×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا استحکامِ پاکستان کو شدید خطرات لاحق ہیں؟
Dated: 14-Sep-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سقوطِ مشرقی پاکستان دراصل ہمارے ذہنوں اور ہماری تاریخ پر وہ انمٹ نقوش چھوڑ گیا ہے کہ جس کے آسیب سے اب جانا چھڑانا آسان نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح ایک بچہ ڈارئونا خواب دیکھ لیتا ہے۔ اسی طرح وہ خواب پھر بچے کے ذہن پر سوار ہو جاتا ہے اور پھر کبھی کبھی یہ اعصابی کمزوری بن جاتا ہے۔ اسی طرح قیام پاکستان کے صرف چوبیس سال بعد سقوط ڈھاکہ کا سانحہ رونما ہو جانا دراصل نوزائیدہ مملکت کے باسیوں کے لیے بہت تکلیف دہ عمل تھا اور شاید یہ اسی اعصابی بیماری کی وجہ ہے کہ پھر اس کے بعد جب کبھی بھی وطن عزیز پر کبھی کڑا وقت آیا تو ہم نے بچے کے ڈرائونے خواب کی طرح چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ پاکستان کے موجودہ حالات کو ہم کچھ مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں جس میں پہلا زاویہ علاقائی اور جغرافیائی عوامل ہیں۔ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا مگر یہاں موجود قومیتوں کو لسانی بنیادوں پر بھی آباد کیا گیا۔سندھ میں حیدرآباد اور کراچی میں اردو بولنے والے ان لوگوں کی سادہ اکثریت آباد ہے۔ جن کے آبائواجداد تقسیم ہندوستان کے وقت وہاں سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوتے چلے گئے۔ اسی طرح اندرون سندھ پنجابی آباد کاروں کی ایک بڑی تعداد پچھلی کئی پشتوں سے آباد ہے جس کو نظرانداز کرنا مشکل ہے اور پھر قیام پاکستان سے قبل کراچی میں پنجایبوں، بلوچوں، پختونوں کی آبادی کو نظرانداز کرکے صرف اردو بولنے والے کسی نئے صوبے یا علیحدگی کا احمقانہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اسی طرح موجودہ مردم شماری کے مطابق سندھ میں پچاس فیصد سے بھی زائد آبادکار موجود ہیں مگر وہاں کے وڈیرے کبھی جسقم ،کبھی جئے سندھ کے نام پر اپنی ڈرائینگ روم سیاست چمکاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح خیبر پی کے میں اے این پی اور فاٹا کے قومی دھارے میں شامل ہو جانے کے بعد علیحدگی کے تقریباً تمام جراثیم ختم ہو گئے ہیں، رہتی سہتی کسر ہزارہ صوبے کی ڈیمانڈ نے پوری کر دی ہے۔ اسی طرح کشمیر جو کہ اپنی موجودہ منقسم حیثیت میں پاکستان کو چھوڑ کر بھارت کے ساتھ الحاق نہیں کر سکتا اور پھر گلگت بلتستان کا نیا صوبہ تشکیل پا جانے کے بعد گلگت بلتستان اور کشمیر دونوں کے پاس علیحدگی کے آپشن تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ لہٰذا مستقبل قریب میں کشمیر اور بلتستان گلگت کو قومی دھارے میں شامل ہونا پڑے گا۔ یہاں تک بات بلوچستان کی ہے وہاں سرداروں اور نوابوں نے جب وہ حکومت میں شامل ہوں تو انہیں حقوق بلوچستان نظر نہیں آتے مگر جیسے ہی نواب اکبر بگٹی اور پلیجو اور مری قبائل حکومتوں میں شامل ہوں وفاقی وزارتیں گورنر شپ اور وزارت اعلیٰ کے دوران یہی سردار اپنے اپنے حلقوں تک میں پرائمری سکولز تک نہیں بننے دیتے۔ جیسے ہی اقتدار سے علیحدہ ہوتے ہیں تو پھر پاکستان دشمن قوتوں سے نہ صرف مل کر سازشیں تیار کرتے ہیں اور چندسو افراد پہاڑوں پہ چلے جاتے ہیں صرف ساٹھ ستر لاکھ آبادی کا صوبہ جو رقبے کے لحاظ سے دیگر تمام صوبوں سے بڑا ہے، جہاں دیگر آبادکاروں کے بغیر کاروبارِ زندگی چلانا تک آسان نہیں حتیٰ کہ درزی اور حجام تک دیگر صوبوں سے بلوائے گئے ہوں اور پھر پختونوں کی آبادی وہاں پر نصف نصف ہو وہاں علیحدگی کا نعرہ لگانا دیوانے کی بڑ سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ وہاں علیحدگی کی نام نہادتحریکیں دراصل اقتدار سے محروم سرداروں اور نوابوں کے پریشر گروپس کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں پاکستان سے علیحدگی کی کوئی تحریک ہمارے علم ہیں نہیں۔ البتہ سنٹرل پنجاب سے زخم خوردہ کچھ سیاسی جماعتیں یا پھر چند افراد جو بلدیاتی الیکشن میں کونسلر کی سیٹ بھی نہیں جیت سکتے، اپنی سیاست چمکانے کے چکر میں محض نئے صوبے بنانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں اور پھر بھارتی مشرقی پنجاب کے بغیر کسی بھی گریٹر پنجاب کا نعرہ پنجاب کے عوام سننے کو تیار نہیں۔ان حالات میں پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول کشمیر و گلگت بلتستان کے علاقائی جغرافیائی اور معاشی مسائل اس وقت کے حالات میں کچھ اتنے حد تک خطرناک نہیں جتنے کہ پیچیدہ ہیں۔ کچھ لوگ بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھ کر شاید بوکھلا گئے ہوں۔ اس میں گذشتہ چند برسوں سے ہونے والے معاشی بحرانوں کا بھی اثر ہے۔ خاص طور پر گرتی ہوئی امریکن معیشت کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگ تذبذب کا شکار ہیں۔ دنیا کا کونسا ایسا ملک ہے جہاں پر چھوٹی بڑی علیحدگی کی تنظیمیں متحرک نہیں۔ یورپ میں، سپین میں علیحدگی کی مسلح تنظیم موجود ہے۔ جس کو بارسلونا کے علیحدگی پسندوں کا نام دیا گیا ہے۔ اٹلی کے نارتھ میں میلان سے ملاحقہ صوبہ Sud Ti Rool اور پھر سائوتھ اٹلی میں سسلی میں علیحدگی کی تنظیمیں مسلح جدوجہد کر رہی ہیں۔ جبکہ سوئٹزرلینڈر میں صوبہ "Jura"کے لوگ کتنے عرصے میں علیحدگی چاہتے ہیں۔ اسی طرح سے فلپائن اور تھائی لینڈ کے مسلمان بھی کم و بیش پچھلے پچاس سالوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ سویڈن اور ڈنمارک کے درمیان ایسی تحریکیں موجود ہیں اور ناروے میں تو مسلح تحریک موجود ہے۔ کینیڈا میں "Quebec"کے صوبہ کے فرنچ بولنے والے لوگ پچھلے ریفرنڈم میں صرف چند ہزار ووٹوں کی کمی کی وجہ سے علیحدہ ملک نہ بنا سکے۔ یہ لوگ مالیڑیال کو اپنا دارالخلافہ بنانا چاہتے تھے۔ اسی طرح امریکہ میں سائوتھ گروپ بھی علیحدگی چاہتا ہے ۔جبکہ بھارت میں مشرقی پنجاب خالصان بہارو بنگال اور تامل ناڈو سمیت ناگا لینڈ کے صوبوں میں ،آسام میں درجنوں مسلح علیحدگی کی تحریکیں ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی 10لاکھ سے زیادہ فوج کشمیری حریت پسندوں کو کچلنے کے لیے موجود ہے۔ جب ان حالات کو مدنظر رکھا جائے تو اور حالات و واقعات جو ہمارے اردگرد رونما ہو رہے ہیں ،ان سے گھبرانے والی کوئی تشویشناک صورت حال نہیں ہے۔ پاکستان دنیا کا آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے، نیوکلیئر کلب کا ممبر ملک ہے۔ اسلامی دنیا میں اپنا ممتاز مقام رکھتا ہے۔ دراصل دو قومی نظریہ پہ تشکیل پانے والے اس وطن عزیز کی حالت ہماری اندرونی عاقبت نااندیشیوں نے یوں بنا دی ہے، جیسے آپ ایک پودا لگا کر پھر اسے کھاد دینا پانی دینا بند کر دیں اور اسے موسم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں اور پھر یہ توقع رکھیں کہ کھاد پانی اور مناسب دیکھ بھال کے باوجود یہ پودا تناور درخت بن جائے گا؟اگر آج بھی ہم نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں تویقینا ہمارے دشمن پسپا ہوں گے۔ اور جب تک جناب مجید نظامی، ڈاکٹر رفیق جیسے لوگ زندہ ہیں ہمیں ان سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔ یہ ملک صرف اور صرف دو قومی نظریہ کے ویژن پر ہی قائم رکھا جا سکتا ہے۔ اور مٹھی بھر مفاد پرستوں کا ٹولہ جو ملک اور ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان توڑنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انشاء اللہ مایوس ہوں گے اگر روس کے دو درجن ٹکڑے ہو سکتے ہیں تو 52دریاستوں کی سرزمیں امریکہ کے بھی ٹکڑے ہو سکتے ہیں۔ 26صوبوں کے چوں چوں کے مربع بھارت کے درجنوں ٹکڑے بھی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان خطے کی جغرافیائی ضرورت ہے اور میری ملک عزیز کے سیاست دانوں ، دانشوروں سے درخواست ہے کہ اگر آپ متحد ہو جائیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی طرف للچائی نظروں سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرے گی۔ بس اپنے اندر محب وطن اور غداروں کی پہچان کر لیں اور یہ کوئی انڈہ توڑنے کی بات نہیں کہ توڑ دیا جائے۔ یہ اٹھارہ کروڑ محب وطن پاکستانیوں کی دھرتی ہے، جس کا توڑنے کا خواب دیکھنے والوں کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہوگی۔ صرف دو قومی نظریہ پر ایمان لاکر اور عمل کرکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus