×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کراچی اِک مقتل گاہ اور رقصِ قاتل
Dated: 24-Sep-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ٹی وی سکرین پر ایک پریشان حال ماں اپنے کم سن بیٹے کی تلاش میں بے حال پھر رہی ہے۔ آنکھوں میں آنسوئوں کی جھڑیاں لیے بے قرار، بے چین تڑپتی روح کے ساتھ ہر پاس سے گزرنے والے شخص سے اپنے گمشدہ بیٹے کا پوچھتی ہے کہ کہیں آپ نے اس کے بیٹے کو دیکھا تو نہیں؟ یہ واقعہ اور اس جیسے سینکڑوں واقعات اب روشنیوں کے شہر کراچی کے روز مرہ کا قصہ بن گئے ہیں۔ کراچی جو کبھی ’’مائی کلاچی‘‘ کے نام سے پہچانا اور جانا جاتا تھا، امن کا گہوارہ ہوا کرتا تھا، جو اپنے دامن میں چھپے گوہر اپنے باسیوں پر لٹانے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے وقت ملک کے دارالخلافہ کے طور پر چنا گیا مگر دو ہی عشروں کے بعد اسلام آباد کو کچھ ٹیکنیکل اور سیاسی وجوہات اور مصلحتوں کی بنیاد پر دارالخلافہ بنا دیا گیا۔ جب ترقی اور ارتقاء کا عمل شروع ہوا تو اسی شہر کراچی نے ہنرمندوں کے لیے مزدوروں، سرمایہ داروں اور کارخانے داروں کے لیے سب کے لیے اپنے دروازے وا کر دیئے، جس کسی کو کہیں جاب، ملازمت نہ ملتا تھا کراچی اسے اپنے دامن میں جگہ دے دیتا ہے۔ آج بھی پاکستان کے چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت ملک بھر سے لاکھوں لوگ ہجرت کرکے اس شہر کی روشنیوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ کراچی جہاں خیبر پی کے ،بلوچستان، پنجاب سے لاکھوں ملازمت پیشہ اور ہنرمند مزدور لوگ ہی نہیں رہ رہے یہاں اندرون سندھ سے بھی لاکھوں لوگ اپنا مسکن بنا چکے ہیں۔ اسی طرح 1947ء سے پہلے اور بعدازاں لاکھوں مہاجرین ہجرت کرکے آئے۔ ان میں سے بیشتر براستہ پنجاب کراچی پہنچے کیونکہ لٹے پٹے مہاجرین کی پہلی ترجیح ملازمت کا حصول یا حصول روزگار تھا۔ اسی طرح بھارت سے ہجرت کرکے وہ لوگ پنجاب پہنچے مگر پنجاب میں مزدوری کے کم امکانات کی وجہ سے بعدازاں کراچی منتقل ہوئے۔ اس طرح 71ء کی جنگ میں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد لاکھوں کی تعداد میں بنگلہ دیشی اور بہاری بھائی بھی ہجرت کرکے کراچی آ بسے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کے دامن میں لاکھوں بہاری اور ہجرت کرکے ایران سے آنے والے ہزاروں ایرانی کنبے کراچی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس طرح کراچی میں افغانستان میں شورش کے بھی اثرات پڑے اور لاکھوں افغانی باشندے بھی عازم کراچی ہوئے اور آج لاکھوں افغان شہری کراچی میں بسیرا کیے بیٹھے ہیں۔ اس طرح کراچی ملٹی کلچر، ملٹی لینگویجز پر مشتمل شہر دراصل تہذیبوں کا گڑھ بن گیا ہے اور پھر اتنی مختلف ثقافتوں، تہذیبوں اورزبانوں کا یہ شہر رفتہ رفتہ امن کے گہوارہ سے شورش کا پچھواڑہ بن گیا ہے۔ تقریباً پچھلے بیس سالوں میں کراچی کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ناپاک سازشیں بام عروج پر ہیں۔ دنیا بھر کے واقعات اور تاریخ پڑھیں تو ہر ملک کے میٹروپولیٹن شہر مختلف گروپوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ ٹوکیو، جاپان سے لے کر ممبئی بھارت،لندن، پیرس اور نیویارک واشنگٹن اور ایودی جنیرو برازیل میں بسے ان جیسے شہروں میں عدم تحفظ پایا جاتاہے۔ دراصل مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے لوگ جب ایک گروپ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو پھر وہ کاروبار بزنس اور دیگر اداروں پر قبضہ کر لینے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ اس طرح آج بھی امریکہ،برطانیہ، روس اور مغرب میں یورپی ملکوں میں مافیا تنظیمیں ایک آرگنائز کرائمز کی صورت میں موجود ہیں اور ان کے یہ گینگ بعد ازاں چھوٹے موٹے وارگینگز کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ جن کو اکثر بیشتر سیاسی و سماجی اور کاروباری اداروں کی بھی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ افغانستان میں روس کی شکست کے بعد جب لاکھوں مجاہدین بے روزگار ہوئے تو ایسے کئی گینگ خیبر پی کی ،پنجاب ،کوئٹہ اورکراچی میں بھی متحرک ہو گئے۔ ضیاء الحق کے دور حکومت میں کلاشن کوف اور ہیروئن کا نشہ متعارف ہوئے اور اسی طرح عشروں سے رہنے والے اردو اسپیکنگ دوست پھر سے مہاجر کا لیبل اور ٹریڈ مارک لگا کر وہ لوگ بھی مہاجر کہلانے لگے جو پاکستان میں پیدا ہوئے۔ اور کلاشن کوف ہیروئن کے بعد اس آمرانہ دور کا تیسرا بڑا تحفہ لسانی بنیادوں پر قائم متحدہ قومی موومنٹ جو پہلے مہاجر قومی موومنٹ تھی جس کی دیکھا دیکھی کراچی میں بسنے والے پنجابیوں نے بھی ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘کے سلوگن سے پنجابی اتحاد بنا لیا جو بعدازاں کراچی میں بسنے والے لاکھوں پختونوں کے ساتھ مل کر پنجابی پختون اتحاد کے نام سے سکہ جماتا رہا۔ آج بھی پیپلزپارٹی والے اے این پی، ایم کیو ایم اور سنی تحریک کراچی پر قبضہ کی خواہش کا کبھی برملا کبھی اشارے کنائیوں میں اظہار کرتے ہیں۔ دراصل کراچی پاکستان کا تجارتی حب ہے اور یورپی معیشت کا دارومدار کراچی کی پورٹ سے وابستہ ہے۔ 90ء کی دہائی کے بعد کراچی کو کبھی بھی امن نصیب نہیں ہوا۔ 91ء اور92ء کے آپریشن کراچی میں سینکڑوں لاشیں گرانے کے بعد یہ سمجھ لیا گیا کہ کراچی فتح کر لیا گیا ہے۔ پھر پیپلزپارٹی کے دوسرے دور حکومت میں جنرل نصیراللہ بابر کے دور میں کیا جانے والا آپریشن بھی اپنے پیچھے ان گنت سوال چھوڑ گیا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے اور یہ اب بھی ایک سوال ہے کہ اگر ایم کیو ایم دہشت گرد تنظیم ہے تو پھر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اپنے اپنے مفادات کی خاطر ہر وقت ایم کیو ایم کی قیادت کو مناتے کیوں رہتے ہیں؟ ہر روز درجنوں لاشیں گرتی ہیں اور کراچی کو اب کبھی بیروت اور کبھی صومالیہ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میٹروپولیٹن شہروں میں روزانہ درجنوں لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں مگر مذہبوں، زبانوں اور کلچرکی بنیاد پر قتل نہیں ہوتے۔ کراچی میں کبھی سانحہ 12مئی رونما ہوتا ہے، کبھی 18اکتوبر کا سانحہ کارساز اور کبھی کٹی پہاڑی، کبھی کورنگی ،کبھی لیاری کے وار لارڈز دندناتے پھر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم، اے این پی پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ کراچی میں طالبانائزیشن کو مضبوط کر رہی ہے جبکہ یہی طالبان خیبر پی کے میں اے این پی کے سخت حریف ہیں۔ کبھی اے این پی ،ایم کیو ایم پر الزام دھرتے ہیں کہ اسے انڈیا کی حمایت حاصل ہے۔ مگر ہر دو صورتوں میں ہر روز سینکڑوں ہلاکتیں اور ہزاروں گاڑیوں کا جلایا جانا کبھی ایم کیو ایم کے کسی راہنما کے بیان پر،کبھی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی ’’بُونگیوں‘‘ کی سزا غریب اہل شہر کو دی جاتی ہیں۔ روزانہ سینکڑوںزندگیوں کے چراغ گُل کر دیئے جاتے ہیں۔ اس بیان بازی کے نتیجہ میں چند درجن لاشوں کا سڑک پر گرنا ،گاڑیوں میں زندہ جل جانا کیا اس کو ’’ٹول ریٹ‘‘کیا جا سکتاہے ،کیا اقتدار کے ٹھیکے داروں کے لیے یہ سب ایک کھیل تماشا ہے؟ کراچی کی سڑکوں پر لہوئوں کے داغ، گولیوں کی سنسناہٹ کیا یہ سب رقص قاتل نہیں تو کیا ہے؟ ہمارے سیاسی زعماء کو احتیاط برتنی چاہیے ایک طرف درجنوں لاشیں گر جاتی ہیں پھر ایک صاحب اٹھتے ہیں چند الفاظ معافی و معذرت کے ادا کیے جاتے ہیں پھر چند روز بعد معافی کا روزہ توڑ کر پھرایک بیان داغ دیتے ہیں،پھر رقص قاتلان شروع ہوتا ہے۔ بستیاں جلا دی جاتی ہے ،مارکیٹیں بھسم ہو جاتی ہیں، بسیں ویگنیں خاکستر ہو جاتی ہیں۔ سڑکوں پر انسانی لاشے کسی ویران شہر میں مردہ جانوروں کی صورت پڑے نظر آتے ہیں۔ یہ میرے کراچی کو کس کی نظر لگ گئی ہے کیا اہل کراچی کو قاتلوں کی پہچان نہیں ہو پا رہی، ابھی کتنے لاشے اور اٹھیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus