×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کا ’’ڈیلی ویجز‘‘کردار
Dated: 07-May-2011
قیام پاکستان کے فوراً بعد سیاسی جماعتوں کا کردار کچھ قابل رشک نہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ نوزائیدہ مملکت پاکستان کو اپنے ابتدائی دو عشروں میں ہی تین مارشل لائوں کی اذیت سہنا پڑی۔ متعدد وزیراعظم مختصر عرصے کے بعد تبدیل ہوتے رہے پھر ایوب خان کے دورمیں جب ناتجربہ کار سیاست دانوں کا احتساب شروع ہوا تو ایوب خاں مرحوم نے ایبڈو کے کالے قانون کو لاگو کرکے سیاست دانوں کے لیے سیاست کو شجرممنوعہ بنا دیا جس کی وجہ سے اس دور کے پیشتر سیاست دان ملک چھوڑ کر لندن سدھارے اور متعدد واپس سیاست میں اپنی جگہ نہ بنا سکے جب کہ ایوب خان کے دور میں ہی ہونے والے بلدیاتی الیکشن اور بعدازاں صدارتی الیکشن میں جو کہ غیرسیاسی بنیاد پر کروائے گئے ان کے نتائج کو یکسر تبدیل کرکے سیاسی جماعتوں کے کردار کو اور بھی محدود کر دیا گیا۔ تاشقند کے معاہدے کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ایوب کابینہ سے علیحدگی اختیار کی تو پابندی کے اس دور میں انہوں نے نئی سیاسی جماعت بنانے کے لیے تگ و دو شروع کی جس میں انہیں ملک کے تقریباً تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کی حمایت حاصل ہو گئی دیگر تمام سیاسی جماعتیں جن میں نیشنل عوامی پارٹی، فنگشنل مسلم لیگ اورجماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام و دیگر اس دوران عوامی حلقوں کی حمایت سے محروم تھیں۔ اس سے پہلے ایوبی آمریت کے ابتدائی سالوں میں 1962ء میں جب مارشل لا کو عارضی طور پر مٹایا گیا تھا اور ایک حد تک ’’جمہوریت اور حکومت شاہی‘‘ کا دوغلا نظام رائج کر دیا گیا تھا اور ایوب خان نے ایک سیاسی پارٹی کا اجرا کر دیا جو پہلے تو کنونشن مسلم لیگ کہلائی جبکہ بعد میں اس کا نام پاکستان مسلم لیگ رکھ دیا گیا تاکہ یہ نئی سیاسی پارٹی ان حالات کا مقابلہ کر سکے جن کا درحقیقت جمہوریت سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہونے کا امکان تھا۔ پھر مئی1967ء میں ڈھاکہ میں تحریک جمہوریت پاکستان (پی ڈی ایم) کا وجود کونسل مسلم لیگ،عوامی لیگ،جماعت اسلامی اور نفاذاسلام پارٹی کی شمولیت سے عمل میں آیا۔ 30نومبر و یکم دسمبر 1967ء میں ہی ذوالفقار علی بھٹو نے بالآخر پاکستان پیپلزپارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کا اعلان کیا۔ اورجب ایوب خان نے اقتدار یحییٰ خان کو منتقل کیا تو سیاسی جماعتوں نے ایک دفعہ پھر جمہوریت کی بحالی کے لیے کاوشیں شروع کر دیں، مجبوراً 70ء میں یحییٰ خان نے عوامی دبائو پر الیکشن کا اعلان کر دیا۔ مغربی پاکستان میں نئی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی نے کلین سویپ جب کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے حتمی فتح حاصل کی۔ یہی وہ دور تھا جب متحدہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اپنی ذمہ داری اور سیاسی رول ادا کرنے سے یکسر قاصر رہیں اور ایک غیر ضروری جنگ میں شکست کے بعد ہم اپنا مشرقی بازو گنوابیٹھے، ٹوٹے پھوٹے زخموں سے چور پاکستان کو ذوالفقار علی بھٹو شہید کے حوالے کر دیا گیا جنہوں معروضی حالات میں سول مارشل لاء لگایا اور بعدازاں باقاعدہ مارشل لاء کو ختم کرکے ایک سول حکومت کے قیام کا اعلان کیا اور پھر قیام پاکستان کے 26سال بعد وطن عزیز کو پہلا مکمل آئین نصیب ہوا۔ 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروائی جس سے عالمی سامراج کو پاکستان ایک دفعہ پھر کھٹکنے لگا کیونکہ دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو چکا تھا۔اور شاید یہی وجہ تھی کہ دنیا بھر کی سامراجی طاقتوں نے پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کر لیا تھا اور اس دوران ملک میں سبز ڈالروں کی ریل پھیل شروع ہوگئی پھر سے سیاسی اتحاد بننے لگے اور پھر جب الیکشن کے مقررہ وقت سے پہلے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے الیکشن کا اعلان کر دیا تو مسلم لیگ کے چند دھڑوں کے علاوہ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، تحریک استقلال سمیت 9جماعتوں نے قومی اتحاد کے نام سے ایک الائنس تشکیل دیا جس کو غیر مرئی قوتوں کی حمایت حاصل تھی۔77ء کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا اور ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا کر دی گئی۔ اور یوں پانچ جولائی77ء کو ایک دفعہ پھر جمہوریت پر شب خون مار کر مارشل لاء لگایا گیا۔ اس دفعہ آمر ضیاء الحق نے ایک دفعہ پھر سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنا کر ان پر پابندی لگا دی اور قومی اتحاد کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے اقتدار کی بندر بانٹ میں اپنا اپنا حصہ وصول کیا۔1982ء میں پیپلزپارٹی،مسلم لیگ، تحریک استقلال سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں پر مشتمل ایم آر ڈی کے نام سے سیاسی اتحاد وجود میں آیا جس نے پورے ملک خصوصاً سندھ میں کافی گہرے اثرات چھوڑے جن سے آج بھی پیچھا چھڑانا مشکل نظر آتا ہے۔اور پھر اقتدار کے آٹھ سالہ جبر کے بعد1985ء کو ملک میں غیر سیاسی بنیادوں پر انتخابات کروا دیئے گئے جن کے نتائج قوم آج تک بھگت رہی ہے اور ایک ایسا طبقہ سامنے آیا جو اپنی غیرسیاسی تربیت کی بنا پر پاکستان کے عوام کو سیاسی نرسری دینے میں ناکام ثابت ہوا۔ ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد 1988ء میں جب انتخابات ہوئے تو پیپلزپارٹی اپنے شہید قائد کی بیٹی کی معیت میں اس الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی مگر ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو یہ کب گوارا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کے اقتدارکے چسکے نے صرف اٹھارہ ماہ بعد بے نظیر بھٹو شہید کی حکومت کو فارغ کر دیا اور 1990ء میں نئے انتخابات کروا دیئے مگر ان انتخابات کے انعقاد سے پہلے آئی جی آئی کے نام سے جنرل اسلم بیگ نے ایک نیا انتخابی اتحاد تشکیل دیاجو اینٹی پیپلزپارٹی جماعتوں اور قوتوں پر مشتمل تھا جنہوں نے انتخابات میں دوتہائی اکثریت حاصل کر لی مگر اسٹیبلشمنٹ کا یہ کھیل بھی 3سال سے کم عرصے میں ہی انجام پذیر ہوا۔ 93ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی ایک دفعہ پھر بے نظیر بھٹو کی قیادت میں الیکشن میں کامیاب ہوئی۔ مگر اسی دوران ضیاء الحق کے دور میں تشکیل پانے والی ایم کیو ایم بھی شہری سندھ میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی پھر 96ء میں جب ایک دفعہ پھر پیپلزپارٹی کو اقتدار سے علیحدہ کرکے الیکشن کروائے گئے تو مسلم لیگ نے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک دفعہ پھر دوتہائی اکثریت سے حکومت بنا لی اور پیپلزپارٹی پورے پنجاب سے صرف قومی اسمبلی کی دو سیٹوں پر جیت سکی۔97ء کے الیکشن کے بعد بھی سیاسی جماعتیں بالغ نہ ہو سکیں اور ایک دوسرے پر الزامات اور مقدمے درج کروانے کا دور جاری رہااور پھر12اکتوبر99ء کو جب آمر مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو سیاسی جماعتوں کو پہلی دفعہ احساس ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ کبھی بھی اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل نہیں ہونے دے گی جس پر نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی کاوشوں سے درجن بھر سیاسی جماعتوں نے اے آر ڈی کے نام سے ایک سیاسی پریشر گروپ تشکیل دیا جس نے بلاآخر 2007ء میں آمر مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کیا۔ اور پھر دسمبر2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی ایک انتخابی جلسے میں شہادت نے ملکی اساس پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 2008ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی پہلی بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت جلاوطنی کے بعد عوام میں واپس آ کر پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔بالآخر اگست2008ء میں اقتدار کو چھوڑ کر مشرف جلاوطنی پر مجبور ہوا جبکہ اس دوران اور ابھی تک جماعت اسلامی اور عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف الیکشن ٹرین مِس کرکے ’’اب کیا پچھتائے ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘ کے مترادف ہلکان ہو رہی ہیں اور کوئی بھی سیٹ اپ انہیں گوارا اس لیے نہیں کہ کسی سیاسی سیٹ اپ میں ان کے لیے جگہ بننا مشکل ہے۔ 2008ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ق تیسرے نمبر پر رہی اور آمر مشرف کے لیبل کی وجہ سے پچھلے تین سالوں میں اس کی سیاسی قوت نہ صرف تتر بتر ہوئی بلکہ دو بڑے حصوں میں تقسیم ہو کر اپنا فعال سیاسی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی مگر میثاق جمہوریت کے دو بڑوں کے درمیان ناچاقی کے بعد موجودہ سیاست میں ایک دفعہ پھر اپنا کردار ادا کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اسی طرح ہمیشہ ناپسندیدہ، غیرسیاسی،غیرمقبول فیصلے کرنے والی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ نالاں ہیں۔ حالات کا جبر یہ ہے کہ ہمارے ملک کی سیاسی جماعتوں نے ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھنے کی بجائے ’’ڈیلی ویجز‘‘ کی سیاست کو اپنا شیوہ بنایا ہے۔ ہڑتالوں اور مہنگائی کے آسیب میںعوام کو اکیلا چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے ایک دفعہ پھر کوشاں ہیں جبکہ حکومتی کھلاڑی آنے والے سالانہ بجٹ کی منظوری کے لیے ایک دفعہ پھر شطرنج کی بساط کھول کر مہروں کو پالش کرنے میں مصروف ہیں اور آنے والے دنوں میں کئی پرانے اتحاد ٹوٹیں گے اور ان کی جگہ نئے اتحاد تشکیل پائیں گے جبکہ اٹھارہ کروڑ عوام کسی لب جاں جانور کی طرح اپنے اوپر منڈلاتی ان سیاسی گِدھوں کو دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ مسیحا مسیحا کا کھیل کھیلنے والے اہل کرم چپ اور لاتعلقی کی چادر اوڑھے کسی نئے کھیل کو بنتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور گذشتہ روز یہ خبر پڑھ کر تومجھے بالکل حیرت نہیں ہوئی کہ ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا دنیا کی 17ویں بااثر شخصیت قرار پائے ہیں۔ مجھ سمیت سیاسی طالب علموں کے لیے سیاسی موسم کا حال بالکل واضح ہو گیا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus