×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
طیارہ ہائی جیک سازش، مودی اور نیتن یاہو مشکوک؟
Dated: 06-Oct-2026
کہانی کسی فلم سے کم نہیں۔ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 ہزاروں فٹ کی بلندی پر اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک کاک پٹ کے اندر ایسی صورت حال پیدا ہوگئی جس نے جہاز میں سوار 170 سے زائد افراد کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں۔ فلائٹ ٹریکنگ کے مطابق طیارہ تقریباً 34 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا جب وہ تیزی سے نیچے آنے لگا۔ پہلے عمومی ایمرجنسی کا کوڈ 7700 اور پھر غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ سے متعلق 7500 کا سگنل نشر ہوا۔ اس کے بعد جو کہانی سامنے آئی وہ حیران کن بھی ہے اور بہت سے سوالات کو جنم دینے والی بھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کاک پٹ میں معاون پائلٹ نے کپتان پر حملہ کردیا۔ حملے میں مبینہ طور پر کاک پٹ میں ہنگامی حالات کے لیے موجود ’’کریش ایکس‘‘ استعمال کیا گیا۔ زخمی کپتان نے کسی طرح کاک پٹ کا دروازہ کھولا جس کے بعد باہر موجود افراد کو اندر پہنچنے کا موقع ملا۔ اسی دوران اکانومی کلاس میں اپنے خاندان کے ساتھ سفر کرنے والا اسرائیلی پلمبر یانیو حیون شور سن کر آگے بڑھا۔ اس کے بیان کے مطابق جب وہ کاک پٹ تک پہنچا تو صورت حال انتہائی خطرناک تھی۔ حملہ آور کو قابو کرنے کے بعد اس نے جہاز کا کنٹرول اپنی طرف کھینچا اور تیزی سے نیچے جاتے طیارے کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ بعد میں جہاز میں مسافر کے طور پر موجود آف ڈیوٹی پائلٹوں نے کنٹرول سنبھالا اور طیارہ سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتار لیا۔ واقعے کے بعد یانیو حیون اسرائیل میں راتوں رات ہیرو بن گیا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے اس سے ملاقات کی اور اس کی بہادری کو نمایاں کیا گیا۔ زخمی بھارتی کپتان سمت مچھار کا کردار بھی سامنے آیا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود اس نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی۔ دوسری طرف حملہ آور معاون پائلٹ کی شناخت ہمام الحمامی کے نام سے سامنے آئی ہے، جو عمانی شہری بتایا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ماضی میں اس کے انتہا پسندانہ رجحانات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ تاہم اس کے اصل محرک، کسی تنظیم سے ممکنہ تعلق یا کارروائی کے پہلے سے منصوبہ بند ہونے کے بارے میں حتمی تحقیقات ابھی باقی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں سوالات بڑھنے لگتے ہیں۔ کاک پٹ کے اندر اصل میں کیا ہوا؟ کیا واقعات بالکل اسی ترتیب سے پیش آئے جس طرح ابتدائی طور پر بیان کیے گئے؟ حملہ اچانک ہوا یا اس کی منصوبہ بندی پہلے سے موجود تھی؟ 7500 کا سگنل کس نے اور کس لمحے جاری کیا؟ حملہ آور واقعی جہاز کو تباہ کرنا چاہتا تھا یا اس کا کوئی دوسرا مقصد تھا؟ اور اگر طیارے کو گرانا ہی مقصد تھا تو آخر کیوں؟ ان سوالوں کا حتمی جواب مسافروں کے بیانات یا سیاسی رہنماؤں کی گفتگو سے نہیں بلکہ کاک پٹ وائس ریکارڈر، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، ایئر ٹریفک کنٹرول کی گفتگو اور تحقیقات سے سامنے آسکتا ہے۔ واقعے کی ٹائمنگ نے بھی شکوک و شبہات کو بڑھایا ہے۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے ہیں جبکہ صرف ایک ہفتے بعد 3 نومبر کو امریکہ میں مڈٹرم انتخابات ہوں گے۔ ایسے ماحول میں یہ سوال لازماً اٹھے گا کہ اگر جہاز واقعی تباہ ہوجاتا اور بڑی تعداد میں اسرائیلی شہری مارے جاتے تو اس سانحے کے سیاسی اثرات کیا ہوتے؟ اسے دہشت گردی قرار دے کر انگلی کس طرف اٹھائی جاتی؟ اسرائیل میں پیدا ہونے والے خوف، غصے اور جذبات کو انتخابی مہم میں کس طرح استعمال کیا جاتا؟ اور اگر واقعے کا تعلق ایران یا کسی دوسری مخالف قوت سے جوڑ دیا جاتا تو امریکہ میں اس کے سیاسی اثرات کیا ہوتے؟ اگر جہاز گر جاتا تو اسرائیلی سیاست میں قومی سلامتی اور بیرونی خطرے کا بیانیہ انتخابی مہم کے باقی دنوں پر چھا سکتا تھا۔نیتن یاہو کے لیے یہ انتخابات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات طویل عرصے سے اسرائیلی سیاست کا حصہ ہیں۔ کیس 1000، 2000 اور 4000 میں ان پر مختلف الزامات عائد ہیں جن سے وہ مسلسل انکار کرتے آئے ہیں۔ یہ بات درست نہیں کہ انہیں گیارہ سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے؛ مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں۔ یہ بھی درست نہیں کہ وزیراعظم ہونے کی وجہ سے انہیں ان مقدمات سے مکمل قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اقتدار میں رہنا ان کی سیاسی طاقت اور ان مقدمات کے گرد جاری سیاسی کشمکش کے لیے بہت اہم ہے۔ اس لیے 27 اکتوبر کا انتخاب ان کے لیے معمول کا انتخاب نہیں۔ دوسری طرف 3 نومبر کو امریکہ میں صدارتی نہیں بلکہ کانگریس کے مڈٹرم انتخابات ہیں۔ ٹرمپ خود امیدوار نہیں، اس لیے نتیجہ آنے کے بعد بھی وہ صدر رہیں گے، لیکن ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں طاقت کا توازن ان کے باقی صدارتی دور کو آسان یا انتہائی مشکل بنا سکتا ہے۔ اگر مخالف جماعت کانگریس میں مضبوط ہوتی ہے تو انتظامیہ کے خلاف تحقیقات اور سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور مواخذے کی کوشش کا امکان بھی سیاسی بحث کا حصہ بن سکتا ہے۔ ٹرمپ اسی لیے ریپبلکن ووٹر کو متحرک کرنے کے لیے بڑے وعدے کر رہے ہیں، جن میں ریپبلکنز کے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کی صورت میں بالغ امریکیوں کے لیے پانچ ہزار ڈالر کے ’’ٹرمپ ڈیوڈنڈ‘‘ کی تجویز بھی شامل ہے۔ اسی پس منظر میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایک اسرائیل جانے والا مسافر طیارہ تباہ ہوجاتا اور اسے کسی دشمن ملک یا تنظیم سے جوڑ دیا جاتا تو امریکہ اور اسرائیل دونوں میں انتخابی بحث کا رخ بدل سکتا تھا۔ اسرائیل میں نیتن یاہو قومی سلامتی کو مرکزی موضوع بنا سکتے تھے اور امریکہ میں ایران، مشرق وسطیٰ اور دہشت گردی کے معاملات مڈٹرم انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے تھے۔ مگر پھر وہی بات—یہ ممکنہ سیاسی اثرات کا تجزیہ ہے، اس بات کا ثبوت نہیں کہ واقعہ کسی انتخابی منصوبے کے تحت کرایا گیا تھا۔ایک دلچسپ سوال سعودی عرب کے شہر تبوک میں لینڈنگ کا بھی ہے۔ بعض لوگ پوچھ رہے ہیں کہ جب منزل اسرائیل تھی تو جہاز کو اسرائیلی ایئرپورٹ پر کیوں نہیں لے جایا گیا؟ جب کہ تبوک سے قریب اسرائیل کے ایئرپورٹس تھے۔ عمانی معاون پائلٹ کی موجودگی نے ایک اور تنازع کھڑا کردیا ہے۔ اسرائیلی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ عمان جیسے ملک، جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں، کا شہری تل ابیب جانے والی پرواز کے کاک پٹ میں کیسے تعینات ہوا۔ یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ اسرائیل نے ایسے ممالک کے پائلٹوں کے حوالے سے تحفظات پہلے سے ظاہر کر رکھے تھے۔یہ واقعہ سول ایوی ایشن کے لیے شاید سب سے بڑا سبق بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں کاک پٹ کے دروازے اس لیے مضبوط کیے گئے کہ کوئی مسافر یا حملہ آور باہر سے اندر داخل نہ ہوسکے۔ لیکن اگر خطرہ پہلے ہی کاک پٹ کے اندر بیٹھا ہو تو پھر کیا ہوگا؟ اگر دو پائلٹوں میں سے ایک دوسرے پر حملہ کردے تو مضبوط دروازہ حفاظت کے بجائے فوری مدد کی راہ میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جسے بین الاقوامی سول ایوی ایشن ادارے محض ایک ایئرلائن کا داخلی معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرسکتے۔ پائلٹوں کی بھرتی کے وقت پس منظر کی جانچ کافی نہیں؛ حساس عملے کی مسلسل سکیورٹی اسکریننگ، مختلف ممالک اور ایئرلائنز کے درمیان معلومات کا تبادلہ، سابق ملازمتوں میں لگائی گئی پابندیوں کا ریکارڈ، رویوں میں خطرناک تبدیلی کی بروقت نشاندہی اور کاک پٹ کے اندر ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ ضروری ہے۔ اگر واقعی یہ ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ معاون پائلٹ کے بارے میں پہلے کسی ادارے نے سکیورٹی خدشات ظاہر کیے تھے تو پھر سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ یہ معلومات فلائی دبئی یا متعلقہ حکام تک کیوں نہیں پہنچیں، یا پہنچیں تو ان پر کیا کارروائی ہوئی؟ فلائی دبئی 1073 کی فائل کو نہ فوری طور پر کسی عالمی سازش کا نام دے کر بند کیا جاسکتا ہے اور نہ اسے دو پائلٹوں کی معمولی لڑائی سمجھ کر بھلایا جاسکتا ہے۔ تحقیقات کو بتانا ہوگا کہ حملے کا مقصد کیا تھا، واقعات کی صحیح ترتیب کیا تھی، حملہ آور کا ماضی کیا تھا، اسے تل ابیب کے روٹ پر کس بنیاد پر تعینات کیا گیا، 7500 کا سگنل کیسے جاری ہوا اور کیا اس واقعے میں کوئی بیرونی رابطہ موجود تھا۔جہاز تو زمین پر بحفاظت اتر گیا، مگر اس کے ساتھ پیدا ہونے والے سوال ابھی فضا میں معلق ہیں۔ ان سوالوں کے جواب قیاس آرائیوں سے نہیں بلکہ کاک پٹ کی آواز، فلائٹ ڈیٹا اور مکمل تحقیقات سے نکلیں گے۔ تبھی معلوم ہوگا کہ ایف زیڈ 1073 محض ایک خوفناک فضائی واقعہ تھا، ایک فرد کی خطرناک کارروائی تھی، یا اس کہانی کے کچھ اہم صفحات ابھی دنیا کے سامنے آنا باقی ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus