×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان۔پیپلزپارٹی کی شیرنی
Dated: 13-Feb-2011
ہم گورنر ہائوس لاہور ایک میٹنگ کے لیے جمع تھے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان تیزی سے میری طرف بڑھیں اور اپنے مخصوص انداز میں کہا مطلوب صاحب اب اٹھ جایئے ہمیں بہت کام کرنا ہے اپنے علاقے سیالکوٹ کا اور میں سمجھتی ہوں کہ آپ اور میں مل کر یہ کر سکتے ہیں میرا اور آپ کا حلقہ ساتھ ساتھ ہے۔میں نے کہاٹھیک ہے میڈم میں کسی دن سیالکوٹ یا اسلام آباد آ جاتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحبہ کہنے لگی کہ گورنر صاحب میرے حلقے میں آ رہے ہیں آپ بھی ان کے ساتھ سیالکوٹ آ جائیں باقی باتیں وہاں ہوں گی۔ پھر گذشتہ ہفتے میں گورنر صاحب کے ساتھ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے حلقہ جو کہ سیالکوٹ شہر کے کچھ حصے اور باقی مضافات پر مشتمل ہے کا دورہ کیا۔ہر پانچ منٹ کی ڈرائیو پر ایک نئے گائوں میں سوئی گیس،سڑک،سکول یاکالج کاافتتاح تھا۔ میں نے بارہویں افتتاح کے بعد کہا ڈاکٹر صاحبہ یہ آج آپ نے ہماری دوڑیں لگوا دیں ہیں۔ ایسا میراتھن افتتاح کا سلسلہ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر صاحبہ کہنے لگیں میرے ساتھ کام کرنا ہے تو اس طرح میراتھن جدوجہد کرنا ہوگی۔ میں نے جواب دیا جس شخص نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی معیت میں عشرہ بھر کا سفر طے کیا ہو اسے اس سلسلہ میراتھن کا مزاآتا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا تعلق سیالکوٹ کے مضافاتی گائوں ’’کوبے چک‘‘ سے ہے ان کے والدملک عاشق اعوان (مرحوم)اور بھائی ملک اعجاز اعوان پیپلزپارٹی کے بنیادی جیالوں میں سے ہیں اور سیالکوٹ پیپلزپارٹی کی پہچان یقینا اس گھرانے سے ہی بنتی ہے۔ خود ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جیالی کہلوانے کا شوق اور اعزاز بھی ہے۔ میری ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ سے پہلی ملاقات لاہور فوٹریس سٹیڈیم میں ایک ریسٹورنٹ میںہوئی۔سینیٹر جہانگیر بدر صاحب نے میرا ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ سے تعارف کروایا تو ڈاکٹر صاحب نے جو ان دنوں مشرف گورنمنٹ میں ق لیگ کی ایم این اے تھیں مجھے کہا جب پیپلزپارٹی والے اپنے کارکنوں کی قدر نہیں کریں گے تو غیروں کو بھی تو روکنے کا حق نہیں؟پھر اس کے بعد 2007کو جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ پاکستان آنے کی تیاری کر رہی تھیںتو ٹکٹوں کی تقسیم کے مسائل بھی درپیش تھے میں ان دنوں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ساتھ ہی ہوتا تھا۔ وزیرداخلہ رحمان ملک کے لندن ایجوا روڈ پر گھر میں ڈاکٹر صاحب تشریف لائیں جو کہ ق لیگ کی ممبر قومی اسمبلی ہونے کے باوجود مشرف رجیم کو للکار چکی تھیں اور بقول ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ایک عورت ذات پر جو کہ ممبر قومی اسمبلی بھی ہو پر کلاشن کوفوں کے 17مقدمات اور دیگر بے شمار پرچے کٹوائے گئے تھے۔ میں بھی اس ملاقات میں موجود تھا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے خاص اس لیے سردار لطیف کھوسہ کو بلوایا ہوا تھا۔ کھوسہ صاحب کو مخاطب کرکے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا کھوسہ صاحب آج آپ اس بہن ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ہاتھ تھام لیں۔ مشرف رجیم نے اس کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے تو گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ صاحب نے کہا۔ بی بی انشاء اللہ میں آپ کو شکایت کا موقع نہ دوں گا اور میں ڈاکٹر صاحبہ کو نہ صرف قانونی امداد فراہم کروں گا بلکہ ایک بھائی کی طرح جس بندھن میں آج آپ نے مجھے باندھ دیا ہے میں اس کی لاج رکھوں گا اور اس مقدس رشتے کا احترام بھی کروں گا تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا کھوسہ صاحب اب میں مطمئن ہو گئی ہوں پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ کو سیالکوٹ کے اس حلقہ کا ٹکٹ دیا جہاں ماضی میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کوئی شاندار روایت بنانے میں ناکام رہے تھے یہ وہ حلقہ انتخاب تھا جہاں سے مشرف دور کے سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین جو الیکشن کمپین کے دوران قائم مقام صدر بھی بن گئے اور تمام تراختیارات کو بروئے استعمال لاتے ہوئے اپنی الیکشن کمپین پر اثر انداز ہوئے۔ لیکن عوام ان کے ساتھ نہ تھے یہی وجہ تھی کہ سیالکوٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک خاتون امیدوار قومی اسمبلی نے ڈائریکٹ الیکشن میں حصہ لے کر ایک تاریخ رقم کی اور اپنے مدمقابل کو چِت کیا۔ بعدازاں صدر مملکت جناب آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو اپنی ابتدائی کابینہ میں شامل کرکے ان کی محنت اور جدوجہد کو سراہا۔اس میں کوئی شک نہیں داکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ دوران وزارت اپنے حلقے سے باہر نہ نکلیں ہر سڑک ہر گائوں تک اور گھر گھر سوئی گیس پہنچانے کے عزم نے ان کے نقادوں کو کئی مواقع فراہم کیے کہ ڈاکٹر صاحب اس ملک کی نہیں اس حلقے کی وزیر ہیں۔ ہیڈمرالہ میں گذشتہ روز ہونے والے جلسہ میں گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے عوام کے سامنے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو پیپلزپارٹی کی شیرنی کا خطاب دیا۔ جس پر میں نے گورنر صاحب کو کہا کہ گورنر صاحب یہ ڈاکٹر صاحبہ پیپلزپارٹی کی ہی نہیں سیالکوٹ کی، فیض کی، علامہ اقبال کی بھی شیرنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اب اس شیرنی پر بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے وزارت اطلاعات و نشریات کوئی عام وزارت نہیں یہاں آپ کو پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ یہاں قدم قدم پر اپوزیشن کا ہر فرد آپ کے نقاد کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ ہر نگاہ آپ کی کسی ایک غلطی کے انتظار میں رہتی ہے جہاں ہر مکتبہ ہائے فکر کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔ یہاں قلموں کے نشتر لیے بے شمار دانشور آپ کے احتساب کے لیے ہر لمحہ موجود ہوں گے۔ اس محکمے میں غلطی کی گنجائش بالکل نہیں ہوتی جس طرح منہ سے نکلی بات اور بندوق سے نکلی گولی واپس نہیں آتی۔ یہاں اس محکمے میں نثار میمن،محمد علی دُرانی اور شیخ رشید جیسے لوگ ہی اکثر ہزیمت اٹھا چکے ہیں۔ مجھے امید ہے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ویژن اور مفاہمت کی پالیسی پر گامزن رہ کر وطن عزیز کی بہتر خدمت کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ کو نئی وفاداریاں مبارک ہوں اور یہاں یہ بات پیپلزپارٹی کی قیادت کے لیے بھی باعثِ سکون بھی ہو گی کہ اگر کارکنوں پر اعتماد کیا جائے تو وہ قیادت کو مایوس نہیں کرتے مگر ڈاکٹر صاحبہ یاد رکھیے گا آپ پیپلزپارٹی کی شیرنی ہو تو دوسری طرف بھی سیاست کے اس جنگل میں شیر موجود ہیں جو اپنی اپنی کچھار میں بیٹھے ہوئے ہر لمحہ آپ کی کسی غفلت کے منتظر ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus