اگر ایک صحت مند اور مضبوط شخص بھی پاکستان کی شدید گرمی اور حبس سے چند روز کے لیے نڈھال ہو سکتا ہے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ جسمانی طور پر مختلف عمر اور استعداد رکھنے والے انسانوں سے شدید گرمی میں غیر معمولی جسمانی مشقت کا مطالبہ کرتے وقت کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں؟خاص طور پر ایسے وقت میں جب سامنے آنے والے دعووں کے مطابق تربیت کے دوران چار میل دوڑ جیسی سخت مشق بھی کروائی جا رہی ہو۔بائیس سال کا معیار، چالیس سال کی عمر پر کیوں؟سوشل میڈیا پر پولیس اہلکاروں کی طرف سے یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ فوت ہونے والے اہلکاروں کی عمریں چالیس سال یا اس سے زائد تھیں۔اگر یہ بات درست ہے تو یہ بھی ایک بنیادی سوال ہے کہ کیا ایک چالیس سال سے زائد عمر کے پولیس اہلکار سے وہی جسمانی معیار حاصل کیا جا سکتا ہے جو ایک بائیس یا پچیس سالہ نوجوان سے متوقع ہوتا ہے؟عمر انسان کی جسمانی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ کوئی جرم نہیں، انسانی فطرت ہے۔چالیس سال کی عمر میں انسان شاید بائیس سال کے نوجوان جیسی رفتار سے نہ دوڑ سکے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ پولیس فورس کے لیے غیر مفید ہے۔ اس کے پاس تجربہ ہے۔اس کے پاس فیلڈ کا علم ہے۔اس کے پاس برسوں کی عملی تربیت ہے۔اس کے پاس فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔اور سب سے بڑھ کر، اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ریاست کی خدمت میں گزارا ہے۔ریاست کو ایسے اہلکار کی عمر کا احترام کرنا چاہیے، اسے کمزور سمجھ کر نہیں بلکہ اس کے تجربے کو طاقت سمجھ کر۔کمانڈو بنانا مقصد ہے یا انسان کو آزمانا؟اگر کسی پولیس اہلکار کو ایلیٹ یا کمانڈو تربیت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تو یقیناً تربیت عام پولیس ڈیوٹی سے زیادہ سخت ہونی چاہیے۔لیکن سخت تربیت اور غیر انسانی تربیت میں ایک باریک مگر انتہائی اہم فرق ہے۔سخت تربیت انسان کو مضبوط بناتی ہے۔غیر انسانی تربیت انسان کو توڑ سکتی ہے۔کمانڈو تیار کرنا مقصد ہو سکتا ہے، لیکن کسی انسان کی جان کو خطرے میں ڈالنا کسی تربیتی نظام کا مقصد نہیں ہو سکتا۔اگر شدید گرمی اور حبس میں سخت ترین جسمانی مشقیں انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں تو کیا چند ہفتوں یا چند ماہ کے لیے موسم بہتر ہونے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا؟کیا تربیتی کیلنڈر انسانی جان سے زیادہ اہم ہے؟کیا چار میل کی دوڑ ایک پولیس اہلکار کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے؟تربیت گاہ میں انسان بھی موجود ہے ایک پولیس اہلکار نے مجھ سے رابطہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹریننگ سینٹر میں بعض اوقات ٹرینیز کے ساتھ "غیر انسانی سلوک" کیا جاتا ہے اور وہ خود اس کا گواہ ہے۔(قارئین میرے ایک ریٹائرڈ پولیس افسر دوست حاجی رانا نصیر صاحب نے اپنی 35سالہ پولیس سروس کے دوران پیش آنے والے واقعات کچھ اس طرح سے سنائے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ پاکستان کے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے لوگ ملازم جوانوں سے پرفارمنس تو یورپ جیسی مانگتے ہیں لیکن ان کو تنخواہ اور معاوضہ ان کی روٹی روزی بھی پوری نہیں کر سکتا۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ جس قسم کی مشقت کی وہ پاک پولیس کے جوانوں سے توقع رکھتے ہیں وہ پاکستان کے معاشی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی صورت میں ممکن نہیں) اس اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ ان کے بیچ میں بھی جولائی یا اگست کے دوران اسی نوعیت کا ایک اہلکار جاں بحق ہوا تھا۔ان دعوؤں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔یہاں کسی ٹرینر کو مجرم قرار دینا مقصود نہیں، بلکہ سچ تک پہنچنا مقصود ہے۔اگر الزامات غلط ہیں تو تحقیقات سے ٹریننگ سینٹر کی انتظامیہ بھی بری الذمہ ہو جائے گی۔لیکن اگر الزامات درست ہیں تو پھر ذمہ داری کا تعین بھی ہونا چاہیے۔کیونکہ پولیس اہلکار وردی پہن کر ریاست کی طاقت کا حصہ ضرور بنتا ہے، مگر وہ ریاست کا غلام نہیں بن جاتا۔وہ بھی آئین، قانون اور انسانی وقار کا حق رکھتا ہے۔ایک متوازن تربیتی نظام کی ضرورت۔پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ ایلیٹ کورس کے پورے تربیتی نظام کا ازسرنو جائزہ لیں۔ خاص طور پر:تربیت کے دوران موسم، درجہ حرارت اور حبس کو لازمی مدنظر رکھا جائے۔شدید گرمی میں سخت جسمانی مشقوں کے لیے مناسب اوقات مقرر کیے جائیں۔ٹرینیز کا تربیت سے قبل مکمل طبی معائنہ کیا جائے۔عمر اور جسمانی استعداد کے مطابق تربیتی معیار میں مناسب فرق رکھا جائے۔تربیت کے دوران پانی، نمکیات اور مناسب غذائیت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔کسی ٹرینی کی طبیعت خراب ہونے پر اسے مشق جاری رکھنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ہر سخت جسمانی مشق کے دوران فوری طبی امداد اور تربیت یافتہ میڈیکل اسٹاف موجود ہو۔اچانک طبی پیچیدگی کی صورت میں اسپتال منتقل کرنے کا مؤثر نظام موجود ہو۔اور سب سے اہم، ٹرینیز کو اپنی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع دینے کا ایسا ماحول دیا جائے جہاں انہیں سزا یا تضحیک کا خوف نہ ہو۔حکومت سے صرف تحقیقات نہیں، ریلیف کی بھی اپیل۔حکومت پنجاب کو چاہیے کہ ان دونوں جاں بحق اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے فوری اور خصوصی مالی امداد کا اعلان کرے۔اگر یہ اہلکار دورانِ ڈیوٹی یا سرکاری تربیت کے دوران جان سے گئے ہیں تو ان کے خاندانوں کو محض روایتی سرکاری کارروائی کے انتظار میں نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ان کے بچوں کی تعلیم، خاندان کی مالی معاونت اور دیگر ضروریات کے لیے خصوصی پیکیج دیا جائے۔کیونکہ ریاست اپنے محافظوں سے صرف قربانی کا مطالبہ نہیں کر سکتی؛ ریاست پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ قربانی دینے والوں کے خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑے۔انکوائری ایسی ہو جس پر پولیس بھی اعتماد کرے۔ اس واقعے کی ایک غیر جانب دار، شفاف اور جامع انکوائری ہونی چاہیے۔صرف یہ معلوم کرنا کافی نہیں کہ اہلکار کو طبیعت کیوں خراب ہوئی۔یہ بھی دیکھا جائے کہ:اس دن درجہ حرارت اور حبس کتنا تھا؟چار میل دوڑ کس وقت کروائی گئی؟کیا تمام ٹرینیز طبی طور پر اس مشقت کے لیے موزوں قرار دیے گئے تھے؟کیا عمر کو معیار بنایا گیا؟کیا پانی اور الیکٹرولائٹس دستیاب تھے؟کیا کسی اہلکار نے طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی تھی؟کیا اسے آرام کا موقع دیا گیا؟طبی امداد کتنی دیر میں پہنچی؟اور سب سے اہم سوال:کیا یہ موت ایک ناگزیر طبی حادثہ تھی یا اسے مناسب احتیاط سے روکا جا سکتا تھا؟اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہو کہ انسانی غفلت یا حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے باعث یہ اموات ہوئیں تو پھر معاملہ محض انتظامی کوتاہی نہیں رہتا۔ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔وردی کو پسینہ چاہیے، خون نہیں ،ہمیں اپنی پولیس کو مضبوط بنانا ہے۔ہمیں ایسے اہلکار چاہییں جو مشکل حالات میں کھڑے رہ سکیں، دوڑ سکیں، مقابلہ کر سکیں اور عوام کی حفاظت کر سکیں۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پولیس اہلکار مشین نہیں ہوتے۔ان کے دل ہیں۔ان کے پھیپھڑے ہیں۔ان کے خاندان ہیں۔ان کی عمر ہے۔ان کی جسمانی حدود ہیں۔اور ان کے گھر میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو رات کو دروازہ کھلنے کی آواز کا انتظار کرتا ہے۔ تربیت ضرور سخت کیجیے۔لیکن موسم کو دیکھیے۔عمر کو دیکھیے۔انسانی جسم کی حدود کو دیکھیے۔طبی سائنس کو دیکھیے۔اور سب سے بڑھ کر انسان کو دیکھیے۔اگر کمانڈو بننے کے لیے چند ماہ انتظار کرنا پڑ جائے تو انتظار کر لیجیے۔اگر تربیتی نظام میں تبدیلی کرنی پڑے تو کر دیجیے۔اگر عمر کے مطابق معیار بنانا پڑے تو بنا دیجیے۔کیونکہ ایک تربیتی کورس دوبارہ منعقد ہو سکتا ہے۔ایک دوڑ دوبارہ لگائی جا سکتی ہے۔ایک امتحان دوبارہ لیا جا سکتا ہے۔لیکن جو زندگی چلی جائے، وہ واپس نہیں آتی۔پنجاب پولیس کے جوان ریاست کے محافظ ہیں۔انہیں فولاد بنائیے، مگر فولاد بنانے کے نام پر انسان کو مت توڑیے۔وردی کو پسینہ چاہیے، خون نہیں۔اور آج سب سے بڑا سوال یہی ہے:کیا ہم مزیدکئی جنازوں کا انتظار کریں گے یا ان دو جنازوں سے سبق سیکھ کر اپنے تربیتی نظام کو انسان دوست بنائیں گے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus