×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شیر اور بھیڑیئے کے درمیان
Dated: 12-Jun-2008
مارشل لاء اور جمہوریت ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں نہ آمریت اور جمہوریت کا کوئی تال میل ہے۔ 18 فروری کو واضح عوامی مینڈیٹ کے باوجود جمہوری حکومت کے ساتھ ساتھ آمریت کا پرتو بھی موجود ہے۔ جو پارٹی پالیسیوں کے نفاذ کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ یوں سمجھنا چاہیے کہ اتحادی حکومت کو انتخابات میں واضح برتری کے باوجود ٹرانسفر آف پاور نہیں ہو سکی۔ اب اسٹیبلشمنٹ اور کچھ پارٹی رہنمائوں کی خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی صدر پرویز مشرف کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر چلے۔ جواز یہ پیش کیاجا رہا ہے بلکہ ڈرایا جا رہا ہے کہ نواز شریف اتحاد میں موجود رہے تو مضبوط ہوتے چلے جائیں گے۔ جس سے پیپلز پارٹی کو خطرہ ہے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) سمیت کسی بھی پارٹی سے خائف ہونے کی ضرورت نہیں ان کا الگ منشور ہے۔ الگ ایجنڈا ہے۔ انہوں نے اپنی کارکردگی اورپیپلز پارٹی نے اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ لینے ہیں۔گذشتہ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کا اتحاد نہیں تھا اکثر سیٹوں پر دونوں پارٹیوں کے امیدوار مقابل تھے البتہ مفاہمت کی فضا ضرور موجود تھی جس کی ابتدا محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے کی تھی جس کو پروان چڑھانے کے لیے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور قائد مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کا کردار اہم ترین ہے۔ اس مفاہمت کو چند امور پر چھوٹے موٹے اختلاف رائے کے باوجود دونوں پارٹیاں آگے لے کر چل رہی ہیں۔ کوالیشن برقرار رکھنے کے لیے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے جس ایثار اور بردباری کا مظاہرہ کیا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ انتخابات میں قوم نے منقسم مینڈیٹ دیا تھا۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کو (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر مرکز اور پنجاب میں حکومتیں بنانے کے لیے دبائو کا سامنا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے ایسے مشوروں کو،تجویزوں کو جوتے کی نوک پر رکھا۔ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی بات مان لیتی تو آج پنجاب میں بھی اس کی حکومت ہوتی لیکن پیپلز پارٹی نے بے اصولی کی سیاست پر لعنت بھیجتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے قیام کا راستہ ہموار کر دیا۔ ملک میں پہلی سیاسی کشیدگی کے بجائے بہترین مفاہمت کی فضا دکھائی دے رہی ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق پیپلز پارتی سے مایوس ہو کر ’’آقائوں‘‘ نے نوازشریف کو بھی مشورہ دیا کہ وہ پیپلز پارٹی سے الگ ہو کر مرکز اور پنجاب میں حکومت بنا لیں تو انہوں نے بھی اس تجویز کو ٹھکرا دیا۔ ججوں کی بحالی کے معاملات پر گو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان کچھ معاملات الجھے ہوئے ہیں جس پر مسلم لیگ (ن) نے مرکز میں وزارتیں چھوڑ دی ہیں اس کے باوجود حکومتی اتحاد باقی ہے۔ وزارتیں چھوڑنے کے باوجود مسلم لیگ(ن) کا پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑا رہنا خوش آئند اقدام ہے۔ جس کا پیپلز پارٹی دل سے احترام کرتی ہے۔ ایک طرف ہمیں مسلم لیگ (ن) جیسی مفاہمت پسند پارٹی کی تائید اور حمایت حاصل ہے تو دوسری طرف صدر مشرف کے ساتھ دوستی کا ہاتھ ملانے کی تجویز اور مشورہ دیا جا رہا ہے۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے جمہوریت کو قتل کیا۔ آصف علی زرداری کی 99 کے بعد قید ان کی مرہون منت تھی۔ بے نظیر بھٹو شہید کو جبری جلاوطن رکھا گیا۔ جعلی اسمبلیوں سے ووٹ لے کر 2012تک صدارت کے منصب پر برقرار رہنے کی ضد کی جا رہی ہے۔ عدلیہ کا ایسا بحران پیدا کیا جو آج جمہوری حکومت کے گلے پڑا ہوا ہے۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے شمالی علاقہ جات جل رہے ہیں۔ ملک کو امریکہ کی کالونی بنا کر رکھ دیا گیا۔ لال مسجد سے آج بھی معصوم بچوں کی آہ و بکا کی آوازیں آ رہی ہیں۔ بہترین ادارے اونے پونے داموں بیچ دیئے گئے۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ لٹا بٹا اور مقروض ملک جمہوری حکومت کے حوالے کیا گیا۔ مہنگائی اور لاقانونیت کا ہر طرف دور دورہ تھا۔ کالا باغ ڈیم جو آسانی سے بن سکتا تھا اسے مزید متنازعہ بنا دیا گیا ملک کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا گیا۔ ایسے میں مسلم لیگ (ن) جسے کوالیشن پارٹنر کی نیت پر شک کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو اپنے سے دور کرنے والی بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں اور پاکستان کے سارے عوام بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ساٹھ سال کے بعد جو پاکستان ہمارے پاس ہے وہ اب ایک ادھیڑ عمر شخص کی طرح مدبر بن جانا چاہیے نا کہ ہم اس وقت تجرباتی عیاشیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔پاکستان اپنی ابتدا سے لے کر آج تک خونخوار بھیڑیوں کے جنگلوں میں پھنسا رہا جو اس کا خون نچوڑ کے اپنے غیرملکی اکائونٹوں کی پیاس بجھاتے رہے۔ آج اس ملک کے سرمایہ دار،جاگیردار طبقہ اس ملک کے اندر ان دونوں پارٹیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیںاور ان طبقات کو فوج کی مکمل حمایت حاصل رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ورکر کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ پرویز مشرف کے ہاتھوں میں ہاتھ کیسے ڈال سکتا ہے۔ ہمارے ایک طرف شیر ہے جس کے کچھ اصول ہیں جو بادشاہی کے گُر جانتا ہے جو دوسروں کی عزت کرنا اور اپنی کروانا جانتا ہے جو کبھی مردار نہیں کھاتا بلکہ اپنے ہاتھوں سے شکار کرکے لطف اندوز ہوتا ہے۔ جبکہ ہماری دوسری طرف ایک خونخوار بھیڑیا ہے جس کے ہاتھ باجوڑ سے لے کر لال مسجد اور ملک کے کونے کونے میں بسے پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جو انسانوں کے اس جنگل میں کسی کو بھی اٹھا کر لے جاتا ہے اور غائب کر دیتا ہے جس کا کام چیڑ پھاڑ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ ہم کیوں خود کو ایسے شخص کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں جو انتہائی ناقابل اعتبار ہے۔ چند دن پہلے امریکہ کے ہی ایک موقر جریدے نے جو بین الاقوامی سروے کروایا ہے اس کے مطابق اس کا ناقابل اعتبار ترین اشخاص کی لسٹ میں اس کا نمبر ون ہے۔ جس کا ہر وعدہ جھوٹا ثابت ہوا۔ اور وہ اپنے جھوٹ پر کبھی پشیمان بھی نہیں ہواجسے موقع ملے تو وہ ابھی جمہوریت کو بار بار قتل کرنے سے گریز نہ کرے اور سیاستدانوں کو رسوا کرکے ان کا امیج اس حد تک گِرا دے کہ پاکستان کی نئی نسل پہلے سیاستدانوں اور بعد میں جمہوریت سے نفرت کرنے لگے۔ یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus