×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ریلوے بستر مرگ پر اور حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی
Dated: 09-Dec-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک ریلوے سروے کے مطابق سالانہ تقریباً دس کروڑ لوگ پاکستان ریلوے سے سفر کرتے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو بغیر ٹکٹ سفر کرنے کے عادی بن چکے ہیں اور قریباً ایک کروڑ مسافر یا تو ٹکٹ نہیں خریدتے یا پھر ریلوے کنٹریکٹر سے ملی بھگت کرکے اپنا سفر سستا بناتے ہیں۔ آج پاکستان ریلوے تباہی کے دہانے پر نہیں کھڑی بلکہ بسترِ مرگ پر آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ ریلوے کی حالت کی ذمہ دار یقینا موجودہ انتظامیہ ہے ہی مگر کچھ دیگر عوامل بھی ہیں، جن کی وجہ سے آج حالات یہ ہیں کہ لاکھوں ملازمین اور اربوں کے بجٹ کے ساتھ بھی یہ ادارہ معذوری کی حالت میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان کے وقت بنے انگریز دور کے متعدد ریلوے کے نہری و دریائی پُل اپنی عمریں پوری کر چکے ہیں۔ ہم نے خود بچپن میں دیکھا ،مثال کے طور پر سیالکوٹ ہیڈ مرالہ یا وزیر آباد ہیڈ کی طرف ریلوے لائنیں انگریز دور میں بچھائی گئی تھی مگر آج اس کا نام و نشان پٹری سمیت ناپید ہے اور ایسی کئی ریل کی پٹریاں کئی سٹیل ملوں کی بھٹیوں میں عمارتی سریے میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ پورے پورے ریلوے انجن تک لوہے کی بھٹیوں کی نذر ہو چکے ہیں مگر پاکستان ریلوے کو سب سے زیادہ نقصان ضیاء الحق کے دور میں اس وقت پہنچایا گیا جب نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) کا قیام عمل میں لایاگیا اور ریلوے کی کمائی کے اصل وِنگ یعنی ریلوے کارگو کی بجائے سرکاری وغیرسرکاری کارگو اور شپنگ کو نیشنل لاجسٹک سیل کی طرف موڑ دیا گیا۔ دنیا بھر میں ریلوے کے محکموں میں پسنجر ٹرین مسافروں کو سہولتیں دینے کی غرض سے عوام کی سبسٹڈی دیتی ہیں اس لیے پسنجر ٹرینیں منافع حاصل نہیں کر پاتی۔ یورپ بھر میں کارگو ٹرینیں یعنی مال برادر ٹرینیں ریلوے کی ریڑھ کی ہڈی کا کام دیتی ہیں، جس سے نہ صر ف ملکی ٹریفک اور سڑکوں کا نظام متاثر نہیں ہوتا بلکہ سڑکوں کی توڑ پھوڑ اور مرمت پر اربوں روپے کی لاگت سے بچا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ تیس سالوں میں پاکستان کی سڑکوں پر افغان مہاجرین بمعہ اپنے ٹرالے اور کنٹینرز لے کر آگئے تھے، جنہوں نے پاکستان کی سڑکوں کے حلیے بگاڑ دیئے۔ 1979ء میں پاکستان افغان ٹریڈ ٹرانزٹ کے معاہدے سے بھی پاکستان ریلوے کے کارگو سسٹم کو نقصان پہنچا۔ ہزاروں ٹرالے اور کنٹینرز نے ریلوے کے نظام کو بُری طرح متاثر کیا۔ پھر پاکستان ریلوے کو دوسرے اداروں کی طرح یونین بازی نے بھی کافی تباہ کیا۔ عقل کے ناخن لینے کی بجائے اور یونین بازی کو مثبت انداز میں چلانے کی بجائے کچھ گروہوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ریلوے میں سیاست شروع کر دیا اور ہزاروں اَن ٹرینڈملازمین کا بوجھ ریلوے کی معیشت پر پڑ گیا اور اس بلیک میلنگ اور ووٹ بنک کے تحفظ کے لیے سیاسی حکومتیں اور آمرانہ حکومتیں اپنے وزراء اور ایم این ایز کو خوش کرنے کے لیے بھرتیاں جاری رکھتی رہیں۔ اس کے علاوہ جو ریلوے کو نقصان ہوا اورپسنجر ٹرین سسٹم کو وہ یہ ہوا کہ ضیاء الحق کے ہی دور میں بااثر سیاسی گھرانوں کو جن کا ٹرانسپورٹ کا بزنس تھا کوساتھ ملانے کے لیے ان کو غیر قانونی فیور دی گئی ا ور فیصل آباد کے ایک ٹرانسپورٹر کو جس کا بسوں کا مربوط نظام تھا کو پرائم ٹائم دے دیئے گئے اور جب تمام لوگ سفر پر جا چکے ہوتے تو فیصل آباد سے لاہور اور راولپنڈی کی ٹرین چلائی جاتی۔ اس کے علاوہ ڈائیووبس سروس نے بھی ریلوے کی زبوں حالی میں اپنا حصہ ڈالا۔ ڈائیووبس سروس کمپنی نے ریلوے کے متبادل کے طو رپر خود کو پیش کیا اور پھر ہمارے حکمرانوں نے اپنے مفادات کے لیے ایک غیرملکی کمپنی کو مکمل اختیار دے دیا کہ وہ دونوں ہاتھوں سے ملکی دولت لوٹ کر غیرممالک لے جا سکے۔اس کے علاوہ مشرف دور میں جب بغیر کسی سروے اور تجزیے کے سی این جی کی بھرمار ہوئی، بینکوں نے انتہائی آسان اقساط پر کاروں کی لیزنگ شروع کی تو پاکستان کی سڑکوں پر تو رش بھرا مگر ریلوے کے پسنجر ٹرین نظام کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ اس کے علاوہ مشرف کے ہی دور میں ہمسائیہ ممالک چین سے جو انجن درآمد کیے گئے وہ نہ صرف غیرمعیاری تھے بلکہ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کے مطابق بھی نہ تھے اور اکثر انجن چھوٹی موٹی پہاڑی تک گاڑی کو نہ کھینچ سکتے تھے۔ اس طرح اربوں روپے کا نقصان ملکی خزانے کو پہنچایا، بلکہ کچھ انجن ایسے تھے کہ جن کے مقابلے میں ہماری ریل کی پٹریوں کا سائز چھوٹا یا بڑا تھا۔ ان حالات میں طرفہ تماشا یہ کہ لاکھوں ایکٹر ریلوے کی املاک اور اراضی پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر اس میں صرف 30فیصد اراضی فروخت کر دی جائے تو پاکستان ریلوے کی نہ صرف حالت بدلی جا سکتی ہے بلکہ ہزاروں نئے انجن بھی خریدے جا سکتے ہیں اور پھر ریلوے کے اندر کرپشن مافیا کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ ایک سروے کے مطابق ریلوے کے ہر اسٹیشن پر کُلیوں، ٹھیلہ ریڑھی لگانے اور ریلوے ڈائنگ کار کے ٹھیکوں کی مد میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا سبب بنتے ہیں۔ جن کو ایک مربوط شفاف سسٹم کے ساتھ بروئے کار لا کر اس آمدن کا رخ ریلوے کے خزانے کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ جبکہ بڑے شہروں کے ریلوے اسٹیشنز پر کمرشل اراضی کو سرکاری استعمال میں لا کر پلازے اور شاپنگ مال بنائے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے یورپ بھر میں پچھلے دس سالوں میں ہر ریلوے اسٹیشن کو شاپنگ مال کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس طرح ہر شہر کے ریلوے اسٹیشنز پر کے ایف سی و میکڈونالڈ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو جگہ بیچ کر ریلوے کو آنے والی کئی دہائیوں کا بجٹ ایڈوانس دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف ریلوے اسٹیشن کی رونق بڑھ جائے گی اور ریلوے عوام کی توجہ حاصل کر سکے گا ۔موجودہ ریلوے مافیا نہیں چاہتا کہ عوام ریلوے اسٹیشنز کا رخ کریں تاکہ آئندہ چند برسوں میں وہ ریلوے لائن اور بے کار انجن تک بیچ کر کھا سکیں۔ اس وقت ریلوے کی مالی پوزیشن کچھ اس طرح ہے کہ پنشنروں اور موجودہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے اربوں کے فنڈز بھی موجود نہیں جبکہ ریلوے انجنوں کے لیے ڈیزل تیل کی خریداری کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ اور اس کے علاوہ ریلوے واپڈا کا اربوں روپے کا نادہندہ ہے، یہی وجہ ہے کہ چند روز پہلے پاکستان بھر کے ریلوے اسٹیشن رات کو تاریکی میں ڈوبے رہے۔ اور ملازمین لالٹینیں پکڑ کر انیسوں صدی کا منظر پیش کر رہے تھے۔جبکہ متعدد بوڑھے پینشنر سڑکوں پر دھکے کھاتے ہوئے پنشن کے حصول کی بجائے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے کو بچانے کے لیے سوموٹو ایکشن لیا ۔ ہفتوں کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چوہدری افتخار نے ریلوے احکام کو حکم دیا ہے کہ وہ سابق ریلوے منسٹر شیخ رشید احمد کے ساتھ ٹیکنیکل مشاورت کریں اور پھر ان تجاویزات کی موجودگی میں ریلوے کو پھر پیروں پر کھڑا کریں۔گذشتہ چند سالوں میں ریلوے انجنوں کو جعلی ڈیزل سے چلا گیا، اس جعلی اور ناقص ڈیزل کی بدولت اربوں روپے کے ریلوے انجن نقارہ ہوئے اور آج گلنے سڑنے کے لیے پڑے ہوئے ہیں۔ ریلوے کے موجودہ وزیر کے ایک اطلاع کے مطابق سینکڑوں نہیں ہزاروں بسیں اور ٹرالے ٹرکوں کا بزنس ہے۔ موصوف کیسے چاہیں گے کہ ریلوے کو مضبوط کرکے اپنے بزنس پر لات ماریں؟ موجودہ دور حکومت میں گذشتہ ساڑھے تین سالوںمیں موجودہ انتظامیہ نے ریلوے کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی شاید برسوں نہ ہو سکے؟ ریلوے پاکستان کا اساسی ادارہ ہے اس کو پاکستان توڑنے کی سازش کا الزام لگنے والی سیاسی پارٹی کے حوالے کرنا شیروں کی کھچار میں بکری پھینکنے کے مترادف ہے۔ریلوے کو ایک سخت اور پروفیشنل اور حب الوطنی کے جذبے سے معمور ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے اگر خدانخواستہ ریلوے اسی بُری طرح فلاپ ہوتا رہا تو پھر 20کروڑ عوام نہ صرف سستے سفری نظام سے محروم ہو جائیں گے بلکہ ایک اور وفاقی ادارہ ختم ہونے سے وفاق کی جڑیں مزید کھوکھلی ہو جائیں گی۔ شاید ہمارے عاقبت نااندیش حکمران یہی چاہتے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus