×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جب کراچی جل رہا تھا!
Dated: 23-Aug-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وطن عزیز میں کوئی ’’کُل سیدھی نہیں‘‘ کے مصداق ہر طرف الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور سارے ہم وطن تماشائیوں کی طرح بس یہ طرفہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ دردِ دل پاکستانی ’’کڑھ‘‘ رہے ہیں۔ پچھلے 3سالوں میں کم از کم پانچ ہزار ہم وطنو کو ہم وطنو کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارنا پڑی۔ سینکڑوں مکانات جلا دیئے گئے،ہزاروں گاڑیاں نذرآتش کر دی گئیں، لاکھوں شہری نقل مکانی کرکے خیبر پی کے بلوچستان اور گلگت بلتستان اور پنجاب، اندرون سندھ جا چکے ہیں۔ کراچی کچھ بے رحم جنونی مجرموں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے، ہر شخص انگلی اٹھا کر اشارہ دے رہا ہے کہ دیکھو کراچی جل رہا ہے اور خود اس شخص کے پائوں نیچے بھی زمین بسم ہو چکی ہوتی ہے۔کبھی ایک شخص بِلا سوچے سمجھے بیان داغ دیتا ہے تو کراچی کا امن امان تباہ ہو جاتا ہے اور 200لاشیں 24گھنٹے میں گِر جاتی ہیں۔ پھر دوسرا گروپ بیان داغ دیتا ہے تو 300لاشیں گرتی ہیں۔ کوئی جوابدہ نہیں ،کسی پر ایف آئی آر نہیں کٹتی، کسی کو پکڑا نہیں جاتا۔ ملک کے وزیر داخلہ خصوصی طیارے پر کراچی اسلام آباد کے درجنوں چکر ہر ہفتے لگاتے ہیں۔ اب تک وزیرداخلہ جتنے دہشت گردوں کی گرفتاری کا عندیہ دے چکے ہیں اس حساب سے تو ملک بھر میں مزید قیدیوں کی جگہ جیلوں میں نہیں بچتی اور جتنے اسلحے کی برآمدگی کا وزیرداخلہ ٹیلی ویژن پر دکھا چکے ہیں اس سب کو اکٹھا کیا جائے تو ہمیں بھارت سے کشمیر جنگ کرنے کے لیے کسی مزید اسلحہ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہر دفعہ خوشخبری دی جاتی ہے کہ حکومت خفیہ ہاتھوں کے قریب پہنچ چکی ہے مگر پتہ نہیں ان چند ہاتھوں نے کونسے سلیمانی دستانے پہن رکھے ہیں کہ وہ ہماری نظروں کے سامنے سے غائب ہیں۔ ان مجرموں نے کونسے طلسماتی جبے پہن رکھے ہیں کہ اٹھارہ کروڑ عوام کو وہ چہرے نظر نہیں آتے۔ جبکہ حکومت ان کے قریب پہنچ جانے کی باتیں کرتے ہیں اور پھر مجرموں کی بجائے عوام آہنی شکنجوں میں پھنسے نظر آتے ہیں اور قانون کے ہاتھ مجرموں کے لیے صرف ’’شیک ہینڈ‘‘ کے لیے رہ گئے ہیں۔ کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں سابقہ دارالخلافہ بھی ہے، جس کی آبادی ایک محتاط اندازے کیمطابق 2کروڑ سے بڑھ چکی ہے۔ کراچی کا دامن ہمیشہ اس ممتا کا سا رہا جس نے اپنے دامن کو اپنے بچوں کے لیے ہمیشہ کھولے رکھا۔ جس نے ہر روزگار کو اپنے دامن میں جگہ دی۔ ملک کے چاروں صوبوں بشمول کشمیر گلگت بلتستان سمیت لاکھوں کی تعداد میں افغان ،ایرانی اور بنگالی، بہاری بھائی بھی کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ اس طرح کراچی ایک ملٹی کلچر، ملٹی لینگوئج شہر میٹروپولیٹن کا روپ دھار چکا ہے۔ جہاں قومیت کے نام پر مذہب و فرقے کے نام پر لسانی بنیادوں پر آگ اور تیل کا کھیل جاری رہتاہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کوئی بھی حربہ کوئی بھی طریقہ اور کوئی بھی گھنائونی سازش کھیل جانا باقاعدہ کھیل کا حصہ متصور کیا جاتا ہے۔ کراچی کے سینے پر مونگ دھلنے والے ان گروپس اور گینگز نے مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے اور جرائم کی آج کی جدید دنیا میں ان مافیا کے چھوٹے بڑے گروپس کے پاس پولیس سے بھی جدید ہتھیار اور ٹرانسپورٹیشن کا نظام ہے۔ مجرموں کے پاس جدید آٹومیٹک اسلحہ اور جدید آٹومیٹک گاڑیاں موجود ہیں جبکہ سندھ اور کراچی پولیس کے اہلکار اپنی گاڑیوں کو دھکا لگاتے نظر آتے ہیں۔ گذشتہ روز صدر مملکت ،وزیر خزانہ سندھ کو جھڑکتے نظر آئے ہیں کہ سندھ پولیس کو فنڈز جاری کیے جائیں۔ اس سے وطن عزیز کے دردِ دل شہری خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب پولیس جیسے حساس ادارے کے فنڈز منجمد ہیں، کسی خاص اشارے اور جازت کے بغیر فنڈز جاری کرنے کی اجازت نہیں ۔ تھانوں میں مافیا نے اپنے مرضی کے تھانیدار متعین کر رکھے ہیں جو اپنے فرائض کی سرانجام دہی کی بجائے اپنے اپنے آقائوں کے لیے ہفتہ وار بھتہ وصولی کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ یہ افسران گرتی ہوئی انسانی لاشوں کے درمیان آنکھیں اور کان بند کرکے اپنے ضمیروں کو تالے لگائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ سندھ کابینہ کے ہر وزیر نے دو چار ایس ایچ او اپنی مرضی کے علاقوں میں تعینات کروا رکھے ہیں جو اپنا کماتے اور وزراء کو کما کر دیتے ہیں، جو ایک ایک تھانے کی باقاعدہ بولی لگتی ہے۔ کراچی کے ہی ایک ایس ایچ او نے راقم کو آفر کی کہ اس کی ڈیوٹی فلاں تھانے میں لگوا دی جائے تو ایک کروڑ روپیہ مہینہ اس کے اکائونٹ میں پہنچا دیا جائے گا باقاعدہ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وزراء اور سینئر ارکان سندھ اسمبلی کی چاندی نہیں بلکہ سونا اگلتے تھانے وہ کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے کراچی کے اندر نہ صرف ذیلی ونگ جیسے لیبر، سٹوڈنٹ، علماء ونگز موجود ہیں۔ اب کراچی میں ہر سیاسی جماعت کا کمانڈو ونگ بھی بن گیا ہے جو اس جماعت کے زعماء کے اشارے پر ہر وقت کسی بھی جگہ کسی بھی علاقے میں ٹریگر پر انگلی رکھے منتظر رہتے ہیں اور ہر جماعت کے پاس ڈیتھ سکواڈ بنے ہوئے ہیں جو ان جماعتوں کے سربراہان کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔ کراچی میں کٹی پہاڑی، قصبہ کالونی ، گلستان جوہر، محمود آباد، لیاری کے علاقے باقاعدہ جنگی زون قررا دیئے جا سکتے ہیں۔ بیروت سے کراچی کو تشبیہ دینا شاید اب ممکن نہیں کیونکہ بیروت کے باسیوں کو تو سمجھ آ چکی ہے مگر کراچی کے باسیوں کو شاید ابھی وقت لگے گا۔ ہمارے پیارے دوستوں کو شاید احساس نہیں کہ وہ جس درخت پر بیٹھے ہیں اس کی ہی شاخیں کاٹ رہے ہیں۔ پھر خدانخواستہ ’’ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘ ہر روز گرنے والی لاشوں کے سوداگر شہیدوں کے جسموں پر کھڑے بولیاں لگا رہے ہیں اور 2011ء میں بھی پاکستان اور کراچی کے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لیکن یاد رکھیے ظلم کی یہ رات کتنی طویل ہو گی اس شب ظلمات کی سحر ہو گی، اس کی صبح طلوع ہونا ہی چاہتی ہے۔ کروڑوں اہل دردِ دل پاکستانی کراچی کے لیے اپنے ہاتھ اٹھا کر رب جلیل سے دعاگو ہیں اور کراچی کے امن کے لیے بے چین ہیں مگر ملک کی سیاسی جماعتوں کا یہ حال ہے کہ ’’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘ ہمیں سب کو ملک بچانے کے لیے کراچی بچانا ہوگا، پولیس کے محکمہ میں اصلاحات لانی ہوں گی۔ پولیس کو سیاست سے پاک کرنا ہوگا۔ وگرنہ یاد رکھیے ہمیں بڑے تلخ تجربات ہیں ماضی کے جب پلٹن گرائونڈ میں ہتھیار ڈالے جا رہے تھے تو وہ داغ قوم کی پیشانی سے اب تک مٹایا نہ جا سکا ہے۔ فوجیں کس لیے ہوتی ہیں ملک بچانے کے لیے یا پھر خدانخواستہ ٹوٹتے ملک کو تماشائی کی طرح دیکھتے رہنے کے لیے۔ پاک فوج کو بھی کراچی کے مسئلہ پر اپنا مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سے پہلے کہ ناپاک دشمن اپنی چالوں میں کامیاب ہو ۔ ہم کراچی کو مزید جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ یاد رکھیے جب ڈھاکہ جل رہا تھا تو ہزاروں سال لڑنے کی بڑھکیں لگائی جا رہی تھیں کہیں ایسا تو نہیں مکار دشمن نے پھر وہی بساط بچھا دی ہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus