×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کالا باغ ڈیم۔ایک تلخ حقیقت
Dated: 08-Jun-2008
گندم کا بحران مسلسل جاری ہے نئی فصل آنے کے باوجود قلت ہے۔ دو سال قبل ہم گندم برآمد کرتے تھے گذشتہ سال متعلق محکمے کی نالائقی اور مفرور وزیراعظم کی ناعاقبت اندیشی سے جتنی گندم برآمد کی اتنی ہی ڈبل ریٹ پر درآمد کر لی گئی اگر برآمد نہ کی جاتی تو ہم گندم کے معاملے میں خودکفیل تھے۔ اس سال گذشتہ سال کے برابر رقبے پر گندم کاشت کی گئی اس کے باوجود 35لاکھ ٹن درآمد کرنے کا پروگرام ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ گندم کم کیوں پیدا ہوئی؟ کس منصوبہ بندی میں کمی تھی یا حکمتِ عملی طے نہیں کی گئی یا زمینیں بانجھ ہوئیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ پھر پیداوار اتنی کم کیوں ہوئی؟ اس کی وجہ پانی کی کمی ہے، دریائوں میں مطلوبہ مقدار میں پانی نہ آیا، بجلی کی بے تحاشا بندش کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی بند رہے۔ آج کل چاول کی فصل کی بوائی شروع ہے یہ فصل ہوتی ہی پانی کے اندر ہے لیکن مطلوبہ مقدار میں پانی میسر نہیں۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریائے بیاس، ستلج اور راوی خشک کر دیئے۔ سندھ جہلم اور چناب جس پر اس کا کوئی حق نہیں اب اس پر 52ڈیمز اور پاور پراجیکٹس کی تعمیر جاری ہے۔ ان دریائوں سے نہریں نکال کر پانی کا رخ بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس سال بھارت نے پاکستان آنے والے پانی میں 70فیصد کمی کر دی جس کی وجہ سے گندم کی فصل شدید متاثر ہوئی۔ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے تربیلا بوڑھا اور منگلہ ڈیم ادھیڑ عمری میں پہنچ چکا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان میں ایک بڑے ڈیم کی ضرورت ہے۔ جو بیک وقت انسانوں اور جانوروں کے پینے اور فصلوں کی سیرابی کی ضروریات پوری کر سکے۔ اس حوالے سے کالاباغ ڈیم سے بہتر کوئی منصوبہ نہیں ہو سکتا۔ اس ڈیم کی منصوبہ بندی 1972ء میںتربیلا ڈیم کی تکمیل کے ساتھ ہی کر لی گئی تھی۔ بعدازاں یہ سیاسی ایشو بنا اور اس کی تعمیر لٹکتی چلی گئی۔ صدر مشرف 9 سال تک آل ان آل رہے۔ ان کے حواری سیاستدان و رفقاء اور جنرل ضیاء الحق بھی ساڑھے گیارہ سالہ اقتدار پر قابض رہنے کے باوجود ا س کی تعمیر شروع نہ کروا سکے۔ دراصل آمر حکمران ہمیشہ قومی سلامتی کے حامل منصوبوں سے مخلص کم اور سیاسی ایشو بنا کر عوام کو بے وقوف بناتے رہے۔ان آمروں کے حواری آقائوں کے اشارے پر دم ہلاتے چلے آتے تھے۔ ان کی نیت صاف ہوتی تو کالا باغ ڈیم کب کا بن چکا ہوتا اور آج ملک ایک میگا بحران کا شکار نہ ہوتا۔ بدقسمتی سے ہماری عوامی اور جمہوری حکومت کو اس منصوبے کے خاتمے کا اعلان جن حالات میں کرنا پڑا ان میں ہمارے لیے کوئی آپشن موجود ہی نہیں تھا۔ بجلی اور پانی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف اس منصوبے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے زیادہ وفاق اہم ہے۔ ا ن کی اس دلیل سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہماری حکومت بنے ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ کالاباغ ڈیم کے منصوبے کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔ حالانکہ یہ انتہائی فیصلہ اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکامی کی صورت میں اگر کیا جاتا تو ملک کے ایک بڑے طبقے کو اس کا جواز بھی مل جاتا۔مگر کون سی ایسی مجبوری تھی کہ جس کے تحت پنجاب کو اعتماد میں لیے بغیر ایک ایسے منصوبے کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا گیا جس پر برسوں سے کام جاری تھا اور اپنے وقت کا کوئی آمر اس کو ختم کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔پورے پاکستان میں ایسی کوئی سائٹ نہیں جو کالاباغ ڈیم کا متبادل ہو۔ بھاشا سمیت جتنے ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی ہے وہ سب اس کی نسبت کہیں چھوٹے ہیں اور ان کی تعمیر میں کم از کم دس سال کا عرصہ لگنے کا اندیشہ ہے۔ جبکہ کالاباغ ڈیم جو تیکنیکی اعتبار سے کافی منازل طے کر چکا ہے اس کو شروع کیا جاتا تو اس کے تین طرف پہاڑ اور ایک طرف دیوار بنا کر اس کو شروع کیاجا سکتا تھا۔ اگر آج بھی اس منصوبے پر عمل شروع کر دیا جائے تو اس پر زیادہ خرچ نہیں آئے گا کیونکہ سائٹ پر ٹرانسمشن لائن پہلے سے موجود ہے صرف بنیاد،پاور ہائوس اور سرنگ بنانا پڑے گی۔1985ء میں یہاں مشینری لائی گئی اور زوروشور سے کام شروع ہوا۔ دوسال بعد 1987ء میں اسے روک دیا گیا، حالانکہ سرحد اور سندھ کے تحفظات اس کی بلندی 925فٹ سے کم کرکے 915فٹ کرکے دور کر دیئے گئے تھے اس سے ڈیم کی صلاحیت 7.3 ملین ایکڑ سے کم ہو کر 6.2ملین ایکڑ رہ گئی۔ ابتدائی طور پر اس ڈیم سے 2400 سے 3600 میگاواٹ بجلی پیدا کی جانی تھی۔ صدر مشرف کے دور میں 8 رکنی ٹیکنیکل کمیٹی میں سے 7 ارکان نے اس کو قابل عمل منصوبہ قرار دیا تھا۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو اس کی تعمیر کے زبردست حامی تھے۔ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ اور چیئرمین واپڈ شمس الملک بھی ا س کی تعمیر کو ناگزیر قرار دیتے تھے۔ آج کل بھارت گارگل میں 60ملین ڈالر کی لاگت سے ڈیم بنانے کی تیاری کر رہا ہے سندھ طاس منصوبے کے مطابق دریائے سندھ پر جو ملک پہلے ڈیم بنا لے دوسرا نہیں بنا سکتا اس لیے بھی کالاباغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر تھی۔ دوسرے صوبوں کو پنجاب کے حوالے سے تحفظات ہیں وہ ہر قربانی پنجاب سے مانگتے ہیں۔ جس سے پنجاب نے کبھی گریز اور دریغ نہیں کیا۔ آج پنجاب کی زندگی کے مسئلے پر چھوٹے بھائیوں کو اب وقت ضرورت بڑے بھائی کے لیے اگر قربانی دینا پڑے تو پھر بڑے بھائی جیسا سلوک کیوں نہیں؟ آج پیپلز پارٹی کی حکومت ہے تو اس نے صوبہ سرحد کا نام اپنے کولیشن پارٹنر کی مرضی اوران کے مطالبے پر پختونخواہ رکھ دیا۔ ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں صرف مفاہمت کی وجہ سے شامل کر لیا۔ ان صوبوں کی بھی کچھ ذمہ داری ہے۔ وہ بھی تھوڑے سے ایثار کا مظاہرہ کریں۔ بجلی تو ان کو تھرمل پاور براجیکٹس سے مل جائے گی لیکن پانی کا علاج صرف ڈیم اور وہ بھی کالاباغ ڈیم ہے۔ دوسری صورت میں بلھے شاہ ؒ،باباغلام فرید ؒ اور دلھے بھٹی کا پنجاب اور اس کی آئندہ نسلیں قحط اور بھوک سے اس صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔اور ہرابھرا پنجاب افریقہ اور سوڈان کا نقشہ پیش کرے گا۔اور یہ بھی کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ کوئلہ سے 2 سو سال تک آسانی سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ لیکن پانی سے بننے والی بجلی کوئلہ سے بننے والی بجلی سے کہیں زیادہ سستی ہے جس کا اثر انسان کی روزمرہ کی ضروریات اور قیمتوں کے اتارچڑھائو پر پڑتا ہے۔ میں اپنے شریک چیئرپرسن جناب آصف علی زرداری صاحب کی دانش و فراست کااس قدر معتقد ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس پارٹی اور جناب شریک چیئرپرسن صاحب کے لیے وقف کر دیا۔میری ان سے التماس اور بحیثیت پاکستانی درخواست ہے کہ کالاباغ ڈیم منصوبہ جس کی فزیبلٹی کی تیاری میں اربوں روپے صرف ہوئے اور ابتدائی تیاری کے دوران اربوں روپوں کی مشینری اسٹاف کے لیے عمارتیں،لیبارٹری اور آفسز بنا کر اس ملک کا اربوں روپیہ نظر کیا جا چکا ہے اس منصوبے کو ختم کرنے سے پہلے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی جس میں چاروں صوبوں کو نمائندگی ہوتی اور پھر یہ منصوبہ ناقابل تکمیل ہوتا تو اس کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا جاتا۔پنجاب جو دوسرے صوبوں کے لیے ہمیشہ قربانی دیتا آیا ہے اس کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جاتا۔خدارا اس منصوبے کو سیاست کی نظر نہ ہونے دیں۔ بڑے لوگ تو قحط سالی کی صورت میں یورپ اور امریکہ چلے جائیں گے لیکن اس ملک کی باقی سارے سترہ کروڑ عوام یہی جئیں اور یہی مریں گے۔ ہمارے محترم وزیر پانی و بجلی اپنے کالاباغ ڈیم منصوبے کے ختم کرنے کا اعلان بجلی کے بحران پر قابو پا لینے کے بعد کرتے تو پھر شاید پنجاب کے متاثرین کی اشک شوئی ہو جاتی۔ لیکن جب ایک طرف 8سے 12گھنٹے روزانہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور دوسری طرف ہوش ربا گرمی کھیت کھلیان سوکھے نہریں اور دریا تسنہ لب کارخانے بند ٹیوب ویل بند ہو چکے۔ بس اب غریبوں کے سانس بند ہونا باقی ہیں۔ ایسے میں کالاباغ ڈیم منصوبے کے ختم کرنے کا اعلان دراصل پنجاب کے غریبوں سے ان کے خواب چھیننے لینے والی بات ہے۔ بے شک عوام یہ جانتے ہوئے بھی کہ صحرا کے اندر چمکتی ریت دور سے پانی کی جھیل نظر آتی ہے اور اس سراب کو اپنی امید اپنی منزل سمجھ کر سوکھے لبوں کے ساتھ مزید سفر کر لیتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus