×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امریکا سے پیچھا چھوڑانے کا نادر موقع!
Dated: 27-Sep-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے کانگریس مین سیٹونسن نے ایک دفعہ پبلک میٹنگ میں کہا کہ اگر ری پبلکن پارٹی ہمارے متعلق جھوٹ بولنا بند کر دیں تو وہ بھی ان کے متعلق سچ بولنا بند کر دیں گے۔ امریکی ببانگ دہل ماضی میں یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم امریکی سب سے پہلے امریکی مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔ امریکن مفادات کے آگے ہماری دوستیاں اور سیاسی یارانے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ مگر نجانے کیوں ہمارے حکمران اور ہماری سیاسی و عسکری قیادتیں امریکی پالیسیوں اور بیانات کا ترجمہ اپنی منطق میں کرتے رہتے ہیں۔ دراصل اقتدار کی کرسی سے ڈھٹائی کے ساتھ چمٹے رہنا حکمرانوں کا اصل ٹارگٹ ہوتا ہے اور ہمارے حکمرانوں کی اس کمزوری کا فائدہ ہمیشہ امریکی اور برطانوی سامراج نے اٹھایا۔ امریکی روایت ہے کہ ہر امریکی حکومت نے ہمیشہ اپنے قریبی اتحادیوں کو دھوکہ دیا۔ شہنشاہ ایران جس کو امریکہ نے علاقے کا تھانیدار بنایا ہوا تھا اور ایران پر امریکی نوازشوں کے خزانے لٹائے جاتے تھے جیسے ہی شہنشاہ ایران کمزور ہوا قائدانقلاب امام آیت اللہ خمینی نے ایران کی سرزمین پر قدم رکھا تو شہنشاہ ایران ملک سے بھاگ گیا اور نیویارک میں جلاوطنی اختیار کرنی چاہی مگر عشروں کے اتحادی یار نما امریکہ نے شہنشاہ ایران کا طیارہ اترنے کی بھی اجازت نہ دی اور بادل نخواستہ شہنشاہ ایران کو مصر میں سیاسی جلاوطنی اختیار کی اور بے یارومددگار اپنی زندگی کی آخری سانسیں جلاوطنی میں کاٹنے پر مجبور ہوئے۔ اسی طرح فلپائن نے ڈکٹیٹر صدر مارکوس جو کہ ایشیائی خطے میں امریکی مفادات کے نہ صرف سفیر تھے بلکہ تین عشروں تک خطے میں امریکی مفادات کے محافظ کا کردار ادا کرتے رہے جب عوامی ردعمل اور انقلاب آیا تو امریکہ نے صدر مارکوس کو سیاسی پناہ دینے سے معذرت کر لی اور پھر صدر مارکوس دربدر بھٹکتا اپنی زندگی کے آخری ایام بڑی بے بسی میں گزارنے پر مجبور ہوا ۔ اس طرح امریکہ نے ماضی میں تیونس کے سابق صدر محمد بوکا اور مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو بھی مشکلات میں اکیلا چھوڑ دیا۔ افغانستان کے مجاہدین جنہوں نے روسی جارحیت کے خلاف امریکی مفادات کا ساتھ دیا، روس کے انخلا کے بعد ان لاکھوں جنگجوئوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر ان سے نظریں چُرا لیں۔ پاکستان کے سابق ملٹری ڈکٹیٹرضیاء الحق مرحوم امریکی مفادات کے نگران رہے مگر جب بدلتے سیاسی و علاقائی موسم میں امریکہ نے ضیاء الحق سے نظریں پھیر لیں اور اپنے سفیر کی قربانی دے کر ضیاء الحق کے طیارہ حادثے کا بندوبست کیا۔ بالکل اسی طرح عراق کے سابق صدر صدام حسین زندگی بھر امریکن پالیسیوں کے محافظ بنے رہے اور امریکہ کی ہی آشیرباد پر اپنے ہمسایہ برادراسلامی ملک ایران کے ساتھ دس سالہ جنگ میں نہ اپنا کچھ چھوڑا نہ ایران کا کچھ چھوڑا۔ لاکھوں انسانوں کی ہلاکت کے بعد جب دونوں عسکری قوت رکھنے والے اسلامی ممالک اڑیل گھوڑے کی مانند ہو گئے تو امریکہ نے صدام حسین کو رغبت دے کر کویت اور سعودی عرب پر حملے کروا دیئے، جس سے اتحاد بین المسلمین کو شدید نقصانات پہنچے اور خطے گلف کی ساری اسلامی عسکری قوتیں آپس کے جنون کی جنگ میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھیں۔ آج سعودی عرب ،کویت، عراق، افغانستان، پاکستان میں امریکی فوجی اڈے مسلمانوں کی غیرت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے اور سرزمین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم جس پر غیر مسلم کے پائوں بھی رکھنا ممنوع قرار پایا تھا اس سرزمین پر آج لاکھوں امریکی فوجی دندناتے پھر رہے ہیں۔ اسی طرح افغانستان، عراق میں ہمارے صوفیائے اکرام اور ولی اللہ کے مزارات امریکی فوجی بوٹوں تلے روندے گئے مگر عالمی اسلامی اُمہ کے کان پر جُوں تک نہ رینگی۔ سانحہ نائن الیون کو وجہ بنا کر امریکہ نے پاکستان کے پاس کوئی راستہ نہ چھوڑا اور ہمیں مجبوراً امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور کر دیا اور پھر امریکہ نے وطن عزیز پاکستان کی خوددداری اور سالمیت کو مجروح کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جگہ جگہ امریکن ایئربیس اور اڈے قائم کر دیئے گئے ملک بھر میں امریکی فوجی مختلف روپس میں پاکستان کو اپنی شکارگاہ سمجھ بیٹھے اور پھر پاکستان کو اپنی تجربہ گاہ بنا لیا اور محب وطن پاکستانیوں کو چُن چُن کر یا تو مارا جاتا رہا یا پھر انہیں گوانتا نابے لے جا کر ہماری غیرت کا مذاق اڑایا جاتا رہا۔ پانی اب ناک سے بھی اوپر چلا گیا تھا سانحہ ایبٹ آباد اور ڈارون حملے دراصل ہمیں مجرم سمجھ کر ہماری چھترول کے لیے کیے جاتے تھے اور طرفہ تماشا یہ کہ پاکستان کے حکمران سول و ملٹری قیادت ماضی میں صرف ایک گرین کارڈ کے حصول کے لیے امریکی مفادات کے آگے سرنگوں کرتے رہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی طرف سے ملنے والی سول و عسکری امداد کو پاکستان میں امریکی مفادات سے مشروط کر دیا گیا اور ملنے والی امداد کا ایک بڑا حصہ پھر کمیشن کی شکل اور اخراجات کی مد میں پھر امریکن بنکوں میں واپس پہنچتا رہا۔ اور امریکہ نے پاکستان کو اپنا طفیلی سمجھ لیا۔جبکہ گذشتہ روز دوبئی میں ہونے والی ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے موقع پر جب امریکی مندوب نے چینی مندوب سے پاکستان کی امداد کی شکایت کی تو چینی مندوب نے کہا جس طرح آپ کو اسرائیل عزیز ہے ہمیں بھی پاکستان عزیز ہے یہ سننا تھا کہ امریکی پالیسی سازوں کو شاک پہنچا کہ بات اس حد تک آگے بڑھ چکی ہے۔ سونے پر سہاگہ پاکستان نے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف کے ساتھ اپنا تعلق توڑ لیا۔پھر کیا تھا امریکہ کا سارا پالیسی ساز سسٹم شاک زدہ ہو گیا اور پاکستان کو دھمکیوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ مگر پاکستان کی باہوش ملٹری قیادت نے فوراً کورکمانڈر کانفرنس بلا کر امریکی گیدڑ بھبکیوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملٹری قیادت نے ملک کی منتخب سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لینے کا عزم کیا ہے تاکہ مکار دشمن امریکہ اور بھارت کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہم ایک غیرت مند قوم ہیں اور اپنی خودداری اور انا پر سمجھوتا نہیں کرتے۔ ہم عزت سے مرنے کو بے غیرتی سے زندہ رہنے پر فوقیت دیتے ہیں۔ پاکستان کی پوری قوم اور ہر طبقہ ہائے فکر کو ذاتی اختلافات اور فرقے بندیوں کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہو کر اپنے ازلی دشمن بھارت اور منافق دشمن امریکہ کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ جب تک ایک بھی پاکستانی زندہ ہے اس وطن عزیز کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑ دیا جائے گا اور اب یہ وقت ہے کہ ہم امریکی تسلط سے نجات حاصل کر لیں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ ایک نئی آزادی کی جنگ کا اعلان کر دیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus