×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بیگم نصرت بھٹوکی وفات۔ کارکنان کی آخری آس بھی دم توڑ گئی
Dated: 25-Oct-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کہتے ہیں کہ لوگ صرف زخم سہنے درد لینے اور غم برداشت کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور کچھ لوگ پکی پکائی کھیر کی دیگ پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مرحومہ بیگم نصرت بھٹو ان لوگوں میں شامل تھیں جنہیں صرف غم، زخم اور درد وراثت اور جہیز میں بھی ملے۔ 23مارچ 1929ء کو ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہونے والی نصرت نے ایک معزز گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔ پھر اعلیٰ تعلیم انگلینڈ سے حاصل کی ۔ وہیں سرشاہنواز بھٹوکے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو سے روابط ہوئے اور بات شادی تک جا پہنچی۔ کہتے ہیں ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک ذہین عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔1951ء میں ذوالفقار علی بھٹو سے شادی کے بعد جیسے اس جوڑے کی عالمی دنیا میں شدید پذیرائی ہوئی، پھر ذوالفقار علی بھٹو نوجوان ترین رکن کابینہ بن کر ایوب حکومت میں شامل ہوئے اور پھر جلد ہی ایسا وقت آ گیا کہ بیگم نصرت بھٹو اپنے دور کے پاکستان کی فسٹ لیڈی بن گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید پہلے صدر پھر وزیراعظم بنے۔ پھر دوسری دفعہ وزیراعظم منتخب ہوئے مگر جلد اقتدار سے علیحدہ کر دیئے گئے۔ 1977ء کو پھر ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس دوران بیگم نصرت بھٹونے کمال ہوشمندی سے پاکستان پیپلزپارٹی کی عنان کو ہاتھ میں لیا۔ عورت ہونے کی وجہ سے جو تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں خصوصاً ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران اس تحریک میں نظام مصطفی تحریک کی ساری پارٹیاں جو کہ پیپلزپارٹی مخالف پارٹیاں بھی ہیں، آمریت کے خلاف ڈٹ گئیں۔اس تحریک کی بیگم نصرت بھٹو نے قیادت بھی کی مگر 1982ء میں جب تحریک خصوصاً سندھ میں عروج پر تھی ڈاکٹرں نے بیگم نصرت بھٹو کو کینسر کا مرض تشخیص کیا اور بیگم نصرت بھٹو علاج کے لیے لندن روانہ ہو گئیں۔ اسی طرح 1979ء سے لے کر بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد پارٹی کی چیئرپرسن شپ کے عہدے پر رہیں۔ پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو اکٹھے پاکستان پیپلزپارٹی کی شریک چیئرپرسن بھی رہیں۔ جبکہ اسی دوران لاہور سٹیڈیم میں ایک جلسے کے بعد ریلی کی قیادت کرتے ہوئے بیگم نصرت بھٹو کے سر پر پولیس لاٹھی چارج کی وجہ سے شدید گہرے زخم آئے اور بیگم نصرت بھٹو کو ٹانکے بھی لگے۔ انہی زخموں کی وجہ سے چند سال بعد بیگم نصرت بھٹو کو دماغی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یا یوں کہیے کہ بیگم نصرت بھٹو کو بستر مرگ پر لے جانے میں اس پولیس لاٹھی چارج نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بیگم نصرت بھٹو کی زندگی غموں اور زخموں سے چُور چُور تھی۔ شادی کے صرف 18سال بعد ہی بیوگی کا زخم برداشت کرنا پڑا۔ ملک میں جاری تحریک اور ریلیوں کی سیاست جو کہ کبھی سوچی تک نہ تھی کرنا پڑی۔ بیگم نصرت بھٹو خود جلاوطنی میں تھیں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی جلاوطنی میں تھی کہ ایک اور اندوہناک واقعہ نے اس جوان عورت کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ یہ تھا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے شاہنواز بھٹو کے قتل کی خبر۔ میر شاہنواز بھٹو کو پیرس میں ایجنسیوں نے قتل کر دیا۔ ابھی خاوند کی شہادت کے زخم تازہ تھے کہ اپنے پیارے بیٹے کے تابوت سے لپٹ لپٹ کر رونا پڑ گیا، پھر حالات نے پلٹا کھایا۔1988ء میں الیکشن میں بیگم نصرت بھٹو آبائی حلقے سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں جبکہ 1993ء اور 97ء میں بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ جبکہ 1993ء میں جب شہید محترمہ دوسری دفعہ وزیراعظم بنیں تو ان کے دور حکومت میں ہی بیگم نصرت بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹوکے بڑے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کو ان کے گھر -70کلفٹن کے بالکل سامنے قتل کر دیا گیا۔ یہ قتل بیگم نصرت بھٹو کے لیے شاید آخری خبر تھی جو انہوں نے اپنے حواس میں سنی۔ ہماری چند دفعہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ دوبئی میں ملاقات کے دوران ایران سے آئے ہوئے بی بی کے رشتے دار اور بیگم نصرت بھٹو بھی موجود تھیں مگر کھانے کی میز پر اس طرح بیٹھی نظر آتی تھیں جیسے خلا میں گھورتی رہتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بیگم صاحبہ کو عام پبلک میں نہ لاتی تھیں جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی کارکنان نے بیگم نصرت بھٹو کو اپنا رہبر چن لیا تھا جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو شریک چیئرمین کی طور پر اپنی عظیم ماں کے ساتھ پارٹی کی عنان سنبھالے ہوئے تھیں۔ پھر پارٹی کے اندر چند شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے پارٹی کو تقسیم کرنے کی کوشش کی مگر بیگم نصرت بھٹو کی فراخدلی نے ایسے عناصر کی خواہشوں پر پانی ڈال دیا۔جب 27دسمبر 2007ء کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا تو اس وقت جو چیز میرے ذہن میں سب سے پہلے آئی وہ یہ تھی کہ کیا کومے اور نیم بیہوشی میں زندگی کے سانس گِن گِن کر گزارنے والی بیگم نصرت بھٹو کیا یہ صدمہ سہہ پائے گی؟ بھٹو خاندان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو 82سال تک زندگی کی گاڑی کھینچے میں کامیاب رہیں یہ عمر بھٹو خاندان میں کم ہی کسی کو نصیب ہوئی ہے۔ مگر یہ زندگی پہاڑ جیسا بوجھ اس وقت بن گئی جب بیگم صاحبہ کو بڑے مختصر عرصے میں خاوند دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی شہادت کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بیگم نصرت بھٹو کو بھٹو کی شہادت کے بعد لوگوں نے ایک ماں کا روپ اور اختیار دے دیا۔ پیپلزپارٹی جو آج ایک مسلک کی حیثیت رکھتی ہے اس میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بعد اگر کسی کو عزت و توقیر اور رتبہ دیا گیا ہے تو وہ یقینا بیگم نصرت بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا لازوال کردار ہے۔ بھٹو رہائی تحریک کے دوران اس خاتون نے نہ صرف تحریک کی قیادت کی بلکہ پولیس اور ایجنسیوں کے چھاپوں کے دوران اس بہادرو جری عورت نے وہ کارنامے سرانجام دیئے جنہیں سن کر کوئی دیومالائی افسانہ لگتا ہے۔ دوست بتاتے ہیں کہ بیگم نصرت بھٹو پولیس چھاپوں کے دوران دیواریں تک پھلانگتیں رہیں جن سے کارکنان کے حوصلے بڑھتے رہے۔ آپ اپنے ورکروں کو بیٹا کہہ کر مخاطب کرتیں۔ شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب پارٹی ٹوٹ رہی تھی، ہچکولے کھا رہی تھی تو تب میں نے چند دوستوں کو پوچھا اب آگے کیا ہوگا۔ جس پر تقریباً سبھی دوستوں کی متفقہ رائے تھی کہ جب تک بیگم نصرت بھٹو کا سایہ ہمارے سروں پر ہے ہم پیپلزپارٹی اور بیگم نصرت بھٹو سے بے وفائی نہیں کر سکتے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بھٹوز کے چاہنے والے بیگم نصرت بھٹو کی صورت میں بھٹو کا سایہ دیکھ رہے تھے اب جبکہ سالوں کی علالت کے بعد بیگم نصرت بھٹو ہمارے درمیان نہیں رہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے اب ہمارے درمیان جو عقیدت کل پُل تھا، جو رابطہ تھا، جو تعلق تھا جیسے وہ کرچی کرچی ہو گیا ہے۔ میں ہزاروں ایسے جیالوں کو جانتا ہوں جو کہہ سکتے ہیں کہ بیگم نصرت بھٹو کی بے شک شدید علالت کے باوجود وہ ایک نفسیاتی راہبر کے طور پر بیگم نصرت بھٹو کے ہاتھوں پر بیت کر چکے تھے اور اس سیاسی بیت کو آج پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کیش کروا رہی ہے۔میں آج اٹلی سے سوئٹزرلینڈ کے لیے جہاز پر سوار ہو رہا تھا کہ مجھے ایک دوست کا پیغام موبائل پر موصول ہوا۔ مجھے دو دن بعد پاکستان جانا ہے بڑی کوشش کے باوجود میں شاید جنازے میں شامل نہ ہو سکوں مگر میرا دل یہ سوچ کر دکھتا ہے کہ ہماری لیڈر، ہمارے محبوب لیڈر کی شریک حیات، ہماری آس، ہماری وفاق کی علمبردار ہماری جمہوریت کی رانی کی ماں کا جب جنازہ پڑھایا جا رہا ہوگا تو جو لوگ پہلی قطاروں میںکھڑے آنسو ٹسوے بہا رہے ہوں گے کیا بیگم نصرت بھٹو ان کو جانتی ہوں گی؟ کیا ان کی روح اگلی قطاروں میں کھڑے قیمتی سوٹ زیب تن کیے راہنمائوں کو پہچانتی ہوں گی؟ بیگم نصرت بھٹو کی نظریں تو وہاں ہوں گی ان جیالوں کو دیکھنے کے لیے جن کی پیٹھوں پر کوڑوں کے نشان ہیں، جن کے چہروں پر قلعوں کی صعوبتوں کے نشان ہیں، بیگم نصرت بھٹو کی روح تو دیکھنا چاہ رہی ہو گی ذوالفقار علی بھٹو شہید کے لیے خود سوزی کرنے کی کوشش میں جھلس جانے والے نہ پہچانے جانے والے چہروں کو۔بیگم نصرت بھٹو تو اپنے جنازے میں دیکھنا چاہ رہی ہوں گی بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھیوں کو ،میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھیوں کو، میر شاہنواز بھٹو کے دوستوں کو۔ شاید اب تک زندہ بچ رہ جانے والے ذوالفقار علی بھٹو شہید کے جیالوں کو،ساتھیوں کو، سالاروں کو، دوستوں کو۔ شاید اتنے بڑے پنڈال میں اس جنازے میں صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور سینکڑوں وزراء ممبران اسمبلی کے ہجوم میں کہیں کوئی جیالا بھی کسی پچھلی قطار میں نظر آ جائے مگر اس کا احتمال کم ہے۔ اب گڑھی خدابخش کے اس قبرستان میں شاید مزید کسی بھٹو کے لیے جگہ نہیں بچی؟ میرے ملک کے جیالوں، میری پارٹی کے کارکنان کی آخری امید، آخری آس حسرت بھری نظروں کے ساتھ دم توڑ گئی ہے۔ روٹی ،کپڑا ،مکان ،چادر، چاردیواری ،تعلیم اورروزگار کا نعرہ اب کوئی نہ لگائے گا کیونکہ جو ان نعروں کی قدر جانتے تھے وہ تو منوں مٹی تلے دبا دیئے گئے ہیں جو باقی ہیں وہ ،وہ نہیں جن کے لیے اب جیالے کوڑے کھائیں، لاشیں گرائیں،خودسوزیاں کریں، خود قلعوں میں بندہوں اور جوان بیٹیاں ہاتھ پیلے کیے بغیر عدم سدھار جائیں۔ میں بیگم نصرت بھٹو کو اس ملک کے جیالوں کی جانب سے خراجِ تحسین پیش کرتاہوں کہ ان کے خاندان نے وطن عزیز کے لیے جو قربانیاں دی ہیں اس کے بدلے ہم نے صرف اس خاندان کو دُکھ دیئے ہیں مگر میرا رب العزت ضرور انصاف کرے گا وہ اس خاندان کے تمام شہدا اور مرنے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے گا۔ یہ دعا ملک کے بیس کروڑ عوام کی دعا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus