×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یقینا جمہوریت بہترین انتقام ہے
Dated: 20-Aug-2008
استعفیٰ نہیں دوں گا، پانچ سال پورے کروں گا، عوام میرے ساتھ ہیں۔ جمہوریت میرے دم قدم سے ہے۔ حکومتی اتحاد نے معاملات درست نہ کیے تو اپنا آئینی کردار ادا کر سکتا ہوں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف18فروری کے امتحانات میں جمہوری قوتوں کی کامیابی کے باوجود تواتر سے ادا کیے جا رہے تھے۔ جمہوری حکومت نے بہترین انداز میں، بہترین حکمت عملی سے مزید 21سال تک عہدہ صدارت سے چمٹے رہنے کی پرویز مشرف کی خواہش خاک میں ملا دی۔ یہی جمہوریت کی فتح ہے اور بقول شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کہ ’’جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔‘‘ 18 اکتوبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کراچی آئیں تو ان پر حملہ کرایا گیا جس میں ڈیڑھ سو سے زائد پارٹی کارکن جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ شہید محترمہ نے اس واقعے کا انتقام پرویز مشرف کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کرکے لے لیااور اس طرح ایک سانپ سے اس کا زہر چھین لیا گیا۔ پھر آمریت کے منحوس دور میں ہم سے ہماری عظیم قائد چھین لی گئی تو اس عظیم سانحہ کا انتقام آج پرویز مشرف کو صدارت کے عہدے سے الگ کرکے لیا گیا۔ یقینا اتنی بڑی قربانی کہ جس نے پاکستان سے اس کی تقدیر چھین لی، وہ سانحہ جس نے پاکستان کے لیے اَن گنت سوالات چھوڑے ہیں جن کا جواب ہمارے پاس نہیں اور شاید نہ ہی آنے والی نسلیں ایسا عظیم قائد ڈھونڈ پائیں مگر عاشقانِ جمہوریت اور اس ملک کے ہر درددل رکھنے والے عورت اور مرد کو تھوڑی سی دلجوئی ضرور ہوئی ہے۔پرویز مشرف سے استعفیٰ بندوق کی نالی پر نہیں لیا گیا بلکہ جمہوری انداز میں انہیں ناک آئوٹ کیا گیا۔ سیاسی برداشت اور صبر کی انتہا کر دی گئی۔ سابق صدر کو جو کچھ بھی کہنا تھا اس کی کھلے دل سے اجازت دی گئی۔ ان کے خلاف چارج شیٹ تیار تھی لیکن آخر ی وقت تک روکے رکھی گئی۔ صدر پرویز مشرف نے اس چارج شیٹ کا پہلا ورق بھی الٹنے سے قبل خوفزدہ ہو کر استعفیٰ دے دیا۔ کیونکہ چور کے پائوں نہیں ہوتے۔ ان کو ایوانِ صدر سے دھکے دے کر نکالا جا سکتا تھا لیکن صدر کے آفس اور صدر کے عہدے کا احترام ملحوظ تھا اس لیے ان کے ساتھ ایسا کچھ نہ کیا گیا جو کم از کم ایسے شخص کے ساتھ کرنا جائز تھا جس نے ایک عوامی وزیراعظم کا تختہ الٹا اس کو ہتھکڑیاں لگائیں اور قلعوں میں بند رکھا اور اپنے سیاسی مخالفین کا ناطقہ بند کیے رکھا اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا آج اس صدر کو پورے پروٹوکول کے ساتھ روانہ کر دیا گیا جس کے دامن پر ہماری شہید محترمہ کے خون کے چھینٹے نظر آتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا تاہم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قول ’’جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے‘‘ کو اصول اور مشعل راہ بنایا۔ خود شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے باپ اور ہمار ے پیارے قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے قاتلوں کو معاف کرکے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نئی روایت ڈالی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اور موجودہ حکمران اتحاد نے آمر وقت کو مواقع فراہم کیا کہ وہ ان کے خلاف چارج شیٹ اگر ہے تو 18 کروڑ عوام کے سامنے پیش کرے۔اور ایسا کرکے انہوں نے جمہوری روایت کو جنم دیا ورنہ یہاں تو صدر غلام اسحق خاں کو جب فارغ کیا گیا تو انہیں قوم سے خطاب کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ضیاء الحق دور میں پیپلز پارٹی کے قائدین کی اور خاص طور پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی اخبارات میں ہاف کالم تصویر بھی ساڑھے گیارہ سال تک نہ لگانے دی گئی۔نوازشریف 12اکتوبر1999ء کو قوم سے خطاب کرنا چاہتے تھے تو آمر کے ساتھیوں نے ان کو بندوق کی نوک پر ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ آج مشرف قصہ ماضی بن گئے ان کو جہاں تک پہنچانے میں اتحادی قائدین نے بہترین حکمت عملی سے کام لیا۔ میں یہاں پر میاں نوازشریف صاحب، میاں شہباز شریف صاحب،اسفند یار ولی صاحب، مولانا فضل الرحمن صاحب کا مشکور ہوں جنہوں نے دانش مندی اور ثابت قدمی سے سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر تاریخ میں اپنا نام جمہوریت کے علمبرداروں کی حیثیت سے لکھوا لیا۔میں یہاں پر جناب الطاف حسین کی سیاسی بصیرت کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ جنہوں نے وقت کی ضرورت اور استحکام پاکستان کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔سینیٹر آصف علی زرداری صاحب اور میاں محمد نواز شریف صاحب نے اپنے پتے بڑی خوبصورتی سے کھیلے انہوں نے کسی کے ہاتھوں کھلونا بننے سے خود کو بچائے رکھا اور اگر کوئی اینکر پرسن یا کالم نگار یہ سمجھتا ہے کہ سیاسی قیادت ان کی ٹپس پر فیصلے کرے اور فیصلوں سے قبل ان کو اعتماد میں لے تو یہ ناممکن ہے کیونکہ جس کا جو کام ہو اس کو وہی کرنا چاہیے۔ کبڈی ہو یا ہاکی،کرکٹ ہو یا فٹبال حتیٰ کہ پوکر کھیلنے والے کھلاڑی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔ باہر بیٹھے تماشائی یا تو مشورے دے رہے ہوتے ہیں یا بے چین ہوتے ہیں کہ پتے ان کی مرضی کے مطابق کیوں نہیں پھینکے جا رہے اور جب ان کی مرضی کے مطابق کھیل نہیں ہوتا تو وہ ہوٹنگ کرتے ہیں لیکن اصل صورتحال کا اس کھلاڑی کے علاوہ کسی کو علم نہیں ہوتا جو میدان میں ہوتا ہے۔ معاملات کو اسی پر چھوڑ دیا جائے اور نتیجے کا صبر سے انتظار کر لیا جائے تو اس کا پھل یقینا میٹھا ہوتا ہے۔ میں نے چند روز قبل اپنے کالم میں جس میں میں نے پارٹی کی حکمت عملی کی وضاحت کی تھی تو اس پر مجھے سینکڑوں خطوط، ای میلز اور فون کالیں موصول ہوئیں ان میں جس سیاسی بے صبری کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اس پر میرا آج بھی وہی موقف ہے میں نے جو کچھ لکھا اپنے تجربات کی روشنی میں لکھا تھاکیونکہ وقت سب سے بڑا منصف ہے اور وقت آنے پر پتا چلتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔آج اپنے بہترین فیصلے کے باعث جناب آصف علی زرداری پوری قوم کی بلائیں لے رہے ہیں اور انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہی عظیم مدبر جناب مجید نظامی صاحب کے مردِ حُر اور مردِ راہوار ہیں۔میں پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوںکہ آج اللہ تعالیٰ نے ہماری تاریخ کے سب سے بدترین آمر سے ہمارا پیچھا چھوڑایا۔ جس کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اس کے کارکنان،جیالے اور سب سے بڑھ کر بھٹو خاندان جس نے اپنے قیام کے بعد ہر عشرے میں کم از کم ایک خون کی قربانی دے کر پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔یہاں میں ایک دفعہ اتحادی پارٹنرز کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہوں گا کہ ابھی تو صرف منزل کے نشان نظر آئے ہیں منزل پر پہنچنے کے لیے ابھی ہمیںہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر قومی یک جہتی سے اور خلوص دل سے اس ملک کے عوام کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا تو امید کا یہ نظر آنے والا سراب انشاء اللہ تعالیٰ حقیقت بن کر ہمارے قدموں کے نیچے ہوگا۔قومیں کبھی ایک دن یا ایک قربانی سے نہیں بنتیں اس کے لیے ہر دور میں وقت کی ضرورت کے مطابق قربانیوں کی داستانیں رقم کرنی پڑتی ہیں۔ کراچی ایئرپورٹ پر اترتے ہی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب نے اپنی شہید ماں کے یہ الفاظ دہرائے تو یقینا ہر پاکستانی کی آنکھ بھیگی ہو گی کہ ’’جمہوریت ہی سب سے بہترین انتقام ہے۔‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus