×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حمید نظامی ہال گواہ رہنا
Dated: 07-Apr-2011
حمید نظامی تاریخی ہال میں تقریب ہو رہی تھی۔ نوائے وقت کے دوسینئر کالم نگاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ادارہ نے تمام کالم نگاروں کو بھی مدعو کیا ہوا تھا۔ محترم خالد احمد اور جناب ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب سٹیج پر جملہ افروز تھے جبکہ مرد صحافت جناب مجید نظامی صاحب، محترمہ رمیزہ نظامی صاحبہ، عبدالقادر حسن اور محترم سلیم بخاری صاحب بھی سٹیج کی زینت بنے ہوئے تھے جبکہ اس وطن عزیز کی سب سے پہلی صحافتی اکیڈمی نوائے وقت کے تقریباً سبھی کالم نگار مدعو تھے یقینا یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ نوائے وقت اس ملک کی اساس کا علمبردار ہے اور اس نظریاتی اخبار میں لکھنا بھی ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ آج کے کمرشل دور میں انسان کے پاس وقت ہی سب سے قیمتی متاع ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس بناسپتی دور میں ملک بھر میں نوائے وقت کے لاکھوں قارئین اخبار کی پیشانی سے لے کر بیک پیج پر لوگو تک ہر حرف کو پڑھنا فرض سمجھتے ہیں اور جب کسی لکھاری کو ایسا نظریاتی پلیٹ فارم میسر آ جائے تو یہ کسی گولڈ میڈل، کسی شیلڈ،کسی ٹرافی یا ایوارڈ سے کم نہیں ہوتا۔ محترم مجید نظامی صاحب نے اپنے افتتاحی اور صدارتی کلمات کا آغاز کرتے ہوئے محترم خالد احمد اور ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب کو مبارک باد دی اور پھر کالم نگار دوستوں کے عین اوپر دیوار پر لگی اس تاریخی اہمیت حامل تصویر کی طرف اشارہ کیا جو وائی ایم سی اے ہال کی ایک تقریب کی تصویر تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے ایوب کابینہ چھوڑنے کے بعد محترم مجید نظامی صاحب اور بھٹو شہید کی ملاقات ہوئی تو جناب بھٹو نے مجید نظامی صاحب سے کہا کہ میں سیاست کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے اخبار میں کون جگہ دے گا؟افسردہ بھٹو صاحب کو نظامی صاحب نے آفر کی کہ نوائے وقت کے صفحات ان کے لیے حاضر ہیں۔ پھریہ طے پایا کہ حمید نظامی ڈے کے موقع پر بھٹو شہید سیمینار کی صدارت کریں گے۔ کھچا کھچ بھرے ہال اور مال روڈ کی سامنے والی سڑک اور اطراف کی چھتوں پر ہزاروں لوگ اس تقریب کو دیکھنے اور سننے کے لیے موجود تھے۔ نظامی صاحب بتا رہے تھے کہ لکڑی کی سیڑھی لگا کر بھٹو صاحب کو تقریب کے اندر سٹیج تک پہنچایا گیا۔ مجید نظامی صاحب یہ سارا واقعہ ایک جگ بیتی کی طرح لفظ بہ لفظ سنا رہے تھے یقینا مرد صحافت کو پتہ تھا کہ آج 4اپریل بھٹو کا یوم شہادت ہے۔ دوران خطاب جب مرد صحافت کی نظر مجھ پر پڑی تو کہا یہ ہمارے درمیان آج ذوالفقار علی بھٹو کا ایک جیالا بھی موجود ہے اور پھر کہا مطلوب وڑائچ صاحب آپ آج لاڑکانہ کیوں نہیں گئے؟ اس کے بعد جناب مجید نظامی صاحب نے کہا کہ مجھے بھٹو سے کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ بھٹو میرا دوست تھا مجھے اگر کوئی اختلاف تھا تو بھٹو شہید کے سوشلزم سے تھا جبکہ بھٹو خود ایک جاگیردار کا بیٹا تھا لیکن بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ بھٹو جس چیز کو سوشلزم کہتے تھے دراصل وہ مساوات محمدیؐ کا فلسفہ تھا جس کا مقصد غریب کو روٹی دینا تھا جس کا مقصد غریب اور پسے ہوئے طبقے کو جاگیرداروں اورسرمایہ داروں کے چنگل سے نجات دلانا تھا۔ یہی وجہ تھی جب بھٹو کو اقتدار ملا تو اس نے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف جو جنگ شروع کی اس جنگ کے نتائج اتنے بھیانک تھے کہ وہ بھٹو کو تختہ دار تک لے گئے۔ بھٹو شہید کی اس جنگ نے سامراجی طاقتوں امریکہ اور برطانیہ کی چولیں اکھیڑ دیں اور وہ مجبور ہوئے کہ اس شخص کو جو اسلامک بم بنانا چاہتا ہے یہ سوشلسٹ نہیں یہ کٹر اسلامی ذہن کا انسان ہے جو مسلمانوں کو متحد کرنا چاہتا ہے جس کا جرم اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ہے جو اقوام متحدہ کے ایوانوں میں چیخ چیخ کر سامراجی غلبے کو للکارتا ہے۔ دراصل انہی سامراجی قوتوں نے بھٹو کے فلسفہ اور جنگ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا اور مسلم دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ بھٹو ایک سوشلسٹ ہے، بھٹو لبرل ہے، بھٹو اسلام کے خلاف ہے یعنی اس طرح سامراجی طاقتوں نے بھٹو کی جنگ کا رخ بھٹو ہی کی طرف موڑ دیا۔ مردِ صحافت نظامی صاحب نے مزید فرماتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روز اے پی این ایس کی طرف سے لائف اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے دوران جب ’’بادل نخواستہ‘‘ صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب نے ان کے گلے میں میڈل ڈالا تو انہیں خوشی ہوئی کہ یہ وہی شخص ہے جس نے دلیری کے ساتھ آٹھ سالہ جیل کاٹی اور مجھ سے مردِحُر کا لقب پایا۔ اس عمل سے نہ صرف پاکستان کی اساس او رنظریاتی ادارے اورپیپلز پارٹی کے درمیان برف پِگلی بلکہ کچھ فاصلے بھی کم ہوئے۔ اس کے بعد مائیک جب مجھے دیا گیا تو میں نے کہا محترم مجید نظامی صاحب میں بے شک ذوالفقار علی بھٹو شہید کا جیالا اور یقینا محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا سپاہی ہوں مگر میں آپ کا متوالہ بھی ہوں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میرے سیاسی استاد تھے جبکہ آپ میرے صحافتی اتالیق ہیں میں نے آمر کے سامنے سر اٹھانا تو بھٹو سے سیکھا مگر میں جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق اور قلم کی حرمت آپ سے سیکھی۔ اس ملک کے جیالے اور متوالے مل کر اب اس ملک کے اندر عوامی انقلاب برپا کر سکتے ہیں کیونکہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ میں نے حاضرین اور کالم نگار دوستوں کو یاد دلایا کہ میں پیپلزپارٹی کی فیڈرل کونسل کا رکن ہونے کے باوجود پچھلے تین سالوں سے باقاعدگی سے نوائے وقت کے صفحات پر لکھ رہا ہوں۔میں نوائے وقت رائٹرزکلب کا رکن ہوں اور مجھے اس اعزاز پر فخر ہے اور یقینا میرے باقاعدگی سے لکھنے سے اس پراپیگنڈہ کی نفی ہوتی ہے کہ نوائے وقت صرف ایک مخصوص حلقہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ نوائے وقت اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندگی کرتا ہے۔ نوائے وقت اس ملک کے ہر طبقہ ہائے فکر کے لیے اپنے دروازے کھول کر بیٹھا ہے، بعدازاں میں نے ایک چٹ پر لکھ کر محترم مجید نظامی صاحب سے درخواست کی کہ برائے مہربانی آج 4اپریل کے حوالے سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے یوم شہادت پر بھٹو شہید کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ پڑھی جائے۔ جس پر جناب مجید نظامی صاحب نے نظامت کے فرائض سرانجام دینے والے خواجہ فرخ سعید سے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے لیے دعا ئے مغفرت اور فاتحہ پڑھی جائے۔ تمام حاضرین اور نوائے وقت کے اسٹاف اور کالم نگاروں نے دعائے فاتحہ پڑھی اور بھٹو شہید کی مغفرت کی دعا مانگی۔ اور جس وقت یہ دعا مانگی جا رہی تھی میں نے اپنے اٹھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ دعا کی کہ اے حمید نظامی ہال تیرے در و دیوار گواہ رہیں کہ آج میں نے ذوالفقار علی بھٹو شہید کا جیالا اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا سپاہی ہونے کا قرض ادا کر دیا ہے۔تقریب کے اختتام پر جب محترمہ رمیزہ مجیدنظامی اور مجید نظامی صاحب میرے پاس سے گزرنے لگے تو میں نے کہا نظامی صاحب میں اس دفعہ لاڑکانہ کیوں نہیں گیا؟ اس کی وجہ یہی تھی آج ہم نے اس ملک کے سب سے بڑے اخبار کے پلیٹ فارم پہ بھٹو کی مغفرت کی دعا مانگی اور 71سال بعد آج اس مؤقر روزنامے نے ثابت کر دیا کہ وہ اس ملک کے تمام طبقات کا نمائندہ ہے۔ نوائے وقت نے اپنے اوپر اس الزام کو آج دھو دیا ہے کہ وہ مخصوص نظریات کے حامیوںکا اخبار ہے۔اور میں سوچ رہا ہوں کہ اس ملک کی اعلیٰ عدالتیں بھی 32 سال بعد ہی سہی اس ملک کے عوام کو بتا دیں کہ وہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کی عدالتیں ہیں۔ غلطیاں سب سے ہو سکتی ہیں (نعوذ باللہ۔پیغمبروں سے بھی غلطیاں ہوئیں)۔غلطیوں پر فخر نہیں کرنا چاہیے بلکہ غلطیوں کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔ آج ذوالفقار علی بھٹو شہید کوپھانسی دینے والے کرداروں میں سے صرف ایک کردار زندہ ہے۔ہمیں اس کی گواہی کی بنیاد پر غلطیوں کے داغ دھو دینا چاہیے۔ترکی کی فوج نے جب وزیراعظم عدنان مینڈرس کو پھانسی دی تھی تو پھرجب ترکی نے جمہوری رستہ اختیار کرنا چاہا تو سب سے پہلے اپنی تاریخ پر لگے اس داغ کو مٹانے کے لیے عدنان مینڈرس کے کیس کا پھر سے ٹرائل کیا تاکہ آئندہ ایسی غلطیوں کا احتمال نہ رہے اور پھر کوئی عدنان مینڈرس اور ذوالفقارعلی بھٹو دار پر نہ چڑھایا جا سکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus