×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا آپ کو بھی بُوٹوں کی دھمک سنائی دے رہی ہے؟
Dated: 03-Sep-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جمہوریت اپنی بدترین شکل میں بھی خوبصورت آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ یہ بات ہر ذی ہوش انسان سمجھتا ہے، جانتا ہے۔ آج کی جدید دنیا میں جمہوریت ایک فیشن کے طور پر پوری دنیا میں پہچانی جاتی ہے۔ خصوصاً مغربی طرز جمہوریت جو کہ نہ صرف مغرب زدہ ہے بلکہ کسی حد تک مذاہب سے متصادم بھی ہے۔ مگر اس کے باوجود ہماری سیاست کی ابتداء جمہوریت کی ملاوٹ کے بغیر ممکن نہیں۔ یقینا جدید دور کے تقاضوں میں سے جمہوریت ایک خوبصورت تقاضا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج مغربی ممالک میں جب مذاہب کو امور سلطنت سے دور کر دیا گیا تو پھر ایک ایسے نظام کی ضرورت پڑی جو لوگ چلا سکیں، لہٰذا اسی لیے کہا گیا کہ جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گِنا کرتے ہیں تُولا نہیں کرتے۔اسی دلفریب جمہوریت کا کرشمہ تھا کہ ہم نے قیام پاکستان جو دراصل اسلام کی اساس پر تھا دو قومی نظریہ جس کی بنیاد تھی، حاصل کرکے اپنا رخ جمہوریت کی طرف موڑ لیا اور یہی وجہ ہے کہ آج ہماری حالات آدھا تیتر آدھا بٹیر کی سی ہے۔ پاکستان میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سوشلزم کے ساتھ ساتھ جمہوریت کو بھی روشناس کرایا اور اپنی شہادت کے دن تک شہید بھٹو کو پتہ نہ چل سکا کہ اس ملک کے عوام کو کونسا خالص نظام چاہیے تھا۔ 1958ء میں سکندر مرزا نے پہلا مارشل لاء متعارف کروایا پھر ایوب خان مرحوم ایک عشرے تک اس عوام کے اوپر بلدیاتی نظام کے سہارے چلتے رہے اور جب گلی محلوں میں (کُتّا کُتّا) ہونے لگی تو خودساختہ فیلڈ مارشل نے زمامِ اقتدار اپنے ایک اور جرنیل یحییٰ خان کے سپرد کی اور گوشہ نشین ہو گیا۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء نے جسم پاکستان کو دولخت کر دیا اور پلٹن کے میدان میں 90ہزار جنگی قیدی ہمارے فوجی بھائی اپنے ماتھے سے آج تک اس شرمندگی کا داغ نہیں مٹا سکے۔ پھر ضیاء الحق نے 4اور 5جولائی کی درمیانی شب جو مارشل لاء لگایا تو بھٹو اور پی این اے کے درمیان مفاہمت کا فارمولا طے پا چکا تھا مگر غیرملکی آقائوں کے اشارے پر ہماری اس وقت کی فوجی قیادت نے مفاہمت اور جمہوریت کو اپنے پائوں تلے روند کر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے سے لٹکا دیا اور پھر اسلامی نظام کے لارے لپے پر قوم کو ساڑھے گیارہ سال تک بے وقوف بنایا گیا۔ اس دوران کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن کی بلا سے پاکستان کیا بچتا کہ 40لاکھ افغان مہاجرین بمعہ اپنے ٹرک ،بکریاں اور منشیات ہماری رگوں میں خون کی طرح پھیل گئے۔ پھر جمہوریت کا (Come Back)ہوا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بن کر بھٹو کا اثاثہ ہاتھوں میں تھامے اقتدار میں واپس آئی مگر صرف اٹھارہ ماہ کے مختصر عرصے میں جمہوریت کی لپیٹ ان شکاری بیوروکریٹس نے پھر لپیٹ دی، جس کے منہ کو مارشل لاء کی شراب لگ چکی تھی ۔پھر 12اکتوبر1999ء کے دن تک چار دفعہ قلیل عرصے میں جمہوریت کو کبھی پٹری سے اتارا جاتا ،کبھی پٹری جمہوریت کی گاڑی کے تلے سے کھینچ لی جاتی رہی۔ اس دوران سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی سازشوں اور مذموم ارادوں کی بدولت ہمیشہ جمہوریت کے سر پر لٹکتی تلوار کی طرح لہراتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اداروں کو اپنے اپنے پروفیشنل جاب چھوڑ کر کارگل جیسے کئی کارہائے نمایاں سرانجام دینے پڑے۔ اور پھر جمہوریت کے نام پر آمر جنرل مشرف نے وہ کھیل کھیلنا شروع کر دیا کہ آج ہمارے تلے نہ زمین ہے نہ آسمان۔ یوں نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم جیسا حال وطن عزیز کا ہوا۔ آمر مشرف نے احتساب کے نام پر جو سکرپٹ لکھا اس میں ہیروز کے روپ میں تمام ان کرداروں کو ساتھ ملا لیا گیا جن کے ہاتھ ہی نہیں منہ اور ٹانگیں بھی کرپشن کی دلدل میں پھنسی ہوئی تھی۔ وطن عزیز کی اصل عوامی طاقت کے دونوں سربراہ مسلم لیگ ن کے میاں نوازشریف ،شہبازشریف زبردستی جلاوطنی کیے گئے جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بمشکل جان بچا کر جلاوطنی پر مجبور کی گئی۔اور پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو 18اکتوبر 2007ء تک تقریباً آٹھ سال بحالت مجبوری جلاوطنی کے عذاب کو سہتی رہیں(راقم اس پورے عرصے میں ان کے ساتھ جلاوطنی میں موجود رہا) پھر این آر او کسی طوق کی مانند سیاست دانوں کے گلے میں ڈال دیا گیا اور پھر ایک چالبازی سے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی اسی شہرمیں جہاں ان کے باپ کو پھانسی دی گئی تھی، شہید کر دیا گیا۔ بعدازاں پیپلزپارٹی سادہ اکثریت سے الیکشن جیتی اور پورے پاکستان کی چھوٹی چھوٹی اقتدار زدہ پارٹیوں کہنا مناسب نہ ہو گا گروپس کو ساتھ ملا کر زمامِ اقتدار تھام کر لُولی لنگڑی حکومت ہی نہیں بیساکھی اور زخموں سے چُور چُور جمہوریت لے کر چل رہے ہیں۔ان گذشتہ تمام ادوار کی تصویر کشی کی جائے تو یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ سکندر مرزا سے لے کر مشرف تک تمام آمروں نے اقتدار کی دیوی کو جب چاہا بُوٹ کی نوک پر رکھ لیا اس میں کوئی شک نہیں کہ کبھی کسی آمر کو ایک پارٹی یا طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کی حمایت حاصل تھی تو کبھی دوسرے طبقہ فکر کی، کبھی لیًفٹ والوں کی حکومت گئی تو رائیٹ والوں نے مٹھائی بانٹی ،کبھی رائیٹ والوں کی حکومت گئی تو لیفٹ والوں نے مٹھائیاں بانٹیں۔ مگر اس مثال کے مصداق کہ ’’چُھری خربوزے پر گِرے یا خربوزہ چُھری پر مزا ہمیشہ چُھری کو آتا ہے‘‘فائدہ ہمیشہ دشمنانانِ جمہوریت کو ہوا۔ سیاست دانوں نے کبھی ایم آر ڈی بنائی ،کبھی اے آر ڈی، کبھی میثاق جمہوریت، کبھی این آر او مگریہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ یہ ملک کبھی بھی سیاست دانوں سے سنبھالا نہ جا سکا۔ جو بھی آیا اس نے آج لوٹ لو کل شاید موقع نہ ملے کے مصداق اس وطن عزیز کو جی بھر کر لوٹا۔ پچھلے 64سالوں میں جو تیس سال سیاست دانوں کو ملے تو سب نے ہی کسریں نکال لی۔ آج ہمارے سیاست دانوں کی ملیں ،فیکٹریاں ،کارخانے اور شاپنگ مال بھارت، کینیا، سعودی عرب، سپین، فرانس، برطانیہ میں ہیں۔ امریکہ ،کینیڈا میں ہمارے وطن عزیز سے چرائے ہوئے اربوں ڈالرز کے اثاثوں سے ہمارے سیاست دانوں نے جائیدادیں خریدی ہیں۔ یقینا اس بہتی گنگا میں جرنیلوں نے بھی ہاتھ دھوئے ہیں اور آج ہمارے عسکری زعماء کو یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنی ہو گی کہ شاید پھر کبھی ان کے پاس ایسا موقع نہ آئے اس سے پہلے کے بانس اور بانسری دونوں ناپید ہو جائیں ہمیں وطن عزیز کوبچانا ہے۔ کراچی کے گذشتہ ہفتوں میں ہونے والے حالات ہمارے اخوت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ہزاروں لاشیں کراچی میں گھری ہیں کہ کفن اور تابوت بنانے والی فیکٹریاں ہی صرف مال بنا رہی ہیں جبکہ دیگر 80فیصد ہماری انڈسٹری بند مشینیں زنگ آلود ہو چکی ہیں۔ یا پھر کراچی میں پنجابیوں کی ملوں کو سندھی اور مہاجر دونوں ہی جلا رہے ہیں۔ پنجابی سندھیوں، مہاجروں اورپٹھانوں کی لڑائی میں ’’سینڈوچ‘‘ بن کر رہ گئے ہیں اور مجھے میرے دورئہ امریکہ،کینیڈ اور یورپ میں متعدد اہل فکر دوستوںپارٹی جیالوں اور بھٹوز کے ،محترمہ بے نظیر کے ساتھیوں ،شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے متوالوں سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ وہ سب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے وزیر داخلہ اور صوبائی لیڈرشپ سندھ حکومت کی ایم کیو ایم کے ساتھ جپھیاں ڈال رہے ہیں، قہقہے لگائے جا رہے ہیں۔ ملک میں بجلی، گیس، پانی، کھاد، ادویات اور اشیائے خورونوش ناپید ہیں۔ پورا رمضان لوڈشیڈنگ کا عذاب اور خوف ہمارے ذہنوں پر مسلط رہا۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں قوم نے بھوک کا روزہ تو رکھا ہی اسے اپنے حقوق کا روزہ افطار کرنے کا کبھی موقع نہ ملا۔ آج ملک کے حالات یہ ہیں کہ ہر طرف آگ لگی ہے ہزاروں جانیں لقمۂ اجل بن گئی ہیں۔ لاکھوں مکانات تباہ کر دیئے گئے۔ ہزاروں گاڑیوں کو جلا دیا گیا ہے۔ پورا ملک زمین پر مافیا اور گینگ وارز کے نرغے میں ہے ۔ تو رہتی سہتی کسر خودکش بمبار پوری کر دیتے ہیں اور جو ان سے بھی بچ جائے اسے ڈارون حملے میں مار دیا جاتاہے۔ ملک بھر کی اشرافیہ، ملایشیا، سنگاپور، بنگلہ دیش، دوبئی، امریکہ اور کینیڈا بھاگ کر جا چکی ہے جو ابھی ادھر ہیں وہ بس سامان باندھ رہے ہیں اور جو پیچھے رہ جائیں گے وہ مجبور لاچار ہوں گے جو اپنی طرف بڑھتے بھیڑیوں کو تو آتا دیکھ سکیں گے مگر خود کو بھیڑیوں کو نوچنے سے بچا نہ سکیں گے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کہہ رہے ہیں فوج کو بلایا گیا تو وہ ملک کے دفاع کے لیے حاضر ہے۔ وزیراعظم اپنے اتحادیوں کو چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں بلکہ دھمکا رہے ہیں کہ ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر تیسری قوت کو آنے سے کوئی روک نہ سکے گا۔ مگر کیا وزیراعظم محترم بتانا پسند کریں گے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے خون کے نام پر، جمہوریت کے نام پر وہ اور ان کے رفقاء جو دوکانداریاں لگائے بیٹھے ہیں کیا اس کو کوئی دیکھ نہیں رہا۔ کیا فائلیں بننا بند ہو گیا ہوا ہے۔ جناب وزیراعظم صاحب بس اب وقت نزاع آن پہنچا ہے۔ آپ کی اولادیں تو شاید امریکہ، برطانیہ، کینیڈا میں آپ کی لوٹی ہوئی دولت سے عیاشیاں کریں گے مگر اب قومی مجرموں کو بھاگنے نہ دیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے جیالے اب انہیں نظرانداز کیے جانے والوں کی خاطر کوڑھے نہیں کھائیں گے۔اب کوئی جیالا خودسوزی نہیں کرے گا بلکہ وہ لوٹنے والوں پر تیل ڈالنے والوں میں شامل ہوں گے۔ مجھے یہاں اوورسیز میں روزانہ دوست مل رہے ہیں جو وطن عزیز کے لیے پریشان ہیں کل ’’ملک‘‘ صاحب کہہ رہے تھے کہ وڑائچ صاحب آپ حکومت کا دفاع کیوں کر رہے ہو؟ کیا آپ کو بُوٹوں کی دھمک سنائی نہیں دے رہی؟ اور یہ کہ فوج کو نہ کوئی پہلے روک سکا ہے نہ کوئی آئندہ روک سکے گا۔ آرٹیکل "6"پہلے بھی تھا آج بھی ہے۔ آج اگر فوج کراچی کو بچانے ،پاکستان کو بچانے ،عدلیہ کو بچانے نہ آئی تو پھر قوم کبھی فوج کی ضرورت محسوس ہی نہ کرے گی اور فوج بھی سب جل جانے کا انتظار نہ کرے گی۔ اگر گھر ہی جل گیا ، نشیمن ہی جل گیا تو پھر باغبان کا کیا فائدہ؟ملک صاحب کی یہ باتیں سن کر میں جمہوریت پسند کارکن پریشان ہو گیا اور سوچ رہا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ملک صاحب کی زبان اٹھارہ کروڑ عوام کی زبان تو نہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ واقعی سب کو سنائی دی جانے والی بُوٹوں کی آوازیں میری سماعت کیوں نہیں سُن رہی۔ شاید یہ میری بھٹوز سے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ، آصف بھائی کے ساتھ پاگل پن کی حد تک لگن ،محبت کا اثر ہے جو سب دیکھ رہے وہ میں کیوں نہیں دیکھ رہا؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus