×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستان کا دشمن کون؟
Dated: 19-Jun-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہمارے کلچر پر مشرق وسطیٰ کا حملہ ہماری اپنی احساس کمتری کی ہی وجہ ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان اس دھرتی کے چپے چپے سے پیار کرتے ہیں جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پائوں مبارک پڑے۔ کملی والے کی ساری نعتیں اسی عقیدے کا اظہار ہیں لیکن یہ ساری ثناء خوانی ہندوستانی مسلمانوں کی تصوراتی یا مابعدالطبیعاتی دنیاکا حصہ ہے جبکہ اپنی عملی زندگی میں وہ اپنی دیہی روایات، کلچر اور ادب سے ہی لطف اندوز ہوتے ہیں مگر تب عرب بھی خانہ بدوش تھے ۔ برصغیر ایک خوشحال متمدن علاقہ تھا۔ تیل کی دریافت اور پٹرول کے ڈالروں نے دنیا ہی بدل دی اور یہی وجہ ہے کہ آج برصغیر کے لوگ عرب ممالک میں کمتر سطح کے کاموں کے لیے بطور مزدور جاتے ہیں اور وہاں ’’مسکین‘‘ اور ’’رفیق‘‘ کے نام سے جانے اور بلائے جاتے ہیں۔ عرب خانہ بدوشوں نے تیل کی دریافت کے بعد جدید شہر بسانا شروع کر دیئے اور دنیا کے مالیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ اب خزانے کی چابیاں ان عرب خانہ بدوشوں کے پاس ہیں اور ہم پاکستانی گداگر بن گئے۔ بھٹوصاحب نے جب اقتدار میں آ کر لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی تب سے ہر آنے والے آمر نے اور منتخب حکمرانوں نے پہلے سعودیوں کی حاضری بھرنا فرض سمجھا۔سعودی عرب کی پاکستان کی سیاست میں دخل اندازی بھٹو صاحب کے ہی دور میں شروع ہو گئی تھی یہی وجہ تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے سعودی حکمرانوں کے مولانا مودودی کو بہت بڑی رقم کا چیک دیئے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ ضیاء الحق کی اپنی نظریاتی ترجیحات، افغان جنگ نے توسعودیہ مسلک کے طوفان کے لیے دروازے کھول دیئے۔ مشرق وسطیٰ کے طرز اسلام کا پاکستانی دیسی معاشرے پر اتنا اثر پڑا ہے کہ ’’خداحافظ‘‘ کی جگہ اللہ حافظ نے لے لی۔ اور پھر غیر عربی خدا شرک ٹھہرا دیا گیا۔ پاکستانی حکمران طبقے نے بہت مکارانہ لیکن اپنے ہی ہاتھوں برباد ہونے کی چال چلی۔ انہوں نے انسانی جنس مشرق وسطیٰ میں برآمد کرنا شروع کی تاکہ ان کے ہاتھ میں مغربی تعیشات خریدنے کے لیے زرمبادلہ آ سکے۔ اور دوسری طرف حکمران طبقے نے عربی کلچردرآمد کرنا شروع کر دیا ۔ اپنے لیے تو انگریزی سکول بنا لیے اور عوام کو مدرسوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ قراۃ العین حیدر نے پچاس کی دہائی میں انتہائی پیش بینی کرتے ہوئے ایک ناولٹ لکھا تھا جس کا نام ہے ’’کیکٹس لینڈ‘‘ جس میں تفصیلاً بتایا گیا کہ کس طرح سے اسلامی جمہوریہ پاکستان عرب کلچرکی طرف بڑھ رہا ہے ۔ قراۃ العین حیدر کی آدھی بات تو سچ ثابت ہو گئی کیونکہ حکمران طبقے نے اپنے لیے مغربی تہذیب درآمد کی ہے اور اس پر طرئہ یہ کہ اپنے مغربی طرز زندگی کی بقاء کے لیے عرب ریاستوں میں (دوبئی) وغیرہ میں اپنے محل تعمیر کیے۔ یہ درست ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے حکمران طبقے کی گمراہی کو اپنے مفادات کے لیے خوب استعمال کیا اور وہ کونسا ملک ہے جو اس طرح کی احمقانہ پالیسوں سے اپنے مفادات کا تحفظ نہیں کرے گا؟اس لیے امریکہ کو ہی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمان حکمران ایک طرف تو امریکہ کی حاشیہ برداری کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی چاہتے ہیں کہ عوام ان کی بجائے امریکہ کو گالی دیں اور ہمارے معصوم بھولے عوام اپنے حکمرانوں کی خواہشوں کا احترام کرتے ہیں۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے روز اول سے ہی عوامی زبانوں اور کلچرکا گلا گھونٹ کر ایک بڑا تہذیبی ’’خلا‘‘ پیدا کر دیا تھا اوپر سے مقامی زبانوں کی ترویج کے بجائے عربی اور فارسی جیسی زبانیں لازمی قرار دے کر ایک فرسودہ نظام تعلیم کے لیے راہ ہموار کی گئی۔ ہمارے ملک کے حکمرانوں نے اسلامی ریاست کے تصور کی تشکیل کے لیے کثیر القومی کلچر اور زبانوں کے ملک کی رنگارنگی کا خاتمہ کیا۔ اور اس کے لیے ایک مرکب نظریہ تشکیل دیا گیا جس کے اجزائے عناصر میں اسلام، اُردو اور تاریخ کا مسخ کیا جانا ضروری تھا ۔ انگریز کے زمانے سے اس کا خصوصی شکار پنجاب اور سرحد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو صوبوں میں مشرق وسطیٰ کا درآمد شدہ کلچر سرایت کر گیا لیکن ان علاقوں میں اب طالبانائزیشن کی واحد وجہ یہ نہیں تھی شاید پچھلے تیس سال میں اس علاقے میں ہونے والی معاشی، معاشرتی اور سماجی تبدیلیوں نے زیادہ اہم کردار ادا کیا۔ پنجاب میں بھی مذہبی انتہا پسندی کی جڑیں پکڑنا اس کی ہی وجہ سے ہے، پنجاب میں معاشی اور سماجی ترقی کی برق رفتاری کا ساتھ ریاستی ادارے نہیں دے سکے۔ پنجابی معاشرہ بالکل بدل گیا ہے لیکن اس کے اداروں میں پچھلے ساٹھ برسوں سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان کی حالت اتنی تیزی سے خراب اس لیے ہوئی کہ یہاں مرکب نظریہ کو روز اول سے ہی ٹھونسا گیا اور مقامی کلچر اور زبانوں کو برباد کیا گیا۔ مثال کے طور پر پنجاب میں ملائیت کے خلاف مواد صرف پنجابی صوفیا کے کلام میں پایا جاتا ہے اگر ہم اپنے تعلیمی نصاب میں مافوق الفطرت ہستیوں اور برصغیر پر حملہ آوروں کو ہیرو بنا کر پیش کریں گے تو تعلیمی نظام علاقائی کلچر کی ترجمانی کیسے کرے گا؟ گذشتہ روز وکی لیکس کے ایک اور انکشاف نے ہماری لرزتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ 2008ء کے الیکشن میں سعودی حکمرانوں نے میاں نوازشریف کی انتخابی مہم کو فنانس کیا تھا جس پر اس وقت کے فوجی سالاروں نے اس سلسلہ میں باضابطہ شکایت بھی کی۔ بلکہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی انتخابی مہم کے ٹی وی کمرشل پر امام کعبہ کو بار بار دکھایا جاتا تھا ہمارے ماضی کے حالات اور تاریخ بتاتی ہے کہ ہم سے ہمارے کلچر کو چھیننے کے لیے ہماری رگوں میں عربی کلچر کو ایک فرض سمجھ کر ٹھونسا گیا ہے۔ اسی طرح ایران نے بھی پاکستان کے بدلتے ہوئے کلچر میں اپنا حصہ بزور طاقت ڈالا اور ایک مخصوص نظریہ کو ایک دوسرے مخصوص نظریہ کے ساتھ اس طرح متصادم کروایا تاکہ وطن عزیز پاکستان، امریکہ، ایران اور سعودی عرب جیسے ممالک کے مفادات کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ جس ایٹم بم کے حصول کے لیے ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کا پھندا چوما۔ جس ایٹم بم کو تجرباتی بنیاد پر چلا کر نوازشریف اقتدار سے علیحدہ اور جلاوطن ہوئے اس ’’بم‘‘ کو بھی اسلامی بم کا نام دے دیا گیا۔ کیا ایسا تو نہیں ہمیں اصل خطرہ امریکہ اور یورپ سے نہیں؟ بلکہ ہمارے اپنوں سے ہے یعنی وہ ممالک جو ایک اٹھارہ کروڑ کے پاکستان کو مضبوط دیکھنا پسند نہیں کرتے اور اس کی وجوہات میں سے شاید کہیں ایک وجہ گوادر بندرگاہ کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بلوچستان کے قبائل کو اسلحہ کی فراوانی بھی ہے اور نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی کو جن ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے کہیں وہ ہمارے اپنے ہی تو نہیں؟ وطن عزیز کے تھینک ٹینکس کو اب عام عوامی سوچ میں ابھرنے والے ان سوالوں کے جوابات کو ڈھونڈنا بہت ضروری ہے ۔ یاد رہے کہیں ہمارے اپنے ہی تو ہمارے گلے میں چھری تو نہیں چلا رہے؟ اور ہم محبت میں اندھا پیار اور اعتقاد کرکے ایک بڑا دھوکہ کھانے والے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus