×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پُل صراط سے واپسی
Dated: 01-Jan-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com 9دسمبر کو رات کے پچھلے پہر مجھے میری بیٹی ماہ نور نے ٹورنٹو سے فون کرکے یہ اطلاع دی کہ ’’ماما‘‘ کو ہسپتال میں ایڈمٹ کر لیا گیا ہے۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ چیک اپ کے لیے گئے تھے مگر میڈیکل سنٹر والوں نے انہیں ہسپتال ریفر کر دیا ہے۔میرے لیے یہ خبر کسی شاک سے کم نہ تھی اور میں سوچنے لگا کہ میں اپنے بچوں سے ہزاروں میل دور ہوں اور ان کے پاس صرف ایک ماں ہی تھی جس کے ہسپتال میں ایڈمٹ ہونے سے میرے کم عمر اور معصوم بچے اکیلے رہ گئے ہیں۔میری بیوی اور بچے گزشتہ دو سال سے اپنی ہی پارٹی کے دورِحکومت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان لوگوں نے جنہوں نے راہِ جمہوریت میںکوئی کردار ادا نہیں کیا تھا وہ سب لوگ اس وقت ایوانِ اقتدار میں صاحبِ اقتدار کے گرد حصاربنائے ہوئے ہیں۔ خود صدرِ مملکت کو بھی جب کہیں میں نظر آ جائوں تو یاد رکھتے ہیں ورنہ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی مطلوب وڑائچ ہے جس نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو مردِ حُر آصف علی زرداری اور راہِ جمہوریت میں قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔مجھے آج بھی یاد ہے جب سوئٹزرلینڈسے سینیٹر آصف علی زرداری کی ایماء پر مجھے پاکستان بلایا گیاتو مجھ سے سینیٹ کے قائدحزب اختلاف کے چیمبر میں بغلگیر ہوتے ہوئے آصف علی زرداری صاحب نے کہا کہ ’’مطلوب خدا نے تمہیں میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے۔‘‘اب تمہیں ہو جو مجھے ان مشکلوں اور کیسوں سے نکال سکتے ہو ۔اور پھر سینیٹر آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کی پاداش میں جب مجھے اڈیالہ جیل میں ان کے ساتھ پابندِ سلاسل کیا گیا تو ایک دن اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے آصف علی زرداری صاحب نے دورانِ گفتگو کہا کہ مطلوب تم نے میرے لیے خود کو مشکلوں میں ڈالااور اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میرا ساتھ دیا ۔میرا کوئی اور بھائی نہیں اور آج سے تم میرے ’’حقیقی بھائی‘‘ ہو اور پھر میں نے جیل سے ضمانت کے بعد ایک ڈرامائی طریقے سے پاکستان چھوڑا ۔ اس دوران شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی جلاوطنی پر جا چکی تھیں۔ میں نے محترمہ کو جوائن کرکے سینیٹر آصف علی زرداری کی رہائی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دی۔ جلاوطنی کے دوران ایک دن شہید محترمہ نے لاس اینجلس میں ایک دوست کے گھر بیٹھے ہوئے کہنے لگیں کہ مطلوب آج ہمیں ہمارا آخری Lobbist بھی چھوڑ کر چلا گیا ہے اور اس نے یہ کہا ہے کہ محترمہ میں جہاں بھی آپ کے لیے بات کرنا چاہتا ہوں آگے سے مدمقابل دونوں ہاتھ اٹھا کر ’’نو نو نو‘‘ کہہ کرروک دیتا ہے اور مجھ سے کہا کہ مطلوب اب تم کچھ کرو۔ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ میں نے اپنے تعلقات اور وسائل استعمال کرتے ہوئے نہ صرف شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں اعلیٰ سطحی میٹنگز Arrange کیں۔ بلکہ امریکن پینٹاگون اور اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم میٹنگز بھی کروائیں اور پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش اور حکم پر پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم صاحب اور پھر محترمہ ہی کی خواہش پر پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف کی میٹنگز بھی امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ و پینٹاگون اور اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطح پر کروائیں۔ یہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی مجھ پر اعتماد کی انتہا تھی کہ انہوں نے اپنے خلاف سوئٹزرلینڈ میں زیر سماعت سوئس کیسز کی پیروی کا اعزاز بخشا اور مجھے ان کیسوں کا نگران مقرر کیا۔صدر مملکت خود اس چیز کے گواہ ہیں کہ جو ڈیوٹی انہوں نے میرے ذمے لگائی وہ فرض سمجھ کر نہ صرف میں نے نبھائی بلکہ کامیاب و کامران بھی ٹھہرا۔مگر کیا وجہ ہے؟ شہید محترمہ کی شہادت کے بعد یکدم دوستیوں کا موسم بدل گیا۔ جمہوریت کی پکی پکائی دیگ پر سیاسی کوّے اور ابن الوقت گدھ ، اور چیلیں منڈلانے لگے۔یہ آصف علی زرداری اور شہید محترمہ سے وفاداری کی انتہا ہے اور حکومت پاکستان کا ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ مجھے مشرف حکومت نے کئی مرتبہ وفاقی وزارتوں اور اعلیٰ ایڈمنسٹریٹو عہدوں کی پیشکش کیں جنہیں میں نے راہِ جمہوریت اور شہیدِ جمہوریت سے بے وفائی سمجھتے ہوئے ٹھکرا دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی قیادت اور ’’میرے بھائی‘‘ کی بے وفائی دیکھتے ہوئے میں نے خود کو لکھنے پڑھنے کی طرف متوجہ کر لیا۔ اسی دوران مجھے اور میرے بچوں کو سٹیٹ سٹیک ہولڈر اور نان سٹیٹ سٹیک ہولڈر ایجنسیوں اور عسکریت پسندوں کی طرف سے دھمکیاں ملنی شروع ہوئیں اور متعدد بار مجھ پر قاتلانہ حملے ہوئے اور میرے بچوں کو سکولوں سے جبراً خارج کر دیا گیا ۔تو میں نے صدر مملکت اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو متعدد بار اس بات سے آگاہ کیا اور جب میری تمام وفائوں کے بدلے مجھے صدر مملکت کی پولیٹیکل سیکرٹری محترمہ رخسانہ بنگش کی طرف سے ’’کورا کورا‘‘ جواب ملا تو ان کی اس تحریر کو میں نے شہید محترمہ ،صدر مملکت آصف زرداری اور جمہوریت کے لیے کی گئی اپنی ان گنت کاوشوں کا ’’گولڈمیڈل‘‘ سمجھ کر محفوظ کر لیااور اپنے کمسن اور معصوم بچوں کو خود اپنے ہاتھوں جلاوطنی کا عذاب سہنے کے لیے ہزاروں میل دور چھوڑآیا۔ آج بچوں کی دو سال جلاوطنی کے بعد 13دسمبر کی علی الصبح اخبار کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے برین ہیمرج(Brain Hammeridge)کا اٹیک ہوا اور میں ہفتہ بھر ہسپتال میں آئی سی یو(ICU)میںزیر علاج رہا اور اللہ کی مہربانی ، دوستوں اور چاہنے والوں کی دعائوں اور پروفیسر ڈاکٹر سعید اور بہت سے دیگر ڈاکٹروں و پیرامیڈیکل سٹاف کی انتھک کاوشوں سے میں فی الحال موت کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔یہی وہی دن تھے جن دنوں صدر مملکت بھی بالکل اس سے ملتی جلتی کیفیت کے باعث دبئی زیر علاج تھے اس پہ کچھ دوستوں نے بڑے خوبصورت تبصرے کیے۔ ایک اینکرپرسن نے اپنے پروگرام میں کہا یہ کیسی محبت ہے کہ آصف زرداری جیل میں تھے تو مطلوب وڑائچ ان کے پیچھے جیل پہنچ گئے۔ اب آصف زرداری بیمار ہوکر دبئی پہنچے تو مطلوب وڑائچ بھی بیمار ہو کر دبئی نہ سہی مگر دبئی والوں کے ہسپتال(شیخ زید) پہنچ گئے۔ ایک اور سینئر اینکر اور کالمسٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مطلوب وڑائچ پیپلزپارٹی کا جاوید ہاشمی ہے۔ جس پر میں نے اسے فون کرکے کہا کہ مبشر بھائی مسلم لیگ کا جاوید ہاشمی تو پارٹی چھوڑ کے چلا گیا۔ شاید مطلوب وڑائچ کی پارٹی کی قیادت کو یہ قوی یقین ہے کہ ان کا مطلوب وڑائچ پارٹی سے بغاوت کرکے باغی نہیں بن سکتا۔ میں اور میری بیگم بدرالنساء وڑائچ اور صدر مملکت آصف علی ز رداری ہسپتالوں سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں جس کو میں پُل صراط سے واپسی کا نام دیتا ہوںوگرنہ پُل صراط سے یاتو انسان گزر جاتا ہے یا نیچے گِر جاتا ہے۔ نظریہ پاکستان کے محافظ مردِ صحافت جناب مجید نظامی صاحب نے متعدد بار فون کرکے میرا حوصلہ بھی بڑھایا اور دعائیں بھی دیں۔ میں نے مجید نظامی صاحب سے وعدہ کیا تھا کہ بستر علالت سے اٹھنے کے قابل ہوا تو سب سے پہلے انہی کی دعائیں لینے حاضر ہوں گا۔ جب میں نظامی صاحب کے پاس پہنچا تو مجھے دیکھ کر فرمانے لگے مطلوب تم نے مجھے اتنی جلدی صحت یاب ہو کر سرپرائز دیا ہے۔ میں تو آج تمہارے گھر عیادت کی غرض سے آنے ہی والا تھا۔ بیشک میں آج بھی پوری طرح صحت یاب تو نہیں ہوا مگر موت کو اتنے قریب سے چھونے کے بعد میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ میری یہ ’’پُل صراط‘‘ سے واپسی کسی بڑے مقصد کے لیے ہے۔ میں دعاگو ہوں کے اللہ مجھے ہمت و حوصلہ اور توفیق دے کہ میں نظریہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے کسی کام آ سکوں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus