×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صرف ایک فرد کی خاطر؟
Dated: 22-Oct-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گزشتہ روز یروشلم Mizpe Hila اور غزہ کی سڑکوں پر لوگوں کا جم غفیر یا یوں کہیے کہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا۔ Mizpe Hila رہا ہونے والے اسرائیلی فوجی Gilad Schalit کا آبائی شہر ہے۔ دوسری طرف غزہ کی پٹی اور تمام فلسطین میں ایک جشن ایک میلے کا سا سماں تھا۔ اسرائیلی اور فلسطینی اپنے ہاتھوں میں اپنے اپنے ملک کے جھنڈے اٹھائے والہانہ نعرے لگا رہے تھے۔ بے شمار لوگ خوشی وکامرانی کے گیت گا رہے تھے۔ اس ڈیل کے بدلے رہا ہونے والے فلسطینی بسوں سے اتر کر عوام کے کندھوں پر سوار تھے ،جن کو ذرا ا بھی موقع مل رہا تھا وہ کندھوں سے اتر کر سرزمین فلسطین کی پیاری دھرتی کو چوم رہے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جیتنے والے بھی جشن منا رہے تھے اور ہارنے والے بھی سمجھ رہے تھے کہ وہ جیت گئے ہیں۔ کون جیتا کون ہارا اس بحث سے قطعہ نظر عوام دونوں طرف شادیانے بجا رہے تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے جیلاد شیلٹ کو جب ’’حماس‘‘ کے سکواڈ سے وصول کیا تو سول کپڑوں میں ملبوس اسرائیلی فوجی کو فوراً یونیفارم پہنائی گئی پھر اسرائیلی وزیراعظم نے جیلاد شیلٹ کو جب اس کے والدین کے حوالے کیا تو باآواز بلند کہا۔ دیکھو میں نے تمہارے بیٹے کو تمہارے حوالے کر دیا ہے۔ تبصرہ نگار کہہ رہے ہیں کہ بس اس ایک فوجی کی رہائی کی ڈیل نے اسرائیلی وزیراعظم ’’بنیامین نتن یاہو‘‘ کا آئندہ الیکشن محفوظ بنا دیا ہے۔ دراصل گذشتہ پانچ سالوں سے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان اس فوجی جیلاد شیلٹ کی وجہ سے کئی خونریز جھڑپیں ہو چکی تھیں جب سے اسرائیلی فوجی کو حماس کے گوریلوں نے اسرائیل کی سرزمین سے اغوا کیا تھا، اس وقت سے اسرائیل و فلسطین جھگڑا اپنی انتہائوں کو چھونے لگا تھا۔ حماس قیدی کو واپس کرنے کو تیار نہیں تھے بلکہ اس ایک قیدی کے بدلے اپنے اسرائیلی جیلوں میں قید کارکنان کی رہائی چاہتی تھی، جبکہ اسرائیل ہٹ دھرمی پر بضد تھا اور متعدد حملے کرکے غزہ اور فلسطین کی سرزمین پر ’’1400‘‘ فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔ جبکہ 20کے قریب اسرائیلی بھی ان جھڑپوں میں جاں بحق ہوئے۔ پھر وہ کونسی وجہ تھی کہ عالمی دبائو کے باوجود اسرائیل نے فلسطینیوں پر حملے جاری رکھے؟ دراصل یہ اسرائیلی مذہب اور پالیسی کا حصہ ہے کہ اپنے فوجیوں اور عوام کو زندہ یا مردہ اپنی سرزمین پر واپس لائو۔ تاریخ ہمیں بڑے قریب سے بتاتی ہے کہ 1049میں جب مشہور زمانہ اسرائیلی یہودی Simon Weisen Thal نے جرمن سے ہجرت کی تو اپنے ساتھ ہولوکوسٹ میں مارے جانے والے 2لاکھ یہودیوں کی راکھ بھی ساتھ لایا۔ اور پھر زندہ یہودیوں پر تجربات کرنے والے ڈاکٹرDr. Mengeleکو سائوتھ امریکہ میں ڈھونڈ کر مارنے والا یہی یہودی سائمن وائیسن تھال تھا۔ جبکہ 1972ء میں میونخ اولمپکس جرمن میں فلسطینی فدائین نے جرمن ٹیم کو یرغمال بنا لیا مگر اسرائیلی انٹیلی جنس ’’موساد‘‘ نے جرمن فورسز کے ساتھ مل کر نہ صرف قیدیوں کو رہا کروایا بلکہ تمام فدائین اور ان کے پیچھے کارفرما ذہن کو بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر مار دیا گیا۔ جبکہ 3جولائی 1976ء کو ایئر فرانس کا ایک طیارہ اغوا کرکے یوگنڈا کے ایک شہر Entebbeپر اتار لیا گیا، جس پر فرانس کی مرضی کے خلاف اسرائیل نے کمانڈو ایکشن کرکے تمام ہائی جیکروں کو ہلاک کر دیا۔ اس ایکشن میں 3یرغمالی اور یوگنڈا کے 25فوجی بھی مارے گئے تھے۔ اسرائیل کا موقف تھا کہ ہائی جیک ہونے والے تمام مسافر یہودی اور اسرائیلی شہری تھے، اس لیے ان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ہم وطنو کی رہائی کے لیے خود ہی ایکشن کریں۔ ان تاریخی واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل نے کبھی بھی دہشت گردی کی وارداتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ آہنی ہاتھوں سے نبٹنے کو ترجیح دی۔ یہاں پر اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کیا اقدامات تھے جو اسرائیل نے اپنے ایک فوج کی رہائی کے لیے کیے؟ 26جون 2006ء :حماس کے فدائین نے اسرائیل کی سرزمین میں داخل ہو کر اسرائیلی فوجی کو یرغمال بنایا۔ 28جون 2006ء: اسرائیل کی آرمی نے فوجی جیلاد شیلٹ کی رہائی کے لیے غزہ پر حملہ کر دیا۔ 15ستمبر: فوجی جیلاد شیلٹ کی فیملی کو خط موصول ہوا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے عوض اس کو رہا کیا جائے گا۔ یکم اکتوبر: فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان سخت جنگ چھڑ گئی۔ 26نومبر: اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان 5ماہ بعد جنگ بندی کا عارضی اعلان ہوا۔ 14جون 2007ء: حماس نے غزہ کی پٹی پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ 8ستمبر: حماس اور اسرائیل میں پھر جھڑپ ہوئی۔ 26دسمبر : حماس نے ’’1400‘‘ قیدی فلسطینیوں کی رہائی کے لیے لسٹ پیش کی۔ 9جون 2008ء: جیلاد شیلٹ کی فیملی کو جیلاد شیلٹ کے ہاتھ سے لکھا خط موصول ہوا۔ 25ستمبر: حماس نے اسرائیلی آفر کو ٹھکرا دیا۔ 27دسمبر: اسرائیل نے حماس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور صرف بائیس دنوں میں 1400معصوم فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا جبکہ ڈیڑھ درجن کے قریب اسرائیلی فوج بھی ہلاک ہوئے۔ 30ستمبر2009ء :اسرائیل نے اس شرط پر کہ کنفرم کیا جائے کہ فوجی زندہ ہے۔ 20فلسطینیوں کو رہا کر دیا۔ 2اکتوبر: ایک ٹی وی پر فوجی کی تازہ ویڈیو جاری کی گئی جس پر اسرائیل نے 20قیدیوں کو رہا کر دیا۔ 25نومبر:اسرائیل نے حماس کے مطالبے کو رد کر دیا۔ 27جون 2010ء : اسرائیلی فوجی جیلاد شیلٹ کے والدین نے اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے اپنے گھر سے لے کر اسرائیلی وزیراعظم کے گھر تک مارچ کا اعلان کیا کہ حکومت فوری اقدامات اٹھائے۔ 9اپریل2011ء: اسرائیلی فوج نے ایک حماس کمانڈر کو شہید کر دیا۔ 11اکتوبر: اسرائیلی اور حماس نے متفقہ طور پر اس ڈیل کی تصدیق کی کہ گورنمنٹ آف مصر نے دونوں پارٹیوں کے درمیان صلح کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ 18اکتوبر2011ء: اسرائیلی فوج جیلاد شیلٹ کو ’’1027‘‘ فلسطینی قیدیوں کے عوض رہا کر دیا گیا۔ 18اکتوبر کے بعد آج اسرائیلی قوم متحد ہے کہ انہوں نے اپنے فوجی کی رہائی پا لی ہے جبکہ دوسری طرف حماس کے کمانڈر اسے اپنی فتح جبکہ فلسطین کے وزیراعظم محمود عباس اسے الفتح اور فلسطین کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ یعنی قیدیوں کی رہائی پر بھی فلسطینی متحد نہیں بلکہ ہر شخص ایک اینٹ کی مسجد بنانے پر بضدہے۔ صرف ایک قیدی کی رہائی کے لیے اسرائیل نے جو پاپڑ بیلے وہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ دراصل اسرائیل نے اپنے نوجوان فوجیوں اور پوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ایک اسرائیلی کے عوض ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو چھوڑنا سستا سودا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ امریکہ نے سانحہ نائن الیون کے تین ہزار ہلاکتوں کے بدلے عراق اور افغانستان کے پانچ ملین یعنی پچاس لاکھ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم خود ہی پکڑ پکڑ کر اپنے ہم وطنوں اور مسلم بھائیوں کو امریکہ کے حوالے کرتے رہے۔ ایمل کانسی سے لے کر خالد شیخ تک ہزاروں ہم وطنو اور مسلم بھائیوں کے خون کی ’’قربانی‘‘ دی گئی۔ اس وقت بھی نہ جانے کتنے پاکستانی گوانتابے کی جیلوں اور کیمپوں میں سڑ رہے ہوں گے؟ آج بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسی کئی بیٹیاں آنکھیں اٹھا کر پلکیں اٹھا اٹھا کر جسٹس افتخار احمد چوہدری اور آصف علی زرداری کو آوازیں دے رہی ہوں گی؟ کتنے بے بس مجبور لاچار بھائی اپنی بہنوں کی واپسی کے لیے نظریں بچھائے بیٹھے ہوں گے ؟کتنے والدین غیرملکی جیلوں میں اور اپنے لاپتہ پیاروں کی آس لگائے بیٹھے ہوں گے؟ کتنی مائیں اپنی آبرو کو بچانے کے لیے کسی محمد بن قاسم کو آواز یں دے رہی ہوں گی؟ کتنے بیٹے کتنی بیٹیاں اپنے ملک کے سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی کی راہیں تک رہی ہوں گی کہ کب ہمارے مسیحا آئے گا اور ہمارے سروں پر چادر رکھے گا ؟ کب لٹتی عزتوں کا وارث آئے گا؟کب ہمارے سر پر اس ملک کا آخری سہارا آخری امید بھرم کا ڈوپٹہ رکھے گا؟ 20کروڑ عوام کو روٹی، کپڑا ،مکان اورچادر چاردیواری کی ضرورت ہے۔ اب ایک بات طے ہے قوم کو نعروں کی نہیں جمہوریت و ملوکیت یا آمریت کی نہیں۔ بس قوم کو ایک راہبر کی ضرورت ہے وہ چاہے وردی میں ہو یا پھر بھٹو جیسے سفاری سوٹ میں؟ وہ شیروانی میں ہو یا پھر چوغے میں۔ قوم کو اب مداریوں کی ضرورت نہیں قوم کو اب تقریروں اور تحریروں کی ضرورت نہیں۔ بس ضرورت ہے تو ایک ایسی حکومت کی جو اپنے عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔ ایک ایسی حکومت جو عوام کے بغیر اپنے کو نامکمل محسوس کرے اور جس کے بغیر قوم خود کو نامکمل تصور کرے۔ اب قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور شاید ظلمت کی صبح کا طلوع ہونے والا ہے؟ کہ خونِ صدہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا!
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus