×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا امریکا پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے؟
Dated: 24-Sep-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پرل ہارپر نیوی بیس پر جاپانی حملہ کو بنیاد بنا کر امریکہ نے بعدازاں جاپان کے دو بڑے شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما کو نہ صرف نیست و نابود کر دیا بلکہ آج تک بھی اس خط سے جو نسل پیدا ہو رہی ہے وہ کسی نہ کسی وجہ سے معذور ضروری ہے۔ یہی واقعہ نہیں تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی سے ہمیں امریکہ کی وہ کبیہ صورت نظر آتی ہے کہ ہمیں آج ہمارے حکمرانوں کی ذہنی کیفیت پر شک گزرتا ہے کہ وہ کس طرح ایک دفعہ پھر امریکن جال میں پھنس جاتے ہیں۔ دراصل امریکہ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ان امیگرنٹ پر مشتمل ہے جو برطانیہ اور یورپ سے نقل مکانی کرکے کولمبس کے دریافت کیے ہوئے اس خطہ میں آباد ہوئے۔ ان کی زیادہ تر تعداد ان لوگوں پر مشتمل تھی جو کرائم زدہ تھے اور یورپین معاشرے کے لیے ناسور بن چکے تھے۔ امریکہ کے موجودہ خطہ پر آباد ہونے والے امیگرنٹس کی بڑی تعداد جرمن، سوئس، اٹالین، فرنچ، ڈچ، پرتگیزی، اور سپینش جرائم پیشہ لوگوں پر مشتمل تھی۔ ان جرائم پیشہ لوگوں کو جب یہودی سرمایہ داروں کی آشیر باد حاصل ہو گئی تو انہوں نے ایک آرگنائزڈ کرائم کی بنیاد پر مافیا تنظیم بنا کر دنیا بھر میں یورپین مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا تہیہ کر لیا۔ مشہور دانشور ’’لِلی ٹولین‘‘ نے کیا خوب کہا تھا کہ امریکہ میں 98فیصد لوگ منحنی ایماندار اور مہذب ہیں اور باقی دو فیصد جو اس معیار پر پورا نہیں اترتے وہ اداکاری شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں سے جو اچھے اداکار بن جاتے ہیں وہ رونالڈریگن کی طرح الیکشن جیت کر امریکہ کے صدر بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ہالی ووڈ ہی نہیں ویت نام، کوریا جنگ کے اسباب ڈھونڈیں تو ہمیں امریکن صدور کی اداکاری پر ذرا برابر بھی شک نہیں رہتا۔ قیام پاکستان کے بعد جب اس وقت کی ہماری سیاسی و عسکری قیادت نے خود کو امریکی جھولی میں گِرا دیا تو بعد کے واقعات ہماری آنکھیں کھولنے کو کافی ہیں۔71ء کی جنگ میں ہماری مدد کو پہنچنے والا امریکی بیڑا آج تک کراچی کے ساحلوں پر لنگرانداز نہیں ہو سکا ہے۔ اسی امریکن دوستی کے طفیل پاکستان اپنا آدھا ملک مشرقی پاکستان گنوا بیٹھا اور ہماری افواج اور عوام کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ ابھی ہم سقوطِ ڈھاکہ کے شاک سے آزاد نہ ہوئے تھے کہ امریکہ نے ببانگِ دہل ہمارے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید کو نشان عبرت بنانے کی دھمکی پر عمل کرکے پاکستان کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔ یہ امریکہ بہادر کی ہی پالیسی ہے کہ دنیا کے پہلے اسلامی نیوکلیئر ملک پاکستان کی سیاست، معیشت کو مستحکم نہ ہونے دیا جائے۔ دراصل امریکہ کو دو قومی نظریے سے جو خوف وابستہ ہے۔ امریکہ کو اور یورپین ممالک کو یہ چندا گوارہ نہیں کہ دو قومی نظریہ کا فلسفہ دنیا میں کامیاب ہو سکے؟ کیونکہ دو قومی نظریہ کی کامیابی اس خطے سے ہٹ کر پوری دنیا کے مسلمانوں کی راہنمائی کے لیے اپنا کلیدی اور ماڈل کردار ادا کرے گی۔ آج بھی دنیا بھر کے یورپین اور ہندو حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ دو قومی نظریہ کی موجودگی میں اس قوم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا ہے اگر ایسا نہیں تو پھر کیا وجہ تھی کہ سانحہ نائن الیون کے بعد جب پاکستان کی حکومت امریکن کی لگائی ہوئی لکیر کی طرف کھڑی ہو گئی، تو اس کے باوجود کہ اس گذشتہ دس سال کی جنگ میں پاکستان کا نقصان امریکہ کی نسبت زیادہ ہے۔ پاکستان کو معاشی طور پر 70ارب ڈالرز کے معاشی نقصان کے علاوہ 50ہزار سویلین 5ہزار عسکری جوانوں کی قربانی دینا پڑی اور لاکھوں عسکری و سویلین اپاہج بن گئے ہیں، جو آئندہ چند عشروں تک اس قوم پر بوجھ بنے رہیں گے۔ نائن الیون کا ڈرامہ رچا کر امریکہ نے پرل ہارپر کی طرح کا دوسرا سٹیج تیار کر لیا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر آگ اور خون کی بارش کر دی گئی۔ عراق جیسے مضبوط عسکری صلاحیت کے ملک کے پورے انفراسٹکچر کو تباہ کر دیا گیا۔20لاکھ عراقیوں کو ہلاک کر دیا گیا اور اس سے بھی زیادہ تعداد کو اپاہج بنا کر ایڑیاں رگڑ کر مرتا چھوڑ دیا گیا۔ عراق تیل پیدا کرنے والے ممالک کی صف میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ عراق کے پورے وسائل اور تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نائن الیون میں جاں بحق ہونے والے تین ہزار انسانوں کی جانیں رائیگاں نہیں جانی چاہیں مگر ان تین ہزار جانوں کے بدلے میں عراق ،افغانستان اور پاکستان کے پچاس لاکھ انسانوں کو لقمہ اجل بنا دینا کہاں کا انصاف ہے۔ افغانستان میں مسلمانوں کو نشانِ عبرت بنانے کے لیے تورا بورا بمباری کی گئی۔ کارپٹ بمباری کا طریقہ آزمایا گیا۔ آج افغانستان میں ہر تیسرا شخص اپاہج ہے اور پھر پاکستان کا اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا انعام یہ دیا گیا کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ ایٹمی نیوکلیئر معاہدہ کر لیا ہے اور ایک مضبوط معاشی پیکیج بھارت کے ساتھ سائن کر لیا ہے۔ اسی پر اکتفا نہیں پچھلے 5سالوں سے ڈراون حملوں کانہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھاہے۔ جس سے استحکام پاکستان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ہماری افواج کو شمالی و جنوبی وزیرستان کے لوگوں خیبر پی کے کے عوام کو یہ سمجھانے میں شدید دقت کا سامنا ہے کہ کیاہماری افواج امریکی پالیسیوں کے محافظ تو نہیں؟ ہم دہشت گردی کا صفایا چاہتے ہیں ہم کچھ ناسمجھوں کو شاید منا سکیں مگر ڈارون حملے ہماری افواج کے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتے ہیں یا پھر شاید یہ وجہ ہو کہ امریکہ اور نیٹو کو پاکستان کا وجود ہی گوارہ نہیں؟ اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت جو پوری جنگ کے زمانہ میں کہیں نظر نہ آیا آج اسے زبردستی خطے کا چیمپئن بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ افغانستان کے آزادی کے خواہاں افغان باشندے اس امریکی و بھارتی سازش کو ماننے پر تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغان صدر حامد کرزائی پر متعدد قاتلانہ حملے اس امریکن پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ گذشتہ روز سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کو عین اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ امریکن سے ملاقات کرکے واپس آئے تھے۔ برہان الدین ربانی جو چار سالوں تک افغانستان کے صدر رہے تھے۔ اب امریکن کی بنائی ہوئی کونسل کے صدر تھے جو خطے میں امریکہ کے چلے جانے کے بعد تمام افغان دھڑوں کو صلح پر آمادہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور پھر ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ پاکستان کی آزاد سالمیت کے منہ پر طمانچے سے کم نہیں۔ پھر پاکستان کی مرضی کے بغیرملک میں بلیک واٹر کے ہزاروں افراد داخل کر دیئے گئے جو داخلی طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کر رہے اور لامحالہ ہمارے عسکری اور معاشی پروگرامز کو سبوتاژ کرتے رہے۔ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ بلیک واٹر پاکستان توڑنے کے ایجنڈا پر عمل درآمد کر رہے تھے، اسی پر موقوف نہ کیا گیا بلکہ اسلام آباد ، لاہور، کراچی ،فیصل آباد، کوئٹہ، پشاور کے شہروں میں سینکڑوں کوٹھیاں اور مکانات خرید کر یا پھر کرائے پر لے کر انہیں پاکستان کے عدم استحکام کا اڈہ بنایا گیا۔ جہاں پر باقاعدہ بھارتی ایجنٹوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے اور پھر یہ لوگ مساجد و امام بارگاہوں پر حملے کرتے ہیں۔ جس سے ملک کے اند رمذہبی منافرت اپنی انتہائوں کو چھو رہی ہے۔ وگرنہ کیسے ممکن ہے کہ کلمہ پڑھنے والا مسلمان مساجد پر اپنے ہاتھوں بم پھینکے؟ اور جلتی پر تیل کے مترادف چند ہفتے بیشتر سانحہ ایبٹ آباد رونما کرکے امریکہ نے پاکستان کے خلاف جاری جنگ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ امریکہ نے ہماری حدود میں داخل ہو کر نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ دوستی اور اتحادی ہونے کے فلسفہ کو بھی بحیرہ بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ قرائن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے امریکہ کو بس اپنی پالیسیوں اور اپنے مفادات کا احترام عزیز ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ دوستی بھائی چارے کے رشتے کو وہ درخود اعتنا نہیں سمجھتا۔ گذشتہ کچھ روز سے امریکہ حقانی گروپ کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کو استعمال کرنے کے لیے دبائو بڑھا رہا ہے جبکہ ہماری حکومت سفارتی سطح پر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش تک نہیں کر رہی اور ایک مضبوط بیک گرائونڈ اور سابق امریکن فسٹ لیڈی اور سابقہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں ایک ناتجربہ کار ماڈل بھیج کر دراصل ’’شہباز کے پنجرے میں ممولہ چھوڑنے والی بات ہے۔‘‘ یہ بات طے ہے کہ امریکہ ہر وہ کارروائی کرنا اپنا حق سمجھتا ہے جس سے پاکستان کی سالمیت مجروح ہو اور اب تو امریکہ کے وزیر دفاع اور امریکن چیف آف آرمی سٹاف نے پاکستان کو باقاعدہ دھمکی دے دی ہے کہ اگر پاکستان نے امریکی مفادات کے تحفظ کے مقابلے میں روگردانی کی تو پھر پاکستان خطرناک انجام کے لیے تیار رہے جبکہ سابقہ تجربوں اور تاریخی حوالوں کے باوجود پاکستان کی موجودہ قیادت اب بھی یہ سمجھ رہی ہے کہ امریکہ کی دھمکیاں شاید پیار کی تھپکیاں ہیں؟ اور ’’ابھی دلی دوراست‘‘ کے مصداق ہم بس اپنی کرسی کو مضبوط کرنے کے چکر میں ہیں، جبکہ کرسی کے نیچے سے کھسکتی زمین کا ہمیں ادراک نہیں۔ یاد رکھیے امریکہ اب ایک بھرپور جنگ کے لیے اپنا نیا ہدف مقرر کر چکا ہے۔ سٹیج تیا رہے بلوچستان اور کراچی اگلا ہدف ہوں گے اور ضرورت پڑی تو امریکا پورے پاکستان کو اپنے نئے جنگی و نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش کے لیے میدان چُن چکا ہے بلکہ عسکری تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا جنگی طبل بجا چکا ہے بس پاکستان کو اس کا احساس ہونا باقی ہے۔بس پاکستانی قوم کی آنکھیوں اور کان کھلنا باقی ہے اگر ہم امریکا کی ان گیدڑ تھپکیوں سے اسی طرح ڈرتے رہے تو پھر ’’اِب کے مار سالے‘‘کے مصداق ہماری قوم ہمیشہ کے لیے امریکا کی طفیلی بن جائے گی۔یہ وقت ہے کہ اب پوری قوم امریکا کی دھمکیوں اور حملہ کرنے سے پہلے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو جائے کیونکہ ملک کے موجودہ حکمران تو ذوالفقار علی بھٹو شہید بننے سے رہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus