×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
Dated: 22-Mar-2011
کینیڈا سے سعید چوہدری کا خط میرے ہاتھوں میں ہے۔ اور میں سوچ رہا ہوں کہ میرے ملک کے 18کروڑ عوام کو جن تحفظات کا احساس ہے وہ سونامی اور زلزلے کی طرح ہروقت ہمارے سروں پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ اور ان سے پہلوتہی یا درگزر شاید ہمارے اختیار میں نہیں۔ سعید چوہدری لکھتے ہیں: ڈیئر مطلوب صاحب السلام علیکم! میں دیارِ غیر میں نوائے وقت کا مستقل قاری ہوں۔ جب جاب سے گھر آتا ہوں تو ملکی معاملات سے دلچسپی کی بنا پر نوائے وقت آئن لائن کا (مطالعہ کرتا ہوں)تاکہ ہزاروں میل دور اپنے وطن میں رونما ہونے والے واقعات سے آگہی حاصل ہو۔ آپ کے کالم نوائے وقت کے صفحات پر پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ آپ جیسے غیرجانبدار لوگ آج بھی اس معاشرے میں موجود ہیں اور یہی امید گرم پتھر پر، پانی کے ایک قطرے کی مانند ہے آپ وقعتا فوقتاً جن قومی و ملی ایشوز پر قلم آزمائی کرتے ہیں۔ ان سے میرے جیسے لاکھوں قارئین کو یہ احساس ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے اندر رہ کر بھی آپ جس طرح اصلاح کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں، ایسا کردار ادا کرنا آج کے دور میں تقریباً ناممکن ہے۔ کبھی کبھی ہمارا دل دھل سا جاتا ہے کہ پارٹی کے اندر آواز اٹھانے والے دیگر راہنمائوں کی طرح کہیں آپ پر بھی پارٹی لیڈرشپ نظرِ عنایت کرتے ہوئے آپ کو بھی شوکاز نوٹس نہ بھجوا دیں۔ پی پی پی پچھلے تین سال سے اقتدار میں ہے اس دوران قیادت کے گرد حصار بنائے ہوئے وزراء کے ایک حلقے نے اربوں روپے کی کرپشن کے کلنک کے ٹیکے اپنی پیشانیوں پر سجائے اور درجنوں ایسے افراد جو پی پی پی کے کہیں قریب بھی نہ تھے آج قیادت کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے ہیں۔ پارٹی کے اندر اس بڑی تبدیلی سے نظریاتی کارکنان کی نہ صرف دل شکنی ہوئی بلکہ وہ تمام سینئر کارکنان جنہوںنے عشروں کی محنت سے اپنے خون پسینے سے اس پارٹی کی آبیاری کی وہ اپنی آئندہ نسلوں کو کیا پیغام دیں گے۔ کیا ان جیالوں کا پیغام آج کے نوجوان کے لیے یہ ہوگا کہ برساتی سیاست دانوں کو پارٹی کی اساس سے مزید کھیلنے دیا جائے یا وہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وارث اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ غیرمشروط وابستگی جاری رکھیں۔ محترم مطلوب صاحب ایک ایک کرکے سارے ہی لیڈر حکومتی کشتی پر سوار ہو گئے اور اس کی وجوہات بے شمار ہیں کہ آپ کا قلم بھی کسی دن حکومتی ہتھکنڈوں یا لالچ کا شکار ہو کر رک نہ جائے گا؟ میرے جیسے لاکھوں کارکنان کا آپ کو حقیر مشورہ ہے کہ آپ اقبالؒ کے شاہین بنے رہیے اور قائداعظمؒ کے سپاہی بنے رہیے۔ آپ نظریہ پاکستان کے مجاہد، سپہ سالار جناب مجید نظامی صاحب کے پرچم کو داغ دار نہ ہونے دیجئے گا۔ اس ملک کے لاکھوں عوام آپ کو جو پیار ومحبت بانٹ رہے ہیں یہ کسی گولڈ میڈل اور ٹرافی سے کم نہیں۔ یقینا یہ قوم بکنے والی، جھکنے والی نہیں مگر اس قوم کو منزل کی نشاندہی کرنے والی قیادت اگر مل جائے اوراس قوم کی صحیح سمت متعین کردے۔ والسلام محمد سعیدضیاء چوہدری ٹورنٹو،کینیڈا۔ میں نوائے وقت کے توسط سے اپنے قارئین اور سعید ضیاء چوہدری صاحب سے کچھ واقعات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میرا تعلق ڈسکہ کے نواحی قصبہ مترانوالی سے ہے اور میرا باپ ایک کسان تھا جس کو زمین کا سینہ چیر کر رزق کمانا آتا تھا اور اس طرح میری ماں ایک خوددار اور ذہین عورت تھی جس نے میرے باپ کی وفات کے بعد میری تربیت مشکل حالات میں بھی کی۔ مجھے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ میرے باپ کی طرح میرا دادا اور پردادا بھی کسان تھے۔ میرے ننھیال بھی اسی ڈسٹرکٹ کے کسان تھے جبکہ میرے سسرال کا تعلق مکمل طور پر عسکری خانوادے سے ہے۔ میرے خاندان اور ننھیال،سسرال میں کوئی بھی آج تک جنرل کونسلر تک نہیں بنا۔ میں نے عملی سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا پھر اس کی بدولت مجھے پہلی جلاوطنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر اختیار کرنا پڑی۔ جلاوطنی میں میری منزل سوئٹزرلینڈ ٹھہرا۔ وہیں ادھوری تعلیم مکمل کی اور ہوٹل مینجمنٹ کے شعبے میں ڈگری حاصل کی اور پھر خصوصی اکیڈمی کے بعد ایک حساس ادارے میں اعلیٰ عہدے پر بھی فائز ہوا۔ دونوں فیلڈز میں کامیابی نے ہمیشہ میرے قدم چومے اور ایک کامیاب بزنس مین کی حیثیت سے یورپ میں شہرت حاصل کی جبکہ سیاست کو بھی اپنے شب و روز میں شامل کرکے کامیابیاں حاصل کی۔ یہی وجہ تھی کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے پیپلزپارٹی سوئٹزرلینڈ کا صدر بنایا۔ بعدازاں پیپلزپارٹی یورپین آفیئرز کا انچار بنایا گیا پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی کمیٹی (فیڈرل کونسل) کا سب سے کم عمر رکن بنا دیا۔ اور پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی لاثانی قیادت میں مجھے دنیا بھر کے سربراہان مملکت سے ملاقاتوں اور گفتگو کے مواقع حاصل ہوئے اور امریکن پینٹاگان اور امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ تک رسائی ہوئی جہاں مجھے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ لیجانے کے مواقع ملے۔ جبکہ اسی دوران میرا بزنس میری سیاسی مصروفیات،جمہوریت کی بحالی اور آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی، جہانگیر بدر جیسے سیاسی راہنمائوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوا۔بحالی جمہوریت کے سفر میں میرے ساتھ شامل تقریباً سبھی ساتھی فیڈرل منسٹر اور سٹیٹ منسٹربنے،کچھ وزیروں کے ساتھ تعلق سیاست سے بڑھ کر ذاتی دوستوں سے بھی زیادہ ہے۔ درجن بھر وزراء میرے ذاتی دوستوں میں شامل تھے۔ صدر مملکت ووزیراعظم ذاتی دوست تھے مگر میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میں پچھلے تین سالوں میں ایوان صدر یا پرائم منسٹر ہائوس صرف پارٹی میٹنگز میں گیا کبھی پارٹی میٹنگز کے علاوہ وہاں نہیں گیا جہاں بلوایا نہ گیا ہو۔ کوئی بھی فیڈرل منسٹر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے پچھلے تین سالوں میں کسی کے دفتر جا کر چائے کے کپ کا بھی روادار ہوا۔ میں نے جمہوریت کے سفر میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق پر انحصار کیا اور اپنی سیاست و صحافت پر اپنی جلائی ہوئی آگ پر ہاتھ سینکے ہیں میرے دوست احباب اس بات کے گواہ ہیں۔ ہاں ایک دفعہ دوران سفر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے خوش ہو کر کہا مطلوب میںآج آپ لوگوں کو ’’ٹریٹ‘‘ کروں گی۔ گاڑی میں میرے ساتھ پیپلزپارٹی یو ایس اے کے موجودہ قائم مقام صدر خالد اعوان اور میرا بھانجا سمیر احمد ہاشمی بھی موجود تھے۔ شہید بی بی نے ایک جگہ گاڑی رکوا کر ہمیں ’’مِنٹ آئس کریم‘‘ کھلائی۔ اورپھر جس رو زمجھے سینیٹر آصف علی زرداری اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف بنائے گئے بے بنیاد مقدمات کی پیروی کرنے پر گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تو تب سینیٹر آصف علی زرداری صاحب نے مجھے اپنا بریف کیس کھول کر 17ہزار روپے دیئے کہ اس کی جیل میں ضرورت پڑے گی۔میںنے آصف بھائی سے کہا مجھے نہیں چاہیے،کل میرے گھر سے پیسے آ جائیں گے تو وہ بولے کل تک رکھ لوکہ یہاں قدم قدم پر پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ میں ان سترہ ہزار روپوں کا انکا آج بھی مقروض ہوں مگر میں نے آج تک جو کچھ جمہوریت کی بحالی اسیرانِ جمہوریت کی رہائی اور سیاست میں کیا وہ میرا پاکستان پیپلزپارٹی اس کی قیادت پر احسان نہیں بلکہ یہ سب کچھ میری ذاتی سیاسی تسکین اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کا عمل تھا جس کو میںکبھی بھی کیش کروانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ میرے معزز قارئین کو ان تمام گزارشات کے پڑھنے کے بعد اندازہ ہو چکا ہوگا کہ I am not for sale میری تمام متاعِ حیات میرا ضمیر ہے جس کو بیچ کر میں بھی ایک بھکاری بن جائوں یہ سودا مجھے منظور نہیں۔ مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus