×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور وراثت
Dated: 27-Dec-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو ہم سے بچھڑے 4سال ہو گئے۔ میں سر پکڑ کر بیٹھا ہوں کہ شہید محترمہ کے خون کے صدقے اقتدار میں آنے والوں نے میری پارٹی کو مقبولیت کے عروج سے پستیوں کی گرائی میں لا پھینکا ہے۔ آمریت کے سیاہ دور سے نجات ملی تو روشنیوں کی طلبگار قوم جمہوری دور میں بھی تاریکیوں میں بھٹک رہی ہے۔ سلطانی جمہور کے آغاز پر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بلند بانگ دعوے کرنے والوں کو جرنیلی آمریت کی بزدلانہ اور قومی خودمختاری و ملکی سلامتی کے خلاف پالیسیوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دینا چاہیے تھا لیکن منافقت کی سی مصلحت سے کام لیتے ہوئے نہ صرف سابقہ پالیسیوں کو اپنا لیا گیا بلکہ اس سے بڑھ کر قومی خودمختاری اور سالمیت کا سودا کر لیا گیا۔ اب رپورٹیں آ رہی ہیں کہ نہ صرف مشرف دور کے مقابلے میں ڈارون حملوں کی تعداد دس گنا ہو گئی ہے بلکہ ڈارون حملے مشرف کی منظوری سے ہوتے تھے، جمہوری دورمیں اس کا بھی تکلف نہیں کیا جاتا۔اب فوج نے مہمند ایجنسی میں نیٹو فورسز کے حملے میں 26فوجیوں کی شہادت پر نیٹو سپلائی بند کی اور شمسی ایئربیس خالی کرا لیا تو سیاسی اور عسکری قیادت کو شانہ بشانہ ہونا چاہیے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ آج سیاسی اور عسکری قیادت ایک دوسرے کے مدمقابل ہے۔ قصور ہر صورت میں سیاسی قیادت کا ہے۔جرنیلوں کو مدت ملازمت میں پے در پے اور طویل ترین توسیع کی روایت اسی حکومت نے قائم کی۔ اب ریاست کے اندر ریاست کا شکوہ کیوں؟ ایک طرف حکومت کو فوج سے شکوہ دوسری طرف قیامت خیز کرپشن کے باعث کچھ حلقوں کا فوج پر دبائو ہے۔ اب تک تو اس سب کے باوجود فوج کوئی بھی غیرآئینی اقدام سے گریز کر رہی ہے۔ اب بھی حکومت اچھی حکمت عملی اپنائے، کچھ دم خم کا مظاہرہ کرے اور پہلے خود کو آئینی حدود کا پابند کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہر ادارہ آئینی حصار میں نہ آ جائے۔ محترمہ کے بزعم خویش جا نشین خود میں ان جیسی صفات پیدا کریں تو جمہوریت دوست ماحول میں ہر بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔ افسوس شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے جبری سیاسی وارثوں نے ہر ادارے میں لوٹ مچا دی، ہر شعبے کو ڈبو دیا ہے۔ ان کی گورننس کو دیکھتے ہوئے جہاں ہر سچا جیالا دلبردشتہ ہے وہیں بھٹو خاندان کے شہدا کی روحیں بھی تڑپ رہی ہوں گی۔ یوں لگتا ہے کہ بھٹو کے مشن کی تکمیل کے نام پر آج کے وزیراعظم اور ان کی کابینہ ملکی خزانہ لوٹ کر غیرملکی بینک اکائونٹس کا حجم بڑھا رہے ہیں۔ اور ان کے بیٹے بیٹیاں اسلام آباد،لاہوراور کراچی جیسے شہروں میں کرپشن کی دکانیں کھول کرگاہکوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ اگر انتخابات میں عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیئے تو شاید بیسیوں سال تک پیپلزپارٹی دوبارہ اقتدار میں نہ آ سکے۔ جس پارٹی کو ضیاء الحق، نوازشریف اور فاروق لغاری تمام تر حکومتی مشینری ،پراپیگنڈے اور الزامات کی بنیاد پر ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے اس پارٹی کو بھٹو کے جا نشینی کا دعوی کرنے والے وزیراعظم نے اقتدار حاصل کرکے دفنا دیا۔ سب کچھ اس لیے ہوا کہ پارٹی کو وراثت خاندانی وراثت سمجھ لیا گیا، حالانکہ سیاست وراثت کا نہیں اہلیت کا نام ہے۔ پارٹی قیادت اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی تو پیپلزپارٹی آج مقبولیت کے ساتویں آسمان پر ہوتی۔ شہید بی بی کی عوام سے وہ کمٹمنٹ تھی جسے ہم عوامی میثاق کا نام دے سکتے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد وطن عزیز کون کون سی مشکلات کا شکار نہیں ہوا۔ غریبوں کو روٹی، کپڑا اور مکان کا منشور دینے والی پارٹی پچھلے 4سال سے اقتدار میں ہے مگر نہ یہاں روٹی ہے، نہ کپڑا ہے، نہ مکان ہے، چینی، کھاد، ادویات،گندم،سیمنٹ، بجلی، گیس کے بحران میں یہ قوم مبتلا ہے۔اس بدحالی کے دور میں کارخانے اور فیکٹریاں بندہو رہی ہیں، لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے، معیشت کی کمرٹوٹ گئی۔ غریب کسانوں کے پاس بوائی، کھاد اور بجلی کے بل کے لیے پیسے نہیں۔ کسان اور مزدور کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھیننے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ جیالے خودکوشیوں پر مجبور ہیں۔ جبکہ وزیراعظم کے سوٹ اٹلی اور فرانس سے تیار ہوکر آتے ہیں۔ جیالے پہلے نعرے لگاتے تھے کہ ’’بھٹو ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں‘‘ اب نعرے لگاتے ہیں کہ ’’بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں‘‘ آخر کب تک عظیم قائد اور محترمہ کے قاتل دندناتے پھرتے رہیں گے۔ اگر ہم اقتدار میں بھی رہتے ہوئے ان قاتلوں کو نہیں پکڑ سکتے تو پھر کب پکڑیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر جیالے کی زبان پر ہے۔ جیالے جب شہید بی بی کے قاتلوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو اندر کی خبر رکھنے والے جیالوں کی آنکھوں کے سامنے جو تصویریں گھومتی نظر آتی ہیں ان کو دیکھ وہ شرمندگی سے نظریں جھکا لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ان کی آنکھوں میںآنسو اور لبوں پر یہ شعر آ جاتا ہے: دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی یہ سچ ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر بھٹو شہید کی سیاسی تربیت کی۔ شملہ معاہدے سمیت بے شمار غیرملکی دوروں پر ان کو ساتھ لے کے گئے۔ بے نظیر کم ال سنگ اور چواین لائی اور ماوزے تنگ جیسے لیڈروں کے ساتھ بھٹو کی ملاقاتوں میں بھی موجود ہوتی تھیں۔ بڑی اولاد ہونے کے ناطے انہیں ماں اور باپ دونوں کا پیار اور اعتماد حاصل تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ان میں بے پایاں سیاسی صلاحیتیں دیکھ کر ان کو سیاست کے رموز سے آگاہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد محترمہ نصرت بھٹو کو پارٹی کا چیئرپرسن بنایا گیا تھا۔بعدازاں بھٹو کے دیرینہ ساتھیوں نے بے نظیر بھٹو جو اس وقت جواں سال تھیں،86ء میں جب وہ لندن سے واپس آئیں تو ان کو پارٹی کی شریک چیئرپرسن بنا دیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہلیت کی بنیاد پر بھٹو وراثت ان کی بیٹی کو ملی یہ بات تو سمجھ آتی ہے۔ اب جیالے یہ بحث کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ بھٹو کے پوتے ذوالفقار بھٹو جونیئر اور فاطمہ بھٹو کے ہوتے ہوئے داماد اور نواسہ وارث کیسے بن سکتا ہے؟ اگر یہ گردش زمانہ کے باعث وارث بن ہی گئے تو کیا انہوں نے اپنے آپ کو بھٹو کی جانشینی کا اہل ثابت کیا ہے؟ بلکہ اکثر جیالے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاست میں وراثت نہیں ہوتی۔ تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو مشہور فلسفوں کے بانیوں کی اولادیں ان کے نظریات کی وارث نہ بن سکیں۔ خود قائداعظم محمد علی جناح نے تو اپنے خاندان کے کسی فرد کو سیاست کے قریب تک نہ آنے دیا۔ نیلسن منڈیلا اور مہاتیر محمد موجودہ دور کے کامیاب ترین اور اہم ترین عالمی لیڈر ہیں انہوں نے بھی اپنی اولاد کو سیاسی وراثت نہیں سونپی۔ پاکستان کی مروجہ سیاست میں باپ کے بعد اولاد، بھائیوں اور بہنوں کو سیاسی وراثت کی روایت چل نکلی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں لغاری، مزاری، وٹو، ٹوانے، راجے ،چودھری،اپنی سیاست کو’’گدی نشینی‘‘ سمجھتے ہیں۔ کچھ عاقبت نااندیش صدر پاکستان آصف علی زرداری کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ خود کو بھٹو کے سیاسی نظریات ،فلسفہ کا سب سے بڑا محافظ ظاہر کریں۔ اسی لیے زرداری صاحب نے خود کو بھٹو کا روحانی بیٹا قرار دیا تھا۔حالانکہ بھٹو کے نظریات اور فلسفے پر بہت سے لوگ زرداری صاحب سے کہیں بڑھ کر پیروکار اور محافظ ہیں۔ زرداری صاحب تو کہیں بعد میں پارٹی میںآئے۔ آج ایسے لیڈروں کی کمی نہیں جو پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھتے وقت بھٹو کے ساتھ تھے۔ سیاست کوئی لمیٹڈ کمپنی نہیں جس میں باپ کے بعد بیٹا اور پھر اس کا بیٹا وارث ٹھہرے۔ کسی کا نام اپنا کر وارثت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ بے نظیر بھٹو ایک عظیم لیڈر اور جہاندیدہ خاتون تھیں۔ وہ اپنی زندگی میں چاہتیں تو بلاول کے نام کے ساتھ بھٹو لگا سکتی تھیں۔ اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھٹو بن ہی گئے تو اب انہیں اپنے نانا کے نام کی ناموس رکھنی ہو گی۔اور ان کی ساتھیوں کو جو ان کی شہید ماں کے جانثار تھے منا کر واپس لانا ہوگا۔بے نظیر نے خود کو سیاسی میدان کا راہوار ثابت کرکے خود کو بھٹو کے نظریات و فلسفے کی وفادار اور حقدار ثابت کیا تھا۔ اسی سبب اکثر جیالے بے نظیر سے منسوب وصیت کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آصف زرداری کی طرح کروڑوں جیالے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بھی بھٹو کے جا نشین ہیں۔ایک محفل میں کچھ دوست کہہ رہے تھے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے خیرخواہوں اور بھٹو ازم کے ماننے والوں کو سیاسی پردہ سکرین غائب کرکے خود جا نشینی کا دعویٰ کوئی حیثیت و اہمیت نہیں رکھتا۔بی بی کی شہادت کے آج 4سال بعد میرے پاس ملک کے 18کروڑ عوام کے سوالوں کے جواب نہیں کہ ہر سال شہید بی بی کے جنم دن اور یومِ شہادت کے موقع پر کسی اور ملزموں کی گرفتاری کے متعلق چند بیان دے کر معاملے کو دبا دیا جاتاہے۔ آپ محترمہ کے سیاسی وارث بننے سے قبل ان کے خاندانی وارث تو بن کر دکھایئے۔ ایسا ہوتا تو آج محترمہ کے قاتل اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے، نہ صرف سیاسی مخالفین بلکہ پارٹی کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ محترمہ کے قاتلوں میں ان کے باظاہر بااعتماد ساتھی بھی شامل ہیں جو محترمہ کو تڑپتا چھوڑ کر محترمہ کی دوسری بلٹ پروف گاڑی بھگا کر لے گئے۔ بھٹو کی جانشینی کا دعوی کرنے والے یہ تو بتا دیں کہ بھٹو صاحب نے سٹیل مل، ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس جیسے ادارے بنائے اور دیگر موجود اداروں کو مضبوط کیا۔ گذشتہ 4سال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھٹوکے جانشین ثابت ہوتے ہیں؟ریلوے، پی آئی اے، سٹیل مل جیسے ادارے کا بیڑہ غرق ہو گیا اور کونسابحران ہے جس کے عذاب میں ملک و قوم مبتلا نہیں۔ شہید باپ بیٹی تو دیانتدار تھے، یہ کرپشن کرپشن اور کرپشن کس کی جانشینی ہے۔فوج کے ساتھ محاذ آرائی اور کرپشن میں وزیراعظم اور ان کی کابینہ ہراول دستہ ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus