×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی بچھوئوں سے جان چھڑایئے ایک جیالے کا صدر مملکت کے نام کھلا خط
Dated: 07-Sep-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک تقریب میں چین کے وزیراعظم چواین لائی اور روس کے صدر خردشچیف اکٹھے ہوئے تو خرد شچیف نے اپنی برتری اور چواین لائی کو نیچا دکھانے کے لیے کہا۔ مسٹر چواین لائی آپ چین کے انتہائی امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور میں روس کے انتہائی غریب طبقے سے۔ خرد شچیف کی طنز پر چواین لائی نے جواب دیا کہ مسٹر خردشچیف ایک بات ہم دونوں میں قدرے مشترک ہے۔ خرد شچیف نے پوچھا وہ کونسی؟ چواین لائی نے جواب دیا کہ ہم دونوں نے اپنے اپنے طبقوں کو خوب بے وقوف اور’’اُلو‘‘ بنایا ہے۔ کچھ اسی طرح وطن عزیزمیں بھی کبھی عوام کو جمہوریت کے ہاتھوں، کبھی آمریت کے ہاتھوں، کبھی مذہب ،کبھی سوشلزم کے نام پر عوام کو دھوکے دیئے گئے۔گذشتہ تین برسوں سے زائد عرصہ میں صدر مملکت و شریک چیئرمین نے درجنوں دوستوں ساتھیوں کو وزارتوں، سفارتوں اور سفارشوں سے نوازا۔میں بڑے وثوق اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر سانحہ راولپنڈی نہ ہوا ہوتا، محترمہ بینظیر بھٹو اس حادثے میں شہید نہ ہوئی ہوتیں اور الیکشن 2008ء محترمہ کی قیادت میں لڑے جاتے تو یقینا نتائج مختلف ہوتے اور پھر اقتدار سنبھال کر شہید محترمہ کی جو کابینہ تشکیل پاتی۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں اس موجودہ کابینہ میں موجود وزراء میں سے صرف چند ایک ہی جگہ بنا پاتے؟چونکہ شہید محترمہ خوب جانتی تھیں کہ کن کن کارکنوں نے لیڈروں کی اے کلاس بی کلاس میں سے وہ کونسے دوست ہیں جنہوں نے کوئی مثبت کردار ادا کیا ہے؟ اور پھر اسی تناسب سے وہ پارٹی کے لیڈروں اور جیالوں کو آکوموڈیٹ کرتیں۔ مگر 27دسمبر کے بعد حالات جس تیزی سے بدلے اس کا تصور بھی اتنا شدید ہے کہ آج پیپلزپارٹی میں کارکنوں،جیالوں اور محترمہ کے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد خاموش کرا دی گئی ہے۔ جو اندر بیٹھے ہیں وہ بحالت مجبوری تصویریں کھنچوا لیتے ہیں۔ پارٹی کے کچھ ساتھیوں کو محترمہ ناہید خان صاحبہ سے شکایت رہی(راقم بھی ان میں شامل ہے) مگر محترمہ ناہید خان صاحبہ سے بات تو کی جا سکتی تھی۔ آج تقریبا ایک درجن ناہید خائیں اقتدار کے دونوں ایوانوں میں براجمان ہیں اور صدر مملکت اور وزیراعظم تک اک عام جیالے کی رسائی تو درکنار وہاں وزیروں کی، مشیروں کی ’’پگھڑیاں‘‘اچھالی جاتی ہیں مگر عنایات کے صدقے ملنے والی وزارت کو چھوڑتاکوئی نہیں، بلکہ مضبوطی سے اقتدار کی رسی کو تھامے گالیاں سنتے اور مسکراتے ہوئے، ان چہروں سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں؟ آنے والے دنوں میں جب پیپلزپارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے تو اپوزیشن کے اس دور میں کیاموجودہ وزراء کی فوج ظفر موج اور آج ایوانِ صدر اور پرائم منسٹر ہائوس میں ڈھیرے جمائے یہ سیاسی بچھو کیا نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو کو دستیاب ہوں گے؟ میرے اپنے خیال اور تجربے کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح یہ اقتدار کے سنگھاسن سے چمٹے ’’بچھو‘‘ اس وقت کے صاحبِ اقتدار کے قدموں پر نچھاور ہوں گے کہ یہ اقتدار زدہ طبقہ اس وقت کے حاکم کے دربار میں قصیدے پڑھ رہے ہوں گے اور بلاول بھٹو زرداری کی نگاہیں اپنے نانا شہید اور شہید ماں کے جانثاروں کو تلاش کرتی ہوئی نظر آئیں گئیں اوراگر کوئی جیالا یا لیڈر اس وقت کے حالات کے تھپیڑے کھا کر بھی زندہ سلامت مل گیا تو وہ حالات کی ستم ظریفی سے اتنا لاغر ہو گیا ہوگا کہ شاید وہ جوان چیئرمین کی خواہش پر جمپ لگانے کی پوزیشن میں نہ ہو؟ صدر مملکت ’’زبان خلق نقارہ خدا ہوتی ہے‘‘ اور نقارہ خدا بج رہا ہے۔ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ شریک چیئرمین صاحب آپ کے اردگرد یہ ماس نوچنے والے بچھو کرپشن کے وہ بازار گرم کیے بیٹھے ہیں کہ ملک بھر میں اتنے گاہکوں میں اب سکت نہیں جتنی اسلام آباد میں دوکانیں کھل چکی ہیں۔ صدر مملکت صاحب افسانے اور افواہیں گرم ہیں مگر دھواں وہیں سے اٹھنا ہے جہاں تھوڑی بہت آگ لگی ہو؟ ملک اور ملک سے باہر اوورسیز لندن، زیورخ، ٹورنٹو، نیویارک جہاں بھی گیا جونسی محفل میں گئے۔ پاکستان میں کرپشن کی داستانوں کے تذکرے موضوع بحث رہے۔ صدر مملکت یہی وجہ ہے کہ آپ کے اطراف لوگوں کو آج یہ باتیں سننے کے لیے وقت نہیں ہے یہ لوگ تو دیہاڑی لگا رہے ہیں۔ آج آپ کے ساتھ توکل کسی اور کے ساتھ، نہ بھی لگا سکے تو اپنے اربوں کے اثاثوں کے ساتھ یہ نگر چھوڑ کر کسی اور دیش سدھاریں گے۔صدر مملکت مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب احتساب عدالت راولپنڈی میں آج کے موجودہ وزیراعظم صاحب کو عدالت سزا سنانے لگی تو وزیراعظم صاحب کا ایک ہاتھ آپ نے پکڑا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ میں نے پکڑ کر یوسف رضا گیلانی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا اورآپ نے وہاں یہ تاریخی کلمات ادا کیے تھے کہ ’’جج صاحب جس شخص کو آپ نے یہ سزا سنائی ہے ایک دن یہ شخص اس ملک کا سربراہ بنے گا۔‘‘ صدر مملکت صاحب ۔ قدرت اور آپ نے تو یوسف رضا گیلانی سے کیا ہوا وعدہ نبھا دیا۔مگر کیا ایوان وزیراعظم میں بیٹھ کر یوسف رضا گیلانی صاحب نے عوام سے، کارکنوں سے، جیالوں سے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے کیے ہوئے وعدوں کی لاج رکھی ہے؟کیا شہیدوں کی پارٹی کے منشور ’’روٹی،کپڑا، مکان،چادر اور چاردیواری، تعلیم ،صحت اور بنیادی سہولیات‘‘ اٹھارہ کروڑ عوام میں سے آدھوں کو بھی میسر ہیں؟اگر نہیں تو پھر اٹلی ،فرانس کے جوڑے پہن کر آرمینی کی ٹائیاں لگانا آپ کو زیب دیتا ہے؟ وزیروں مشیروں کی تو بات طے ہے ہی مگر گریڈ17سے لے کر22ویں گریڈ تک کیا ہر پوسٹ Paid Postنہیں بن چکی۔ عدلیہ سے اختلافات اپنی جگہ شاید کچھ ادھر سے بھی توازن نہ ہو مگر کیا عدالتی فیصلوں پر احترام بجا لانا وزیراعظم کے استحقاق کو متاثر کر تا ہے؟ میری صدر مملکت سے یہ کھلی گزارش ہے کہ خدارہ یہ مت بھولیے کہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے آپ کے منکر نکیر علیحدہ ہوں گے، آپ کو نہ صرف اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا بلکہ آپ کے نام پر کی جانی والی اس کھلی لوٹ مار کا بھی حساب دینا ہوگا۔ آج کرپشن کے قصے پھر عام ہیں۔ وزیر جیلوں میں بندہیں۔ کرپشن کی تلواریں ہاتھ میں لے کر وزیراعظم کے کئی ساتھی اقتدار کے ’’گُڑ‘‘ پر بھنبھنااور منڈلا رہے ہیں، جنہیں کبھی کبھی ملک کی اعلیٰ عدالتیں قانون کی چھڑی سے بھگا دیتی ہیں مگر یہ سب کیا ہے؟صدر مملکت خدارہ اپنے عوام میں واپس آیئے کل ایک ناہید خاں نے محترمہ شہید کو یرغمال بنایا ہوا تھا تو آج درجنوں وہی کردار آپ کے اردگرد آپ کو شکنجے میں لیے ہوئے ہیں۔ جیالوں کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔ عوام اپنے مسیحا کو اغیار کے حصار میں نہیں دیکھ سکتے۔ آج ایک ذوالفقار مرزا بولا ہے کل کہیں ایسا نہ ہو بلاول بھٹو زرداری ہی بول پڑے کہ میری ماں کے پاکستان کے جسم سے خون نچوڑنے والے ان سیاسی بچھوئوں سے نجات ضروری ہے۔ اس وطن عزیز کے اٹھارہ کروڑ عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔ پانی، بجلی ، آٹا، چاول، چینی کے ستائے ہوئے لوگ جب مل کر احتساب کے لیے اکٹھے ہو کر سڑکوں پر نکل آئے تو پھر انصاف کی آنکھوں میں بندھی پٹی کی وجہ سے کرنے والا اور دیکھنے والا دونوں پھنسے گے اور جوابدہ ہوں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus