×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یہ ہم کِدھر جا رہے ہیں؟
Dated: 23-Dec-2010
ٹیلی ویژن کی سکرین پر ایک وفاقی وزیر جوشِ خطابت میں پنجاب کے حکمرانوں اور تخت لاہور کے مالکوں کی بُرائیاں گنوا رہے تھے ان کے پیچھے چند ہمنوا بھی تھے جو ان کے ہر انداز پر واہ واہ کیے جا رہے تھے اور ان کی سُر تال کا ساتھ دے رہے تھے۔لیکن یہ وہی ہمنوا تھے جو وزیراعظم کی ایئرپورٹ پر رخصتی کے بعد ہردفعہ واپسی پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی گاڑی میں بیٹھ کر سیدھے رائے ونڈ چلے جاتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ آج کل ہر وزیر کو اور سیاست دان کو بھٹو بننے کا شوق چڑھا ہوا ہے اور ہر خاتون وزیر صاحبہ کو بھی بے نظیر بھٹو شہید کی طرح دوپٹہ اور چادر اوڑھ کر خود کو شہید بی بی جیسا نظر آنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے مصائب ابھی کم نہیںہوئے،عوام کی مشکلات آمر مشرف کے جانے کے بعد جوں کی توں ہیں، کہیں سے امید اور روشنی کی کرن نکلتی دکھائی نہیں دیتی۔ عوام کی آنکھوں کے سامنے ایک سیراب ہے جو بہت دور سے پانی نظر آتا ہے مگر جوں جوں اس کے قریب جائیں سیراب آگے بھاگتا چلا جا رہا ہے اور اس ملک کے غریب عوام مزید لاغر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ خون تو آمروں اور کرپٹ سیاست دانوں اور کرپٹ ریٹائرجرنیلوں نے اس قوم کا پہلے ہی نچوڑ لیا ہے اب تو بس عوام کی سانسیں ہیں جو حوادثِ زمانہ کا شکار ہو کر کسی وقت بھی رُک سکتی ہیں۔ اس ملک کا حکمران طبقہ مداریوں کی طرح ہمارے جذبات سے کھیل رہا ہے ہر سیاسی پارٹی کا چیف مداری اپنے اپنے مجمعے لگا کر بیٹھا ہوا ہے۔ عوام کو حقیقی مسرتیں دینے کی بجائے مسند اقتدار پر بیٹھا ہر مداری کالا باغ کی بجائے سبز باغ دکھا رہا ہے۔ جس طرح ہر مداری ہجوم کو یہ بتاتے ہوئے کہ ابھی آپ کھڑے رہیں جا یئے گا نہیں ابھی میں آپ لوگوں کو اڑنا سانپ دکھاتا ہوں۔ وہ مداری اپنی منجن پھکی، سانپ ا ور سانڈھے سے تیار مالش کا تیل بیچتاہے اور عوام اس انتظار میں پائوں زمین سے نہیں اٹھاتے کہ ابھی یہ مداری ہمیں اڑنے والا سانپ دکھائے گا۔ عوام کی جیبوں سے ان کی جمع پونجی نکلوا کر مداری غائب ہو چکا ہوتا ہے اور عوام اس مداری کی چکنی چپڑی باتوں کے سحر سے آزاد نہیں ہو پاتے کہ وہ شہر کے کسی اگلے چوراہے پر نئے ہجوم کو اپنے سحر میں جکڑ رہا ہوتا ہے۔ آج بھی وطن عزیز کے تمام سیاسی مداری اپنے اپنے کھیل میں مصروف ہیں اور سادہ لوح عوام کو لوٹنے کے نت نئے پروگرام بنا رہے ہیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد کرب اور اذیت میں جکڑے عوام نے ابھی سکھ کا سانس لیا ہی تھاکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اتحاد کے ٹوٹنے کی آواز ’’تڑک‘‘ کرکے آئی۔ سیاسی زبوں حالی کے شکار عوام دم بخود تھے کہ یہ کونسا میثاقِ جمہوریت ہے یہ شہید بی بی کو بہن اور لیڈر ماننے والوں کا یہ کیا روپ ہے؟ پھر شہید قائد کے میثاقِ جمہوریت کو مذاق جمہوریت تک کہا گیا اور پھر مری بھوربن میں ہونے والے تجدیدِ میثاق کے بعد کہا گیا کہ یہ کونسا’’قرآن و حدیث‘‘ میں لکھا تھا۔ مگر صاحب!ہم تو پنجابی لوگ ہیں ہم تو لکھنے لکھانے پر اتنا زور نہیں دیتے ہمارے ہاں روایات ہیں کہ اسی زبان سے بہن بیٹی کا رشتہ ہو جاتاہے پھر اسی زبان سے کی ہوئی بات کے تقدس کوملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔میثاق جمہوریت کے ثمرات کی مہندی کے رنگ ابھی تازہ تھے کہ ہم نے اس میثاق کو بدنام کر دیا۔ 2008ء کے ہونے والے انتخابات میں ہمارے دیگر سیاست دان جو اس قومی دھارے میں شامل نہ ہوئے تھے۔عوام کو ان الیکشن اور ان کے نتائج سے بدظن کرنا شروع کر دیا۔ جماعت اسلامی اس ملک کی تنظیمی لحاظ سے ایک بڑی سیاسی جماعت ہے جو جنرل الیکشن کے نتائج پر یقینا متعدد حلقوں میں اثرانداز ہوتی ہے یہ اگر اتحاد کرے تو چند سیٹوں کو کیش کروانے میں بھی کامیاب ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا لیکن جب نتائج کا اعلان ہوا تو شور وغوغا مچا دیا لیکن ’’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چُگ گئی کھیت‘‘ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے الیکشن کے بائیکاٹ کے باوجود ان کا ہر حلقے میں موجود ووٹر باہر آیا اور اس نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایاجس سے ہمیشہ کی طرح جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے فطری اتحادی جناب میاں نوازشریف اور ان کی پارٹی کا فائدہ ہو گیا۔ آج پاکستان کے حالات یہ ہیں کہ ہر شخص نے ہر شخص کا گریبان پکڑ رکھا ہے سیاسی راہنمائوں نے ماحول کچھ اس طرح کر دیا ہے کہ سیاست دان آپس میں دست و گریبان ہیں۔ پورا ملک میدان جنگ بنا ہوا ہے کوئی کسی کو معاف، برداشت اور ٹالریٹ کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر گنڈاسے اور بندوقیں نکل آتی ہیں۔ میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سنٹرل یورپ میں گزار کر آیا ہوں جب میں نیا نیا گیا تو ایک دفعہ میں نے اپنے ساتھی مقامی یورپین سٹوڈنٹ کو بہن کی گالی دے دی جس پر اس نے مجھے یہ جواب دے کر شرمندہ و حیران کر دیا کہ یہ تمہارا اور میری بہن کا معاملہ ہے یہ گالی دے کر آپ مجھے کیا بتانا چاہ رہے ہو ؟پھر ایک دفعہ جب میرا جھگڑا میرے ’’باس‘‘سے ہو رہا تھا تو اس نے مجھے فریج سے کوکاکولا کی بوتل نکال کر دیتے ہوئے کہا جنٹلمین یہ پیو اور کول ہو جائو پھر وہ دن اور آج کا دن میں وہ بوتل پی کر’’کول‘‘ ہو گیا۔ جب کہ وطن عزیز میں کسی سے لڑو یا گالی دو تو بات قتل و قتال تک پہنچ جاتی ہے۔ اور تو اور ہمارے قانون ساز اداروں اور اسمبلیوں میں ہمارے آئیڈیل سیاست دان ہر وقت حالت جنگ میں نظر آتے ہیں۔ دراصل اسی سے ہی کسی قوم کی اجتماعی سوچ اور برداشت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکومت اور اس کی فرینڈلی اپوزیشن کو معرض وجود میں آئے تقریباً تین سال ہونے کو ہیں اور دونوں طرف کے سیاسی راہنمائوں نے نہ صرف ماحول کو انتہائی گرم بلکہ خصوصی طور پر پنجاب کے معاشرتی ماحول کو اس قدر پراگندہ کر دیا ہے کہ یہ ساری سیاسی پارٹیاں آپس میں اس ملک کے شہری نہیں لگتے۔ ہم ایک دوسرے پر پتھر پھینک کراپنے ہی گھر کے شیشے اور درو دیوار توڑ رہے ہیں یہ فیشن اس حد تک ہماری رگوں میں سرایت کر چکا ہے کہ کہیں کوئی جرم یا قتل ہوتا ہے تو مظاہرین لاش کو سڑک پر رکھ کر گزرنے والی بسوں ویگنوں کے شیشے توڑ کر انہیں جلا دیتے ہیں۔ ہم اپنے نقصان میں اس طرح دوسرے معصوم لوگوں کو بھی شامل کرکے اذیت دینے کے عادی ہو گئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے بھی رانا ثناء اللہ،چوہدری نثار، احسن اقبال کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے کہ وہ اس ملک کے ماحول کو کشیدہ رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا ئیں جبکہ دوسری طرف گورنر پنجاب سلمان تاثیر،بابرعوان اور فوزیہ وہاب کی صور ت میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے مدِمقابل ہیں اور پھر ان سیاسی پہلوانوں کی جوڑیاں اخلاقیات کی تمام حدود کو پار کر جاتے ہوئے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں اگر ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر دھیما مزاج رکھنے والے فرحت اللہ بابر اورسینیٹر پرویز رشید کو موقع دیا جائے تو آگ کی اس تپش کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں مگر اس چومکھی لڑائی میں کہیں کچھ گنجائش رہ جاتی ہے تو اسمبلیوں سے باہر بیٹھے عمران خان اورمنور حسن صاحب جیسے سیاست دان یہ کسر پوری کر دیتے ہیں اور اس سارے ماحول میں بے لگام میڈیا کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جو ہمیشہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہمہ وقت لڑانے کے لیے تیار رہتا ہے۔ بقول شاعر: بربادی کا میرے کیا پوچھتے ہو دوست تھوڑی سی خاک ہوا میں اڑا کہ دیکھ ہم معاشرتی تنزلی کی طرف جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اگر رفتار یہی رہی تو وہ دن دور نہیں جب یہ ’’کھلونا‘‘ ٹوٹ جائے گا اور تب ہم ہاتھ مسلتے ہوئے سوچیں گے کہ یہ کیا ہو گیا ؟مگر اس سے بہتر کہ ہم آج ہی یہ سوچ لیں کہ’’یہ ہم کِدھر جا رہے ہیں؟‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus