×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اپنا قبلہ درست کر لو۔وگرنہ؟
Dated: 03-Aug-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میرے پاکستان سے نکلنے کی دیر تھی کہ ایسے لگا جیسے تیر کمان سے نکل آیا ہو ۔ سیاسی حرارت میں اس قدر شدت آ گئی ہے کہ ملک سے دور بیٹھے اوورسیز پاکستانی کسی سیاسی بریکنگ نیوز کے انتظار میں نظریں بچھائے بیٹھے ہیں اور کان کسی ایسے ہی الفاظ کے منتظر ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ چند ہفتے پہلے جب میں نے عجلت میں فیصلہ کیا کہ اس سیاسی جمود میں جبکہ وطن عزیز کے حالات دگرگوں ہیں۔ خصوصاً لاء اینڈ آرڈر کے حالات بہت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ خود مجھے بھی جن حالات کا سامنا تھا اس کا ذکر بعد میں کبھی کریں گے۔ حالات وطن عزیز کے یہ ہو چکے ہیں کہ کراچی جل رہا ہے، بلوچستان کوئٹہ ایک آتش فشاں کی مانند کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ پشاور بارود کی بُو سے شرابور ہے۔ جنوبی پنجاب میں اولیاء اکرام کے مزاروں تک کو نہیں بخشا گیا۔ لاہور کے لیے خصوصاً 2010ء اور 2011ء کے ابتدائی ایام میں جس قدر بموں کا دھواں اڑا، حضرت داتا گنج بخش کے مزار کو شہید کر دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ سینکڑوں زائرین شہید ہوئے ایسے میں مجھے ملنے والی دھمکیاں اور اشارے بس ایسے ہی فراموش کر دینے والے نہ تھے اور ماضی کے تلخ حالات وواقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ قریبی دوستوں کے مشورہ پر چند ہفتوں کے لیے چھٹیاں منانے یورپ چلا آیا ،مگر بقول شاعر:’’چھٹتی نہیں یہ ظالم منہ کو لگی ہوئی‘‘ کے مترادف ہیں۔ وطن عزیز کے حالات سے کیونکر بے خبر رہ سکتا ہوں گذشتہ دنوں سابق چیف آف دی سٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ کا مضمون پڑھا پھر اس پر تبصرے، تو ایسے لگا جس طرح ہم لوگوں نے اپنے اپنے مطلب کی تفاسیر و ترجمہ کر رکھا ہے کتاب الٰہی کا۔اسی طرح اس مضمون پر مختلف فکر و آراء رکھنے والے طبقے نے اس مضمون سے نتائج اخذ کیے ہیں ۔ برادرم عمران خان تحریک انصاف کی ریلیاں نکال رہے ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ عوام اب ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہر الیکشن کے موقع پر موصوف الیکشن سے چند دن پہلے الیکشن بائیکاٹ کر دیتے ہیں اور اپنے نئے منشور کے مطابق 30سال کی عمر سے زائد سیاسی لوگوں کو پارٹی ٹکٹ نہ دینے کا بھی اعلان کر چکے ہیں ۔ ہر بار ہر تقریر میں فوج کو دستک دے کر فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتے ہیں۔ جبکہ اس سے پہلے بھی عمران خان 2002ء کے الیکشن اور 2001ء کے ریفرنڈم میں آمر جنرل مشرف کی سیاسی اقتدار کی بس سے لٹکے ہوئے تھے اور پوری تیاری کے باوجود صرف اپنی جیتی ہوئی سیٹ بچا سکے تھے۔ آج بھی وہی حالات ہیں ۔عمران خان صاحب بھٹو شہید کی طرح عوامی سیلاب کے مقابلے میں سونامی لا نے کی باتیں کر رہے ہیں مگر میں سمجھتاہوں جو عوامی سیلاب بھٹو 70ء کے عشرے میں لائے تھے وہ ایک انقلاب تھا، ایک عوامی سوچ اس عوامی سیلاب کے پیچھے تھی۔ قوموں کی زندگیوں میں کئی ایسے مواقع آئے کہ انقلاب ردانقلاب آئے، سب سے بڑا انقلاب جس سے بنی نوع انسان کی قسمت بدل گئی وہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ جنہوں نے ساری دنیا کے لیے ایک راہ نجات دکھائی جنہوں نے ابد تک انسان کو جینے کا ایک راستہ دکھا دیا۔ پھر اس کے بعد اس دنیا میں کئی علاقائی ،جغرافیائی، معاشی اور معاشرتی انقلاب روپذیر ہوئے۔ کبھی سوشلزم، کبھی مساوات اور کبھی جمہوریت کے نام پر مگر عمران خان کے عوامی سیلاب سے ڈر لگتا ہے انہوں نے بات سیلاب سے بھی آگے بڑھ کر کی ہے وہ سونامی لانا چاہتے ہیں۔ ’’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘ پچھلے سال جو سیلاب پاکستان میں آیا اس سے ایک محتاط اندازے کے مطابق 94ارب ڈالر کا وطن عزیز کو نقصان ہوا ،جس کے اثرات سے شاید اگلے دس سال میں باہر نکلنا مشکل ہوگا۔ اب عمران بھائی کس سونامی کا ذکر کر رہے ہیں ہم تو سیلاب کے ڈرے ہیں، سونامی سے تو ہمیں اور بھی خوف آتا ہے۔ تحریک انصاف کے ہمارے بھائی عمران خان سیلابوں اور سونامیوں کو چھوڑ کر صرف چائے کی پیالی میں طوفان برپا کر دیں ہم مشکور ہوں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں جن حالات کا آج پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا وہ حالات پاکستان پر ٹھونسے جا رہے ہیں۔ سانحہ ایبٹ آباد کے بعد ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو آپس کی لڑائیوں سے فرصت نہیں ۔ کبھی ایم کیو ایم، پی پی پی اتحاد ٹوٹ کر مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کی ملاقاتیں جلوہ افروز ہوتی ہیں، کبھی ق لیگ ،پی پی پی کی اتحادی بن جاتی ہے اور عوام دیکھتے ہیںکہ ’’چور سپاہی‘‘ ایک ہی چھتری تلے کھڑے ہیں ، کبھی مولانا فضل الرحمن مسلم لیگ ن کی قیادت کے ساتھ چائے پیتے ہیں، کبھی مولانا صاحب الطاف حسین صاحب کی خلوت میں نظر آتے ہیں۔ اور اسی طرح پھر پھرا کر شام کو پی پی پی کی جلوت میں نظر آتے ہیں۔ جب ملک کی پارلیمانی سیاسی پارٹیاں اپنے انہی چکروں میں سیاسی کھچڑی پکا رہی ہوں گی تو ایسے میں سب کو ایک طرف کرکے عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ اب تیسری آپشن کے طور پر عوام کو لبھا سکتے ہیں مگر عمران خان صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب بات تیسری آپشن کی ہو تو عوام کی نظریں پھر کسی سیاسی جماعت پر نہیں بلکہ وہ تیسری آپشن فوج کو گردانتے ہیں اور فوج کے اپنے طریقہ ہائے کار ہیں۔ جب فوج آتی ہے تو فوج یہ سارا بندوبست یہ سیاسی دسترخوان کسی سویلین کے لیے تیار نہیں کرتی، کسی سیاسی جماعت کے لیے فوج یہ بساط نہیں بچھاتی۔ ہماری 63سالہ ملکی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہماری سیاسی نالائقیوں کی وجہ سے جب فوج آئی ہے تو وہ اپنی مرضی کی سیاسی کھیپ تیار کرتی ہے۔ اپنی مرضی کا وزیراعظم، اپنی مرضی کے وزراء اعلیٰ ،اپنی مرضی کے گورنر تعینات کرتی ہے۔ جب فوج آئی تو اقتدار کی سجی سجائی مسہری عمران خان کو پیش نہیں کریں گے۔ فوج کو محمد خان جونیجو، غلام مصطفی جتوئی، ملک معراج خالد، معین قریشی جیسے ڈمی وزراء اعظم کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوج عمران خان نیازی صاحب کے لیے صدارت کی مسند تو نہیں پیش کرے گی۔ پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، اے این پی اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی قیادت سے گزارش ہے کہ اپنی صفیں درست کر لیں ابھی شاید تھوڑا وقت بچا ہے کہ نہیں اگر فوج کو بلایا گیا تو اب کی بار کڑا انصاف ،کڑا احتساب ہوگا اب کی بار راکشی، کرپٹ سیاست دانوں کو الٹا لٹکایا گیا تو چرائے ہوئے سبھی سکّے برآمد ہو جائیں گے۔ اب کی بار جدہ اور ولایت کی فلائٹیں شاید پکڑ ی نہ جا سکیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus