×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صدرکا خطاب اور اپوزیشن کا کردار
Dated: 25-Mar-2011
گذشتہ روز صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے آئین کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے مشرف رجیم کے بعد چوتھی دفعہ مسلسل منتخب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرکے جمہوری روایت کی آبیاری کی۔ یقینا پچھلے تین سالوں میں سب اچھا نہیں ہوا بے شمار مسائل نے جنم لیا،ان گنت مسائل جو موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے تھے ان سب حالات سے نبردآزما ہونے والی اس اپاہج جمہوریت کو آپ پھر بھی آمریت سے بہتر تصور کریں گے۔ یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ ہر شخص کو بولنے اور اظہار کی آزادی ہے ہاں مگر کبھی کبھی آزادی کا یہ انداز ہمارے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے بھی درد سر بن جاتا ہے کیونکہ وطن عزیز کے 63سالوں میں اس ملک کو آدھے سے زائد عرصہ آمریت کی چھتری تلے زندگی کی سانسیں گزارنا پڑیں۔اور جب آج کی موجودہ نسل کی ایک بڑی تعداد نے آمریت کی گود میں ہوش سنبھالا ہو، آنکھیں کھولی ہوںتو ان کو یہ سمجھانا جوئے شِیر لانے سے بھی مشکل ہے کہ جمہوریت کے رنگ، جمہوریت کے انداز اپنے ہی ہوتے ہیں اور پھر جیسے کسی کھانے والی چیز کا ضرورت سے زائد استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اسی طرح جمہوری رویوں میں بیلنس نہ رکھنے سے جمہوریت کے ثمرات سے بھی مکمل مستفید ہونا ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کی عوام اور سیاستدان کی حالت پنجابی کی ایک مثال کے مترادف ہے’’بھوکے جٹ کٹورا لبھیا تے پانی پی پی آپھریا‘‘ اس وقت وطن عزیز میں لاء اینڈ آرڈر کا بڑا مسئلہ ہے اور ہر شہر بلکہ اب تو دیہات قصبات میں ڈاکوئوں کے گینگ دندناتے پھر رہے ہیں۔ لاء انفورسمنٹ ایجنسیاں اور ادارے افراتفری کا شکار ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ہروقت کسی خودکش حملہ آور کے نفسیاتی خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنی اپنی ملازمت پر بددلی سے ڈیوٹی کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ یقینا کوئی بھی شخص اپنے بچوں کو کم سنی میں یتیم چھوڑ کر اگلے جہان سدھارنے کے پیکیج کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سب حالات میں جمہوریت کے ثمرات محض ایک طرفہ تماشہ بن کر رہ جاتے ہیں اوپر سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اس دیوقامت ’’جِنّ‘‘ کو خبر کی بھوک ستا رہی ہوتی ہے مشترکہ پارلیمنٹ سے صدر کے خطاب سے دو روز پہلے سے میڈیا کے ایک مخصوص گروپ نے جس طرح آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے اپنی مخصوص مرضی کے تجزیہ نگار بلا بلا کر یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ خدانخواستہ اگر صدر خطاب فرمانے پارلیمنٹ چلے گئے تو قیامت آ جائے گی بلکہ کچھ نجومی کم اینکر حضرات تو واویلا کر رہے تھے کہ صدر کے خطاب کا سمے ستاروں کی چال کے مطابق صحیح نہیں ایک اینکر پرسن تو یہاں تک کہہ گئے کہ اپوزیشن اور حکومت کی ’’کنڈلی‘‘ نہیں مل رہی۔ لہٰذا اگر یہ خطاب ہو گیا تو نصیب دشمناں کہیں ملک قہرو قحط اور سونامی کا شکار نہ ہو جائے؟ مگر صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران جب اس ملک کی جمہوری اپوزیشن نے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا اور ایوان پارلیمنٹ سے پُرامن واک آوٹ کیا تو اس ملک کے ایک ایسے نام نہاد طبقہ فکر ودانش کو تو جیسے سانپ سونکھ گیا کہ یہ کیا ہوا ؟نہ کوئی گالی گلوچ نہ ڈنڈے،نہ انڈے،نہ ٹماٹرچلے،نہ کاغذات پھاڑے گئے نہ چلا چلا کر شورشرابہ کیا گیا بقول شخصے: ’’سانپ بھی مر گیا لاٹھی بھی بچ گئی‘‘مگر یہ بات ہمارے امن کی آشا کے پیاروں کو بھلا کب گوارہ تھی کچھ مخصوص اینکرز حضرات بوکھلائے ہوئے تھے انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں؟ کبھی یہ کہا گیا کہ یہ میچ فکس تھا۔ ایک مشہور میزبان اینکر پرسن کی تو جان پہ بنی ہوئی تھی کہ کسی طرح وہ اپنی زبان پروگرام کے مہمانوں کے منہ میں ڈال دیں۔ وطن عزیز کی سالمیت، وقاراور عزت کو اپنے مخصو ص مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے یہ لوگ کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ یہ لوگ نمک سے لے کر نیوکلیئر تک کے موضوعات پر سیر حاصل تبصرہ کرکے خود کو دانشوروں کی ایلیٹ کلاس کے نمائندہ کہلواتے ہیں جبکہ ان مخصوص دانشوروں کا ایک بڑا ٹولہ ڈگری کے بغیر ہے یا جن کے پاس ہیں ان کی ڈگریاں بھی ہائرایجوکیشن سے چیک کرائی گئیں تو اس ملک میں ان حضرات کو منہ چھپانے کے لیے اخبار کا ٹکڑا بھی نہ ملے گا۔گذشتہ روز جب صدر مملکت نے امریکی ملعون پادری ٹیری جونز کی طرف سے قرآن پاک کو شہید کرنے کے واقع کے خلاف اقوام متحدہ سے ایک سخت نوٹس لینے کو کہا اور اپنی تقریر کا آغاز سلام و علیکم کی بجائے انہی مذمتی الفاظ سے کیا۔اس طرح صدر مملکت نے مسلم دنیا کا ایک ادنیٰ کارکن ہونے کا ثبوت دیا او رمشترکہ ایوان سے درخواست کی کہ وہ ایک متفقہ قرارداد پاس کریں جس میں امریکہ سے بھرپور احتجاج کیا جائے۔صدر مملکت کے اس خوبصورت انداز نے جنونی گروپ کی طرف سے بنائے گئے بے شمار سازشی و احتجاجی منصوبوں پر پانی پھیر دیا ۔ صدر مملکت نے بعدازاں ملک کے دیگراداروں کو پارلیمنٹ سے متصادم ہونے کی پالیسی پر بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ ہر ادارہ دوسرے ادارے کا احترام کرے۔ صدر نے کشمیر کے موضوع پر حکومت پاکستان کے غیرلچکدار پالیسی کا بھی عندیہ دیا اور یہ بھی کہا کہ قائداعظم کے پاکستان کو اعتدال پسند پاکستان بنائیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو دعوت دی کہ یہ جنگ اکیلے ان کی نہیں یہ جنگ پیپلزپارٹی نے نہیں چھیڑی تھی مگر اس جنگ کو بند کرانا ان کا مثبت انجام پیپلزپارٹی کی حکومت کا ترجیحی ایجنڈا ہے۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل کی مذمت دہرائی اور ایک دفعہ پھر جمہوریت کو بہترین انتقام قرار دیا۔ کراچی سمیت ملک بھر میں لاقانونیت کے آسیب سے لڑنے کے لیے قوم کو متحد ہونا ضروری ہے اگر ہم حکومت کو اکیلے چھوڑ دیں گے تو پھر آنے والی حکومت جانے والی حکومت سے کیا امید رکھے گی؟ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وطن عزیز کی تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے انتخابی منشور کے مطابق اپنا علیحدہ سٹیٹس بھی رکھتی ہیں اور ملک کی ہر سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھے بعدازالیکشن کولیشن پارٹنر بننے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اپنی علیحدہ پہچان اور تشخص کھو دیا جائے اس طرح پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کا پرامن واک آئوٹ دراصل ایوان میں موجود غیرملکی صحافیوں اور 60سے زائد ملکوں کے سفیروں کو یہ پیغام بھی تھا کہ اب ہم ’’بالغ‘‘ ہو گئے ہیں ایوان کو مچھلی بازار بنانے کے خواہش مندوں کو یقینا اس سارے عمل سے دُکھ تکلیف پہنچی ہو گی۔ جو لوگ امن کی آشا کے نام پر کروڑوں ڈالر کا دھندا کر رہے ہیں انہیں یقینا مایوسی ہوئی ہو گی اور یہی وجہ ہے کہ رات گئے تک اپنے آخری پروگرام میں یہ لوگ ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کے مترادف بال کی کھال کھینچتے رہے کہ کسی طرح اس سارے جمہوری عمل کے ثمرات پر ڈاکہ ڈال سکیں۔ میرے امن کی آشا کے بھائیو… وطن جمہوریت کی صحیح سمت پر چل پڑا ہے اور اب ہمیں کسی آشا اور نرآشا کی ضرورت نہیں اپنے اطوار بدلو… غیروں کے ہاتھوں بکنا بند کرو، دوسروں کے طفیلی بن کر قوم کو کب تک غیروں کی جھولی میں ڈالتے رہو گے، کب تک اپنی قوم کو امن کے نام پر دھوکہ دیتے رہو گے، صرف چند ’’جنونی‘‘ لوگ میرے وطن کے اٹھارہ کروڑ غیرت مند انسانوں کے جذبات سے نہیں کھیل سکتے۔ امن کی آشا کی تاریک پٹیاں اپنی آنکھوں سے اتارو اور کچھ وہ کرو جو یہ قوم چاہتی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus