×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شرم تجھ کو مگر نہیں آتی
Dated: 02-May-2011
چیئرمین انڈس واٹر ٹریٹی کونسل نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور دہلی کے درمیان پانی کے تنازعہ پر مذاکرات کے131رائونڈ مکمل ہو چکے ہیں جن کا نتیجہ صفر ہے۔ بھارت ہر دفعہ ازخود مذاکرات کی دعوت دے کر اور پھر خود ہی مذاکرات کو سبوتاژ کرتا رہا ہے۔ ایک مستند رپورٹ کے مطابق بھارت نے پچھلے سالوں میں پاکستان کی طرف آنے والے دریائوں پر 52ڈیم بنائے ہیں جو کہ بین الاقوامی واٹر کمیشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارت نے پانچ بڑے ڈیموں کے علاوہ 32چھوٹے سائز کے ڈیم اور 14درمیانے سائز کے ڈیم بنا کر نہ صرف انڈس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ 12برے ڈیم جو 2014ء تک مکمل ہو جائیں گے بھی بنا کر پاکستان کی غیرت کو للکاراہے۔ اور مزید ستم ظریفی ملاحظہ ہو بھارت کی حکومت نے ایک خفیہ منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے مطابق بھارت ایک ایسے ڈیم کے منصوبے پر کام شروع کر چکا ہے جو دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم ہوگا اور اس کا نام بھی ’’کارگل ڈیم‘‘ ہوگا جس کو میلوں لمبی پانی کی سرنگوں کے ذریعے دریائوں کا رخ موڑ کر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھارت دریائے نیلم پر مزید دو ڈیم بنانے کا اعلان کر چکا ہے جن میں ایک کا نام ’’کشن گنگا‘‘ جبکہ دوسرے کا نام ’’انڈس بیسن ‘‘ہوگا۔ جبکہ وولر بیراج کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے۔1990ء میں بھارت نے بگلیارڈیم کی تعمیر شروع کی اور یہ ڈیم پاکستان کے حصے کے پانیوں پر تعمیر ہو رہا ہے مگر بھارت اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کرکے چناب کے پانی پر اپنا قبضہ کر چکا ہے۔ جبکہ راوی،ستلج، بیاس پر بھارت پہلے ہی قبضہ کر چکا ہے اور یہ تینوں دریا ستم ظریفی کی مثال بنے گندے نالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں جو ہمارے ماضی کے حکمران آمر جنرل ایوب خان کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جس نے اپنے سامراجی آقائوں کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کی قسمت کو برسرعام نیلام کر دیا اور اپنے اقتدار کی طوالت کو دوام دیا۔ ان بدنام زمانہ سندھ طاس معاہدے کے باوجود بھارتی آبی جارحیت بند نہ ہوئی اور پانیوں کے اس قزاق بھارت نے جہلم اور چناب کے 70%پانی پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے پنجاب کے ٹوٹل 36اضلاع میں سے18اور سندھ کے چھ اضلاع بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں سرسبز شاداب پنجاب کی زمینوں کو صومالیہ اور سوڈان سے مماثلت دی جا سکے گی۔ اور جلتی پر تیل کے مترادف ایک خفیہ اطلاع کے مطابق بھارت نے افغانستان کو ڈیم بنانے کی مشینری اور آلات سپلائی کیے ہیں اور اپنے افغانی ہمعصروں کو ترغیب دی ہے کہ وہ دریائے کابل کے اوپر ڈیم بنا کر پاکستان کے سرحدی صوبے خیبر پی کے کی زمینوں کو بنجر بنانے کا اہتمام کرے۔ جبکہ اس مد میں ضرورت کی تمام رقوم و امداد بھارت افغانستان کو مہیا کرے گا۔ دریائے کابل جو کہ خیبر پی کے کے تقریباً باقی تمام چھوٹے بڑے دریائوں میں زندگی کی علامت ہے۔ ڈیم بنا کر بھارت نے پاکستان کو پانی کی فراہمی کے سارے داخلے بند کر دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ پاکستان کے پاس 79.6ملین ہیکٹر زرعی زمین ہے مگر صرف 20ملین ہیکٹر زمین زیر کاشت ہے اور اس 20ملین ہیکٹر زمین میں سے 16ملین ہیکٹر زمین کا دارومدار ایریگیشن سے منسلک ہے یہ دریائوں اور نہروں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے پاس جو ٹوٹل زیرکاشت زمین ہے اس کا 80%پر بھارت قابض ہے اور وہ جب چاہے اس پانی کو بند کرکے پاکستان کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ ایگریکلچرل انڈسٹری سے وابستہ ہے۔ یعنی گندم، چاول اور کاٹن پاکستان کی ایگروایکسپورٹ انڈسٹری کی شہ رگ ہے۔ بھارت اگرصرف ایک سال پانی بند کر دے تو پاکستان کو سالانہ140کھرب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔زراعت جو کہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشانات ہیں؟ اور اس انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں کسان، مزدور اور ان کے کروڑوں اہل خانہ قحط کا شکار ہو کر ایڑیاں رگڑنے پر مجبور کر دیئے جائیں گے۔ پاکستان جہاں بجلی کا آدھا حصہ ہائیڈرل الیکٹرک سٹی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ زراعت کے علاوہ دیگر انڈسٹری کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اور اگر پانی پر اس بھارتی قبضے کو تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان جو پہلے ہی لوڈشیڈنگ کے عذاب میں پھنسا ہے اور لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں، ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اربوں روپے روزانہ کا نقصان اور سرکاری املاک کو آگ لگانے جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور انسانی قیمتی جانوں کا ضیاع جس کی تلافی ممکن نہیں بھی جاری رہے گی۔ جبکہ آئندہ آنے والے سالوں میں بھارت جب چاہے گا اپنے ڈیموں کے دروازے کھول کر پانی کا رخ ہمارے خشک دریائوں کی طرف موڑ دے گا جس سے 2010ء طرز کے تاریخی سیلاب کی سی مصیبت پاکستان پر کسی بھی وقت نازل کی جا سکے گی۔ اور اگر ایسا ہر پانچ سال بعد بھی کیا جاتا رہا تو معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار پاکستان ہر پانچ برس بعد یہ نقصان اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔ آج بھارت اور اس کے حواری بخوبی جانتے ہیں کہ دو نیوکلیئر قوتوں کے درمیان کسی جنگ کا رونما ہونا خارج از امکان ہے۔ موجودہ حالات میں ڈپلومیسی کے اس دور میں شاید روایتی جنگوں کا دور گزر گیا ہے اس لیے ہمارے مکار ہمسایہ بھارت نے پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے دیگر ممکنات پر عمل شروع کر دیا ہے۔ شاطر بھارت نے کمال ہوشیاری سے امریکہ اور یورپین اتحادیوں کو یقین دلا دیاہے کہ وہ حملہ جو یورپی و امریکی مفادات پر ہوتا ہے اس کا نقطہ آغاز اور مدار پاکستان کی زمین ہی بنتی ہے۔ اس لیے افغانستان سے ملحقہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے بھارتی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی علامت ہیں۔ بھارت عالمی برادری کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو چکا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔ اس طرح پاکستان جو دہشت گردی کی جنگ میں 34ہزار سول و ملٹری جانیں قربان کر چکا ہے جس کا زمینی انفراسٹکچر دہشت گردی سے تباہ ہو چکا ہے دنیا کا کوئی بھی سرمایہ کار ان حالات میں پاکستان کا رخ تو کیا سوچتا بھی نہیں کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے۔ اور بھارت اس ساری صورت حال کا فائدہ اٹھا کر پاکستان اور کشمیر کے دریائوں پر قبضہ کرکے پاکستان کو معاشی،معاشرتی اور سیاسی طور پر غلام بنانا چاہتا ہے جبکہ کالاباغ ڈیم سمیت دیگر قومی اہمیت کے ڈیموں کی تعمیر میں تاخیری حربے استعمال کروا کر اور بِکے ہوئے سیاسی و غیرسیاسی کرداروں اور غداروں کو خرید کر بھارت ایک اندازے کے مطابق سالانہ 15ارب روپے اپنی اس مہم کے لیے بانٹ رہا ہے جس سے ایسے قومی اہمیت کے ناگزیر ڈیموں کی تعمیر التوا کا شکار ہو رہی ہے۔ گذشتہ روز بھارتی حکومت نے یہ اعلان کرکے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کو ششدر کر دیا ہے کہ پاکستان پانی کے مسئلہ پر احتجاج نہ کرے تو بھارت پاکستان کو سستی بجلی فراہم کر سکتا ہے؟ بھارتی ’’بنیئے ‘‘ حکمرانوں نے ایسا کیسے سوچ لیا کہ وہ ہمارا ہی پانی چرا کر ہمیں بیچ سکتا ہے؟ بھارت نے ایسا بیان دے کر اصل حقائق سے نظر چرانے کی بات کی ہے اور ہر پاکستانی یہ سمجھتا ہے کہ ’’بنیئے شرم تجھ کو مگر نہیں آتی۔‘‘ دراصل بھارت کی یہ سوچ پاکستان کو ’’انڈرایسٹی میٹ‘‘ کرنے کے مترادف ہے۔ ہم اکھنڈ بھارت کے ناپاک فلسفہ کو نہیں مانتے ہم امن کی آشا کے نام پر ’’بغل میں چھری منہ میں رام رام‘‘ کو خوب سمجھتے ہیں ہم دو قومی نظریہ کے متوالے ہیں جو بھارتی بنیئے کی سوچ اور ذہن کو سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے نگر کے دیے خون دل سے جلائیں گے مگر بھارتی سازشی قمقموں کو برداشت نہیں کریں گے کیا چند غداروں کو خرید کر بھارت سمجھتا ہے کہ وہ 18کروڑ پاکستانیوں سے سودے بازی کر سکتا ہے؟ میرے ملک کے کھیت کھلیان ویران کرکے،میرے دیس کی بستیاں اجاڑنے کا خواب لے کر،میرے دریائوں کا پانی چُرا کر خشک کرنے کا خواب، میرے پاک وطن کو للچائی نظروں سے دیکھنے کا خواب، بھارت تجھے مہنگا پڑے گا۔ یاد رکھو !جس دن اس قوم کے عاقبت نااندیش حکمران غفلت کی نیند سے جاگ گئے، جس دن اس ملک کے عوام کی غیرت کو للکارا گیا تو پھر نتائج خواہ کچھ بھی نکلیں، میرے دیس کے جوانوں کے حوصلے پست نہیں، میرے دیس کی افواج، میرے دیس کی عوام وطن عزیز کے ایک ایک قطرہ پانی کے لیے خون کی ندیاں بہادینے کا عزم رکھتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus