×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عمران خان، شاہ محمود قریشی صاحب۔کیا اقتدار کی تبدیلی کا نام انقلاب ہے؟
Dated: 29-Nov-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے جلسہ لاہور کو ایک ماہ ہو چکا مگر اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے مسلم لیگ ن کے راہنمائوں کو کافی وقت لگے گا شاید یہ مسلم لیگ ن کے راہنمائوں اور بڑوں کی سیاسی غفلت کا نتیجہ ہے۔ میاں محمد نوازشریف 3سال سے زائد عرصہ تک صدر مملکت کی سیاست کو سمجھ نہ سکے جبکہ اس دوران ملک کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے عزائم کے آگے سر نہ جھکا کر میاں نوازشریف نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا مگر سیاسی طور پر ایک ایسی ٹرین مسِ کر دی جو ہمارے ملک کے ہر اسٹیشن پر نہیں رکتی۔ قرین قیاس یہ ہے کہ اس ٹرین پر عمران خان سوار ہو چکے ہیں، جن کے پاس پندرہ سالوں کے تلخ تجربات کے سوا کچھ نہ بچا تھا۔ مینار پاکستان کے جلسے سے بہت پہلے جب پشاور میں ڈارون حملوں کے خلاف نکالی گئی ریلی اور دھرنا اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ ماضی میں بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پرچم تلے عمران خان اپنا کردار ادا کر چکے ہیں۔ جب اسی مینار پاکستان کے سبزہ زار پر 2002ء کے الیکشن سے بھی پہلے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ریفرنڈم کے لیے جلسہ کروایا تھا جس میں سہانے خوابوں اور سپنوں کے ساتھ مسمی عمران خان نہ صرف شریک ہوئے بلکہ جنرل پرویز مشرف کے حق میں دھواں دھار تقریر کر دی اور ریفرنڈم کو کامیاب کرانے کے لیے ’’فرشتوں ‘‘ کے ساتھ کمپین کرتے نظر آئے ۔ ماضی میں بھی ملک کے اکثر سیاست دانوں نے تھرڈ آپشن پر سرخم تسلیم کیا اور یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں 64سالوں میں آدھ درجن مارشل لائوں کے مہیب سائے لہراتے نظر آتے ہیں مگر ہر دفعہ انہی قوتوں کے زورِ بازو بننے پر فخر محسوس کرتے ہوئے ہمارے سیاست دانوں نے سیاست کو ایک ایسا کھیل بنا دیا ہے جس کی وجہ سے آج ملک بھر کے سیاست دانوں کو نہ صرف ندامت ہے بلکہ آنے والی ہماری نسلیں ہماری اس مجرمانہ خاموشی پر ہم سے سوال ضرور کریں گی ۔ ایک طرف محترم عمران خان صاحب کا اسلام آباد میں لال مسجد کے سانحہ اور پھر ڈارون حملوں کی مخالفت کی وجہ سے مذہبی و دینی قوتوں کے دلوں میں ایک ممتاز مقام حاصل کر چکے تھے جبکہ مختلف مواقع پر پاکستانی فوج کا امریکہ کے اگلی صفوں کے اتحادویوں میں شامل ہونے پر اعتراض کیا بلکہ امریکہ میں بھی عمران خان کو امریکہ مخالف لابی تصور کیا جاتا رہا مگر اقتدار کی چمک کا کرشمہ دیکھئے کہ جیسے ہی اسٹیبلشمنٹ کی چھتری میسر ہوئی پشاور کا دھرنا ،اسلام آباد کی ریلی، لاہور کا جلسہ کامیاب کروایا گیا۔ تو خان صاحب کے طرز تکلم میں ایک حیرت انگیز تبدیلی محسوس کی گئی ۔ موصوف امریکہ کے ساتھ دوستی کے بیانات پر اتر آئے کہ محترم عمران خان صاحب جانتے ہیں ،اقتدار کے لیے صرف ایک چھتری کی ہی نہیں بلکہ ’’اوپر‘‘ سے منظوری بھی ضروری ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ چند روز سے اس تبدیلی کو محسوس کرتے ہوئے ملک کے مذہبی حلقوں اور خصوصاً دینی قوتوں نے عمران خان صاحب پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ گذشتہ دنوں ایک حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوئی کہ ایک غیر محسوس طریقے کے ساتھ ملک بھر سے ایک ایسے طبقے کی بڑی تعداد نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی یا جن کو زبردستی ادھر بھیجا گیا ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو مشرف بہ اقتدار ہے یا مشرف دور میں ہونے والے الیکشنوں میں مشرف کی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر رہے۔ خاص طور پر سنٹرل پنجاب جہاں 2002ء کے الیکشن میں مشرف کے حواریوں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ منڈی بہائوالدین، گجرات، جہلم، چکوال، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، شیخوپورہ کے تقریباً مسلم لیگ ق کے سبھی ٹکٹ ہولڈروں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ گزشتہ چند دنوں سے یہ شنید ہے کہ اگلے الیکشنوں سے پہلے تحریک انصاف اور مشرف کی پارٹی اتحاد کر لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ روز رحیم یار خان سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اور بعدازاں ق لیگ میں شامل ہونے والے چوہدری ظفر اقبال وڑائچ نے جو کہ مشرف دور میں وزیر مملکت تھے تحریک انصاف میں شامل ہو کر بہت سی قیاس آرائیوں کو سچ ثابت کر دیا ہے۔پھر یہ کیا طرفہ تماشا ہے کہ 27نومبر کو سندھ و پنجاب کے سرحدی قصبہ گھوٹکی میں ہونے والے جلسہ عام میں پیپلزپارٹی کے سابق راہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل پرویز مشرف کے دور اور اس کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے مشرف کی ملتان آمد پر بحیثیت ضلع ناظم استعفیٰ دے دیا تھا(یاد رہے اس دوران عمران خان مشرف کے ریفرنڈم کی کمپین کر رہے تھے) اپنی تقریر میں عمران خان صاحب نے مسلم لیگ ن کو للکارا جبکہ شاہ محمود قریشی نے مسلم ق کے ساتھ صدر زرداری کو رگڑا دیا بلکہ دوران تقریرچند موقعوں پر نازیبا الفاظ استعمال کیے حتی کہ گالیاں تک دیں۔ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ پہلے تو زرداری صاحب ق کو قاتل لیگ پکارتے تھے آج نہ صرف مسند اقتدار پر وہ وہی ق لیگ کو پہلو میں بٹھائے نظر آتے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف اسی جماعت کے سابقہ ٹکٹ ہولڈروں کو اپنے ساتھ ملا کر نہ جانے کونسے انقلاب کی باتیں کرتے ہیں؟یہ کیسا انقلاب ہے جس میں شامل ہونے والے تقریباً 80فیصد لوکل سیاست دانوں کا شمار مشرف کے حواریوں میں ہوتا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی چھتری عمران خان کے سر پر دیکھ کر جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔ یقینا مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں سے بھی کچھ مایوس حضرات اپنی اپنی صفوں سے بچھڑ کر اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے ہیں جو گنگا کرپشن کی غلاظت سے آلودہ ہے آج کے اس ترقی یافتہ اور میڈیا کے دور میں بھی یہ تصور کر لینا کہ حقیقت کو زیادہ دیر چھپایا جا سکتا ہے یہ حماقت ہی خیال کی جا سکتی ہے؟ گھوٹکی کے ایک ہی جلسہ میں دومختلف الخیال لوگ دو مختلف سوچوں کے ساتھ دو مختلف زاویوں کے ساتھ اور دو مختلف فلسفوں کے ساتھ اورایک گیند کے ساتھ دو وکٹیں گرانے کی بات کرتے ہیں۔ ایک ایسے انقلاب کی بات کرتے ہیں جس میں غریب کو روشن مستقبل دیا جا سکے۔ مگر شاہ محومد قریشی جو کہ میرے دوست بھی ہیں کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ وہ کسی غریب کو گلے لگانے سے کتراتے ہیں اس سے ’’پورا ہاتھ ‘‘ ملانے سے گھبراتے ہیں جو اپنے سے کمتر کو انسان تو نہیں مگر مرید ضرور سمجھ سکتے ہیںجو ان کے گھٹنوں اور پیروں کو چھوئے مگر اپنا ہاتھ اپنے پیر کے ہاتھ سے نہ ملا سکے جبکہ دنیا بھر کے مہنگے ہوٹلوں میں قیام اور قیمتی لباس زیب تن کرنے والے یہ دونوں راہنما کونسا انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں؟ ان کی پہلی ہی ’’ہتھ جوڑی‘‘ میں ان کی تقریروں اور ان کا Objective آپس میں نہیں ملتا ۔ ایک ایوان اقتدار سے زخمی ہو کر صاحب اقتدار کو للکارتا ہے، دوسرا ماضی کی تلخیوں کا مداواصرف میاں برادران کی کردارکشی کرکے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میں نے لاہور کے جلسہ کے بعد سینکڑوں لوگوں کے ریمارکس سنے تھے کہ شاید تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے مگر گھوٹکی کے جلسہ میں شاہ محمود قریشی کے منہ سے گالیاں سن کر نہ افسوس اور نہ حیرت ہوئی کہ شاہ محمود قریشی پیپلزپارٹی میں شامل ہونے سے پہلے جو سیاسی تربیت حاصل کر چکے تھے یہ اسی کا شاخانہ تھا۔اور شاہ محمود کے چاہنے والے پاکستانیوں کو دُکھ ہوا کہ جن پتوں پر وہ تکیہ کیے بیٹھے تھے وہی ہوا دینے لگے؟ شاہ محمود قریشی صاحب دنیا میں ہر فن اور فنِ سیاست کے بھی کچھ آداب ہیں۔ میرے نزدیک : جو ڈوبنا بھی ہے تو اس طرح سے ڈوبو کہ آس پاس لہروں تک کو خبر نہ ہو آج ملک میں سیاست کی دکانداری لگانے اور سجانے کا وقت نہیں، آج امریکہ نیٹو اور ہمارے ازلی دشمنوں نے ہم پر حملے شروع کر دیے ہیں اور ہم آپس میں سیاسی گالم گلوچ کرکے اپنے دشموں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ ان بدلتے ہوئے حالات میں میاں برادران کو ’’پچ‘‘ سے باہر نکل کر کھیلنا ہوگاوگرنہ اب کہ مسلم لیگ ن کی ناکامی نظریہ پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لیے کسی سانحہ سے کم نہ ہو گی۔ سانحہ ڈھاکہ کے بعد ملک کی سرحدیں بدلیں، اب ملک کے نظریے اور سوچوں کو بدلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اور جب سوچیں جذبوں سے عاری ہوں تو پھر ’’پھیکے خربوزے‘‘ کا سا مزہ ہوتا ہے۔ اگر ملک کے موجودہ حکمرانوں نے بدلتے ہوئے حالات کا ادراک نہ کیا تو پھر ’’کل‘‘ دیکھنے کو شاید ہم اور وہ موجود نہ ہوں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus