×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایک سالا مچھر انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے
Dated: 17-Sep-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بنی نوع انسان کی تاریخ میں آسمانی قدرتی آفات بھی ساتھ ساتھ چلتی رہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے، اپنے رسول اور انبیائؑ کو ہدایت انسانی کے لیے وقتاً فوقتاً بھیجا گیا ،پھر جیسے قوم نوح و قوم لوط علیہ سلام کے واقعات جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی موجود ہے، یہ ہم انسانوں کے لیے نشانِ عبرت ہیں۔ انسان چونکہ جلد بھولنے اور بھٹکنے کی عادات رکھنے والا ہے ، ہوس و لالچ ہمیشہ سے انسان کو گمراہ کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فرعون کے بعد ایک موسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوتا رہا۔ ہر تاریک شب کا انجام صبح کا اجالا بن کر ہوتا رہا ہے۔ ظلمت جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر اللہ رب العزت اپنے پیاروں کے لیے ابابیل کی صورت میں مدد بھیج دیتا ہے اور اصحاب فیل ان چھوٹے چھوٹے پرندوں کی چونچوں میں سے برسنے والے چھوٹے چھوٹے پتھروں، کنکروں کا سامنا نہیں کر پاتے۔ ایسے تمام واقعات انسان کے سبق کے لیے اور راہ منزل کے لیے چھوڑے گئے۔ پاکستان اپنے جغرافیائی عوامل کی وجہ سے دیگر ان ممالک جیسے جاپان ،میکسیکو اور نارتھ امریکہ سے بہت بہتر پوزیشن میں ہے، جہاں زلزلے ،سونامی اور دیگر قدرتی آفات اکثر تواتر سے آتی رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں قیام پاکستان سے چند سال قبل کوئٹہ میں ایک بڑا زلزلہ آیاجس میں ہزاروں جانیں لقمہ اجل بنیں اور پھر وقتاً فوقتاً آمریت اور آفات اس خطے میں مسلسل آتے رہے۔ یہ سب عذاب الٰہی ہی ہے کہ ہماری قوم نے ہمارے حکمرانوں نے ان اشاراتِ الٰہی کو نہ سمجھا۔ 2005ء کے زلزلے نے لاکھوں جانیں لیں مگر ہمارے بے حس آمر حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ سانحہ لال مسجد کے بعد سے ہماری قوم ، ہمارے وطن کو جن حالات کا سامنا ہے، ہزاروں سویلین و عسکری جوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہزاروں ،لاکھوں گھروں میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہیں مگر ہمارے عاقبت نااندیش حکمران اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دے کر حقیقت سے پہلوتہی برتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو جو راہ سے بھٹکے ہوئے ہوں، راہ ہدایت دکھانے کے لیے مختلف اشکال میں سرزنش اور آفات بھیجتے ہیں۔ یعنی اگر قوم ہدایت اور راستے سے ہٹ گئی ہے تو قرآن کریم میں کہا گیا کہ ’’جیسی قو م ہو ہم ان پر ویسے ہی حکمران مسلط کرتے ہیں‘‘ تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی کہ آج موجودہ حکمران دراصل ہماری بداعمالیوں ،گمراہیوں اور غلط کاریوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ ہماری اپنی غلطیوں اور اعمال کا نتیجہ ہے کہ جس وطن عزیز کے قیام کے لیے اللہ رب العزت نے 27ویں رمضان المبارک کا دن منتخب کیا وہ اپنے قیام کے صرف 23سال بعد اپنے آدھے جسم سے محرم ہو جائے؟ دراصل قیام پاکستان کے بعد جس تواتر سے ہم نے اللہ رب العزت کی ناشکری اختیار کی، اس تیزی کی وجہ سے ہم پستیوں کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد سقوطِ مشرقی پاکستان تک صرف 23سال کے مختصر عرصے میں تین مارشل لاء، تین آمر اپنی طالع آزمائی کے ساتھ اس قوم کی عزت و غیرت و توقیر کے ساتھ کھیلتے رہے اور مکار بھارتی وزیراعظم نے یہ تمسخر اڑایا کہ ہم اتنی ساڑھیاں تبدیل نہیں کرتے جتنے پاکستانی قوم حکمران تبدیل کر چکی ہے۔ آج وطن عزیز کے ہر کونے پر لگی بدامنی، دہشت گردی،لوٹ کھسوٹ ،چوری، ڈاکے، قتل وغارت گری اور چادر اور چاردیوار کے ماتھے پرلگا یہ بدنما داغ ہمیں سوچنے پر مجبور کیوں نہیں کرتا کہ کوئی وجہ تو ہے کہ یہ ساری آفات اور پھر آٹے، چینی، چاول، دال، سبزیوں اور کھاد، پانی ،گیس اور بجلی کے بحران کہیں ہماری اپنی بے عملیوں ،بداعمالیوں اور ہدایت کے راستے سے ہٹ جانے کی وجہ سے تو نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قائداعظمؒ ،حضرت علامہ اقبالؒ ، لیاقت علی خان شہید، ذوالفقار علی بھٹو شہید، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی صورت راہ دکھانے کے لیے راہنما دیئے اور ہم نے کیا کیا ان کے ساتھ؟ کسی کو ایمبولینس کے انتظار میں سڑک پر مرتے چھوڑ دیا، کسی کو بیچ سڑک بم سے اڑا دیا، کسی کو تختہ دار پر لٹکا دیا، کسی کو بے رحم گولی سے بھون دیا؟ اور پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اچھے حکمران ،راہبر نصیب نہیں کرتا؟موجودہ حکومت کے ساڑھے تین سال مکمل ہونے کو ہیں اس درمیان ڈھیروں پانی پلوں کے نیچے سے گزر گیا۔ ہماری قوم بحرانوں، سازشوں اور سیاست دانوں کی آپس کی عداوتوں اور انتقامی سیاست کا شکار ہو کر ایک نفسیاتی مریض کی سی مانند ہے۔ ہم انقلاب اور خونی انقلاب کی باتیں کرتے ہیں مگر پانچ روپے کلو مہنگی چینی اور ٹماٹر،پیاز دو روپے کلو مہنگے ہو جانے پر تو شور مچاتے ہیں مگر ملکی معاملات پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ہماری مرضی کے خلاف بنائی جانے والی خارجہ پالیسی پر کان بند کر لیتے ہیں۔ حکمرانوں کی لوٹ مار پر اپنا ضمیر بند کر لیتے ہیں اور پھر توقع کرتے ہیں کہ بغیر ڈرائیور کے گاڑی چلے، بغیر پٹرول کے گاڑی چلے اور بغیر آیت اللہ خمینی کے انقلاب برپا ہو جائے؟ پچھلے سال آدھا سندھ ڈوبا تھا۔ 40فیصد پنجاب اور 70فیصد خیبر پی کے ڈوبا تھا۔ سال بھر میں ہم نے کیا کیا ، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ آج پھر سیلاب آیا ہے پھر باقی بچا پاکستان ڈوب گیا ہے اور ہم اپنی بداعمالیوں کو چھپانے کے لیے پرآسائش ہوٹلوں میں بیٹھے ملک سے دور عوام سے دعائیں مانگنے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ عوام کی دعائیں سن لے اور ہمارے ان حکمرانوں کے لوٹ کھسوٹ کے دن مزید بڑھ جائیں؟ ہمارے سندھی و پختون بھائی اگر اللہ رب العزت کے اشارے سمجھ جاتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے اور ڈیم بنا لیتے ،کالا باغ جیسے درجنوں ڈیم بنا کر ہم ایسے کئی سیلابوں کو اپنے اندر جذب کر لینے کی ہمت رکھتے ہیں مگر ہم نہ کبھی خود بچیں گے نہ دوسروں کے لیے بچنے کا سبب بنیں گے۔ ارے پاکستان کے لیے نہیں پنجابی، بلوچی، پٹھان، سندھی کے لیے نہیں خود کو ہی بچانے کے لیے ڈیم بنالیں۔ جو حکمران قوم کو اصلی خوراک دینے میں ناکام رہیں ہر ضروریات زندگی کی چیز میں ملاوٹ ہے۔ حتیٰ کہ ادویات وہ چاہے انسانی ہوں یا حشرات الارض سے بچنے کی سب کی سب جعلی ہیں۔ حتیٰ کہ خودکشی کے لیے اصلی زہر تک نہیں ملتا اگر آپ کے تعلقات صاحب اقتدار سے نہ ہوں۔ جو قوم کیڑے مار ،مچھر مار دوائیاں اور سپرے جعلی استعمال کرنے پر مجبور ہو وہ قوم کبھی بھی مچھر نہیں مار سکتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک فلم میں اداکار کہتا ہے کہ ’’ایک سالا مچھر انسان کو ہیجڑا بنا دیتا ہے‘‘ انہی مچھروں کے ہاتھوں خدائی دعویٰ کرنے والا نمرود جوتے کھا کھا کر مرا۔ اور شاید انہی مچھروں کے ہاتھوں ہمارے موجودہ حکمران بھی اپنے انجام کو پہنچ پائیں گے؟ نہ کل کوئی نمرود اللہ رب العزت کے احکام کو جھٹلا سکا نہ آج کا کوئی نمرود اللہ تعالیٰ کے احکامات کی حکم عدولی کر سکتا ہے۔ بس سوئی ہوئی قوم جاگ جائے تو یہ سیلاب اپنا رخ موڑ لیں گے یہ مچھر اپنی راہیں بدل لیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus