×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
فیئر پلے پلیز
Dated: 14-Sep-2008
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف جمہوریت کی بحالی کے مختلف فیز بتایا کرتے تھے ان کے خیال میں آخری فیز الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والی پارٹی کو اقتدار کی منتقلی تھی۔ وہ اپنی طرف سے جمہوریت کی بحالی کا آخری مرحلہ طے کیے بیٹھے تھے وہ اپنی صدارت کو بھی جمہوریت کی بحالی کا ایک حصہ قرار دیتے تھے۔ دراصل 12اکتوبر1999ء کے بعد 18اگست2008ء کو جمہوریت کی بحالی کا آخری مرحلہ پرویز مشرف کے استعفے سے شروع ہو کر 6ستمبر کو آصف علی زرداری کے صدارتی الیکشن جیتنے اور 9ستمبر کو حلف برداری سے مکمل ہو گیا۔ 18فروری کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے پورے ملک میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں تو آصف علی زرداری نے حکومت سازی کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت کا سلسلہ تیز کر دیا۔انہوں نے ایم کیو ایم تک سے ہاتھ ملانے میں ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کیا اور خود چل کر نائن زیرو گئے۔ میاں نوازشریف تو انتخابات سے قبل بھی غیر اعلانیہ طور پر پیپلز پارٹی کے اتحادی تھے۔ جے یو آئی اور عوامی نیشنل پارٹی سے بھی کسی قسم کی دوری نہ تھی۔ اے پی ڈی ایم نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا تھا اس کے ساتھ بھی کوئی مخاصمت نہ تھی۔ وزیراعظم کا متفقہ انتخاب بھی پیپلز پارٹی کی قیادت کا کریڈٹ ہے۔ سازشیوں نے جسٹس خیل الرحمن رمدے کا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا تو اس کا فوری نوٹس لیا گیا۔ جس پر وزیراعظم نے باقاعدہ معذرت کی۔ معزول جج چار پانچ ماہ سے زیر حراست تھے ان کو رہائی دلائی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی نظر بند تھے۔ ان کو عدالت سے رجوع کی اجازت دی گئی۔ آج بہت سے رشتہ دار ان سے مل سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد وہ میڈیا کو درجنوں انٹرویوز دے چکے ہیں۔ وہ کینسر میں مبتلا ہوئے تو آغا خان ہسپتال کراچی سے آپریشن کی اجازت مشرف حکومت نے بادلِ نخواستہ دی وہ ابھی چلنے پھرنے کے قابل بھی نہ ہوئے تھے کہ ان کو جبراً اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ جمہوری حکومت نے ان کو کراچی میں بھائی کی تیمارداری کے لیے جانے کی اجازت دی ان پر واپسی کے لیے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ صدر پرویز مشرف کے دبائو کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے ساتھ پیپلز پارٹی نے مرکز اور پنجاب میں اتحاد کا اعلان کیا۔ پنجاب حکومت کے قیام کے لیے مسلم لیگ ن کو فری ہینڈ دیا گیا۔ دراصل یہ پیپلز پارٹی کا لگایا ہوا پودا ہے۔ جسے سازشی تو اکھاڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی ایسا نہیں کر سکتی۔ پیپلز پارٹی نے جس فیئر طریقے سے صدارتی مہم چلائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جناب صدر آصف علی زرداری صاحب کو تینوں اسمبلیوں اور آزاد کشمیر اسمبلی سمیت پیپلز پارٹی نے صدارتی امیدوار نامزد کیا۔ مسلم لیگ ن بوجوہ مرکز سے حکومتی اتحاد سے نکل گئی تو اس نے اپنا صدارتی امیدوار کھڑا کر دیا۔ مگریہ بھی جمہوریت کا حسن ہے۔ مسلم لیگ ن نے پنجاب سے صوبائی اسمبلی کی آدھی سے بھی کم نشستیں حاصل کیں اس کے باوجود میاں شہباز شریف کو حکومت سازی میں نہ صرف مدد دی گئی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد اراکین سے رابطہ تک نہ کیا کہ ہماری اتحادی جماعت کو گورنمنٹ بنانے کے لیے ان کی ضرورت ہے۔بے شک جناب صدرآصف علی زرداری صاحب کو پنجاب اسمبلی سے صدارتی الیکشن میں اکثریت نہ مل سکی۔ سینیٹ سے وہ جیت گئے قومی اسمبلی میں بہت بڑی اکثریت حاصل کی۔ سندھ میں ایک بھی ووٹ مخالف امیدواروں کو نہ مل سکا۔ بلوچستان اور سرحد میں واضح اکثریت ملی۔پنجاب میں اکثریت نہ ملنے کے باوجود بھی صدر مملکت نے دوتہائی سے زائد اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی صدر نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ پہلی مرتبہ ہارس ٹریڈنگ کا الزام نہیں لگا۔ اے پی ڈی ایم سمیت تمام پارٹیوں سیاسی اور غیرسیاسی شخصیات اور تجزیہ نگاروں نے صدارتی الیکشن کو غیرمتنازعہ تسلیم کیا اور مبارک بادیں دیں۔ابھی الیکشن کا پورا رزلٹ بھی نہ آیا تھا کہ جناب میاں نواز شریف صاحب نے سپورٹ مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکست کو تسلیم کیا اور اپنے سینئر ساتھیوں کے ساتھ مبارکباد دینے کے لیے صدرمملکت جناب آصف علی زرداری صاحب کے پاس گئے۔ گو مسلم لیگ ن حکومتی اتحاد سے الگ ہو چکی ہے اس کے باوجود میاں نوازشریف نے اہم امور پر حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے فروغ میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کے مثبت کردار سے پریشان ہے۔ وہ مرکز اور صوبائی حکومتوں کوغیر مستحکم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اسے سازشی لوگوں اور لوٹوں کی تلاش ہے۔ شاید کچھ مہرے اس کے ہتھے بھی چڑھ گئے ہوں۔ لیکن اب تمام پارٹیوں کو فیئر پلے کرنا ہوگا۔جس کو جہاں مینڈیٹ ملا ہے اس کا احترام سب کو کرنا چاہیے۔ اے این پی،جے یو آئی ف، پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔ اے پی ڈی ایم نے انتخابات کا بائیکاٹ کرکے خود ہی یہ ٹرین مس کی اب انہیں پارلیمنٹ کے باہر رہ کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ قاضی حسین احمد، عمران خان، محمود خان اچکزئی اور دیگر سیاسی رہنمائوں کو سپورٹ مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش میں شریک نہیں ہونا چاہیے وہ بے شک حکومت پر نظر رکھیں اور حکومت کے ہر غلط کام پر تنقیدجائز ہے مگر ہر اچھے کام پر تنقید جمہوری عمل کو متاثر کرے گی جبکہ تنقید برائے تنقید سے مسائل جنم لیں گے۔اب وہ تمام دوست جو پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے ہیں فیئر پلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ سال انتظار کریں۔ موجودہ گورنمنٹ کو اپنی پوری اینگز کھیلنے کا موقع دیں اور جمہوریت ہی سب سے بہترین انتقام ہے کے فلسفے سے سبق حاصل کریں۔ ایک تاثر یہ پھیلایا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت اپنے نمائندے گورنر پنجاب کے ذریعے پنجاب حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوئی کوشش کر رہی ہے یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی اڑائی ہوئی باتیں ہیں جو دونوں بڑی پارٹیوں کے مابین اختلافات پیدا کرکے اپنا کھیل کھیلنا چاہتی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اورگورنر پنجاب سلمان تاثیر نہ صرف جمہوریت پسند ہیں بلکہ وہ محب وطن اور سیاسی ورکر ہیں۔ مسئلہ دونوں کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کا ہے۔ایک بہتر انڈرسٹینڈنگ چھوٹی چھوٹی ان غلط فہمیوں کو جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں ایسے کسی امکان کو کم کر سکتی ہے۔گورنر پنجاب سلمان تاثیر نہ صرف مرکزکے نمائندے بلکہ وہ پنجاب بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ہردلعزیز لیڈر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔گورنر پنجاب کے کندھوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ پنجاب جو پچھلے 31سالوں سے پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے شجرے ممنوعہ بنا ہوا تھا آج اسی گورنر ہائوس کے دروازے ہر کارکن اور جیالے کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ اور پیپلز پارٹی کے جیالے کارکن اپنے آپ کو اقتدار میں عملاً محسوس کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب جناب میاں شہباز شریف صاحب کو اپنی پنجاب میں اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے کارکنان جو تین عشروں سے زائد پنجاب میں صعوبتیں،مصیبتیں، کوڑے،جیلیں اورپھانسیاں جھیلتے رہے ان کو اتنا ریلیف تو دینا ہوگا کہ وہ بھی اپنے آپ کو ایک فسٹ کلاس شہری کے طور پر اپنی پہچان کروا سکیں۔میری خواہش ہے کہ مجید نظامی ایسے محب وطن لوگ جو پاکستان کا خواب اپنے سینے میں لے کر پیدا ہوئے وہ پنجاب کے دونوں لیڈروں کو آپس میں قریب لانے کے لیے اور ان کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کو کم کرنے کے لیے جو مثبت کردار ادا کر رہے ہیں ہر دردِدل پاکستانی کی نظر میں ان کا مرتبہ اور احترام مزید بلند ہو گیا۔لیکن اگر سازشی ٹولے کامیاب ہو گئے تو طالع آزمائوں کو ایک اور ایڈونچر کا موقع مل جائے گا۔ وہ دنیا پر یہ واضح کرنے کے لیے کہ پاکستان کے سیاستدان ماضی کی غلطیوں سے نہ سیکھتے ہوئے بھی ابھی تک ان میچور ہیں جس سے دنیا بھر میں پاکستان کے امیج جو پہلے ہی لڑکھڑاں ہے شدید دھچکا لگے گا۔اس وقت ہمیں تمام تر اختلافات کو بھلا کر ذاتی انا کو پس پشت ڈال کر استحکام پاکستان کے لیے اور آنے والے دنوں میں اپنی نسلوں کو یہ بتانے کے لیے میسج دینا ہوگا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں ہمارے اندر قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان کو بچانے کے لیے ہمت اور عقل موجود ہے اور ہم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں فخر کے ساتھ سربلند کرکے کھڑے ہو سکتے ہیں۔مگر اس کے لیے افہام وتفہیم ضروری ہے پانچ سال سیاستدانوں کے امتحان کے ہیں ان کو پوری دنیا پر ثابت کرنا ہے کہ وہ ملک چلانے اور جمہوریت کو فروغ دینے کی کماحقہ صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں۔ اپنے رویے سے ان کو ثابت کرنا ہوگا کہ اپنی غلطیوں سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے ہمیں ہرے بھرے،سرسبز پنجاب کے لیے جس میں آج ایک عام انسان آٹے کے حصول کے لیے لائنوں میں کھڑا ہوتا ہے اس قابل بنانا ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبے بشمول آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی غذائی ضروریات پنجاب کی سوہنی دھرتی کو ہی پوری کرنی ہے اس لیے میری تمام سیاسی دوستوں سے التماس ہے کہ خدارا سپورٹ مین سپرٹ اور فیئر پلے سے اپنے اندر قوت برداشت پیدا کریں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus