×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میثاق جمہوریت اور سیاسی گُرو
Dated: 26-Jun-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com 21جون کا دن ہماری تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا ہے۔ یوں تو یہ دن شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ سے منسوب ہے۔ وہ شہید بی بی جس نے اپنے لہو سے جمہوریت اور اس وطن عزیز کی آبیاری کی۔ بہت سی مشکلات اور مسائل کے بعد میثاق جمہوریت پر جو بڑی سیاسی جماعتوں کا راضی ہونا اس وقت بھی حقیقت پسند احباب کے لیے کچھ آسان نہ تھا ۔مجھے میثاق جمہوریت کے لیے خود دن رات تگ و دو کرنا پڑی۔ مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان کو بزرگی اور بڑھاپے کے ان ایام میں بہت سا سفر کروایا گیا۔ یوں تو میثاق جمہوریت کی سیاہی بھی ابھی خشک نہ ہوئی تھی کہ اختلافات اپنی تمام تر حقیقتوں کے ساتھ امڈ آئے تھے، پھر بھی ان دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات کے لیے عوام کے سامنے سیاسی تھیٹر لگائے رکھے۔ میثاق جمہوریت کی ایک ٹانگ تو اسی دن توڑ دی گئی جس دن مسلم لیگ ن نے وفاقی وزارتوں سے استعفیٰ دے دیا اور میثاق جمہوریت بس اپنی لنگری لُولی حیثیت میں اپنے لاشے کو گھسٹتی رہی۔ اس دوران ملکی سیاست میں بے شمار مدوجزر آئے، بہت سی سیاسی سونامیاں رونما ہوئیں مگر مفادات کے تحفظ کے لیے میثاق جمہوریت کی مجروح روح کو برائے نام مگر زندہ رکھا گیا تھا۔ پھر پیپلزپارٹی نے پنجاب حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تو اس دن میثاق جمہوریت کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دی گئی اور سیاسی بستر مرگ پر پڑا یہ میثاق جمہوریت کا لاشہ اپنے اس عبرت ناک انجام کی خوفناک تصویر بنا اپنے ساتھ ہونے والے ان حوادث کو دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی بہت ہی سہی مگر دونوں طرف ایک دوسرے پر ابھی کیچڑ اچھالنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے دلوں میں ابھی تک تکلفاً ہی سہی مگر مروت کے کچھ دیئے روشن تھے مگر 21جون کے دن ایک طرف کشمیر میں جاری الیکشن کمپئین میں میاں محمد نوازشریف نے مروت کی چادر اتار پھینکی تو دوسری طرف چھوٹے بھائی نے بھی مروت کے لبادے سے باہر نکل کر مفادات کی جنگ میں کود پڑنے کا اعلان کیا اور یوں 21جون کے مبارک دن پر یہ نامبارک رسم طلاق اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔ اس غیرفطری رشتے کا شاید یہی انجام لکھا تھا۔ اپریل 2008میں جب سیاسی پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا تھا حکومت تشکیل پا چکی تھی۔ شہید محترمہ کی شہادت کے زخم ابھی ہمارے دلوں پر تازہ تھے ،جمہوریت کی بحالی اور سینیٹر آصف علی زرداری کی رہائی اور پیپلزپارٹی کی حکومت بن چکی تھی اور میں دیکھ رہا تھا کہ جس سفر کا آغاز میں نے ڈیڑھ عشرہ پہلے کیا تھا اس کا وقتی طور پر ہی سہی مگر بریک لگ چکی تھی مگر میں مایوسیوں کا شکار نہ کبھی ہوا نہ شاید ہوں گا۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح پانی اپنے راستے خود تلاش کرتا ہے اسی طرح ایک سفر کے اختتام پر میں نے ہمت ہارنے کی بجائے اسے ایک پراجیکٹ سے تشبیہ دی کہ جس پراجیکٹ کے پورے ہونے کے بعد میرا کام نئے پراجیکٹ کی تلاش اور اس پر کام کرنا تھا۔ میں بغیر کسی رابطے اور ریفرنس کے ’’نوائے وقت‘‘ کے آفس پہنچا۔ مجید نظامی صاحب کے آفس اپنا کارڈ بھجوایا۔ جس پر فوراً مجھے اندر بلوا لیا گیا۔ مجید نظامی صاحب نے بڑی شفقت سے میرے ساتھ گفتگو کی۔ میں نے مجید نظامی صاحب سے عرض کی کہ آپ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دیا۔ آپ نے سینیٹر آصف علی زرداری کو ’’مردِ حُر‘‘ کا خطاب دیا۔ نظامی صاحب آپ مجھے بھی موقع دیں کہ میں اپنے دل کی بھڑاس کو ’’نوائے وقت‘‘ کے صفحات پر لفظوں کی صورت دے سکوں۔ اس سے پہلے میں درجن بھر کتب تو تصنیف کر چکا تھا مگر میرا کالم نگاری کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا اور میں نے مجید نظامی صاحب سے درخواست کی کہ وہ میری راہنمائی بھی فرمائیں اور میرا اتالیق بننا قبول فرما لیں۔ جس پر محترم جناب مجید نظامی صاحب نے کمال شفقت سے ہاں کر دی اور پھر ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے فرمانے لگے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں پیدائشی مسلم لیگی ہوں۔ اس لیے مسلم لیگ سے میری وابستگی حادثاتی طور پر نہیں اور میرے تمام دوستوں کو اس وقت بھی یہ پتہ تھا کہ نظامی فیملی ذہنی اور عملی طور پر مسلم لیگ سے وابستہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید سے بھی میری دوستی پاکستان سے لے کر انگلینڈ تک اور پھر واپسی پاکستان میں رہی اور پھر جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب کابینہ سے الگ ہونے کے بعد لاہور آئے تو چیئرنگ کراس کے ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر مجھے بتایا کہ وہ مایوس ہے اور سمجھ نہیں آ رہی کہ ڈکٹیٹر ایوب سے کس طرح نبردآزما ہو اور یہ کہ بھٹو اپنی سیاسی جماعت بھی بنانا چاہتے تھے اور فکر مند تھے کہ ان معروضی حالات میں کون اس کے پروگرام اور کاز کو سپورٹ کرے گا۔ نظامی صاحب نے فرمایا کہ میں نے اس وقت ایک لمحے کے توقف کے بغیر ذوالفقار علی بھٹو کو جواب دیا کہ نوائے وقت کے صفحات آپ کے لیے حاضر ہیں تو بھٹو صاحب نے کہا مگر آپ تو مسلم لیگی ہیں جس پر میں نے اسے جواب دیا مگر میں تمہارا دوست بھی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں میں نے چند روز بعد وائی ایم سی ہال میں ہونے والے یومِ حمید نظامی پر بھٹو کو دعوت دی کہ وہ اس پلیٹ فارم کو لاہور میں اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور بعدازاں اس تقریب سے ذوالفقار علی بھٹو نے شروعات کرکے تاریخ رقم کی۔ اور آج بھی حمید نظامی ہال کی دیواروں پہ لگی اس تقریب کی تصاویر اس تمام تفصیلات کی زندہ گواہ ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اقتدار میں آ کر اسی میرے دوست ذوالفقار علی بھٹو نے برسوں تک نوائے وقت کے اشتہار بند کیے رکھے مگر میں نے اپنے دوست بھٹو شہید سے کبھی گلہ یا تقاضا نہ کیا۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے نظامی صاحب نے کہا کہ پھر یہ ان دنوں کی بات ہے جب سینیٹر آصف علی زرداری مشرف کے دورِ حکومت میں پابندِ سلا سل تھے اور میاں نوازشریف اپنی فیملی کے ساتھ سرور محل جدہ میں مقیم تھے۔ نظامی صاحب کو جدہ جانے کا اتفاق ہوا ،مقصد اس سفر کا اپنے دوست اور رفیق میاں محمد شریف صاحب کی خیریت کا پتہ کرناتھا، وہاں شریف فیملی کے ساتھ کھانے کی میز پر میاں نوازشریف نے بڑے روکھے لہجے میں مجید نظامی صاحب سے شکوہ کیا کہ آپ نے چند روز پہلے آصف علی زرداری کو ’’مردِ حُر‘‘ کا خطاب دے کر مردہ گھوڑے میں روح پھونک دی ہے۔ جس پر نظامی صاحب نے کہا کہ میاں صاحب آصف زرداری بڑی جوانمردی سے جیل کاٹ رہا ہے جبکہ آپ سرور پیلس میں خاندان کے ساتھ مزے سے رہ رہے ہیں، آپ بھی مشکلات اور حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے تو میں یہی خطاب آپ کودے دیتا جبکہ میں نے صرف آصف زرداری کی ہمت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مجید نظامی صاحب جب مجھے یہ واقعات بتا رہے تھے تو مجھے دوانتہائی اہم واقعات یاد آ گئے۔ گرمیوں کی ایک شام لاس اینجلس کے ایک مکان کے لان میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کرسی پر بیٹھی تھیں۔ امریکہ سے خالد اعوان اور شہید بی بی کے لائبست(Lobbyist)سیٹون گریو جو کہ ری پبلکن پارٹی کے کانگریس کے امیدوار تھے، بھی وہاں موجود تھے۔ جب محترمہ شہید نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مطلوب آج ہمارے آخری لابی ایسٹ نے بھی ہمارے ساتھ معذرت کر لی ہے کہ جہاں بھی وہ ہمارے لیے جاتے ہیں انہیں انتہائی روٹ طریقے سے انکار کر دیا جاتاہے۔ بی بی غمگین آنکھوں اور دُکھ سے ،مجبوری سے یہ بتا رہی تھیں تو میں نے اُسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ میں شہید بی بی محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے ہر وہ دروازہ جو بند کر دیا گیا ہے کھولنے کے لیے اپنی جان لڑا دوں گا۔ پھر وقت نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ امریکن پینٹاگون، امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کے دروازے شہید بی بی کے لیے کھول دیئے گئے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنا کیس عالمی قوتوں کو بتانے اور آصف علی زرداری کی رہائی کی جدوجہد میں کس طرح مصروف ہو گئیں اور مجھے فخر ہے کہ میں اور میرے دوستوں نے شہید محترمہ کے ایک حکم پر لبیک کہتے ہوئے ان کی خواہش کا احترام اپنی زندگی کے مقصد بنا لیا۔ مجھے 98ء کا وہ دن بھی یاد ہے جب میں سینٹ آف پاکستان کے ایک آفس میں جہاں مجھے سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کی خواہش پر بلوایا گیا تھا۔ جہاں سینیٹر جہانگیر بدر، موجودہ سپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا اور اظہار امروہوی کی موجودگی میں سینیٹر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’’مطلوب وڑائچ خدا نے تمہیں میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے اور اب تم نے جمہوریت کی بحالی اور میری رہائی کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانی ہیں‘‘ جس پر میں نے تمام احباب کی موجودگی میں وعدہ کیا اور آج میں مطمئن ہوں کہ میں نے اپنے حصے کا کام کر دکھایا اور اللہ رب العزت نے میری عزت رکھی۔ محترم صدر مملکت، مجید نظامی صاحب نے آپ کو ’’مردِ حُر‘‘ کا خطاب دیا آپ کی عزت افزائی کی۔اُن حالات میں جب آپ پر کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ تھی، اُن حالات میں مجید نظامی صاحب نے آپ کو ایک نئی سیاسی زندگی عطاء کی۔تو صدر مملکت صاحب آپ مجید نظامی صاحب کو نظریاتی گُرو کہتے، دو قومی نظریہ کا محافظ کہتے تو کچھ اور بات تھی۔ آپ کا دیا خطاب مجید نظامی صاحب نے واپس کر دیا ہے میں نے بھی کبھی کوئی احسان آپ پر نہیں کیا جو بھی کیا وہ میرے ضمیر کی آواز تھی، جس پر لبیک کہا۔ صدر مملکت اگر آپ واقعی یاروں کے یار ہیں، احسان کو یاد رکھتے ہیں تو پھر میری بھی آپ سے یہی التماس ہے کہ پاکستان کو، میرے پنجاب کو ، اندھیروں سے نکال دیجئے۔ کالا باغ ڈیم بننے کا اعلان کر دیجئے، پھر کبھی میں اور مجید نظامی صاحب آپ سے زندگی بھر کوئی تقاضا نہ کریں گے۔ صدر مملکت اقتدار کے جھروکوں سے بس ایک دفعہ پیچھے مڑ کر دیکھیے۔ کچھ دوستوں کو آپ سے اگر شکایات ہیں تو ان کا ازالہ نہ سہی مگر سننے میں کیا حرج ہے۔ صدر مملکت کیا آپ نے اپنے حصے کی کمٹ منٹ پوری کی ہیں؟ وقت بڑی تیزی سے گزر جاتا ہے اور کبھی کبھی معذرت کا موقع بھی نہیں ملتا۔ پنجاب بھی دوسرے صوبوں کی طرح پیپلزپارٹی سے پیار کرتا ہے۔ کالاباغ ڈیم کا اعلان کرکے پنجابیوں کے دل جیتے لیجئے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus