×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
این آر او کی حقیقت اور کوہ قاف کے طوطے
Dated: 17-Aug-2008
مسلم لیگ ق کے بزرجمہروں نے صدر مشرف کو مشورہ دیا ہے کہ ڈٹ جائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ گو ان کی تعداد دو درجن سے زائد نہیں۔ ایوان ِ صدر میں ہونے والی یو م آزادی کی تقریب میں صدر کے تمام تر حامی بھی اس حد کو کراس نہ کر سکے۔ایک طرف صدر کے مصاحبوں کا مشورہ حیران کن ہے اور دوسری طرف صدر مشرف کی سیاسی ناپختگی بھی شاید ایسی ہی ہے کہ ان پہ وہ یقین کر لیتے ہیں۔جہاں صدر مشرف کا سیاسی وژن سوالیہ نشان ہے وہیں ق لیگ کے دانشوروں کا یہ مشورہ بھی آئین اور قانون سے لاعلمی کا نمونہ ہے کہ صدر نے اگر استعفیٰ دینا ہے تو وہ این آر او کا خاتمہ اور معزول ججوں کو بحال کر جائیں۔ حالانکہ اب صدر صاحب کے پاس ایسا اختیار بالکل بھی نہیں ہے۔ یہ وہ معاملات ہیں جن کے لیے وزیراعظم کی ایڈوائس کی ضرورت ہے۔ یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کے وزیراعظم ہیں مشرف کے کٹھ پتلی جمالی، شجاعت اور شوکت عزیز نہیں جو ایک آمر کی آواز پر لبیک کہتے چلے آئیں۔اب ہر معاملہ آئین قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق طے ہوگا۔ اب صدر مشرف بلاوردی صدر ہیں وہ اپنی بے پایاں خواہشوں کے باوجود بھی تیسری بار آئین توڑنے کی پوزیشن میں نہیں۔ جہاں تک این آر او کا تعلق ہے تو کسی کا کسی پر احسان نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جن پر ناجائز مقدمات قائم کیے گئے۔جن کا عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی 1988ء میں حکومت میں آئی تو اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ ایک کڑوی گولی تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف شروع دن سے ہی سازشیں شروع ہو گئیں۔ ان سازشوں کے پشت پناہی اس وقت کے صدر اسحاق خان کر رہے تھے جو کہ خود اسٹیبلشمنٹ کا حصہ اور اس کے پروردہ تھے۔ اور پھر چند ہی مہینوں بعد عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت گرا دی گئی اور سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کو اس کا ٹارگٹ بنایا گیا اور ان کے خلاف اس قدر مقدمات بنا دیئے گئے کہ ہر افواہ پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ان کو پکڑ کر جیل میں بند کر دیا گیا اور پھر وہ 1993ء تک پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوبارہ آنے تک جیل میں رہے لیکن ایک بھی مقدمہ ثابت نہ ہو سکا اور آصف علی زرداری صاحب جیل سے سیدھے وفاقی وزیر کا حلف اسی صدر سے لینے کے لیے پہنچے جس نے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجا تھا۔ پیپلز پارٹی پر دوسرا شب خون 1996ء میں خود اس کے اپنے محسن کُش صدر فاروق لغاری نے مارا۔ رات کو سینیٹر آصف علی زرداری کو لاہور کے گورنر ہائوس سے اٹھا کر پھر پابندسلاسل کر دیا گیا۔نوازشریف صاحب کے دونوں ادوار میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور سینیٹر آصف علی زرداری صاحب سمیت پارٹی کے سینکڑوں کارکنان کو نہ کردہ گناہوں کی پاداش میں جیل یاترا کرائی گئیں اور ہزاروں من گھڑت مقدمات بنائے گئے۔ پیپلز پارٹی اور اس کے قائدین کی کردارکشی کے لیے نیب سیل تشکیل دیا گیا جس پر اربوں روپے خرچ کرکے شریف الدین پیرزادہ اور ایس ایم ظفر جیسے وکیلوں کی موجودگی کے باوجود ایک بھی مقدمہ ثابت نہ ہو سکا۔اس طرح عوام کے ادا کیے ہوئے ٹیکسوں کو سیاسی مخالفین کی کردارکشی کے لیے استعمال کیا گیا۔ قتل،کرپشن،منشیات،منی لانڈرنگ، کمیشن کک بیک اوردرجنوں انواع واقسام کے مقدمات بنائے گئے اور نوازشریف صاحب اور مشرف کے ادوار میں ان کو ثابت کرنا تو دور کی بات ان میں سے سولہ مقدمات میں سے سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کی بریت ہوئی یا انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ایک آخری کیس جو کہ بی ایم ڈبلیو کے حوالے سے تھا دو سال سے زائد پاکستان کی عدالتوں کو منع کر دیا گیا کہ وہ اس کیس میں آصف زرداری کی ضمانت نہ لیں حتیٰ کہ عدالتیں اس کیس کو سننے کے لیے تیار ہی نہیں تھیں۔ایک مقدمے میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور سینیٹر آصف علی زرداری کو سزا سنائی گئی جس کے جج موجودہ اٹارنی جنرل جسٹس ریٹائرملک قیوم اور راشد عزیز تھے جو کہ بعدازاں ٹیپ سکینڈل آنے پر مستعفیٰ ہو کر اور اپنے پیشے کو داغدار کرکے گھر چلے گئے اور سپریم کورٹ نے یہ سزاحقائق سن کر کالعدم قرار دے دی۔ نوازشریف صاحب کے دوسرے دور میں احتساب بیورو کے چیئرمین سینیٹر سیف الرحمن تھے جن کا کام ہی آصف علی زرداری صاحب کے خلاف مقدمات کی تیاری اور نت نئے الزامات لگانا تھا۔ 12اکتوبر1999ء کو صدر پرویز مشرف نے نوازشریف حکومت الٹائی تو سیف الرحمن کو زندگی میں پہلی مرتبہ جیل کی ہوا کھانی پڑی اور جیل کیا ہوتی ہے اس کا احساس انہیں جیل جانے کے بعد ہوا۔ وہ اپنے سیاسی مخالفوں کو ہر گھٹیا ہربہ استعمال کرکے اور ان کی تضحیک کرکے خوش ہونے کے عادی تھے۔ داروغ برگران راوی سیف الرحمن کو گرفتار کیا جا رہا تھا تو ان کا احتساب پتلون کے اندر ہی خطا ہو گیا تھا۔ پھر جب ان کو موقع ملا تو صحافیوں کی موجودگی میں سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کے قدموں سے لپٹ کر اتنی آہ و بکا کی اور ان کے پائوں سے لپٹ لپٹ کر معافی مانگنے لگے اور اعتراف کیا ان کے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات جھوٹ پر مبنی تھے۔ پھر مشرف حکومت نے سینیٹر سیف الرحمن کے اعترافات کو پس پشت ڈال کر نہ صرف اندرون بلکہ بیرون ممالک بھی پیپلز پارٹی کے قائدین کے خلاف دائر مقدمات کی شدومد سے پیروی کرتے ہوئے کئی اور مقدما ت بھی درج کرا دیئے اور پرانے مقدمات کی پیروی کے لیے سپیشل ٹاسک فورس بنا دی گئی۔ مجھے پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کے سوئس عدالتوں میں موجود مقدمات کی پیروی کا مینڈیٹ ملا تھا جو میں نے آج تک ایمانداری سے نبھایا ہے اس لیے میں ان مقدمات کی حقیقتوں کا بھی حال جانتا ہوں کہ کس طرح کے بے بنیاد مقدمات بنا کر ملک و قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی۔ دراصل مقصد صرف ایک ہی تھاکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کوجبری جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے۔ سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کو متعدد دفعہ اعلیٰ افسران کے ذریعے پیغام بھیجے جاتے رہے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو وطن واپسی سے باز رکھیں تو انہیں نہ صرف رہا کر دیا جائے گابلکہ وزیراعظم بنانے کی آفر بھی کی گئی۔لیکن سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب نے ایسا کوئی قدم اٹھانے سے انکار کر دیا اور مجید نظامی کے مردِ حُر بن کر یہ ثابت کیا کہ جب محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ محترمہ شہیدبے نظیر بھٹو صاحبہ کو ان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیا جائے تو وہ فیصلہ صحیح تھا اور سینیٹر آصف علی زرداری میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کے داماد بننے کی اہلیت موجود تھی۔ صدر مشرف نے کہا تھا کہ وہ جلاوطن قائدین کو وطن واپس نہیں آنے دیں گے لیکن سیاست سیاست ہوتی ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے پائے کا پاکستان میں ایک بھی سیاستدان موجود نہیں۔ انہوں نے صدر مشرف کو مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا اور این آر او کے ذریعے وہ مقاصد حاصل کیے جو پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مل کر بھی حاصل نہ کر پائی تھیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک ایسے آمر کو وردی اتارنے پر نہ صرف مجبور کر دیا بلکہ پاکستان کے جمہوری کلچرل پر مسلط آمر اور اس کے حواریوں کو ڈیفنڈنگ پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ یہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے این آراو کی ہی وجہ تھی ورنہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کو ایئرپورٹوں سے واپس بھیج دیا جاتا تھا لیکن محترمہ کی حکمت عملی کی وجہ سے نہ صرف محترمہ پاکستان آئیں بلکہ میاں نوازشریف اور شہباز شریف سمیت دیگر جلاوطن رہنمائوں کو پاکستان سے بھیجنا ممکن نہ رہا۔ اس لیے یہ کہنا کہ این آر او کا فائدہ صرف پیپلز پارٹی کو ہوا وقت نے غلط ثابت کر دیا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی بصارت تھی کہ انہوں نے گھر میں آ گھسے ڈاکوئوں سے مذاکرات کے ذریعے نہ صرف ملک اور قوم کو بچایا بلکہ ڈاکوئوں سے ان کی اسلحہ بھی چھین لیا۔پاکستان کے سیاسی طالب علموں کے لیے یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ آمروں نے ملک کے عوام کو تشدد،کوڑوں، پھانسیوںاورقیدوبند سے دبا کر رکھا اور اس آمر کو جس کو یورپ اور امریکہ کی پوری بیک حاصل تھی اتنی آسانی سے پیچھاچھڑانا ممکن نہ تھا۔لیکن اب بھی اسی آمر کے حواری اپنی اپنی آواز میں سُر لگا رہے ہیں اور یہ اس چمن کے باقی ماندہ پھلوں اور پھولوں کو ٹک لگانے سے باز نہیں آ رہے۔ کوئی صاحب کہتے تھے کہ میں صدر کو دس مرتبہ وردی میں صدر بنوائوں گا اور اب شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار یہ گاتے پھر رہے ہیں کہ صدر جائے گا تو یہ سارا نظام بھی جائے گا لیکن چند دن کی بات ہے کہ اس ڈوبتے ہوئے جہاز کے سارے مسافر ایک ایک کرکے چھلانگیں لگا کر بھاگ جائیں گے۔یہ قانون فطرت ہے اور اس کا تماشا یہ قوم بھی دیکھ رہی ہے کہ وہ عقل کل کا مالک اور عالمی طاقتوں کا حمایت یافتہ شخص اب کبھی یورپ سے کبھی امریکہ سے کبھی ترکی سے کبھی سعودی عرب سے پناہ کی درخواست کر رہا ہے مگر پوری دنیا سمجھتی ہے جو اپنوں کا سگا نہیں وہ دوسروں کا خیرخواہ کیسے ہو سکتا ہے۔اور پھر جب ان قوتوں کو یہ پتا ہے کہ اگر اس کو پناہ دی تو اپنے ساتھ مسائل کا انبار لے کر آئے گا اور القاعدہ جیسی عالمی تنظیمیں اس کا پیچھے کریں گی اور جو ملک بھی اس کو پناہ دے گا وہ آبیل مجھے مار کے مصداق ہو گا۔میری پاکستان کے تمام دانشوروں،صاحب علم اور شعور رکھنے والے درد دل بھائیوں سے التماس ہے کہ اس گھڑی جب پاکستان ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے۔ہماری قیادت کو جس اعتماد اور حوصلے کی ضرورت ہے وہ انہیں دی جائے۔وہی لیڈر کوئی اچھا فیصلہ کر سکتے ہیں جن کے پیچھے ان کی عوام ہوتی ہے۔وطن عزیز کو اس وقت اتحاد،یک جہتی،اخوت اور بھائی چارے کی جتنی ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ تمام مکتبہ ہائے فکر کے لوگ،تمام فرقوں کے لوگ اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنان ایک نئے پاکستان کی تشکیل کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں اور اتحادی حکومت کو اپنا اعتماد بخشیں۔وگرنہ یہ پھلوں کو ٹکنے والے طوطے اپنے کھیلوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus