×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جنگیں کرپشن سے نہیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں
Dated: 12-Dec-2010
غزوہ بدر کی تاریخی فتح کے واقعات ہماری روشن تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ کفار کا ہزاروں جنگجوئوں پر مشتمل لشکر اور دوسری طرف صرف 313اصحاب رسول جن میں بچے اور بوڑھے اصحاب کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی نے کفار کو ایک ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا کیونکہ مسلمان صحابی سچے جذبے و لگن سے دین کی خاطر دشمن سے برسرپیکار تھے۔ تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو معرکہ بدر سے لے کر فتح مبین، فتح خندق، فتح مکہ، یرموک کی فتح، فتح مدائن، معرکہ قدسیہ،معرکہ چولا، فتح دمشق، فتح مصر، جنگ بہاوند، فتح آرمینیا و آذربائیجان اور 649ء میں اسلام کی پہلی بحری جنگ میں قبرص پر فتح۔ اور فتح قرطاجنہ، فتح بخارا، فتح ہسپانیہ، محمد بن قاسم کی فتوحات، فتح سمرقند اور پھر 1095ء میں پہلی صلیبی جنگ صلاح الدین ایوبی کی فتوحات۔1145ء میں دوسری صلیبی جنگ میں مسلمانوں کی فتح، پھر جب مغلوں نے برصغیر کا رخ کیا تو سینکڑوں سال برصغیر ہند پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے پھر سلطان محمود غزنوی کی فتوحات اور پھر سلاطین ترکی، خاندان عثمانیہ کی فتوحات پھر قیام پاکستان کے بعد ایک طرف ہتھیاروں سے مکمل لیس بھارتی افواج اور دوسری طرف ابھی پوری طرح فوجی یونیفارم سے بھی محروم پاکستانی افواج۔ مگر کشمیر کے محاذ پر 1948ء کو ہونے والی اس جنگ اور بعدازاں 1965ء کو بھارت کی طرف سے مسلط کی جانے والی جنگ جس میں رات کے اندھیرے میں دشمن نے شب خون مارا وہ صبح کا ناشتہ لاہور کرنا چاہتا تھا ہماری افواج ہی نہیں ہمارے شہریوں زندہ دالان ِ لاہور نے جس کے ہاتھ میں جو آیا پکڑ کر بارڈر کی طرف دوڑ لگا دی۔ زندہ دالانِ لاہور کے پہلوانوں نے اپنے ’’گُھرج‘‘اٹھا رکھے تھے، بچوں اور بوڑھوں نے لاٹھیاں اٹھا رکھی تھی وہ اپنے سے 10گنا بڑے دشمن جو جدید اسلحہ سے، ٹینکوں سے لیس تھا، سے دست بدستہ جنگ لڑنا چاہتے تھے۔پھر سیالکوٹ کے محاذ پر لڑی گئی انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئی جس میں پاک فوج کے جوانوں نے اپنے سینوں پر بم باندھ کر ٹینکوں کی اس یلغار کو نیست و نابود کر دیا۔ تباہ شدہ ٹینکوں کے ڈھانچے آج بھی چونڈہ کے محاذپرجابجا پڑے نظر آتے ہیں۔پھر ملکہ ترنم نورجہاں کے جنگی نغمے ’’پُترہٹاں تے نئیں وِکدے‘‘،’’اے میرے وطن کے سجیلے جوانو‘‘اور ’’غازیاں اُتے کرم نبی دا رب دے رنگ نیارے نیں۔ساڈے صرف بتالیاں شیراں540مارے نیں‘‘ جیسے ترانوں نے ہمیشہ دشمن کے دانت کھٹے کیے۔ مجھے میری ماں بتاتی تھیں۔ 65ء کی جنگ کے دوران جب سرحدی علاقوں کے مہاجرین نے ہماری طرف رخ کیا تو سب کو گھروں میں ٹھہرایا گیا۔سکولوںمیں کوئی خیمے بستیاں نہ لگیں اور خواتین نے اپنے زیور اتار کر، بچیوں نے اپنے کانوں کی بالیاں اتار کر فوجی ٹرکوں پر پھینکیں، ہر غریب شخص نے بھی اپنے کمبل،رضائیاں فوجی جوانوں کے لیے ٹرکوں پر زبردستی لوڈ کروائیں۔ اور جس کے پاس دینے کو مادی وسائل نہ تھے وہ ہسپتالوں کے بلڈبینک کی قطاروں میں پورا پورا دن کھڑا ہو کر اپنے خون دینے کی باری کا انتظار کرتا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اپنے سے کہیں بھاری بھرکم دشمن کو نہ صرف شکست دی بلکہ وہ عالم میں رسوا بھی ہوا۔ تاریخ میں لڑی گئی جب ان جنگوں کے احوال ہم پڑھتے ہیں تو کوئی ایک جنگ بھی بے مقصد یا جذبے کے بغیر لڑئی گئی ہو نظر نہیں آتی۔ ہماری قوم کو ایک مضبوط قوم بننے کی جستجو تھی ہمارے جذبے اور امنگیں جواں تھیں، ہماری منزلوں کے چراغ روشن تھے۔ ہماری قوم نے قیام پاکستان کے بعدبھی ایک قوم ہونے کا ثبوت دیا وہ 65ء کی جنگ ہو، 2005ء کا زلزلہ یا پھر 1999ء میں ایٹمی دھماکہ کے موقع پر قوم سے قربانیاں مانگی گئی تو قوم نے اپنا سب کچھ لٹا کر بھی ملک و قوم کے لیے وقف کر دیا۔ تب بھی ہماری قوم اپنے راہنمائوں کے کرتوتوں سے واقف تھی مگر جب مسئلہ قوم کی اجتماعی انا کا ہو تو قوم نے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی، مگر جب قوم کا سارا خون اس کی رگوں سے نچوڑ لیا گیا تو یہ قوم ایک لاغر جسم کی طرح ان خون نچوڑنے اورچوسنے والی مشینوں کو دیکھتی رہ گئی۔ یہ کیسے حکمران سیاست دان، بیوروکریٹس اور آمر تھے جنہوں نے قوم کے جذبوں کو زہریلی نیند سلا دیا۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنے بینک اکائونٹس بھرنے کے عزم کو قوم کے سسکتے جذبوں پر ترجیح دی۔ گذشتہ روز مردِ صحافت جناب مجید نظامی صاحب نے مبشر لقمان کے پروگرام پوائنٹ بلینک میں جن جذبوں کی، جن امنگوں کی، جن ولولوں کی باتیں کی ہیں۔ کیا وہ جذبے ہماری قوم میں ا ب تک موجود ہیں؟ 80کی دہائی میں جب آمر ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی اپنا کر جنگی ماحول سے راہ فرار اختیار کی اور انڈیا جا رہے تھے تو ضیاء الحق نے جناب مجید نظامی صاحب کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی تو نظریہ پاکستان کے علمبردار اور سالار مجید نظامی صاحب نے یہ کہہ کر آمر کو منہ توڑ جواب دیا کہ میں بھارت ضرور جانا چاہتا ہوں مگر جہاز پر بیٹھ کر نہیں بلکہ ٹینک پر بیٹھ کر جانا چاہتا ہوں۔ مگر اب اس قیادت کا کیا کریں جو بھارتی حکمرانوں کے راستے میں آنکھیں بچھائے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ایک سابق وزیراعظم نے دوستی کے نشے میں اپنے بھارتی ہم منصب سے خواہش کا اظہار کیا کہ اس وقت کی مشہور فلمی ہیروئن ’’مادھوری ڈکشٹ‘‘کو پاکستان میں سفیر بنا کر بھیجا جائے۔ ضیاء الحق کے گھر مشہور بھارتی فلمی اداکار شتروگھن سنہا قیام کیا کرتے تھے۔شتروگھن سنہا ضیاء الحق کی بیٹی کے ساتھ ایوان صدر کے لان میں بلیوں سے کھیلتے نظر آتے تھے جبکہ یہی شتروگھن سنہا اپنی مسلم دشمنی کے لیے مشہور تھے۔میری نظامی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ لاہور میں ہال روڈ اور دیگر میوزک مارکیٹس کا دورہ کریں جہاں پر بھارتی گانوں اور فلموں کی آڈیو اور ویڈیو کیسٹس اور سی ڈیزپر روزانہ کروڑوں کا بزنس کرتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اربوں روپے سالانہ ہمارے تاجر اس کاروبار سے کماتے ہیں جبکہ یہ حضرات بعدازاں اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے چند روپوں کا ناموس رسالتؐ کا بینر بھی آویزاں کر دیتے ہیں۔ بھارت نے قیام پاکستان کے بعد ہی ہمارے ساتھ ثقافتی جنگ شروع کر رکھی ہے جس میں ہم اپنے مقابل کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ مشرف دور میں جب ایک دفعہ کیبل پر بھارتی چینلز دکھانے پر پابندی لگی تو ہمارے ایک کورکمانڈر کی بیوی نے پیمبرا کا چیئرمین تبدیل کروا دیا کہ موصوفہ سٹار پلس کی شوقین تھیں۔ سٹارپلس ہمارے جسموں میں اس قدر سرایت کر گیا کہ ہماری بوڑھی و جوان خواتین پچھلے چند سالوں سے ’’ساس اور بہو‘‘ کے بھارتی میڈ جھگڑے دیکھ رہی ہیں اور اوریگا مارکیٹ کے کپڑے کے دوکانداروں نے بھارتی فنکاروں اور ڈراموں کے نام پر اپنے کپڑوں کو نام دے رکھے ہیں۔عورت ایک ماں کی حیثیت میں بچے کی پہلی اتالیق ہوتی ہے۔ یہ سٹارپلس دیکھنے والی خواتین ہمارے معاشرے کو، اس قوم کو، کیسی نسل دے رہی ہیں؟ ہمارے کرپٹ وزراء ان دنوں بھارتی بنکوں میں کروڑوں ڈالر کے اکائونٹس کھلوا رہے ہیں۔ ہمارے موجودہ حکمران بھارتی قیادت کی خوشامد میں مصروف ہیں کہ اس وقت بھارت، اسرائیل، امریکی طاقت کی تکون پاکستان کے اندر مسنداقتدار کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ہمارے زیورات گجراتی، ہماری ساڑھیاں راجھستانی، ہمارے پان بنارسی،بمبئی کا گٹکا،ہمارے تہوار اور شادی بیاہ کی تقریبات سب بھارتی چربہ ہیں توپھر ہم بھارت کا مقابلہ کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟بھارت ہمارے ایٹمی اثاثوں کا دشمن ہے، کسی دن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا اور ایٹمی احساس کا یہ پہلو بھی خدانخواستہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ہمارے حکمران اور بیشتر سیاسی راہنما تو بھارت کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں۔چند سال پہلے لاہور میں ایک بھارتی فلمی اداکار فیروز خان نے سرعام ہماری غیرت کو ہماری ہی دھرتی پر للکارا۔گذشتہ دنوں وکی لیکس نے بھارتی پول کھول دیئے کہ کس طرح بھارت و اسرائیلی کٹھ جوڑ بلوچستان اور وزیرستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف ایسی جنگ شروع کر رکھی ہے جس میں ہزار وں فوجی جوان کیپٹن، میجر، کرنل، بریگیڈیئراور لیفٹیننٹ جنرل جیسے ہمارے سینکڑوں سپوت اس جنگ میں جام شہادت نوش فرما چکے ہیں جبکہ دس ہزار سے زائد ہمارے سویلین بھی شہید ہو چکے ہیں۔ ہمارا ملکی انفراسٹکچر مکمل طور پر تباہی کے قریب ہے جبکہ ہم یہ عالمی جنگ لڑ رہے ہیں اورہم جن کے اتحادی ہیں وہ کسی اور کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر ناچ رہا ہے۔ ان حالات میں،میںمردِ صحافت جناب نظامی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ ہم کیسے جنگ لڑ اور جیت سکتے ہیں۔ ایٹم بم چلانے کے لیے قیادت میں حوصلے پیدا کرنے ہوں گے یہ کرپشن زدہ رعشے سے کانپتے ہاتھ کیا ایٹم بم کا بٹن دبانے کی سکت رکھتے ہیں؟یہ ہمارے کرپٹ وزراء جو کھانے پینے کی اشیاء اور بجلی پانی کے علاوہ دفاعی سودوں تک میں کمیشن لیتے ہیں طبلِ جنگ کیسے بجائیں گے؟میرا مشورہ ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے ہی ملک کے اندر عقل و شعور کا او رملک سے محبت کا بم چلا دیں اور جب ہم ایک قوم بن جائیں گے تو پھر ہم ایٹم بموں سے نہیں جذبوں سے بھارتی یلغار کا مقابلہ کر سکیں گے۔وگرنہ ہمارے بم فیشن کے ملبوسات اور زیورات کی طرح شوکیسوں میں پڑے رہ جائیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus