×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا سیاست دانوں کو ذمہ داریوں کا احساس ہے؟
Dated: 20-Sep-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک شخص کو بڑی فکر تھی کہ بڑا ہو کر میرا بیٹا کیا بنے گا۔ بیٹا عجیب عجیب حرکتیں کرتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو لے کر ماہر نفسیات کے پاس پہنچا اور ماہر نفسیات سے فکرمندی سے پوچھا کہ مجھے یہ پتہ کروانا ہے کہ بچہ بڑا ہو کر کیا بنے گا؟ ماہر نفسیات نے کہا کہ ایک کمرے میں ایک عدد سیب ، کتاب اور کرنسی نوٹ رکھ دو۔پھر بیٹے کو کمرے میں بھیجو اگر وہ سیب اٹھاتا ہے تو یہ بڑا ہو کر زراعت کے شعبے میں جائے گا، اگر کتاب اٹھاتا ہے تو یہ بڑا ہو کر لکھنے پڑھنے کے شعبے میں جائے گا اور اگر کرنسی نوٹ اٹھاتا ہے تو پھر یہ تاجر بنے گا۔ باپ نے کتاب، سیب اور کرنسی نوٹ کمرے میں رکھ کر بیٹے کو اندر بھیج دیا اور خود تالے کے سوراخ سے دیکھنے لگا۔ بچے نے اندر داخل ہو کر نوٹ اٹھا کر جیب میں رکھا اور کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے سیب کھانے لگا۔ وہ شخص بھاگا بھاگا ماہر نفسیات کے پاس پہنچا اور بتایا کہ کیا ماجرا ہوا؟ ماہر نفسیات نے کہا اس میں پریشانی والی کوئی بات نہیں۔ بچہ بڑا ہو کر سیاست دان بنے گا۔ یہی کچھ حالات ہمارے وطن عزیز کے سیاستدانوں کا بھی ہے جو لکڑ ہضم پتھر ہضم اور جو چیز ہاتھ میں آ جائے کھا جاتے ہیں ۔گذشتہ روز میں طویل سفر کے بعد وطن واپس پہنچا اور کراچی سے لاہور کے لیے جب جہاز میں سوار ہوا تو دیکھا ہر شخص کے چہرے پر ایک عجیب سی پریشانی نمایاں ہے۔ میں گذشتہ چار ماہ سے اپنے ذاتی اور کاروباری وجوہات کی بنا پر ملک سے باہر تھا۔جس دوران مجھے لندن، پیرس، اوسلو، لکسمبرگ، جرمن، سوئٹزرلینڈ، سپین، کینیڈا، امریکہ جانے اور چند دن ٹھہرے کا اتفاق ہوا۔ میں نے یورپی لوگوں سے مختلف معاملات پر گفتگو کی۔ چونکہ مجھے کافی یورپین زبانوں پر عبور حاصل ہے اس لیے یورپین لوگوں کے جذبات کو ڈائریکٹ سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آتی ہے۔ ہر جگہ ہر ملک میں دوستوں، لوگوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خصوصاً دہشت گردی کے حوالے سے پاک امریکہ تعلقات کا ذکر ضرور کیا۔ امریکن پراپیگنڈہ سے متاثر یورپین لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کے 18کروڑ عوام کو اس بات کا ادراک نہیں کہ ان کا ملک کس طرف جا رہا ہے؟ جبکہ ہمارا دشمن بھارت ہم کو معاشی جنگ میں بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے اور ترقی کی دوڑ میں وہ ہم سے بہت آگے جا چکا ہے۔ پوری قوم کنفیوژ ہے۔ معاملات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں جبکہ نشان منزل کی کوئی خبر نہیں۔ دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ مان کر ہم نے اس وطن عزیز کے انفراسٹکچرکو اندرونی اور بیرونی طور پر تباہ کر لیا ہے۔ جس قوم کو دہشت گردی کے خلاف غیروں کی جنگ میں پچھلے دس سالوں سے دھکیل دیا گیا ہو اور اسے یہ خبر نہ ہو کہ وہ یہ جنگ کیوں لڑ رہے ہیں؟ کس کے لیے لڑ رہے ہیں اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ پاکستان کے چھوٹے موٹے سرمایہ دار ،فیکٹریوں کے مالکان کی ایک بڑی تعداد ملک چھوڑ کر ملائیشیا اور بنگلہ دیش بھاگ گئے ہیںاور جو ابھی باقی بچے ہیں وہ اپنا سرمایہ سمیٹ کر بھاگنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہی میں پیار ،محبت،اخوت کی لوڈشیڈنگ بھی اپنے درجہ عروج پر ہے اور ملک کی اساسی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے سیاست دان اپنے اپنے فرائض سے نہ صرف غافل ہیں بلکہ ان کی نظر میں یہ سب ایک کھیل تماشے سے زیادہ کچھ نہیں۔ میرے واپسی کے سفر کے اختتام سے پہلے مجھے راستے میں ایک دن استنبول رکنا تھا جہاں پر دوستوں کے ساتھ طویل گپ شپ ہوئی ۔ ایک دوست کہہ رہے تھے کہ وڑائچ صاحب یہ ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ حکومت تو لوٹ مار میں مصروف ہے ہی وزیراعظم اربوں کے اثاثے بنا کر ایک شان بے نیازی سے عوامی مسائل سے پہلوتہی برت رہے ہیں۔ وزیراعظم کی پچھلے ساڑھے تین سال کی کوریج کی فلم نکلوا لیں، تنی ہوئی گردن کے ساتھ اعلیٰ بین الاقوامی سوٹ زیب تن کیے نظر آئیں گے۔اور کہیں ایک دفعہ بھی عوام کی نظروں سے نظر ملا کر بات نہیں کرتے۔ پوری قوم کو اپنا مرید سمجھ رکھا ہے۔ وزیراعظم کے خاندان کے تقریباًہر فرد پر کرپشن کے الزامات اور ان کا ڈھنڈوراہ جس قدر پیٹا جا رہا ہے اس کے بعد پیپلزپارٹی آئندہ الیکشن میں کس منہ کے ساتھ عوامی عدالت میں جائے گی۔ بے شک عوام کو تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے۔ ایویئرنس کی کمی ہے مگر اس کے باوجود لاکھوں کروڑوں لوگ انٹرنیٹ سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے تغیر ان کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں۔ ایک دوست کہہ رہے تھے کہ اب تو ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ’’چور اور سپاہی آپس میں مل گئے ہوئے ہیں‘‘حکومت کو تو عوام پہلے ہی اپنی اپوزیشن سمجھتے ہیں مگر اپوزیشن کیا کردار ادا کر رہی ہے؟ پہلے میاں نوازشریف ہر حکومتی اقدام کی پشت پناہی کرتے تھے اب جب وقت گزر چکا ہے تو عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے’’شلجم سے مٹی جھاڑنے کے مترادف‘‘ بیان بازی کی حد تک فرمان جاری کر دیا جاتا ہے اور اپنی انہی ادائوں کی وجہ سے عوام کی نظروں سے ہی نہیں لاہور میں بھی ایک بڑی سوچ میاں برادران کے مخالف ہوتی جا رہی ہے جو کہ ان حالات میں اپوزیشن قوتوں کے لیے ایک دھچکا سے کم نہیں۔ دوسری طرف عمران خان نے سندھ کی گورنر شپ مانگ کر اپنے سیاسی نابالغ ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا ہے۔ جبکہ عوام کی ایک بڑی تعداد جو چیف جسٹس کی طرف نگاہیں اٹھا ئے انصاف اور رحم کے طلبگار ہیں اور اب ان سے بھی مایوس نظرآتے ہیں ۔ہر کیس کو انتہائی بلندی پر لے جا کر اور قوم کو ہیجان میں مبتلا کرکے یکدم فیصلہ محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اٹھارہ کروڑ عوام کے منہ تو لٹک جاتے ہیں مگر دلوں میں احترام بھی کم ہو رہا ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد جو پاک فوج کی طرف امید کی نظروں سے دیکھ رہی تھی ،بھی رفتہ رفتہ مایوس ہو رہی ہے مگر فوج کی بھی اپنی مجبوریاںہیں۔ بین الاقوامی حالات اور اندرونی مسائل و خلفشار اور ازلی دشمن بھارت کی جارحیت کے خطرہ نے فوج کو بھی کسی انتہائی قدم اٹھانے سے باز رکھا ہے۔ مگر دنیا بھر میں پاکستانیوں کی سوچ یہ ہے کہ کیا ظلم کو اس لیے بڑھنے دیا جائے، کیا کرپشن کو، چادر اور چاردیواری کے مسائل کو، بحرانوں کے سمندروں کو، بھوک کو،افلاس کو، مہنگائی ، لوڈشیڈنگ کو ،حکومتی لوٹ مار کو اس لیے پنپنے دیا جائے کہ یہ جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ ملک کے سیاست دانوں کو اب یہ طے کرنا ہوگا کہ انہیں عوامی سیاست کرنی ہے یا پھر عوامی غضب کا شکار ہونا ہے؟ اور موت کا ایک دن متعین ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ گیدڑ کی طرح مرنا ہے یا پھر ٹیپوسلطان شہید کی طرح؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus