×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دیوار کیا گِری میرے کچے مکان کی
Dated: 16-Mar-2011
پاکستان اپنے قیام سے لے کر اب تک مسلسل عدم استحکام کا شکار رہا۔ اس کی وجہ کبھی سیاسی رہی کبھی مذہبی اور کبھی عسکری جبکہ لسانی وعلاقائی معاشی وجوہات بھی اس امر کا موجب بنتی رہی ہیں۔ قیام پاکستان کے ابتدائی ایام میں ہی ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے ہم پر اعلانیہ جنگ شروع کر دی۔ پاکستان جسے قیام پاکستان کے وقت متحدہ ہندوستان سے علیحدگی کے عمل کے دوران وسائل کی منصفانہ تقسیم میں یک طرفہ طور پر نظرانداز کیا گیا۔ سرکاری و غیرسرکاری انڈسٹری سرزمین پاکستان پر نہ ہونے کے برابر تھی۔ عسکری آلات و فوج پاکستان کے حصے میں جو آئی اس کے پاس یونیفارم تک نہ تھی۔ حتیٰ کہ قیام پاکستان کے بعد خزانہ کسی لٹے پٹے شہری کی جیب کی طرح خالی تھا۔ تنخواہیں ادا کرنے کے لیے حکومت کے پاس پیسے نہ تھے اوپر سے کروڑوں مہاجرین کی آبادکاری کا سنگین مسئلہ،جبکہ لٹے پٹے مہاجرین سالہا سال تک کھلے آسمان تلے کیمپوں میں محبوس کر دیئے گئے اور اس مشکل وقت میں نواب آف بہاولپور نے حکومت پاکستان کو آفر کی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اپنی جیب سے ادا کرتے رہے عوام کا جذبہ سلامت تھا ہر شخص آزادی کی قیمت بھوکا پیاسا رہ کر، گھاس پتے کھا کر بھی دینے کو تیار تھا کیونکہ نوزائیدہ مملکت پاکستان نے لارڈ مونٹ بیٹن کو اپنا پہلا گورنر جنرل ماننے سے انکار کر دیا تھا لہٰذا لارڈ مونٹ بیٹن نے انڈین نہرو خاندان سے مراسم کی بنا پر حریف پاکستان کو ٹف ٹائم دینے کا تہیہ کر لیا۔یہی وجہ تھی کہ تقسیم کے فارمولے پر طے شدہ طریقہ کے کے مطابق عمل نہ ہو سکا اس طرح چند ایک ریاستوں کو جبراً پاکستان سے الحاق سے روک دیا گیا اور کشمیر پر بھارت نے قبضہ کر لیا۔ اسلام کے نام پر حاصل کی گئی اس مملکت خداداد کو جو ابھی بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بھی نہ کروا پائی تھی کہ حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت کی صورت میں ایک ایسا جھٹکا لگا جس سے ہم آج تک نہ سنبھل پائے ہیں۔ اس نقصان عظیم کے تھوڑے عرصے بعد ہی ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے جلسہ عام میں شہید کر دیا گیا اور غیرتربیت یافتہ سیاسی قیادت نے نہ پختگی کے ایسے کارنامے انجام دیئے کہ ایک موقع پر ہندوستانی وزیراعظم آنجہانی اندراگاندھی کو کہنا پڑا کہ میں اتنی ساڑھیاں تبدیل نہیں کرتی جتنے پاکستان نے سربراہ تبدیل کیے ہیں۔ ہندوقیادت بشمول انگریز سرکار برملا کہتے تھے کہ یہ مملکت صرف چند دنوں کی مہمان ہے اور خدانخواستہ پھر سے ہندوستان کا حصہ بن جائے گی۔ قیام پاکستان کے صرف پہلے عشرے میں ہی ملک میں پہلا مارشل لگا دیا گیا۔ افواج پاکستان کو سیاست میں گھسیٹ کر لایا گیا اور پھر افواج پاکستان کو سیاست کا ایسا چسکا پڑا کہ ہر دو سال کی جمہوریت کے بعد مارشل لائوں کا موسم آ جاتا۔ خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان مرحوم نے وطن عزیز کو جو چرکے لگائے ان کا شافی علاج آج تک ممکن نہ ہو سکا۔ موصوف ایک بڑی جنگ میدان میں جیت کر مذاکرات کی میز پر تاشقند میں ہار آئے جس سے ملک عزیز سراپا احتجاج بن گیا۔ سیاست دان جو جیسے بھی تھے سب کو ترازو کے ایک ہی پلڑے میں ڈال دیا گیا اور ایپڈو کا بدنام زمانہ قانون لاگو کرکے سیاست کو سیاست دانوں کے لیے شجرممنوعہ بنا دیاگیا۔ ایوب خان کو جب عوامی غیض و غضب کے بعد جانا ہی مقصود ٹھہرا تو غیر سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے ملک کو ایک شرابی کبابی جنرل کی جھولی میں ڈال گئے اور پھر اسی طرح چند ٹکوں کی خاطر پاکستان کے کروڑوں عوام کو امریکی سامراج کے ہاتھوں بیچ دیا۔ ملک کے مشرقی حصے کو یکسر فراموش اور عضوئے معطل بنا دیا گیا اور مشرقی پاکستان میں فوج کو عوام کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ دوسری طرف ہمارا ازلی دشمن بھارت کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا اس نے بنگال میں مکتی باہنی تحریک کو سپورٹ کیا جس نے مشرقی پاکستان کے لاکھوں نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ بقیہ حالات چاہے کچھ بھی ہوں مگر اس طرح قیام پاکستان کے صرف 23سال بعد مشرقی پاکستان کو پاکستان سے جدا کر دیا گیا اور کروڑوں پاکستانی دم بخود تھے ان کے چہروں پر ہزیمت کی گہری پرچھائیاں دیکھی جا سکتی تھیں۔ کئی درد دل کارکنان تحریک پاکستان اس تقسیم کو برداشت نہ کرتے ہوئے عدم کو سدھار گئے جو باقی بچے وہ آج تک حالت شاک میںہیں اور ان کے چہرے پر پھر کبھی حقیقی مسکراہٹ نہ آ سکی۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران ذوالفقار علی بھٹو شہید نے غلامی کے طوق کو اتار پھینکا،کاغذات پھاڑ دیئے عوامی امنگوں کی ترجمانی کی اور عوام کا لیڈر بن کر اس لٹے پٹے باقی ماندہ پاکستان کو جوزخموں سے چُور چُور تھا ایک نئی سمت کی طرف چل پڑے۔ مگر سابقہ خارجہ پالیسی کی ناکامی اور وطن عزیز کو سامراج کے پلڑے میں ڈالنے سے عالمی سطح پر پاکستان ایک مخصوص طبقے کی لابی بن کر رہ گیا تھا جبکہ خارجی محاذ پر ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔ شہید بھٹو نے چین کے ساتھ تعلقات کو گہری نظر سے دیکھا اور دوستی کے اس پودے کی آبیاری کرتے ہوئے خارجی سطح پر پاکستان کو بیلنس کرنے کا اہتمام کیا لیکن ایٹم بم کی بنیاد رکھنے والے ملک کو شعور دینے والے اس قائد کو جب پھانسی پر لٹکایا گیا تو پھر کبھی پاکستان لکیر کے اِس طرف اور کبھی اُس طرف کی گیم کا شکار رہا، اب تک ملک میں آنے والے مارشل لائوں کا دورانیہ جمہوری حکومتوں کے دورانیہ سے زیادہ ہے۔ آمر جنرل ضیاء الحق کے ساڑھے گیارہ سالہ دور آمریت میں ملک میں کافی تجربات کیے گئے جو ہماری پہلے ہی کمزور اساس کو مزید لڑکھڑا گئے۔ ضیاء الحق خود تو ایک فضائی حادثے میں عدم سدھارا مگر اس دوران منشیات،ہیروئن، کلاشنکوف اور 50لاکھ افغان مہاجرین کا تحفہ اس ملک کے لیے ناسور بن گیا۔88سے 99تک کہ مختصر عرصہ میں چار جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹا گیاجبکہ اس دوران مذہبی رواداری ناپید ہو گئی اور بہت سے طالع آزما دوست نما دشمن ہمارے گھر کے صحن کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے میدان جنگ میں تبدیل کر چکے تھے۔ پاکستان جو جغرافیائی لحاظ سے دو مسلم ممالک اور ایک طرف چین جیسے دوست کی وجہ سے بہت مضبوط حصار میں تھا اپنوں اور غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ وطن عزیز کے ادارے ایک ایک کرکے تباہی کی طرف رواں دواں ہونے لگے اور رہی سہی کسر 9/11 کے بعد آمر جنرل مشرف نے پوری کر دی اور پوری قوم کو ایک لامتناہی جنگ کے سلسلہ میں دھکیل دیا گیا۔ آج ہماری سرزمین پر انڈین ’’را‘‘ اسرائیلی’’موساد‘‘ روسی ’’کے جی بی‘‘ افغانی ’’خاد‘‘ اور امریکن ’’بلیک واٹر، ایف بی آئی، سی آئی اے‘‘ کی ایجنسیوں اور ایجنٹوں کی بھرمار ہے۔ ہمارے ملک کی سرحدیں محفوظ نہیں اور ہمسایہ ممالک کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال کی جاتی ہے۔ صرف افغانستان کے سرحدی علاقوں میں 16انڈین کونصلیٹ اس امر کی طرف نشاندہی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں جہاں دشمنانِ پاکستان کو تربیت دینے کی جنگی اکیڈمیاں اپنا گھنائونا کھیل کھیل رہی ہیں۔ ہمارے وطن عزیز کے اندر مذہبی لسانی جنگ جاری ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے ہم صرف چین کی طرف سے محفوظ ہیں جبکہ دیگر تینوں طرف سے ہمارے دشمن اس مملکت عزیز کے اطراف چیلوں کی طرح منڈلا رہے ہیں۔ پوری دنیا کے اندر ہمارا امیج ایک دہشت گرد مملکت کے طور پر ابھرا ہے جبکہ ہم خود دہشت گردی کی شکار قومیت ہیں۔ ہم نے غیروں کی لڑائی کو اپنی جنگ بنا لیا اور ہماری حالت اس وقت دھوبی کے کتے کی طرح ہے جو نہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا۔ ملکی حالات سدھرنے کا نام نہیں لیتے، قرضوں کا بوجھ ہمارے قد سے زیادہ ہو گیا ہے،اپنے پرائے سبھی اس لب جاں مملکت کو جو نیوکلیئر پاور تو بن چکی ہے مگر اس پاور کے بوجھ کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ ملک کی حالت ایک ڈیلی ویجز کے مزدور کی طرح ہے جس کو کنفرم نہیں کہ اسے دن کی روٹی ملی ہے توشام کا کھانا نصیب ہوگا یا نہیں۔ ہمارے سیاست دان ہماری عسکری قیادت،ہمارے بیوروکریٹس، ہماری اسٹیبلشمنٹ ہر کوئی ملک سے باہر بھاگنے کے چکر میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چارسالوں میں تارکین وطن کی تعداد پچھلے ساٹھ سالوں کی تارکین وطن کی تعداد سے زیادہ ہے جبکہ ہمارے دشمن ہماری کوتائیوں پہ ہمیں معاف کرنے کو تیار نہیں اور ہم مجبور لاچار اپنی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں اور جب بنیادیں، حوصلے، عزم، ارادے کمزور پڑ جائیں تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ: دیوار کیا گِری میرے کچے مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں راستہ بنا لیا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus