×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اب میثاق کی نہیں انقلاب کی ضرورت ہے
Dated: 15-Dec-2010
تاریخ پر نظر ڈالیں تو دنیا میں جب بھی جنگ لڑی گئی اس کے بعد صلح کا عمل بھی شروع ہوا۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم جس میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بنے، لاکھوں انسان اپاہج ہوئے اور ان جنگوں میں ہی پہلی دفعہ ایٹمی بموں کا استعمال ہوا اور جنگ اپنے انجام کے قریب تر تھی کہ امریکہ نے جاپان جو کہ نازی جرمن کا جنگ میں اتحادی تھاکے دو شہروں ناگا ساکی اور ہیروشیما پر یکے بعد دیگرے ایٹم بم گرا کر برسوں سے چھڑی اس جنگ کا پانسہ پلٹ دیا اور پھر اس یک طرفہ فتح کے ثمرات سمیٹے ہوئے جرمن اور جاپان کو کئی دہائیوں تک اپنے میثاق کے زور پر غلام بنائے رکھا۔ امن کے معاہدے صرف جنگوں کے اختتام کا موجب ہی نہیں بلکہ کسی بھی جارحیت اور اندرونی خلفشار کے انجام کا باعث بھی بنے۔ جب معاہدے کے مطابق مزاکرات کی میز پر بہت کچھ طے ہو گیا اور سویت یونین کے آخری حکمران میخائل گورباچوف نے امن معاہدے کی توثیق کی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور دو درجن بھر ریاستیں متحدہ روس سے ٹوٹ کر آزاد حیثیت میں آج دنیا کے نقشے پر ہیں اور وہ معاہدے جو جنگوں اور لڑائیوں سے پہلے طے پا جاتے ہیں ان کے اثرات کبھی کبھی اتنے دیرپا اورمثبت ہوتے ہیں کہ لگتا ہے دنیا کے تمام اختلافات تصفیہ طلب ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ایسے بے شمار تصفیے اور معاہدے ہماری 63سالہ تاریخ سے وابستہ ہیں جن کے اثرات آج پاکستان کی تاریخ پر گہرے ہیں۔ 60کی دہائی میں فیلڈ مارشل ایوب خان مرحوم نے ایک فوجی معاہدے کے تحت اقتدار ایک دوسرے جرنیل کے حوالے کیا تو ملک اس وقت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ اقتدار کی منتقلی کے اس فیصلہ نے ملک کو 71ء کی جنگ میں دھکیل دیا،جس کے لیے یہ مملکت نوزائیدہ تیار نہ تھی۔ اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان کی سیاسی نابالغ قیادت نے کچھ ایسے گُل کھلائے کہ قیام پاکستان کے صرف 23سال بعد ہی ہم اپنے ایک بازو ہی نہیں پورے آدھے جسم سے محروم ہو کر ایک مفلوج ریاست کی صورت میں دنیا کے نقشے پر موجود رہنے میں کامیاب ہوئے۔ ہمارے 90ہزار سے زائد فوجی جوان و افسران جنگی قیدی بنے اور اسلامی تاریخ کی اس بدترین شکست کے داغ آج بھی ہماری پیشانی پر نشانِ عبرت بن کر چسپا ں ہو گئے۔ ٹوٹے پھوٹے زخموں سے چور پاکستان کو ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ایک د فعہ پھر مجتمع کیا۔73ء میں ملک کو پہلا مکمل آئین دیا جس پر ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اظہار اعتماد کی مہر ثبت کی۔ پھر الیکشن 77ء کے بعد قومی اتحاد کی تحریک نے جو الیکشن نتائج کے بعد نظام مصطفی کی تحریک کی صورت اختیار کر گئی تھی میں ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اتحاد کے عمائدین مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور، نوابزادہ نصراللہ صاحب جیسے سیاست دانوں سے مزاکرات کا عمل شروع کیا اور 4جولائی 77 کی رات جب سیاست دان ایک ایگریمنٹ پر متفق ہو چکے تھے 5جولائی کی صبح ہونے سے پہلے اس معاہدے کو سپوتاز کرکے فوج کے سپہ سالار نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس فوجی ایکشن کے اثرات آج تک ہماری قوم بھگت رہی ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے 83میں ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے تحریک کا آغاز کیا جس کو کچلنے کے لیے فوجی آقائوں نے جو طریقہ ہائے کار چنا اس کی وجہ سے سندھ خصوصاًبلوچستان آج تک اس سے باہر نہیں نکل سکے۔ 1988ء میں جنرل ضیاء کی حادثاتی موت کے بعد اس ملک کی سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی لائحہ عمل نہ تھا ماسوائے اقتدار کی منتقلی کے، چنانچہ88میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو جب اقتدار دیا گیا تو یہی وجہ ہے کہ اندرونی سازشوں اور خلفشار کی وجہ سے یہ اٹھارہ ماہ تک بھی کرسی اقتدار سے ہم آہنگ نہ ہو سکے پھر سازشوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا گیا اور اس دوران مسند اقتدار پر چہرے تو تبدیل ہوئے مگر نظام کو تبدیل نہ کیا جا سکا۔ ہر سول و ملٹری آمر اور حکمران نے آئین کی صورت بگاڑ کر رکھ دی۔ اس دوران سیاسی طاقتوں اور ملٹری حکمرانوں کے درمیان بے شمار معاہدے بھی ہوئے جن کی حیثیت کاغذ کے چند ٹکڑوں سے زیادہ کبھی نہ ہو سکی۔ 12اکتوبر 1999ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے ایک سازش کے تحت اقتدار پر قبضہ کرکے میاں نوازشریف کی دوتہائی اکثریت والی جمہوریت کا بستر گول کر دیا اور اقتدار پر براجمان ہو گئے۔ یہی وہ موڑ تھا جس پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو ادراک ہوا کہ اگر وہ معاہدوں اور میثاق کا اسی طرح حشر کرتے رہے تو ایک تیسری طاقت ہر وقت اقتدار پر قبضے کے لیے موجود ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ملک کی سیاسی جماعتوں نے اے آرڈی کی صورت میں ایک اتحاد بنا کر پرویز مشرف کی نیندیں حرام کیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی معیت میں اس اتحاد نے ملک کے محروم طبقے کو ایک روشنی کی کرن دکھائی۔ 2002ء کے الیکشن کے نتائج کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ اب سیاسی قوتوں کو ایک ایسے میثاق کی ضرورت ہے جس سے جمہوریت کو اس ملک میں پھر سے پٹری پر لایا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ 2003ء میں نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کو محترمہ نے ذمہ داری سونپی کہ وہ آگے بڑھیں اور وہ سیاسی قیادت جسے دیوار سے تقریباً لگا دیا گیا تھا کو متحرک کریں اور باہمی اعتماد کی فضاء بنانے میں اپنا بزرگانہ کردار ادا کریں۔ 2003ء میں نوابزادہ نصراللہ مرحوم نے پہلے سعودی عرب میں میاں برادران سے ملاقاتیں کی اور پھر لندن روانہ ہوگئے۔ راقم بھی ان کے ساتھ تھا اس مشن کی تکمیل کے لیے ہم نے سردھڑ کی بازی لگائی۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم جو خرابی صحت کی وجہ سے عمر کے اس حصہ میں جہاں کام سے زیادہ آرام کی ضرورت تھی اس مشن میں ثابت قدمی سے آگے بڑھتے رہے اور لندن میں محترمہ کو سعودی عرب میں ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج سے آگاہ کیا پھر اس شٹل ڈپلومیسی کے 2006ء میں نوابزادہ کی وفات کے تین سال بعد ثمرات برآمد ہوئے اور ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے نام سے ایک میثاق پردستخط کیے۔ اس دوران میاں شہباز شریف و میاں نوازشریف کو پاکستان سے ڈی پورٹ کیا جا چکا تھا اور مشرف ایک آمر مطلق کی طرح اقتدار کی مسند پر براجمان تھا۔ پھر 2007ء میں محترمہ کی شہادت کے بعد اس ملک کی دونوں بڑی سیاسی قوتوں نے شروع شروع میں تو میثاق جمہوریت کی لاج کسی نہ کسی طریقے برقرار رکھی مگر پھر سیاسی پارٹیوں کے اپنے مفادات ملکی مفادات پر غالب آنا شروع ہو گئے اور آج یہ حالات ہیں کہ مسلم لیگ ن کو فرینڈلی اپوزیشن کا نام دیا جاتا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے حکومتی اتحادی جو مفادات کے چکر میں حکومت بھی کر رہے ہیں اور عوام کی نظروں میں اپوزیشن کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ اور ان حالات میں سیاسی چنگل میں پھنسی پیپلز پارٹی کے سامنے تمام راستے مسدودہو چکے ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کبھی اپوزیشن کی دل پسند اور کبھی کڑوی گولی بن جاتے ہیں اور صدر مملکت اپنے قریبی حواریوں کی وجہ سے ہر وقت انڈر فائر رہتے ہیں۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے تمام وزرائے اعلیٰ کو حکم دیا ہے کہ اپنے اپنے صوبوں کے معاشی حالات ٹھیک کریں یہ ایک ایسی خواہش ہے کہ ؎ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے وزیراعظم کبھی اپنے قیمتی سوٹ بیچ کر آٹے کی قلت پوری کرنے کا حکم دیتے ہیںاور کبھی فسٹ لیڈی کا ہار نیلام کرنے کا اعلان فرما کر سیلاب زدگان کے گھر بسانے کا حکم صادر فرماتے ہیں۔ وزیراعظم کی یہ مغلانہ خواہشیں ان کی سیاسی عاقبت نااندیشی کا مظہر ہیں۔گزشتہ اور موجودہ صدی کے بدترین سیلاب کے بعد پاکستان کے دوست ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ ٹیکس ادا کرے وگرنہ امداد دینے سے قاصرہوں گے۔ جس ملک کے امراء، وزراء اور محکموں کے چیئرمین کروڑوں ڈالر کے اکائونٹس کھلوانے ملک سے باہر جاتے ہوں اس ملک کو امداد دیتے وقت یورپین یونین،خلیجی ممالک اور امریکہ،برطانیہ یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ جس ملک کا وزیراعظم اپنے سوٹ،وزیرداخلہ اپنی ٹائیاںاور فرسٹ لیڈی اپنا ہار بھیج کر 18 کروڑ عوام کا قرض اتارنے کی بات کرتے ہیں اس ملک کو امداد کی نہیں ملک سے ہمدردی کی ضرورت ہے۔ جس ملک میں بم دھماکے، دہشت گردی کے بادل چھائے ہوں، جس ’’اندرونی‘‘ لڑائی میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کے افسران سڑکوں پر شہید کر دیئے جاتے ہیں،کوئی شخَص محفوظ نہیں۔کراچی بدامنی اور تباہی کے دہانے پر ہو،سڑکوں پر سرعام گاڑیاں چھینی جا رہی ہوں، ہر روز ہزاروں موبائل فون اور پرس چھینے جا رہے ہوں،جس ملک میں انسانی خون پانی سے ارزاں ہو جائے، جس ملک میں رکھوالے خواتین کی عصمت دری کریں،جس ملک میں حکمران عیاشی کریں اور غریب عوام روٹی کے ایک نوالے کو ترسیں،جس ملک میں گڈگورنس مذاق بن کر رہ جائے،جس ملک میں چادر اور چاردیواری ایک بھیانک خواب بن جائے تو اس ملک میں اب کسی میثاق کی گنجائش نہیں رہ جاتی بلکہ ایک انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور پانی کی طرح انقلاب اپنے راستے خود بناتا ہے اور نتائج بھی خود تخلیق کرتا ہے۔ جس ملک میں ہر شاخ پر بیٹھا انسان آری لیے اسی شاخ کو کاٹنے کے درپے ہو، جو قوم اپنے مستقبل سے کھیلنے کو صرف کھیل سمجھ رہی ہو وہاں معاہدوں اور میثاقوں کی باتیں کرنا وقت کا ضیاع ہے۔اس ملک کو اب میثاق کی نہیں انقلاب کی ضرورت ہے اور یہ انقلاب ایرانی، فرانسیسی یا برطانوی نہیں بلکہ اس ملک کے عوام کے مزاج اور امنگوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔اگر ہم نے مملکت خداداد کو بچانا ہے تو پھر قوم کو انقلاب کے لیے خود ہی کھڑا ہونا پڑے گا۔کیونکہ حق و انقلاب مانگا نہیں چھینا جاتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus