×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اور اب عوام کے بارے میں سوچا جائے
Dated: 21-Sep-2008
جمہوریت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس کی قدر بھی جمہوریت پسند لوگوں کو ہے۔ جمہوریت پسند لوگ سونے کی آمریت پر مٹی کی جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں۔ پرویز مشرف کے چلے جانے کے بعد جمہوریت کی ایک سے بڑھ کر ایک خوبی سامنے آ رہی ہے بلکہ جمہوریت کا حسن نکھرتا جا رہا ہے۔ گزشتہ حکومت نے لیڈر آف اپوزیشن کا معاملہ طویل مدت تک لٹکائے رکھا۔پچھلے دورِ حکومت میں 2002ء کے الیکشن کے بعد جبکہ پیپلز پارٹی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کافیصلہ کیا تو پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ جناب امین فہیم صاحب کو جو کہ قائد حزب اختلاف کی سیٹ کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مشترکہ امیدوار تھے کی نامزدگی کو غیرآئینی طریقے سے روکے رکھا اور سیاسی بنیادوں پر تقرری کر دی گئی۔آج جمہوری دور ہے مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کی مرکز میں اتحادی تھی تو مسلم لیگ ق کو اس کے استحقاق کے مطابق اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دے دیا گیا۔ آج مسلم لیگ ن اپوزیشن میں بیٹھ گئی ہے تو مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویز الٰہی نے جمہوری انداز اختیار کرتے ہوئے ایک منجھے ہوئے سیاستدان کا رویہ اپنایا اور قائدحزب اختلاف کا عہدہ چھوڑ کر زیادہ نمبر رکھنے والی جماعت کے لیے خالی کر دیا۔جس کے لیے میں چودھری پرویز الٰہی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے بہت تھوڑے عرصے میں بہت کچھ سیکھا۔اور اب سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا صاحبہ نے مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار علی کی بطور قائد حزب اختلاف کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ صدر مشرف 4سال تک مسلسل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب نہ کرکے ایک پارلیمانی فرض کی ادائیگی سے روگردانی کرتے رہے۔ آصف علی زرداری نے صدر بننے کے بعد یہ فریضہ د و ہفتے کے اندر اندر ادا کر دیا۔ پارلیمنٹ میں کسی قسم کی بدمزگی بھی نہیں ہوئی۔ ہر رکن پارلیمنٹ کا رویہ قابل تحسین ہے۔ یہ دراصل ایک منتخب جمہوری صدر کا عوام کے ذریعے پارلیمنٹ میں آنے کا کرشمہ ہے وگرنہ سابقہ صدر کو چونکہ عوامی حمایت حاصل نہ تھی اس لیے وہ عوام میں آنے سے ڈرتے رہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک بحرانوں کا شکار ہے۔ حکومت کو ان سے نمٹنے کے لیے اپنی پوری استعداد بروئے کار لانا ہو گی۔ اب تک بحرانوں کے حل کی جانب حکومتی پیشرفت مثبت ہے تاہم اس میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری کے صدر منتخب ہونے سے پیپلز پارٹی کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ جس کا حکومت کو پوری طرح ادراک ہے۔ پہلے اقدام کے طور پر صدر صاحب کا سندھ حکومت کی طرف سے چھٹی کے لیے جاری کردہ سرکولیشن منسوخ کرنا تھا۔ اور صدر مملکت کو یہ مکمل ادراک ہے کہ عوام اب چھٹیوں اور عیاشیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی ہمیں عالم عالم میں دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ کندھے سے کندھ ملا کر کھڑا ہونے کے لیے پاکستان کے کونے کونے میں علم و تعلیم کی روشنی پہنچانی ہوگی۔ساتھ ہی صدر کی طرف سے تہنیتی اور مبارکباد کے اشتہارات پر پابندی اس لیے لگائی گئی کہ درجنوں محکمے ترقیاتی بجٹ میں سے پیسہ نکال کر اشتہارات کی مد میں ضائع کر دیتے ہیں جن سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ صدر صاحب نے خصوصی طیارے کے بجائے اسلام آباد سے دبئی، دبئی سے لندن اور لندن سے واپسی کے لیے کمرشل فلائیٹ سے سفر کرکے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ وہ اب چین یا امریکہ جائیں گے تو ان کے ساتھ وفد بھی مختصر جائے گا۔ حالانکہ سابق حکمران دوروں پر دو اڑھائی سو لوگوں کی فوج سرکاری خرچ پر ساتھ لے جاتے تھے۔ صدر نے ایوان صدر کے اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی کا حکم دیا ہے۔اور اس سے قبل وزیراعظم جناب سید یوسف رضا گیلانی صاحب وزیراعظم ہائوس کے بجٹ کو 30% سے زائد کم کرنے کا حکم دے چکے ہیں۔ صدر اور وزیراعظم کی گاڑیوں کے دستوں میں بھی کمی کر دی گئی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار مختصر ترین وفاقی کابینہ بنائی گئی ہے۔ اس میں مجوزہ اضافے سے بھی ان کابینائوں کے مقابلے میں مختصر رہے گی جن کے ارکان کی تعداد 100 سے زائد ہوتی تھی۔ آج ہر وزیر کے پا س تین تین چار چار محکمے ہیں لیکن اگر ہر وزیر اپنی پوری استعداد سے بڑھ کر کام کرے تو ملک کو کہیں سے کہیں پہنچا یا جا سکتا ہے۔ جب ہمارے وزراء کو اس بات کی سمجھ آ جائے گی کہ ہم ایک ترقی پذیر ملک ہیں ہمارے وسائل ہماری ضرورتوں سے بہت کم ہیں اور ہماری قوم کو ہی نہیں بلکہ ہمیں بھی قربانیوں کی روایات ڈالنی ہوں گی۔وزراء کو عام روٹین سے ہٹ کر 8کی بجائے 18گھنٹے کام کرنا ہوگا۔اسی طرح ہم اس فاصلے کو جو ہمارے اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان موجود ہے کو کم کر سکتے ہیں۔ صدر پاکستان نے اپنے انتخاب کے فوری بعد چین کے دورے کا اعلان کیا تھا بعد میں فیصلہ ہوا کہ پہلے امریکہ کا دورہ کیا جائے۔ وہ امریکہ دورے کے پہلے مرحلے پر لندن گئے اور پاکستان واپس چلے آئے۔ لیاقت علی خان نے بھی پہلے روس کے دورے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وہ روس جانے کے بجائے امریکہ چلے گئے۔ جس کا قوم اب تک خمیازہ بھگت رہی ہے۔ چین سے ایسے رویے کی قطعاً توقع نہیں۔ وہ ہمارا بااعتماد اور دکھ درد میں کام آنے والا دوست ہے۔ میں سمجھتا ہوں صدر امریکہ پہلے جائیں یا چین یا سعودیہ یہ چیزیں آج کے حالات میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ سیاست میں وقت کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور صدر مملکت جو چاہے فیصلہ کریں لیکن وہ عوامی امنگوں کی مکمل ترجمانی کرتا ہواور پاکستان کے معروضی حالات میں اس فیصلے کے نتائج پاکستانی عوام کے لیے ثمر آور ہوں۔ آج ملک میں مکمل جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آ چکا ہے۔ جمہوری حکومت کا مقصد ہی عوا م کی خدمت ہے۔ آج تک عوام نے ملک اور حکومتوں کی خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اب حکومت کو بھی عوام کی قربانیوں کے صلہ میں عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔پٹرول کی قیمت پچھلے سال عالمی مارکیٹ میں 69ڈالر فی بیرل سے بڑھتے بڑھتے 147ڈالر تک جا پہنچی تھی تو حکومت کو بھی پٹرول کی قیمت 60 روپے سے 87 روپے لیٹر تک لے جانا پڑی تو عوام نے اسے عالمی تناظر میں قیمتوں میں اضافے کے باعث قبول کیا۔ اب عالمی منڈی میں تیل 88ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے۔ اس لیے عوام تک اس کا فائدہ پہنچنا چاہیے۔ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت بڑھا دی گئی ہے جبکہ ٹیوب ویل، پبلک ٹرانسپورٹ، صنعتوں، واپڈا اور ریلوے جیسے ادارے ڈیزل استعمال کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں جہاں بجلی نہیں وہاں غریبوں کے گھروں میں مٹی کے تیل کے دیئے سے روشنی ہوتی ہے۔ مٹی کا تیل ایسا مہنگا ہوا کہ غریب کو روشنی کے لیے اپنا خون جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی اسی طرح پچھلے ادوار میں ملازمتوں پر پابندی،ڈائون سائزنگ اور گولڈن شیک ہینڈ جیسی سکیمیں متعارف کرائی گئیں جس سے بیروزگاری کا آسیب ہر گھر کی دہلیز تک پہنچا۔ اب موجودہ حکومت سے توقع ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے ملک کے ہر کونے کونے سے بیروزگار مگر پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمتوں کے مواقعے مہیا کرے۔اس کے علاوہ بجلی اور آٹے جیسے بحرانوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہمیں اپنے اس سیکٹر کو بھی ترجیحی بنیادوں پر سنوارنا ہوگا وگرنہ فوڈ کرائسس ہمارے ملک کے چہرے پر ایک بدنما داغ کے طور پر موجود رہے گا۔اس کے علاوہ وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں عام مزدور کی کم از کم مزدور ی چھ ہزار روپے مقرر کی تو ملک کے محنت کش طبقہ کو محسوس ہوا کہ ان کی امنگوں کی زبان بولنے والا کوئی تو آیا ہے مگر قانون پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے۔ اس ملک کا سرمایہ دار خود تو اربوں روپے کے منافع کے چکر میں ہوتے ہیں مگر اپنے غریب ملازم کو گورنمنٹ کی مقرر کردہ تنخواہ دینے کو تیار نہیں ہے۔حکومت اس سلسلے میں فوری قدم اٹھائے اور ایسی ایک ٹاسک فورس تشکیل دے جو اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔کیونکہ عوام نے تو اپنی ذمہ داریاں 18فروری کو پوری ایمانداری سے نبھا دی ہیں اب بال حکومت کے کورٹ میں ہے۔جب صدرمملکت نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر پاکستان کھپّے کا نعرہ لگایا تھا تو عوام نے سرخم تسلیم کیااور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن جناب آصف علی زرداری صاحب کو بھرپور اعتماد دے کر صدرمملکت بنا دیا۔ اب حکومت کو چاہیے کہ وہ ’’عوام کھپّے‘‘ کا نعرہ لگا کر پاکستان کی غیور اور بہادر عوام کی فلاح کے لیے دن رات ایک کر دے۔ قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ایک خط میں اپنی پیاری بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو لکھاکہ ’’اللہ تعالیٰ کی جنت تمہاری والدہ کے قدموں تلے ہے۔ سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے۔‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus