×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ریمنڈ ڈیوس کی رہائی۔ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے وہ تودیکھ رہا ہے
Dated: 18-Mar-2011
ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں وہی کچھ ہوا جس کا ہمیں بہت پہلے شک تھا اور اپنے پچھلے ایک کالم میں میں نے اظہار بھی کیا تھا لیکن یہ سب کچھ اتنی جلدی وقوع پذیر ہوگا اس کا اندازہ شاید ہم سب نے نہ کیا ہوگا خصوصی طور پر فہیم کی بیوہ شمائلہ کی خودکشی کے بعد پاکستان کے عوام اس فریب میں آ گئے تھے کہ اب ہماری حکومت اس حساس موضوع پر مضبوط پوزیشن پر آ گئی ہے اور حکومت نے امریکہ بہادر کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں۔ امریکی سفیر کیمرون منٹر نے مختلف فورمزپر دفاعی لب و لہجہ اپنایا اور اس سارے کھیل کے پہلے شکار سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی اہم وفاقی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا اور وہ بھٹو ثانی کہلانے لگے تھے۔ میرے کالم نگار دوستوں اور قارئین کی ایک بڑی تعداد سے مجھ سے اکثر اس دوران یہ سوال کیا کہ کیا وجہ ہے آپ شاہ محمود قریشی پر کچھ نہیں لکھ رہے حالانکہ وہ آپ کے ذاتی دوستوں میں شمار ہوتا ہے جس پر میں یا تو خاموش ہو جاتا یا جواب دیتا کہ ’’ان تِلوں میں تیل نہیں‘‘ جس پر میرے دوست عجب سی حیرانگی کا اظہار کرتے تھے۔ میرے ایک دوست نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی سے پہلے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے وزیر داخلہ کا چند ہفتوں کے دوران کم از کم دو دفعہ جان بوجھ کر سندھ کے حالات کو گرم کرنا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جبکہ موصوف نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کا اتنی بار ناراض ہونا بھی عالمی سازش کی کڑی لگتی ہے اور پھر یہ عجب اتفاق ہے کہ جس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور ان کے بھائی سابق وزیراعظم میاں نوازشریف لندن یاتراپر تھے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کرغیزستان کے دورے پر اور صدر مملکت کراچی میں ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات کی میز پر تھے توعین اسی وقت صدارتی آرڈیننس جاری ہوا جو کہ ان مذاکرات کا حاصل تھا جس کے اگلے روز ہی ریمنڈ ڈیوس کو عدالت نے بری کر دیااور یہ بھی اسی سلسلہ کی ہی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ پنجاب حکومت کی نمائندگی کرنے کے لیے ہمیشہ کی طرح صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ ہی موجود تھے۔ موصوف نے فوری ردعمل کے دوران جس باڈی لینگوئج کا تاثر دیا اور انتہائی نحیف اور معذرت خواناانداز اختیار کیا اور دیکھنے اور سننے والوں نے بہت دیر بعد شیر کی کھال میں گیدڑ دیکھا۔ جس دن ریمنڈ ڈیوس کی بریت ہوئی اسی دن اس پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ عدالت میں مقتول خاندانوں کے قانونی مشیر اور وکیل اسد منظور بٹ بھی موجود تھے اور مقتولین کے ورثاء بھی۔ اس ساری سازش کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب مقتولین کے وکیل کو حبس بے جا سے رہائی ملی جس کو جیل میں لگی عدالت تک جانے ہی نہ دیا گیا تھا جو عدالت کا وقت گزر جانے پر رہا کیے گئے لیکن مقتولین کے ورثا کے گھروں اور لبوں پر لگے تالے کچھ اور ہی کہانی سنا رہے تھے۔ پاکستان کا پورا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اس ہو جانے والے ’’ہاتھ‘‘ پر ہاتھ ملتا رہ گیا تھا۔ اس خبر کے بریک ہونے کے بعد سینکڑوں ٹیلی فونک کالیںاندرون و بیرون ملک سے آنے لگیں ہر شخص دم بخود تھا حیران و پریشان چہرے ایک دوسرے کی طرف پشیمانی سے دیکھ رہے تھے۔ تجزیہ نگار حیرت کے سمندر میں غوطے لگا رہے تھے۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے صرف وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان صاحبہ اپنی حکومت اور پارٹی کی ترجمانی کر رہی تھیں جبکہ ہمیشہ کی طرح ایشوز اور نان ایشوکی سیاست کی تلاش میں سرگرداںعمران خاں اور مولانا منور حسن امریکی کبوتر ریمنڈ ڈیوس کے اس طرح پُھڑ سے اڑ جانے پر کنگ زبان حیرت کی اتھاہ گہرائیوں سے ایشوز کی سیپیاں ڈھونڈنے میں مسلسل مصروف تھے کہ اس دوران خبر آئی کہ کل شام سے امریکی ایئرفورس کا لڑاکا طیارہ لاہور کے رن وے پر کھڑا اس پنچھی کو لے کر اڑنے کے لیے ہمہ وقت بے قرار اور تیار کھڑا تھا جس سے اس حقیقت کی طرف بھی نظریں جاتی ہیں کہ امریکی ایئرفورس کے طیارے کی لاہور آمد کسی بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھی جس کو نظرانداز کیا گیا تھا۔ 16مارچ کا دن اس لحاظ سے بھی اہمیت اختیار کر گیاکہ یہ دن بریکنگ نیوز ڈے بن گیا تھا۔ حیرتوں میں گم قوم پر ہرچند منٹ بعد ایک نئی خبر بجلی بن کر گرتی اور پہلے کی خبر چند ہی منٹوں میں پرانی لگنے لگتی۔6بجے خبر بریک ہوئی کہ ریمنڈ ڈیوس اب پاکستان کی سرزمین پر نہیں ہیں رن وے پر کھڑا امریکی ایئرفورس کا طیارہ انہیں لے کر پونے پانچ بجے ٹیک آف کر گیا ہے۔ افغانستان میں امریکی ایئربیس بلگرام کی طرف اور طیارے میں درجن بھر دیگر افراد بھی ان کے ہمراہ ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ کے حوالے کرنے یا پاکستان چھوڑنے سے منع کیا ہوا تھا مگر جج کے فیصلے کے بعد ان تمام سٹے آرڈر کو ہوا میں خاک کی طرح اڑا دیا گیا۔ ابھی یہ خبریں چل ہی رہی تھیں کہ قوم کو یہ مژدہ سنایا گیا کہ مقتولین کے ورثا نے 37کروڑ روپے کے عوض دیت و قصاص کی امریکی آفر قبول کر لی تھی جس کو بعدازاں ٹی وی سکرین پر نمایاں پیش کیا جاتا رہا اس طرح بقول ایک درد مند پاکستانی کے صرف اٹھارہ افراد نے اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کے منہ پروہ طمانچہ مارا کہ جس سے شاید عشروں تک یہ قوم سنبھل نہ پائے گی اور ایک امریکی جرنلسٹ کے کہے ہوے الفاظ کے پاکستانی قوم چند ڈالروں کے لیے اپنا سب کچھ بیچنے پر تیار ہو جاتے ہیں پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اور بقول شخصے یہ قوم جو بت شکن مشہور تھی کفن فروش کیسے بن گئی ایک سوالیہ نشان ہے؟ اس دوران ٹی وی اینکرز مختلف دلیلوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہے کہ ریمنڈ کو اگر دیت کی وجہ سے رہا کیا گیا تھا تو اس پر دیگر کیس جن میں ناجائز اسلحہ اور جاسوسی کا مقدمہ بھی شامل تھا کیا بریت روکنے کے لیے کافی نہ تھا؟ مگر یہاں تو صوبائی حکومت اور مرکزی حکومت کا یہ حال تھا کہ ’’چور نالوں پانڈ کالی‘‘اور ہمیشہ کی طرح ہمارے قومی و اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا واویلا کرنے والے ہمارے ایک برادر اسلامی ہمسایہ ملک (جس کو اب سب جانتے اور پہچانتے ہیں) نے پھر ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اب مقتولین کے ورثا جن کو امریکن شہریت اور گرین کارڈ بھی دیئے گئے ہیںاسی برادر اسلامی ہمسایہ ملک میں کچھ عرصہ قیام کریں گے جہاں پر انہیں مستقل رہائش گاہیں بھی تحفتاً دی گئی ہیں۔ امریکی حکومت نے مقتولین کے ورثا کو رقم کی ادائیگی کرکے آئندہ پاکستانی رشتوں کے تقدس کو پامال کیا ہے کہ ہر پاکستانی بھائی،بہن،ماں، باپ،بیوی اپنے پیاروں کے خون کا سودا کر سکتا ہے۔اس طرح امریکی حکمران اپنا مجرم اپنا پیسہ اور اٹھارہ لوگوں کو اپنے دیس لے کر چلے گئے۔ وطن عزیز کے اٹھارہ کروڑ عوام دم بخود ہیں یہ کیسا کھیل تھا جس میں مقامی و غیرملکی ایجنسیوں نے اپنے اپنے کردار نبھائے۔ مفادات کی اس جنگ میں کون جیتا کون ہارا اس کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی مگر 7ارب کی آبادی کی اس دنیا میں اٹھارہ کرور پاکستانیوں کو منہ چھپانے کے لیے شاید اب جگہ ملنی مشکل ہو گی۔ ہمارا قومی تشخص مجروح ہی نہیں ہوا بلکہ دنیا بھر میں ہماری ایک نئی پہچان اپنے ہی بچے بیچنے والے بردہ فروش کی حیثیت سے ہوگئی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرکے ہماری حکومت نے امریکن خوشنودی تو حاصل کر نے میں شاید وقتی طور پر کامیاب ہو گئی ہے اور اپنے اقتدار کو چند ماہ مزید دوآم دینے میں بھی شاید کامیاب ہو گئی ہے مگر ہمارے ملی و قومی تشخص کی جس طرح دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کی تلافی عشروں تک ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ کون نہیں جانتا کہ اپنے ایک جاسوس کی رہائی کی خاطر سابق امریکی صدارتی امیدوار جان کیری،وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور صدر بارک اوبامہ نے پاکستان کو دھمکیاں دیں۔ ہمارے سفارتی عملہ کو دیس نکالا دینے کی باتیں کی گئی، عدالتوں کے احترام کی باتیں کرنے والوں نے پیسے کے زور پر انصاف کا پلڑا اپنے حق میں کرا لیا۔ آج ریمنڈ ڈیوس دو قومی نظریہ کا منہ چڑچڑا کر اپنی سرزمین پر ایک ہیرو کے روپ میں بیٹھا ہے اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہیں کہ وزارت چھوڑنے کا میرا فیصلہ صحیح تھا وزارت خارجہ کی بریفنگ صحیح تھی کہ ریمنڈ ڈیوس کو استثناء حاصل نہیں۔ مگر شاہ محمود قریشی جیسے لوگ بھول جاتے ہیں ان استثنائوں کی ضرورت کمزور حریفوں کو ہوتی ہے جبکہ طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کو کسی استثناء کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قوانین کا احترام عالمی اصولوں کے مطابق کمزور کا ہی فرض ہے جبکہ ’’ماسٹرز‘‘ کے لیے ان کاغذ کے چند ٹکڑوں کی حیثیت پائوں کی ٹھوکر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اب چند روز احتجاج کا بازار گرم ہوگا۔ ٹی وی چینلز کو چند روز گرم گرم خبریں ملیں گی اور پھر اسے اولڈ نیوز سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے گا مگر ایک بات نہیں بھولنی ہو گی کہ ان سب طاقتوں سے اوپر بھی ایک سُپر طاقت ہے جو اصل مالک و ماسٹر ہے۔ اور وہ یہ سب دیکھ رہا ہے وہ ظلم کی دراز رسی کو جلا کر بھسم کر سکتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus