×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صدرمملکت۔نوشتۂ دیوار پڑھیے!
Dated: 30-Jul-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پچھلے چند دنوں سے میں ٹورنٹو(کینیڈا) میں مقیم ہوں اور تقریباً ہر روز ہی پیپلزپارٹی سے وابستہ کارکنان اور اورسیز لیڈر مجھے کوئی پروگرام تقریب یا سیمینار منعقد کرکے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ مقامی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں موجود ہوتی ہے۔ مجھے سامنے بٹھا کر کارکنان پاکستان پیپلزپارٹی تختہ مشق بناتے ہیں، طنز کے نشتر الفاظوں کے روپ میں مجھ پر برسائے جاتے ہیں۔ یہ سمجھ کر کہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا رکن ہوں اور موجودہ اقتدار میں پیپلزپارٹی کا ایک ذمہ دار ہوں۔کارکنان کے ایسے بے شمار سوالات چبھتے ہوئے الفاظ اور ان سب باتوں کے دوران میں سوچتا ہوں کہ میری مثل ایسی ہے کہ(پنڈوں تیرہویں۔ چھتروں آدھ) یعنی اقتدار میں ہمارا حصہ شاید 13فیصد بھی نہیں ہے مگر جب پکڑے جائیں گے تو پھر جو چھتر پڑیں گے ان میں ہمیں سب کے برابر پڑیں گے یا پھر شاید باقیوں سے بھی زیادہ۔ پچھلے سال صدر مملکت کے ساتھ کھانے کی میز پر گفتگو ہو رہی تھی۔ مشہور اینکرز مبشر لقمان، امتیاز عالم، ڈاکٹراجمل نیازی، منو بھائی، طاہر سرور میر اور افتخار احمدموجود تھے تو صدر مملکت نے فرمایا مطلوب وڑائچ میرے سخت دنوں کا ساتھی ہے جیل بھی میری وجہ سے گیااور صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔تو میں نے صدر مملکت کو کہا جناب میں تو اب بھی حاضر ہوں، جیل جانے کو تیار ہوں کیونکہ پیپلزپارٹی سے یہ میری کمٹ منٹ ہے، شہید بی بی سے یہ میری کمٹ منٹ ہے۔ تو صدرمملکت نے فرمایا نہیں مطلوب اب تم جیل نہیں جائو گئے۔ مگر آج میں حیران ہوں کہ میں جیل جانے سے کیسے بچ پائوں گا؟ پورا ملک چیخ چیخ کر ہمارے وزراء پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے۔ اتنے الزامات اور کرپشن کا چرچا تو 71ء سے 77ء پھر88ء سے 90ء تک اور 93ء سے96ء کے اقتدار کے دوران بھی ہم پر نہیں لگا تھا۔ پہلے اقتدار کے ازالے کے طور پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی ، دوسری دفعہ اقتدار کے نتیجہ کے طور پر ساری قیادت جیل یاترا پر گئی۔ شہید بی بی اور صدر مملکت سمیت سبھی جیل گئے پھر 93ء سے 96ء تک کے دور کے نتائج میں پیپلزپارٹی کی پوری لیڈرشپ کو دنیا بھر میں رسوا کیاگیا ۔ کرپشن کے الزامات اس قدر شدید تھے کہ جو جیلوں میں تھے وہ تو سامنا نہ کر سکے جو باہر تھے ہر روز اٹھارہ کروڑ عوام کے سوالات اور ملک سے باہر رہنے والے پیپلزپارٹی کے اوورسیز لیڈر دنیا بھر کے عوام کی تنقید کا سامنا کرتے تھے ۔خود ایک دفعہ لاس اینجلس میں شہید محترمہ نے دوستوں کی موجودگی میں کہا کہ ہمارے لابی ایسٹ کہتے ہیں کہ جہاں بھی ہم آپ کی بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں آگے سے مدمقابل دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر ہمیں مزید بات کرنے سے روک دیتا ہے۔ لہٰذا ایسے حالات میں محترمہ ہم مجبور ہیں اور آپ کی اور آپ کے شوہر جناب آصف علی زرداری کی لابنگ سے معذور ہیں۔ اور پھر 93ء سے96ء کے اقتدار کے نتیجے میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ پاکستان میں عدالتوں کے چکر یوں لگتے کہ صبح کراچی کی عدالت میں پیشی دوپہر اسلام آبادکی عدالت میں حاضری اور سہ پہر کو لاہور ہائی کورٹ میں پیشی ہوتی تھی اور تب سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کو بھی اسی طرح کے معاملات کا سامنا تھا اور وہ جیل میں بھی تھے۔93ء سے96ء کے اقتدار کے نتائج ہی تھے کہ محترمہ کو جلاوطنی کے بعد شہید کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے پاس اور بھٹو گھرانے کے پاس اب شہادتوں کے لیے کچھ نہیں بچا؟ آج ہمارے موجودہ اقتدار کے دوران پھر کرپشن کے الزامات اس قدر شدید ہیں کہ ہمیں چند ماہ بیشتر درجن بھر وزراء کو فارغ کرنا پڑا۔ کچھ کے محکمے تبدیل کر دیئے گئے مگر جن کو فارغ کیا گیا ان پر اربوں روپے کے کرپشن اور بیرون ممالک کروڑوں روپے مالیت کے گھر خریدنے اور جائیدادیں بنانے کے الزامات ہیں۔ پیپلزپارٹی کے کارکنان سوال کرتے ہیں کہ ان سابق وزراء کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا جنہوں نے اپنے لالچ اورجیبیں اور غیر ملکی و ملکی اکائونٹ بھرے؟کیا کسی ایک کرپٹ وزیر کا محاسبہ کیا گیا؟ کیا کسی ایک وزیر کے احتساب کے لیے کمیشن بنایا گیا؟ کیا کسی ایسے الزامات کے حامل وزیر کی پارٹی رکنیت معطل کی گئی؟ کیا ایسے کسی سابق وزیر کو نشان عبرت بنایا گیا؟ بلکہ دنیا بھر میں موجود پیپلزپارٹی کے جیالے پوچھتے ہیں کہ اتنے شدید الزامات کے باوجود وہی وزراء اس مالِ غنیمت کو سمیٹنے اورغیرملک بھیجنے میں مصروف ہیں انہیں کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ آئندہ دو سالوں میں اس مال غنیمت کو پرسکون طریقے سے چھپا سکیں۔ کیا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت ان کرپٹ وزراء اور محکموں کے چیئرمینوں کے خلاف کوئی ایکشن لے گی؟ کارکنان کے چبھتے ہوئے سوالات کے جوابات دینا کم از کم اب میرے لیے تو مشکل ہے۔ کارکنان پیپلزپارٹی پوچھتے ہیں کل تک پیپلزپارٹی اور صدر مملکت کو گالیاں دینے والے اصحاب تو مختلف ڈیپارمنٹس کے سربراہ اور چیئرمین اور وزراء لگے ہوئے ہیں تو پھر کیا گالیاں دینے والے ان وزراء کی طرح پارٹی کے سارے کارکنان اور دوسرے درجے کی لیڈرشپ بھی کہیں سے گالیوں کا ڈپلومہ کر لیں؟ تاکہ آئندہ آنے والے پیپلزپارٹی کے اقتدار میں ان کا بھی حصہ بن سکے۔ متعدد پارٹی ممبران کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ پہلے بھٹو کے لیے کوڑے کھاتے تھے پھر بھٹو کی تصویر بے نظیر شہید کے لیے جیلیں کاٹی مگر اب بھٹوز ہی نہیں بچے تو ہم کس کے لیے اب جیل جائیں؟ جبکہ ہر دفعہ غلیظ گالیاں دینے والوں کو، موقع پرستوں کو، برساتی مینڈکوں کو اقتدار کی چاردیواری کے اندر قبول کر لیا گیا ہے تو پھر پیپلزپارٹی کے حقیقی کارکنان کے لیے یہ سبق ہے۔ پیپلزپارٹی کے مایوس کروڑوں کارکنان ،لاکھوں جیالے ،ہزاروں خیرخواہ اور سینکڑوں لیڈرمایوسی کی اس دلدل میں پچھلے تین سال سے باہر دفاتر میں ساتھیوں، گھر میں احباب اور باہر سڑکوں پر دوستوں سے جھوٹ بول بول کر تنگ آ چکے ہیں اور بہتری کی کوئی ترکیب مستقبل قریب میں تو نظر نہیں آتی اور کارکنان ایک دفعہ پھر جیلیں کاٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں حقیقی کارکنان کوڑے کھانے کے لیے اب تیار نہیں مگر کیا صدر مملکت یہ جواب دینامناسب خیال کریں گے کہ اب کی بار مجھے پھر ان کے ساتھ جیل جاترا نہیں کرنا پڑے گی؟ صدر مملکت صاحب مجھے جیل جانے سے خوف نہیں مگر اقتدارکے بعد دوستوں احباب ساتھیوں اور لوگوں کے الفاظ کے نشتر سے لگنے والے چرکوں سے ڈر لگتا ہے میں اپنے بچوں کے سوالات کا کیا جواب دوں گا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus