×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چندہ باکس
Dated: 25-Jun-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ روز ٹیلی ویژن پر یکدم یہ سلائیڈز پڑھ کر اور پھر پورا دن یہ خبر مرکزی خبر کے طور پرموضوع کا بحث بنی رہی کہ قومی اسمبلی کے بعد ہماری صوبائی اسمبلیوں کے معززاراکین نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو پیش کر دی ہیں۔ خبر کی صحت پر تو یقین نہیں آ رہا تھا مگر حیرت انگیز طور پر یہ خبر سچ تھی مگر اس سچی خبر کا متن اس لیے مشکوک تھا کہ ہمارے معزز اراکین اسمبلی جن میں وزرائے اعلیٰ ،سینئر وزراء، پارلیمانی سیکرٹری، سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین وچیئرپرسن موجود ہیں ان کے ساتھ قائمہ کمیٹیوں کے معزز اراکین اور صوبائی اسمبلیوں کے تقریباً تمام ہی معزز اراکین جو سندھ، پنجاب، خیبرپی کے، بلوچستان کے اقتدار زدہ گھرانوں کے چشم و چراغ ہیں الیکشن کمیشن کو اپنے اثاثے پیش کر رہے تھے توکہیں ان بے چاروں کا استحقاق تو مجروع نہیں ہو رہا تھا۔ ہمارے ہاں عام چور کی تھانے میںپٹائی ہوتی ہے دس روپے کا نان چرانے پر ،درگت بنتی ہے اور سالوں سزا بھی ہو سکتی ہے ۔ بسکٹ چرانے والے کو جیل یاترا بھیج دیا جاتا ہے مگر پوری بیکری لوٹ کر لے جانے والوں کو کچھ کہہ دیں تو ان کا استحقاق مجروع ہوتا ہے۔ ٹریفک کی لال بتیوں پر بھی اس لیے بریک نہیں لگاتے کہ کہیں ان کا استحقاق مجروع نہ ہو جائے۔ اپنے اپنے علاقوں کے یہ سیاسی دیوتا غریبوں کی چھتراڑ بس اخلاقاً کرتے رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے پیارے غریبوں کا ہاضمہ خراب نہ ہو جائے۔ ہمارے یہ امیر زادے سیاست دان جونسی عینک پہنچتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ہر شخص بشمول ہمارے سیاست دان بڑی ذمہ داری سے ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں۔ ہمارے وطن عزیز میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ بیروز گاری صفر فیصد ہے، ساری دنیا اور مالیاتی بینک حکومت پاکستان کے مقروض ہیں، ایک روپے کے دس ڈالر ملنا شروع ہو گئے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سابق گورنر پنجاب اور موجودہ گورنر سردار لطیف کھوسہ کے ساتھ اچھی دوستی ہے مجھے پچھلے تین سال میں ہزاروں مرتبہ یہ دیکھنے کا تجربہ ہوا ۔ ہر سیاست دان ہر رکن قومی و صوبائی اسمبلی ہر بیوروکریٹ، ہر آفیسر اپنے بچوں کو ایچی سن سکول میں داخل کروانا چاہتا ہے اور ہر شخص کی سفارش ایوان صدر تک کی ہے اور بیچارہ گورنر کس کی مانے کس کو انکار کرے؟ میں کل ٹورنٹو کینیڈا میں بیٹھا تھا میرے ساتھ ریڈیو سدابہار ٹورنٹو کے اشرف راجہ ،مقامی کالم نگار اعظم نیئر، حامد شہزاد اور سماجی و سیاسی لیڈر چوہدری سعید ضیاء موجود تھے اور سیاست دانوں کے اثاثے ہماری بحث کا موضوع تھے۔ میں اور ساتھی حیران تھے کہ پاکستان کے ہمارے معصوم سیاست دان بچارے کس قسم کے لوگ ہیں جن میں تو بعض کے اثاثے تو چندہزار روپوں تک محدود ہیں اور یہ پڑھ اور سن کر مجھے بے حد افسوس ہوا کہ بیچارے اکثر اراکین اسمبلی کے پاس اپنی ذاتی گاڑی تک نہیں ہے تو پھر مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ میں گاڑیاں لے کر سڑکوں پر فراٹے بھرتا پھروں۔ میں نے اپنے ڈرائیور کو فون کرنا چاہا کہ ہماری گاڑیاں ان بیچارے اراکین اسمبلی کو ڈونیٹ(Donate)کر دو جن کے پاس اپنی گاڑی تک نہیں ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں ایسے غریب اراکین کے لیے کوئی خدمت کر سکوں اور یہ ہی وجہ ہے کہ میں نے کینیڈا میں مقیم دوستوں سے مشورہ کیا اور ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ ہم اپنے ان غریب سیاست دانوں ،حکمرانوں کے لیے چندہ مہم کا آغاز کر دیں۔ ان کی غربت ہم سے دیکھی نہیں جاتی ان میں سے کچھ لوگوں نے کروڑوں میں اثاثے ظاہر کرکے قوم پر احسان کیاہے لیکن میرا خیال ہے کہ ان سیاست دانوں کے اکائونٹنٹس نے ضرور ہیرا پھیری کی ہے ۔ وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسے سیاسی خاندان کے اثاثے صرف 45کروڑ روپے ہوں جن کی صرف پاکستان میں موجود انڈسٹری اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جبکہ بھارت، کینیا، سعودی عرب اور لندن میں موجود شوگروسٹیل انڈسٹری کے حجم پنجاب کے بجٹ سے زائد ہے اور ایک دوسرے سیاسی خانوادے کی انڈسٹری یورپ اور سپین میں موجود ہے۔ رئیل اسٹیٹ کی ’’ٹی کون‘‘ یہ فیملی سپین کے پورے پورے جزیروں کی مالک ہے جنہوں نے وہاں کلو میٹر لمبے بنگلورز تعمیر کرکے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔اس طرح ایک اور سیاسی گھرانہ چند برسوں میں ہی دنیا کے دس بڑے امیر خاندانوں میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ سندھ کے ایک مشہور جاگیردار خاندان کی بیٹی جو کہ رکن اسمبلی ہے کہ پاس صرف ایک لاکھ روپے ہیں ۔ بیچاری اپنی ٹکٹ خرید کر گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے لندن بھی نہیں جا سکتی؟ میری خواہش ہے کہ اپنی اس مسکین بہن رکن اسمبلی کو یورپ کا ہالیڈے پیکیج گفٹ کر دوں تاکہ اسے احساس کمتری کا زہر نہ پینا پڑے۔ پنجاب کے کبھی کبھی قائم مقام گورنر بننے والے رکن اسمبلی کے پاس صرف چند لاکھ روپے کی جائیداد ہے جبکہ گذشتہ تین سالوں میں قصور کے پاس سے گزرنے والے دریا کے دونوں کنارے پر آباد سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی اربوں روپے مالیت کی خرید چکے ہیں۔ حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر مجھے پر انکشاف ہوا کہ اکثر اراکین اسمبلی کے پاس جو اثاثے ہیں وہ بینکوں سے قرضہ لے کر بنائے گئے ہیں تب مجھے احساس ہو اکہ وہ کونسے بابرکت بینک اور ان کے پاک نوٹ ہیں جن کے حاصل کرنے سے قرض خواہ کو ایک روپیہ لگانے پر ایک کروڑ کا فائدہ ہوتا ہے۔ بس کچھ بھی ہو میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ کچھ محب وطن دردِ دل رکھنے والے دوستوں کو اکٹھا کرکے دوبئی، امارات، سعودی عرب ، کویت، بحرین اور یورپ ، لندن، نیویارک، ٹورنٹو، کینیڈا کی تمام مساجد کے باہر چندہ باکس رکھوا کر دنیا بھر کے تمام اہل اسلام خصوصاً پاکستانیوں سے درخواست کی جائے بلکہ تمام کمیونٹی سنٹرز ،شاپنگ مال پر ایسے چندہ باکس رکھ دیئے جائیں تاکہ ہم اپنے ان غریب سیاست دان رکن اسمبلیوں کی غربت دور کرنے کے لیے عطیات اکٹھے کر سکیں اور عوام سے اپیل کریں کہ اگر آپ نقد نہ دینا چاہیں تو آپ اپنی استعمال شدہ مرسڈیز ’’غمراری‘‘بی ایم ڈبلیو، ٹاریاں بھی ہمارے ان غریب لاچار سیاست دانوں کو بطور عطیہ دے سکتے ہیں ۔ ہمارے یہ غریب سیاست دان و اراکین اسمبلی جو 63سالوں سے پاکستان کا 90فیصد بجٹ کسی بھی درگاہ کا ’’تبرک‘‘سمجھ کر ہڑپ کر چکے ہیں۔ ہم اپنے مخدوموں ،نوابوں، سیدوں، لغاریوں، مزاریوں، چوہدریوں، خواجوں، وٹوئوں کو جو عوام کا خون تک نکال کر چوس چکے ہیں،غریب نہ ہونے دیں گے۔ ہم عالمی اداروں سے مزید چندہ مانگ کر ان کا پیٹ بھریں گے۔ ہم اس ملک کی اٹھارہ کروڑ عوام کو بھوک کے روزے رکھنے پر مجبور کریں گے ۔ ہم اپنا پیٹ کاٹ کر ان کا پیٹ بھریں گے بلکہ یو این او، آئی ایم ایف کے مراکز کے باہر اپنے ان چہیتے اراکین اسمبلی کے لیے چندہ باکس رکھیں گے ۔ ہم ان کے لیے عطیات وصول کرکے اپنے کشکول دنیا کے سامنے پھیلائیں گے مگر ہم اپنے اراکین کے ’’مینیؤ‘‘ پر فرق نہ آنے دیں گے۔ قوم کی طرف سے ان تمام اراکین اسمبلی کو اجازت ہے کہ وہ پہلے کی طرح اپنا ضمیر ، اپنا وطن، اس کے راز بھی بیچ کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر لیں۔ ہمارے سیاست دان امریکہ، برطانیہ کے ایجنٹس کے طور پر کام کریں وہ سی آئی اے کے ایجنٹس بن کر اگر اپنے بچوں کے لیے گرین کارڈ حاصل کر لیتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔قومی اسمبلی کی خفیہ دستاویزات امریکہ کو بیچ دیتے ہیں تو ہمیں سیخ پا نہیں ہونا چاہیے۔ میرے وطن کے ان غریب اراکین اسمبلی، سیاست دانوں کے لیے اب ہمیں ہر عوامی جگہ پرچندہ باکس رکھنے ہوں گے۔ یہ پاس بیٹھی ہوئی میری بیگم نے لقمہ دیا۔بس جی بچارے غریب جاگیرداروں اور مسکین سرمایہ داروں کے اس ٹولے کے لیے آئندہ عید الاضحی پر قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کرنا ہوگا جبکہ ہمارے یہ سفید پوش سیاست دان ملک و قوم کی بہتری کی خاطر عوام کی کھالیں تو اتار کر بیچ ہی چکے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus